پیرو میں طویل ترین سخت لاک ڈاؤن کے باوجود متاثرین اور اموات میں اضافہ کیوں ہوا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاطینی امریکی ممالک میں پیرو وہ پہلا ملک تھا جس نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سب سے پہلے اور سب سے سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا۔
لیکن اس سب سے کے باوجود اس وقت پیرو کورونا وائرس متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔
پیرو کے صدر مارٹن وزکارا کا کہنا ہے کہ صورتحال میں بہتری آ رہی تھی مگر ان کے پہلے یہ کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے وہ نتائج حاصل نہیں ہوئے جن کی ہمیں امید تھی۔
تو کیا پیرو بہت بری طرح متاثر ہوا؟
سرحدیں بند اور کرفیو کا نفاذ
پیرو میں 16 مارچ کو لاک ڈاؤن کا نفاز ہوا جب برطانیہ او کچھ دیگر یورپی ممالک نے بھی ابھی ایسا نہیں کیا تھا۔
ملکی سرحدیں بند کردی گئیں، کرفیو نافذ کر دیا گیا اور لوگ صرف ضروری اشیا کی خریداری کے لیے باہر آسکتے تھے۔مگر اس کے باوجود متاثرین کی تعداد اور اموات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔

پیرو نے لاک ڈاؤن میں جون کے آخر تک توسیع کردی ہے، جو ابھی تک دنیا میں طویل ترین لاک ڈاؤن ہے۔
اگرچہ متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے مگر اموات میں ابھی بھی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پیرو میں اس وائرس سے ابھی تک 8،500 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ مگر پیرو میں اس عرصے میں شرح اموات میں اضافہ ان اموات سے بھی زیادہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وائرس نے زیادہ تعداد کو متاثر کیا ہے۔
پیرو میں لاک ڈاؤن کے نتائج حوصلہ افزا کیوں نہیں؟
ماہرین کے خیال میں ملک کا صحت نظام اس بحران سے نمٹنے کے لیے ناکافی ثابت ہوا، جس کے بعد زیادہ اموات ہوئیں۔ تاہم ماہرین نے کچھ اور عوامل بھی اس وائرس کی وجہ قرار دیے ہیں۔

اس سال ہونے والے ایک حکومتی سروے کے مطابق پیرو میں 40 فیصد سے زائد لوگوں کے پاس گھروں میں ریفریجیٹر کی سہولت ہی دستیاب نہیں ہے۔
ذیاد تر لوگوں کے پاس ایک بار سامان اکھٹا کرنے کے ذرائع امدرورفت نہیں ہیں، جن کی وجہ سے وہ بار بار خریداری کے لیے باہر نکلتے رہے۔
ملک کے صدر مارٹن نے اس وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بھی مارکیٹوں کا قرار دیا ہے۔
اس وقت ملک میں بینکوں کے نظام کو بھی مربوط کیا جا رہا ہے۔ پیرو میں زیادہ لوگ سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھ پاتے ہیں۔















