کورونا وائرس: دنیا بھر میں ہلاکتیں پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ سے زائد جبکہ 4162 اموات ہو چکی ہیں۔ امریکہ میں نئے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے بعد کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پیرو میں طویل ترین سخت لاک ڈاؤن کے باوجود متاثرین اور اموات میں اضافہ کیوں ہوا؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاطینی امریکی ممالک میں پیرو وہ پہلا ملک تھا جس نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سب سے پہلے اور سب سے سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا۔

    لیکن اس سب سے کے باوجود اس وقت پیرو کورونا وائرس متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔

    پیرو کے صدر مارٹن وزکارا کا کہنا ہے کہ صورتحال میں بہتری آ رہی تھی مگر ان کے پہلے یہ کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جن کی ہمیں امید تھی۔

    تو کیا پیرو بہت بری طرح متاثر ہوا؟

    سرحدیں بند اور کرفیو کا نفاذ

    پیرو میں 16 مارچ کو لاک ڈاؤن کا نفاز ہوا جب برطانیہ او کچھ دیگر یورپی ممالک نے بھی ابھی ایسا نہیں کیا تھا۔

    ملکی سرحدیں بند کردی گئیں، کرفیو نافذ کر دیا گیا اور لوگ صرف ضروری اشیا کی خریداری کے لیے باہر آسکتے تھے۔مگر اس کے باوجود متاثرین کی تعداد اور اموات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

    پیرو

    پیرو نے لاک ڈاؤن میں جون کے آخر تک توسیع کردی ہے، جو ابھی تک دنیا میں طویل ترین لاک ڈاؤن ہے۔

    اگرچہ متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے مگر اموات میں ابھی بھی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پیرو میں اس وائرس سے ابھی تک 8،500 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ مگر پیرو میں اس عرصے میں شرح اموات میں اضافہ ان اموات سے بھی زیادہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وائرس نے زیادہ تعداد کو متاثر کیا ہے۔

    پیرو میں لاک ڈاؤن کے نتائج حوصلہ افزا کیوں نہیں؟

    ماہرین کے خیال میں ملک کا صحت نظام اس بحران سے نمٹنے کے لیے ناکافی ثابت ہوا، جس کے بعد زیادہ اموات ہوئیں۔ تاہم ماہرین نے کچھ اور عوامل بھی اس وائرس کی وجہ قرار دیے ہیں۔

    کورونا

    اس سال ہونے والے ایک حکومتی سروے کے مطابق پیرو میں 40 فیصد سے زائد لوگوں کے پاس گھروں میں ریفریجیٹر کی سہولت ہی دستیاب نہیں ہے۔

    ذیاد تر لوگوں کے پاس ایک بار سامان اکھٹا کرنے کے ذرائع امدرورفت نہیں ہیں، جن کی وجہ سے وہ بار بار خریداری کے لیے باہر نکلتے رہے۔

    ملک کے صدر مارٹن نے اس وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بھی مارکیٹوں کا قرار دیا ہے۔

    اس وقت ملک میں بینکوں کے نظام کو بھی مربوط کیا جا رہا ہے۔ پیرو میں زیادہ لوگ سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھ پاتے ہیں۔

  2. کیا کورونا وائرس کی دوسری لہر آ سکتی ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    جہاں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی ہو رہی ہے وہیں اس امر پر بھی توجہ مرکوز ہے کہ اس وبا کی دوسری لہر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔

  3. آن لائن کلاسز کا مسئلہ: حکومت طلبا کا سال ضائع نہیں ہونے دے گی، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہCOURTESY BALOCHISTAN STUDENTS ALLIANCE

    کورونا کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد آن لائن کلاسز کے حوالے سے بلوچستان کے طلبا کو درپیش مسائل کے حوالے سے بلوچستان حکومت وفاقی حکومت سے بات کرے گی۔

    یہ بات بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے احتجاج کرنے والے طلبا کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

    وزیراعلیٰ نے طلبا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حوالے سے احتجاج کرنے کی بجائے حکومت سے براہ راست رابطہ کر کے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اپنائیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت آن لائن کلاسز کے حوالے سے طلبا کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اورطلبا کا قیمتی سال کسی صورت ضائع نہیں ہونے دے گی۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس مسلئے کے حل کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کیے جائیں گے جس میں ہائیر ایجوکیشن سے رابطہ کر کے ایک ماہ کے لیے بلوچستان کے طلبا کے لیے آن کلاسز کا التوا، دور دراز علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر انٹر نیٹ کی سہولت کی فراہمی اور طلباءکے لیے عارضی بنیادوں پر ہاسٹلوں میں رہائش کی سہولت کی فراہمی بھی شامل ہے۔

    ان کا کہنا تھا آن لائن کلاسز کی فیسوں کی ادائیگی میں بھی حکومت معاونت فراہم کرے گی وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ وفاقی وزیر تعلیم سے بلوچستان کے طلبا کے لیے مناسب راستہ نکالنے کے لیے بات کرینگے اور طلباءکی مشاورت کے ساتھ حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

  4. امریکی ریاست ٹیکساس نے کاروبار زندگی بحالی کا عمل روک دیا

    texas

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے امریکہ کی آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑی ریاست ٹیکساس نے کاروبا زندگی بحالی کے عمل کو فی الحال روک دیا ہے۔

    اب تک جو کاروبار کھول دیے گئے ہیں انھیں بند نہیں کیا جائے گا لیکن بار اور ریستوران پر سماجی فاصلے اور جگہ کے حوالے سے جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں ابھی نرمی نہیں لائی جائے گی۔

    ریاست کے گورنر گریگ ایبٹ کا کہنا ہے کہ بطور ریاست جو آخری کام ہم کریں وہ دوبارہ پیچھے کی طرف جاتے ہوئے کاروبار بند کردی گے۔

    ان کے مطابق جو مزید کاروبار کھولنے سے متعلق ابھی ہم نے وقفہ دیا ہے اس دوران ہمیں ریاست میں اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی، جس کے بعد ہی ہم کاروبار بحالی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو سکیں گے۔

    ٹیکساس میں کورونا وائرس کے یومیہ متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

    ٹیکساس میں اس وبا سے 2،300 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

  5. کورونا وائرس: کیا چمگادڑ کورونا وائرس پھیلاتے ہیں؟

    چمگادڑ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وبا کے بعد خاص طور سے چمگادڑوں کے لیے مشکل وقت ہے۔ اور اس پر ان کے بارے میں پہلے سے پائی جانے والی غلط فہمیاں اور تواہم۔

    تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آج کے دور میں چمگادڑ ہونا کتنا مشکل کام ہے۔

    مگر جو لوگ چمگاڈروں کے مداح ہیں اور ان پر تحقیق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہمارا غصہ بے جا ہے۔

    ان کے نزدیک ہمیں قدرتی ماحول میں چمگاڈروں کے کردار کو سراہنا چاہیے۔

    چمگادڑوں کا خیال ہی اِرورو ٹانشی کو چکرا دینے کے لیے کافی ہے۔ وہ بڑے جوشیلے انداز میں کہتی ہیں 'یہ تو شاہکار ہیں!'

  6. امریکہ کی کئی ریاستوں میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے

    corona

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    جمعرات کو امریکہ میں 37 ہزار سے زیادہ کورونا وائرس متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ یومیہ تعداد اپریل کی یومیہ تعداد کے برابر ہے جب یہ وائرس ملک میں اپنی انتہا پر تھا۔

    نیو یارک ٹائمز کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت امریکہ کی 29 ریاستوں میں روزانہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس ریاستوں میں کیلیفورنیا، ٹیکساس اور فلوریڈا بھی شامل ہیں۔

    تاہم اس اضافے کے باوجود اس وقت امریکہ میں یومیہ ہونے والی اموات میں کمی واقع ہورہی ہے اور یہ کمی اپریل کے وسط سے دیکھنے میں آرہی ہے۔

    جمعرات کو 692 افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ یاد رہے کہ اپریل میں یومیہ کووڈ-19 سے ہلاک ہونے والو ں کی یہ تعداد 2000 سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔

  7. بریکنگ, انڈیا میں 17 ہزار سے زائد نئے مریض، ٹرینوں کی آمدورفت معطل

    ٹرین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین ریلویز نے تمام ٹرینوں کی آمد و رفت 12 اگست تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ٹرینوں میں مال بردار گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق جن افراد نے ٹکٹس کی بکنگ کروا لی تھی انھیں پیسے واپس کر دیے جائیں گے۔

    تاہم مئی میں جن خصوصی ٹرینوں کا اعلان کیا گیا تھا وہ مزدوروں کو اپنے آبائی علاقوں تک پہنچاتی رہیں گی۔

    خیال رہے کہ مارچ میں جب انڈیا نے لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا تھا تو لاکھوں مزدور شہروں میں پھنس کر رہ گئے تھے۔

    ملک میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ملک میں گذشتہ دو روز سے نئے متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک 17 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے تھے۔

    وزارتِ صحت کے مطابق اب تک ملک میں چار لاکھ 90 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 15 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

  8. یاسر نواز کا کورونا وائرس سے صحتیابی کا سفر

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    ہدایتکار، اداکار یاسر نواز چند دن پہلے کورونا وائرس سے صحتیاب ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ان کو یہ بیماری کیسے لگی؟

    ٹیسٹ کے مثبت نتائج آنے کے بعد قرنطینہ کے دنوں میں ان کی مصروفیات کیا رہی؟ اور انھوں نے بیماری کا مقابلہ کیسے کیا؟ سنتے ہیں ان کی زبانی اس وی لاگ میں۔

  9. ’پاکستانی وزیرِاعظم نے کورونا وائرس کے خلاف سری لنکن کاوشوں کی تعریف کی‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. وبا کے دنوں میں کیا عید قربان کے لیے جانور کی خریداری کرنے مویشی منڈی جانا محفوظ ہے؟

    مویشی

    ،تصویر کا ذریعہCATTLE MARKET ADMINISTRATION

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کورونا ایس او پیز کا تعین ہونے سے قبل ہی مویشی منڈی کا آغاز کر دیا گیا ہے، ہر برس یہ مویشی منڈی ملیر کینٹ بورڈ کے زیر انتظام قائم کی جاتی ہے۔

    کراچی کو اندرون ملک سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہ سپر ہائی وے پر سہراب گوٹھ کے قریب اس مویشی منڈی کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں ساہیوال کے مشہور بیلوں سے لے کر نوشہرو فیروز کے خوبصورت بکروں، غیر ملکی نسل کے جانوروں کے ساتھ صحرائی اور ساحلی علاقوں سے سیاہ اونٹ اور برفانی علاقے سے یارک بھی لائے جاتے ہیں۔

  11. ’امریکہ میں کورونا وائرس متاثرین کی صیحح تعداد دو کروڑ ہو سکتی ہے‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ میں وزارت صحت کے حکام کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد کم از کم دو کروڑ تک ہو سکتی ہے۔

    سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے کہنا ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ شہریوں کی اس وقت کل تعداد معلوم تعداد سے دس گنا زیادہ ہونے کے امکانات ہیں۔

    یہ اندازہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی آبادی کے لحاظ سے بڑی ریاست ٹیکساس نے متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافے اور ہسپتالوں میں مریضوں کے رش کی وجہ سے کاروبار زندگی بحال کرنے کا مرحلہ روک دیا ہے۔

    اعدادوشمار کے مطابق اس وقت تک امریکہ میں اس وائرس سے 24 لاکھ لوگ متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 122،370 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    حالیہ دنوں میں کچھ جنوبی اور مغرب ریاستوں میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    واشنگٹن یونیورسٹی کی پیش گوئی کے مطابق اکتوبر تک اس وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 180،000 ہو سکتی ہے۔ یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ اگر 95 فیصد امریکی شہری ماسک پہنے رکھتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ ہلاکتیں کم ہو کر 146،000 ہو سکتی ہیں۔

    سی ڈی سی نے کیا کہا؟

    سی ڈی سی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارا اس وقت سب سے بہتر اندازہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے ایک مریض کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ دس مزید افراد بھی اس وائرس سے متاثرہ ہیں۔

    ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے افراد جن میں اس وائرس کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں ان کے حوالے سے ٹیسٹنگ کا مرحلہ روک گیا گیا ہے۔ اب صرف ایسے لوگوں کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، جن میں اس وائرس کی علامات پائی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے متاثرین کی تعداد معلوم کرنے کے لیے یہی طریقہ جس سے ہم نے دس فیصد زیادہ کا اندازہ لگایا ہے ہم نے مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں میں اختیار کیا تھا۔

  12. کیا چمگادڑ کورونا وائرس پھیلاتے ہیں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے لیے چمگادڑوں کو اس لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ سارس-کوو2 وائرس، جس سے کووِڈ 19 لاحق ہوتا ہے، 96 فیصد اس وائرس سے مشابہ ہے جو ہارس شو (گھُڑ نعل) چمگاڈر میں پایا گیا تھا۔

    اس نے تمام چمگادڑوں کو مشکوک بنا دیا۔ مزید جانیے اس ویڈیو میں۔

  13. خطرناک کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے پہلے معاشی اعشاریے بہتر ہورہے تھے: اسد عمر

    asad

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر اور این سی او سی کے سربراہ اسدعمرنے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بہتر نظم ونسق کے حصول کے لئے درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق ایک نجی نیوزچینل سے گفتگو کرتے ہوئے کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ملک اس وبا کے باعث ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس خطرناک وائرس کے پھیلاو سے پہلے معاشی اعشاریے بہتر ہو رہے تھے تاہم اس وبا کے بعد ہمیں معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

    وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت جرأت اور عزم کے ساتھ تمام مشکلات پر قابو پا لے گی۔

  14. کووڈ 19 کے مریضوں کی جان بچانے والی دوا ’ڈیکسامیتھازون‘ ماہرین کی نظر میں کیسے آئی؟

    dexamethazone

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    یہ ایک غیر معمولی اور خوش آئند لمحہ ہے کہ ہم کووڈ 19 کے علاج کے بارے میں کچھ مثبت کہنے کے قابل ہوئے ہیں۔

    ایک ہفتے پہلے تک جان بچانے والی کسی بھی دوا کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی لیکن اب ہمارے پاس ڈیکسامیتھازون ہے، جس سے وینٹیلیٹر پر موجود ایک تہائی مریضوں میں موت کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے اور جو مریض آکسیجن پر ہوں ان میں سے 20 فیصد کو بچایا سکتا ہے۔

    میں ’اہم پیشرفت‘ جیسی اصطلاح کا استعمال کم ہی کرتا ہوں لیکن اس معاملے میں واقعی ایسا ہی ہوا ہے۔

  15. بریکنگ, پاکستان میں ٹیسٹوں کی تعداد میں بتدریج کمی، 2775 نئے مریض, گذشتہ 24 گھنٹوں میں 59 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے

    virus

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک مرتبہ پھر ٹیسٹوں کی تعداد میں بتدریج کمی دیکھنے میں آئی ہے اور صرف 21041 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    گذشتہ روز ملک میں صرف 2775 کیس سامنے جبکہ 59 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    اب تک ملک میں کل 84168 افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

  16. امریکہ میں دو کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں، سی ڈی سی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے اندازوں کے مطابق کورونا سے متاثرہ امریکیوں کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہو سکتی ہے۔

    ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے جمعرات کو میڈیا کو بتایا: ’ہمارا سب سے بہتر اندازہ اس وقت یہ ہے کہ سامنے آنے والے ہر متاثر کے مقابلے میں حقیقی طور پر 10 دیگر متاثر افراد موجود ہیں۔‘

    سی ڈی سی کے ماہر ڈاکٹر جے بٹلر کے مطابق امریکہ میں اس وبا سے نوجوان بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں اور ان کے مطابق اس کی وجہ کچھ حد تک یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نوجوان اس وبا کو عمر رسیدہ امریکیوں کے برعکس سنجیدگی سے نہیں لے رہے، حالانکہ وہ بھی شدید بیماری کے کچھ حد تک خطرے کی زد میں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ادارہ نوجوان لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے، انھیں سماجی فاصلے کے بارے میں آگاہ کرنے، چہرہ ڈھانپنے اور بڑے اجتماعات سے دور رہنے کی ترغیب دینے کے لیے ٹک ٹاک کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔

  17. کووڈ 19 کی ویکسین بن بھی گئی تو اگلے سال سے پہلے دستیاب نہیں ہوگی، ڈبلیو ایچ او

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایسے وقت میں جب یورپ بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے تو کئی مقامات پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کئی ممالک پہلے ہی پابندیاں دوبارہ نافذ کر چکے ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا ہے کہ رواں ہفتے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ممکنہ طور پر ایک کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی یقین دہانی موجود نہیں کہ وائرس کے خلاف ویکسین تیار کر لی جائے گی، اور اگر ایسا ہوا بھی، تب بھی یہ اگلے سال سے قبل دستیاب نہیں ہوگی۔

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے یورپ نے کہا ہے کہ کئی ماہ میں پہلی بار یورپ میں کووڈ 19 ’بہت نمایاں طور پر سر اٹھا رہا ہے۔‘

  18. ڈنمارک کی وزیرِ اعظم نے یورپی یونین کے اجلاس کے لیے اپنی شادی ملتوی کردی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن نے وبا سے نمٹنے کے لیے بلائے گئے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی خاطر اپنی شادی ملتوی کر دی ہے۔

    فریڈریکسن کا کہنا تھا کہ ان کی شادی 17 اور 18 جولائی کے لیے طے شدہ اس اجلاس سے ٹکرا رہی تھی۔

    وبا کے آغاز سے اب تک پہلی مرتبہ ایسا کوئی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔

    اس اجلاس میں یورپی رہنما کووڈ 19 سے بحالی کے ایک فنڈ اور ایک نئے بجٹ کی تجاویز پر غور کریں گے۔

    فریڈرکسن نے کہا کہ انھیں ’اپنا کام کرنا ہے اور ڈنمارک کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے‘ اور کہا کہ انھیں اس بات کی بہت خوشی ہے کہ ان کے منگیتر ’نہایت صابر ہیں۔‘

    Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
    Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    Instagram پوسٹ کا اختتام

  19. کورونا: کیا آپ کو اپنے بچوں کو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے دینا چاہیے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAlamy

    جیسے جیسے پوری دنیا میں کورونا وائرس کے مزید پھیلنے کے خدشے کے پیش نظرسکول بند ہو رہے ہیں ویسے ویسے والدین کو اس طرح کے سوالات کا سامنا ہو رہا ہے کہ ان کے بچے گھر پر رہ کر کیا کریں اور کیا نہ کریں؟

    کیا آپ کے بچے کو باہر جا کر اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا چاہیے؟ کیا سماجی دوری اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کے کھیلنے کا وقت ختم ہوگیا ہے اور اب انھیں صرف گھر پر رہنا ہے؟

    اس مضمون میں آپ کے چند ایسے ہی عمومی سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

  20. پاکستان میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے کون کون سے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کئی قسم کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان ٹیسٹوں کا طریقہ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نتائج کی حساسیت بھی مختلف ہے۔

    اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وائرس کی تشخیص کے لیے زیادہ تر ’پی سی آر‘ ٹیسٹ ہی کیے جا رہے ہیں۔

    تاہم پاکستان کی کچھ نجی لیبارٹریوں نے پی سی آر ٹیسٹ کے علاوہ اینٹی باڈی ٹیسٹ (آئی جی جی اور آئی جی ایم) بھی متعارف کروائے ہیں۔

    ہماری نامہ نگار ترہب اصغر کی اس رپورٹ میں آپ جان سکتے ہیں کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کون کون سے ٹیسٹ دستیاب ہیں اور ان کی قیمتیں کیا ہیں۔