کورونا وائرس: دنیا بھر میں ہلاکتیں پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ سے زائد جبکہ 4162 اموات ہو چکی ہیں۔ امریکہ میں نئے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے بعد کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس ویکسین: چینی کمپنی نے ٹرائل کو حوصلہ افزا قرار دیا

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چائنہ نیشنل بائیوٹیک گروپ کے مطابق انسانوں پر کورونا وائرس ویکسین کے تجربے سے معلوم ہوا کہ یہ محفوظ اور موثر ہے۔

    اس ویکسین کے ٹرائل کے دوران حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ اس تجربے میں 1,120 صحت مند افراد نے حصہ لیا۔

    اس دوران ان افراد کو ویکسین پلائی گئی اور ان کے اجسام میں ہائی لیول کی اینٹی باڈیز داخل کی گئیں۔ چینی کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم وی چیٹ پر یہ تفصیلات شئیر کیں۔ تاہم اس حوالے سے مخصوص معلومات ظاہر نہیں کی گئیں۔

  2. ڈیکسا میتھازون اور پلازمہ کا استعمال کب کرنا چاہیے؟

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے علاج کے بارے میں جاننے کی تگ و دو جاری ہے۔جہاں ایک طرف ڈیکسامیتھازون دوا کو علاج کے لیے ایک اہم پیشرفت کا خطاب ملنے کے بعد وہ اب مارکٹ میں دستیاب نہیں ہے وہیں دوسری جانب پلازمہ ڈونیٹ کرنے کے بارے میں جیسے ہی اطلاع عام ہوئی تو لوگوں نے ایک لاکھ کی رقم کے عوض اپنے پلازمہ لوگوں میں بانٹے۔لیکن ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ یہ تمام طریقہ اور ادویات اس وقت انڈر ٹرائل ہیں۔ اور ان کو کورونا وائرس کا مکمل علاج سمجھنا غلط ہے۔

    اس بارے میں بی بی سی نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے شعبہ وبائی امراض کے سیکشن ہیڈ ڈاکٹر فیصل سے بات کی، انھوں نے اس تمام تر صورتحال کے بارے میں کہا دیکھیے اس ویڈیو میں۔

  3. کووڈ 19: روس میں مسلسل تیسرے دن سات ہزار سے کم نئے متاثرین

    rere

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے ہونے والوں کی تعداد 9073 ہو گئی ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں روس میں 6,791 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں وائرس سے کل متاثرین کی تعداد 634,437 ہو گئی ہے۔

    اپریل سے اب تک یہ مسلسل تیسرا دن ہے کہ کورونا وائرس متاثرین کی تعداد سات ہزار سے کم رہی ہے۔

  4. آسٹریلیا میں ایک سگریٹ لائٹر سے وائرس کیسے پھیلا؟

    کورونا

    آسٹریلیا نے اگرچہ کورونا وائرس کی وبا پر قابو پالیا ہے مگر اس کی ریاست وکٹوریا میں نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ ریاست وکٹوریا کے حکمران ڈینئیل اینڈریوس کا کہنا ہے کہ یہ وبا سگریٹ کے ایک لائٹر سے پھیلی۔

    یہ لائٹر ہوٹل میں موجود عملے نے ایک دوسرے سے شئیر کیا۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈینئیل اینڈریوس کا کہنا تھا کہ وہ افراد سماجی فاصلہ تو رکھ رہے تھے مگر ایک دوسرے سے لائٹر شیئر کر رہے تھے۔

    ان کے مطابق عملہ بھی ایک دوسرے کی گاڑیوں میں سفر کرتا تھا، جس کا مطلب ہے کہ وہ ہمارے معیار کے برعکس ایک دوسرے سے قریبی رابطہ بھی رکھے ہوئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ باہر ممالک سے آنے والوں کے لیے وکٹوریا اب ٹیسٹنگ ضروری قرار دے رہا ہے۔ ریاست میں اتوار کو 49 متاثرین سامنے آئے ہیں۔ یہ دو ماہ میں یومیہ متاثرین کی سب سے بڑی تعداد بنتی ہے۔

  5. آسٹریلیا: وکٹوریا آنے والے مسافروں کے لیے کورونا وائرس کا ٹیسٹ لازم

    گدگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو ہفتے سے کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافے کے بعد آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا کے سربراہ نے کہا ہے کہ اب باہر سے آنے والوں کے لیے کورونا وائرس ٹیسٹ لازمی ہو گا۔

    ملک کی دوسری گنجان آباد ریاست میں اتوار کو کورونا وائرس کے 49 متاثرین سامنے آئے ہیں، جو دو ماہ میں سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔ یہ مسلسل 12واں دن ہے کہ متاثرین کی یومیہ تعداد دس یا دس سے زیادہ ہے۔

    باقی ملک میں تقریباً اس وائرس کا کوئی مریض نہیں ہے۔

    وکٹوریا میں متاثرین کی تعداد میں اضافے کے باوجود آسٹریلیا میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم مریض اور ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ آسٹریلیا میں اس وائرس سے 7،700 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 104 ہلاکتیں ہوئی ہیں ۔

  6. کووڈ 19: میکسیکو میں چار ہزار سے زائد نئے متاثرین، مزید 602 اموات

    فاف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سنیچر کو میکسیکو کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے 4410 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں اور اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد 602 ہے۔

    اس وقت میکسیکو میں اس وائرس کے کل متاثرین کی تعداد 212،802 ہے جبکہ کل ہلاکتیں 26،81 ہو گئی ہیں۔

    حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کے حقیقی اعدادوشمار کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔

  7. کورونا وائرس: کورونا انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے

    شگدشگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین سے شروع ہو کر دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے انفیکشن سے لڑنے والے ڈاکٹروں کی لڑائی ایسی ہے جیسے وہ کسی نامعلوم دشمن کے خلاف لڑ رہے ہوں۔

    یہ آپ کے جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟ انفیکشن کے بعد انسانی جسم میں کس قسم کی علامات پیداہوتی ہیں؟

    کن لوگوں کے لیے شدید بیمار ہونے یا مرنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں؟ اور آپ اس کا علاج کس طرح کریں گے؟

    چین کے شہر ووہان کے جنینٹان ہسپتال میں اس وبائی مرض کا علاج کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم نے اب ان سوالات کے جوابات دینا شروع کردیئے ہیں۔

  8. چین میں کورونا وائرس کے 17 نئے متاثرین کی تصدیق

    فشف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین میں 17 نئے کورونا وائرس متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے، ان میں سے 14 کا تعلق دارالحکومت بیجنگ سے ہے۔

    نیشنل ہیلتھ کمیشن کا کہنا ہے کہ سنیچر کو 17 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل گذشتہ روز یعنی جمعے کو 21 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی تھی۔

    جمعے کو بیجنگ میں 17 متاثرین سامنے آئے تھے جبکہ سنیچر کو یہ تعداد 14 بنتی ہے۔

    جون 11 سے نئی لہر کے بعد دو کروڑ آبادی سے زائد والے بیجنگ شہر میں 311 افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    چین میں اس وائرس سے کل 83،500 لوگ متاثر ہوئے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 4،634 بنتی ہے۔

  9. چمن احتجاج: پاکستان اور افغانستان کے درمیان مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت معطل, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    Abdul Basit Achakzai

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

    پاکستان میں افغانستان سے متصل صوبہِ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں مقامی تاجروں اور محنت کش افراد کے احتجاج کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان مال بردار گاڑیوں کی آمد ورفت معطل ہوگئی ہے۔

    مقامی تاجروں اورمحنت کش افراد افغانستان آمدورفت کی اجازت نہ ملنے کے خلاف روزانہ احتجاج کررہے ہیں۔

    چمن سے تعلق رکھنے والے مقامی تاجروں اور محنت کش افراد کے ذریعہِ معاش کا انحصار افغانستان کی سرحدی منڈیوں سے وابستہ ہے۔ کورونا وائرس کی وبا سے قبل وہ روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آتے جاتے تھے۔

    لیکن کورونا کے باعث چمن سے ملحقہ سرحد کی بندش کے سے جہاں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت بند ہوگئی تھی وہاں تاجروں اور محنت کش افراد کی آمد و رفت بند بھی ہوگئی۔

    حکومت پاکستان کی جانب سے دوطرفہ تجارت کو تو کھول دیا گیا لیکن مقامی تاجروں اور محنت کشوں کی آمد ورفت پر پابندی تاحال برقرار ہے۔

    اس پابندی کے خلاف گزشتہ تین ہفتے سے ان افراد کا دھرنا جاری تھا لیکن اب انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان شاہراہ کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیا ہے۔

    شاہراہ کی بندش کی وجہ سے دونوں جانب افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، نیٹو سپلائی اور دوطرفہ تجارت کی مال بردار گاڑیوں کی آمد ورفت معطل ہوگئی ہے اور شاہراہ پر رکھی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے دونوں جانب گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں۔

    چمن، کوئٹہ شہر سے شمال میں تقریباً 130کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے اور یہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، نیٹو سپلائی اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارتی گاڑیوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔

    افغانستان کے علاوہ مال بردار گاڑیوں کی وسط ایشائی ریاستوں تک آمد ورفت بھی یہییں سے ہوتی ہے۔

    چمن کے مقامی تاجروں اور محنت کشوں کا مطالبہ ہے کہ سرحد کو دو مارچ سے قبل والی پوزیشن کو بحال کیا جائے ورنہ احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    Abdul Basit Achakzai

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

    Abdul Basit Achakzai

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

    Abdul Basit Achakzai

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

    Abdul Basit Achakzai

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai

  10. ’موسم گرما کے اختتام تک سکاٹ لینڈ سے وائرس کا خاتمہ ہو جائے گا‘

    دگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جس طرح سکاٹ لینڈ میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ گرمیوں کے اختتام تک ملک سے یہ وائرس ملک طور پر ختم ہو جائے گا۔

    جمے اور ہفتے کو سکاٹ لینڈ میں اس وائرس سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ .

    ایڈنبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر دیوی سری دہار کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ پیشرفت برقرار رہی تو پھر سکاٹ لینڈ کورونا وائرس سے موثر انداز سے پاک ہو جائے گا۔

    وہ کہتی ہے کہ اس کے بعد بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ نئے متاثرین کو ملک آنے سے کیسے روکا جائے۔

    جمعے کو وزیر اول نائیکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ پہلی ترجیح یہ کہ ملک سے وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جائے سکے۔

    ان کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ اپنے ہدف سے زیادہ دور نہیں ہے مگر اس صورتحال کو برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہو گا ۔

    اپریل میں یومیہ 430 نئے مریض رپورٹ ہونے کے بعد سے ملک میں وائرس کے متاثرین کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہوتی رہی ہے۔

  11. ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر کورونا کی ادویات نقصان دہ کیوں ہیں؟

    برطانیہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہلک وائرس کے خلاف جنگ میں کم مقدار والی سٹیرائڈ دوا ڈیکسامیتھازون سے کامیاب علاج ایک ’زبردست پیش رفت‘ ہے۔

    لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ یہ دوا خریدیں اور استعمال کرنا شروع کر دیں۔

    ادویات کو بنا نسخے کے استعمال کرنے کے خطرات کیا کیا ہیں؟ یہ جاننے کے لیے ہم نے بات کی اسلام آباد میں ڈاکٹر زعیم سے۔

  12. پولینڈ کے انتخابات میں ووٹنگ کا عمل شروع

    wsrw

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پولینڈ میں اتوار کو صدارتی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ یہ انتخابات مئی میں ہونے تھے مگر کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ان انتخابات کو ملتوی کیا گیا تھا۔

    ملک کے 48 برس کے صدر اینڈرزج ڈوڈا کا دوسری پانچ سالہ مدت کے لیے مقابلہ دس دیگر امیدواران سے ہے۔

    ان انتخابات میں ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ کوئی بھی امیداوار اکیلے پچاس فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکے گا۔ ایسی صورت میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیداواران میں 12 جولائی کو مقابلہ ہو گا۔

    پولینڈ کورونا وائرس سے اس قدر شدید متاثر نہیں ہوا ہے جس طرح دیگر مغربی یورپی ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ ان انتخابات میں لوگ براہ راست ووٹ ڈالنے کے لیے آرہے ہیں تاہم ماسک پہننا لازمی ہے اور دیگر اصولوں کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اس وقت ووٹرز کو اپنا ووٹ میل کے زریعے بھیجنے کا بھی حق دیا گیا ہے۔

    پولینڈ میں اس وائرس سے متاثرین کی تعداد 34،000 ہے جبکہ 1400 لوگ اس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    رچعر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  13. ’پاکستان میں تیار کردہ وینٹی لیٹرز کی پہلی کھیپ اس ہفتے این ڈی ایم اے کے حوالے کی جائے گی‘

    sgs

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں تیار کردہ وینٹی لیٹرز کی پہلی کھیپ رواں ہفتے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حوالے کر دی جائے گی۔

    اس بات کا اعلان انھوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ این آر ٹی سی کو بہت مبارک، اگلے تین ڈیزائن بھی آخری مراحل میں ہیں جس کے بعد ہم دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہوں گے جو پیچیدہ میڈیکل مشینیں بناتے ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تمام مشینیں یورپی یونین کے معیار کے مطابق ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. پاکستان کرکٹ ٹیم خصوصی طیارے پر دورہ انگلینڈ کے لیے روانہ ہو گئی

    پ

    ،تصویر کا ذریعہPCB

    انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شمولیت کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم آج خصوصی پرواز کے ذریعے مانچسٹر روانہ ہوگئی ہے۔

    مانچسٹر پہنچنے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم ووسٹر روانہ ہوگی جہاں وہ 14 روزہ قرنطینہ گزارنے کے بعد پریکٹس کرے گے۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم دورہ انگلینڈ کے دوران تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی۔

    انگلینڈ روانے ہونے والے سکواڈ میں 20 کھلاڑی اور مینجمنٹ کے 11 اراکین شامل ہیں اور ان کے علاوہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے والے کھلاڑی دو ٹیسٹ نیگیٹو آنے کے بعد ٹیم کا حصہ بن سکیں گے۔

    جبکہ بولنگ کوچ وقار یونس آسٹریلیا اور فزیوتھراپسٹ کلف ڈیکن جنوبی افریقہ سے ٹیم کو جوائن کریں گے۔

    gd

    ،تصویر کا ذریعہPCB

    PCB

    ،تصویر کا ذریعہPCB

    فشف

    ،تصویر کا ذریعہPCB

    PCB

    ،تصویر کا ذریعہPCB

  15. کورونا وائرس: ڈیکسامیتھازون زندگی بچانے والی پہلی دوا ثابت ہوگئی

    کورونا وائرس سے شدید بیمار مریضوں کی زندگی ایک سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب دوا سے بچائی جا سکتی ہے۔ برطانیہ میں ماہرین نے اس دوا کو کتنا مفید قرار دیا ہے؟

    اس دوا کے بارے میں مزید تفصیلات بتا رہی ہیں ہدیٰ اکرام ہمارے ساتھی موسیٰ یاوری کی اس پوڈکاسٹ میں۔

  16. مودی: ’لاک ڈاؤن کے مقابلے میں اب ہمیں زیادہ چوکنا رہنا ہوگا‘

    vv

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے مقابلے میں اب ہمیں زیادہ چوکنا رہنا ہوگا ’آپ کی آگاہی آپ کو کورونا سے بچائے گی۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ ماسک نہیں پہنے ہوئے ہیں ، دو گز کے اصول کی پیروی نہیں کرتے ہیں یا دیگر ضروری احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے ہیں تو آپ خود کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘

    وزیرِاعظم مودی کا کہنا تھا کہ ہمیں معاشرتی دوری کے قواعد پر عمل کرنا چاہئے تاکہ آپ اپنی حفاظت کرسکیں اور دوسرے لوگوں کو انفیکشن سے بچا سکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ لوگ پوچھتے ہیں یہ سال کب ختم ہو گا؟ اب یہ ایک عام سوال بن گیا ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ یہ سال جلد سے جلد گزرے۔

    مودی کا کہنا تھا کہ مشکلات آتی ہیں، بحران آتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان آفات کی وجہ سے سال 2020 کو برا سمجھنا چاہئے؟ بالکل نہیں۔ ایک سال میں ایک چیلنج یا پچاس چیلنجوں سے وہ سال برا نہیں ہو جاتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لیکن اب اس شعبے میں کام کا آغاز ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ کسانوں کو یہ آزادی حاصل ہوگئی ہے کہ وہ اپنی فصل کہیں بھی بیچ سکتے ہیں۔ دوسری طرف انھیں یقین ہے کہ وہ مزید قرض حاصل کر سکتے ہیں۔

  17. بریکنگ, دنیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی

    ter

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دنیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ سات ماہ میں سانس کی اس بیماری نے تقریباً نصف ملین افراد کی جان لے لی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق کووڈ 19 متاثرین کی یہ تعداد انفلوئنزا فلو کی بیماری سے دوگنا ہے۔

    دنیا میں کووڈ 19 متاثرین کی یہ ریکارڈ تعداد اس وقت سامنے آئی ہے جب بہت سے متاثرہ ممالک لاک ڈاؤن میں نرمی یا پابندیوں کا مکمل خاتمہ کررہے ہیں۔

    دنیا بھر میں کام اور معاشرتی زندگی میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں بھی جاری ہیں جو ویکسین کی دستیابی یعنی کم از کم ایک سال یا زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہیں۔

    کچھ ممالک میں اس وائرس کی نئی لہر آئی ہے اور انھیں دوبارہ لاک ڈاؤن جیسے اقدامات اٹھانے پڑے ہیں۔

    ماہرین کے خیال میں اس وائرس کے دوبارہ اس طرح سامنے آنے کا یہ سلسلہ 2021 تک جاری رہ سکتا ہے۔

  18. کورونا وائرس: انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 20 ہزار کے قریب نئے متاثرین، 410 اموات

    دگد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 کے 19،906 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق اب تک یہ ایک دن میں سب زیادہ تعداد بنتی ہے۔

    گذشتہ روز انڈیا میں اس وائرس سے 410 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اب تک کل 16،095 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    ابھی تک انڈیا میں اس وائرس سے پانچ لاکھ 28 ہزار 859 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ فعال متاثرین کی تعداد دو لاکھ تین ہزار بنتی ہے جبکہ تین لاکھ نو ہزار افراد اس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والوں کی شرح 58.13 بنتی ہے۔

    آٹھ ریاستوں مہاراشٹرا، تامل ناڈو، دلی، تیلنگانہ، گجرات، اترپردیش، آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں انڈیا کے 85.5 فیصد فعال کورونا وائرس متاثرین ہیں جبکہ اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں سے 87 فیصد کا تعلق بھی انڈیا کی انھی ریاستوں سے ہے۔

    اتوار کی صبح دہلی کے محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ دہلی میں کووڈ 19 کنٹینمنٹ زون کی تعداد اب 280 سے بڑھ کر 417 ہوگئی ہے۔

    عہدیداروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ کنٹینمنٹ زون میں رہائش پذیر 45000 افراد کے علاوہ ، دہلی میں تقریباً دو لاکھ افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. کورونا وائرس: خیبرپختونخوا میں ٹراؤٹ مچھلیوں کے فارم میں گنجائش ختم

    پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں سیاحوں کی بندش سے جہاں ہوٹل اور دیگر انڈسٹری متاثر ہوئی ہے وہیں ان علاقوں میں ٹراؤٹ مچھلیوں کے کاروبار سے جڑے لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق ان علاقوں میں 270سے زائد فارموں میں لاکھوں کلو کی مچھلی جمع ہوگئی ہے جس سے مالکان کو ان کو خوراک کے فراہمی بڑا مسئلہ بن رہا ہے۔ مزید بتارہے ہیں پشاور سے بلال احمد اس رپورٹ میں

  20. ایس او پیز کی خلاف ورزی: 1070 سے زائد دکانیں اور بازار بند، 1234 ٹرانسپورٹرز کو جرمانہ

    گععت

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے صحت کے رہنما اُصولوں اور ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر 7288 مقامات پر حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجے میں 1070 سے زائد مارکیٹوں، دکانوں اور صنعتی یونٹس کو سیل اور 1234 ٹرانسپورٹرز کو جرمانہ کیا گیا۔

    پاکستان بھر میں صحت کے رہنما اُصولوں کی خلاف ورزیوں اور ان کے نفاذ کے اقدامات کے بارے میں تفصیلات درج ذیل ہیں۔

    اسلام آباد

    خلاف ورزی - 16

    بند /سیل ۔ مارکیٹس /شاپس - 14

    ٹرانسپورٹ - 2

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر

    خلاف ورزی - 390

    بند /سیل ۔ مارکیٹس /شاپس - 53

    ٹرانسپورٹ - 63

    بلوچستان

    خلاف ورزی - 786

    بند /سیل ۔ مارکیٹس /شاپس - 95

    ٹرانسپورٹ - 203

    گلگت بلتستان

    خلاف ورزی - 183

    بند /سیل ۔ مارکیٹس /شاپس - 88

    ٹرانسپورٹ - 23

    خیبر پختونخواہ

    خلاف ورزی - 3252

    بند /سیل ۔ مارکیٹس /شاپس - 178

    ٹرانسپورٹ - 105

    پنجاب

    خلاف ورزی - 2172

    بند /سیل ۔ مارکیٹس /شاپس - 618

    ٹرانسپورٹ - 816

    سندھ

    خلاف ورزی - 489

    بند /سیل ۔ مارکیٹس /شاپس - 24

    ٹرانسپورٹ - 22