کورونا وائرس: دنیا بھر میں ہلاکتیں پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئیں
دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ سے زائد جبکہ 4162 اموات ہو چکی ہیں۔ امریکہ میں نئے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے بعد کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لائیو کوریج
دو کروڑ امریکی ہیلتھ کیئر سے محروم ہو سکتے ہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کی سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ ایفورڈایبل کیئر ایکٹ (اے سی اے) جسے اوباما کیئر بھی کہتے ہیں، کالعدم قرار دے۔ اس قانون کے تحت لاکھوں امریکیوں کو ہیلتھ انشورنس ملتی ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل کئی مرتبہ کوشش کر چکے ہیں کہ یہ سکیم ختم ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے بہت نقصان ہو رہا ہے، اور وہ اسے کسی اور پلان سے بدلنا چاہتے ہیں۔
حکومتی وکلا کا کہنا ہے کہ جب پہلے ریپبلیکن کی سربراہی والی کانگریس نے اس کے کچھ حصے ختم کیے تھے تو یہ قانون بھی جاتا رہا تھا۔
لیکن نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے وبا کے دوران یہ قدم لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے۔
اگر یہ قانون ختم کر دیا گیا تو لاکھوں امریکی ہیلتھ کیئر سے محروم ہو جائیں گے۔
امریکہ نے کورونا وائرس کے 24 لاکھ متاثرین رپورٹ کیے ہیں اور اب تک 1 لاکھ 25 ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
خیبرپختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 640 نئے متاثرین، 11 ہلاکتیں, پاکستان میں ہلاکتیں چار ہزار تک پہنچ گئیں
صوبہ خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 640 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد یہاں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 24943 ہو گئی ہے۔
اسی دورانیے میں کورونا کے مزید 11 مریض ہلاک ہوئے ہیں اور اب خیبرپختونخوا میں ہلاکتوں کی کُل تعداد 890 ہو گئی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ کا تعلق پشاور، دو کا باجوڑ جبکہ ایک، ایک کا مردان، سوات، بونیر اور کوہاٹ سے تھا۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 355 افراد اس مرض سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں اور اب صوبے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 11804 ہو گئی ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد پاکستان میں کورونا سے وفات پانے والے افراد کی مجموعی تعداد چار ہزار ہو گئی ہے جبکہ ملک میں مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 197535 ہو گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
کورونا وائرس: برطانیہ میں 189 ہلاکتیں
برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر کے مطابق ملک میں مزید 189 افراد جن کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا ہسپتالوں، کیئر ہومز اور کمیونیٹی میں دم توڑ گئے ہیں۔
اس طرح ملک میں تصدیق شدہ کورونا وائرس کے کیسز کی ہلاکتوں کی تعداد 43 ہزار 414 ہو گئی ہے۔
ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 1 ہزار 6 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، جبکہ 1 لاکھ 65 ہزار 65 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کا کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال پر اظہار اطمینان
،تصویر کا ذریعہPM AJK Media Cell
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور، ہاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان، وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر، وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشترکے علاوہ وزرا و سینیئر افسران نے شرکت کی۔
چیف سیکرٹری کشمیر نے اجلاس کو کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال، ہسپتالوں میں کورونا وائرس متاثرین کے علاج و دیکھ بھال، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی استعداد کو بڑھانے کے حوالے سے حکومت پاکستان کی طرف سے بھرپور معاونت, وائرس کی روک تھام کے لیے عوام میں ایس او پیز پر عملدرآمد ممکن بنانے کے اقدامات کے حوالے سے روڈ میپ پر تفصیلی بریفنگ دی۔
،تصویر کا ذریعہPM AJK Media Cell
چیف سیکرٹری نے حکومت پاکستان کی طرف سے وبا کے دوران تکنیکی معاونت اور بروقت سامان کی فراہمی کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ مہینوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی انتظامیہ کو حکومت پاکستان کی طرف سے توقعات سے بڑھ کر مدد ملی
وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی کشمیر میں کورونا وائرس کی صورتحال ملک کے دوسرے علاقوں کے لحاظ سے کافی حد تک کنٹرول میں ہے جو حوصلہ افزاء ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیرانتظامیہ کی کورونا وائرس کے کم کیسز اور وبا کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے عید الاضحٰی کے تناظر میں احتیاط برتنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا ’اگرچہ کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت پر انتہائی منفی اثر پڑا لیکن ان مشکل حالات کے باوجود ہم نے کشمیر کی بجٹ میں سالانہ گرانٹ میں کمی نہیں کی بلکہ اضافہ کیا ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ جب تک پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقے ترقی نہیں کریں گے اس وقت تک پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔‘
’باہر اب بھی وائرس موجود ہے‘، بورس جانسن کی تنبیہ
،تصویر کا ذریعہEPA
برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں بڑھتی ہوئی نرمی کے بعد کے وزیر اعظم بورس جانسن نے عوام سے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرات کو پہچانیں۔
مشرقی لندن میں ایک ریستوران کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا ’یہ بے حد ضروری ہے کہ 4 جولائی تک اسے ٹھیک کرنا ہے ہمیں اس کے خطرات کو پہچانتےہوئے متوازن طریقے سے یہ کرنا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اسی لیے میں سب سے کہہ رہا ہوں۔ آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ آپ اس کا شکار نہیں ہوں گے، آپ ناقابل زوال اور ناقابل تسخیر ہیں یا اور کچھ، شاید ایسا سچ بھی ہو خاص طور پر اگر آپ نوجوان ہیں لیکن جو وائرس آپ لے کر گھوم رہے ہیں وہ معمر افراد کو مار رہا ہے۔‘
’یہ اب بھی خطرناک ہے اور وآئرس اب بھی باہر موجود ہے۔‘
’اس چیز کو شکست دینے کے لیے، اس سے جیتنے کے لیے ہمیں محتاط رہنا ہوگا اور یہ سب متوازن رہتے ہوئے کرنا ہو گا۔‘
روس میں وائرس زوال پذیر ہو رہا ہے: صدر پوتن
،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر ولادیر میر پوتن کا کہنا ہے کہ روس میں کورونا وآیرس کے کیسز میں کمی آ رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو ماہ کے دوران یومیہ انفیکشنز کی تعداد 7000 سے کم ہو گئی ہے۔
روسی صدر کا کہنا تھا ’خدا کا شکر ہے کہ اب وبا کا زوال شروع ہو گیا ہے اور رضا کاروں کے کاموں میں بھی کمی آ رہی ہے۔‘
وہ رضا کاروں کے گروہ ’وی آر آل ٹوگیدر‘ (یعنی ہم سب ساتھ ہیں) سے بات کر رہے تھے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس میں نئے کیسز کی تعداد 6800 رہی۔ یہ اپریل کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
روس میں اب تک کورونا وائرس کے 620000 کیسز سامنے آ چکے ہیں جوکہ یورپ ںی سب سے زیادہ اور دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔
روس میں اس وبا کے باعث اب تک 8770 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کورونا وائرس: امداد میں کمی سے لاکھوں یمنی بچے خطرے میں
،تصویر کا ذریعہReuters
اقوامِ متحدہ کے ایک اہم خیراتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے امداد میں بہت زیادہ کمی یمن کے بچوں کو مشکل حالات میں دھکیل دے گی۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ اسے اس ملک کے بچوں کے تحفظ کے لیے تقریباً آدھا ارب ڈالر چاہیئیں، جسے اقوامِ متحدہ پہلے ہی بد ترین انسانی بحران قرار دے چکا ہے۔
ابھی تک ادارے کو آدھے سے بھی کم امداد ملی ہے۔ پانچ سال کی جنگ کے بعد یمن تقریباً تباہ ہو چکا ہے اور یہاں 20 لاکھ بچے غذائی بحران کا شکار ہیں۔
یونیسیف کی یمن میں نمائندہ سارا بیسولو نیانتی کہتی ہیں کہ ’ہم اس ایمرجینسی کے احاطے کے متعلق مبالغے سے نہیں کام لے سکتے کیونکہ کووڈ۔19 کی وجہ سے بچے پہلے ہی دنیا کے خطرناک ترین انسانی بحران میں اپنی بقا کے لیے جنگ کر رہے ہیں۔‘
امریکہ: ایک دن میں ریکارڈ 40 ہزار انفیکشنز
،تصویر کا ذریعہAFP
جان ہاپکنز یونیورسٹی (جے ایچ یو) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں جمعرات کو کورونا کی 40 ہزار انفیکشنز ریکارڈ کی گئی ہیں۔
انفیکشنز اور ہسپتالوں کے داخلے میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے کچھ ریاستوں نے پابندیوں کو باکل نرم کر کے ریاستوں کو دوبارہ کھولنے کے منصوبوں کو فی الحال روک دیا ہے۔
اس سے قبل جے ایچ یو نے سب سے زیادہ انفیکشنز 24 اپریل کو ریکارڈ کی تھیں جو کہ 36 ہزار 400 تھیں۔ یہ اس وقت تھا جب کم ٹیسٹنگ کی گئی تھی۔
امریکہ میں اس وقت تقریباً 24 لاکھ تصدیق شدہ متاثرین ہیں جبکہ 1 لاکھ 22 ہزار 370 اموات ہو چکی ہیں جو کہ کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔
اگرچہ روزانہ کی بنیاد پر مریضوں میں اضافہ کچھ تو زیادہ ٹیسٹنگ کی وجہ سے ہے، لیکن کچھ علاقوں میں مثبت ٹیسٹ کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔
پنجاب میں انتہائی نگہداشت کے بستروں پر جگہ کم تاہم ہائی ڈیپینڈینسی یونٹس نصف خالی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے
دارالخلافہ اور کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر لاہور میں سرکاری
اعداد و شمار کے مطابق ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے بستروں پر جگہ کم ہو رہی ہے
تاہم ہائی ڈیپینڈینسی یونٹس میں آدھے تقریباً خالی ہیں۔
کوروناوائرس ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ اور ٹیکنیکل
ورکنگ گروپ کی میڈیا بریفنگمیں بتایا گیا کہ ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ میں کل 514 میں سے 245 پر مریض ہیں جبکہ 269 خالی
ہیں جبکہ ICUمیں 175 بیڈ ہیں
جہاں 127 پر مریض اور 48خالی موجود ہیں
ڈاکٹراسد اسلم خان کے مطابق 19 پرائیویٹ ہسپتالوں میں سے کل 1374 میں سے آیسولیشن وارڈز میں 679 موجود
ہیں جن میں سے ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس میں 235 پر مریض موجود ہیں جبکہ 459 خالی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں 2892بیڈ آئسولیشن
وارڈزمیں موجود ہیں جن میں سے 903 پر مریض جبکہ 1989 اس وقت خالی ہے اور نئے آنے
والے مریضوں کے لیے دستیاب ہیں۔
ڈاکٹر اسد اسلم خانکا کہنا تھا کہ لاہور میں وینٹی
لیٹر کی کل تعداد 483 ہے جس میں سے 295 خالی ہیں۔
ان کے بقول پنجاب کے کل 63 ہسپتالوں میں سے
1115 بیڈ موجود ہیں ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ میں 721 بیڈز مختص کیے ہیں جن میں سے 463 خالی
موجود ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور کی صورتحال
انھوں نے مزید بتایا کہ لاہور میں ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس میں 861 بیڈز موجود ہیں جن میں سے 445خالی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہر طرح کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے ٹیسٹنگ کی صلاحیت اور بیڈز کی تعداد میں مستقل اضافہ کیا جارہا ہے۔
213کل وینٹی لیٹرز میں سے 24وینٹی لیٹرز پر مریض جو کہ کورونا کے علاوہ ہیں جبکہ 56وینٹی لیٹرز پر کورونا کے مریض ہیں۔ پبلک اور پرائیویٹ میں 400 بیڈز پرائیوٹ اور پبلک دونوں میں موجود ہیں۔
وائرس کی دوبارہ منتقلی کی جانچ
اس موقع پر ڈاکٹر محمود شوکت نے بتایا کہ صحت یاب مریضوں میں وائرس کی دوبارہ منتقلی کے متعلق جانچ کے لیے ماہر وائرالوجسٹس اور کلینیکل ایکسپرٹس پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
ڈاکٹر ثاقب سعید کے بقول اب تک کی گئی تحقیقات کے مطابق کسی شخص کو وائرس کے دوبارہ ہونے کے دورانیے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اہم انھوں نے کہا کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کو تمام احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھنا ہو گا۔
بریکنگ, کورونا وائرس: صوبہ سندھ میں 1150 نئے مریض، مزید 27 اموات
پاکستان کے صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے 1150 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 27 اموات بھی ہوئی ہیں۔
اب تک صوبے میں کل متاثرین کی تعداد 76318 ہے، یعنی یہ متاثرین کے اعتبار سے ملک کا سب سے متاثرہ صوبہ ہے۔ صوبے میں اب تک 1205 اموات بھی ہوئی ہیں۔
اس وقت صوبے میں صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 41992 ہو چکی ہے۔
گذشتہ روز کیے جانے والے ٹیسٹس میں 22 فیصد کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔
کورونا وائرس: سویڈن نے عالمی ادارہ صحت کی وارننگ کو بڑی غلطی قرار دے دیا
،تصویر کا ذریعہAFP
سویڈین کے وبا سے متعلق سربراہ ایندرز تیگنل نے عالمی ادارہ صحت کی اس وارننگ کو مسترد کر دیا ہے جس میں انھوں سویڈن کو ان یورپی ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا جہاں کورونا وائرس دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔
جمعرات کو عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ کئی ممالک اور خطوں میں اس وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا خطرہ خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان ممالک میں 11 ایسے ممالک ہیں جو اقوام متحدہ یورپ ریجن کا حصہ ہیں۔
سویڈن کے ڈاکٹر ایندروز کے مطابق یہ اعدادوشمار کی سراسر غلط تعبیر ہے۔
ان کے مطابق زیادہ ٹسیٹنگ کی وجہ سے سویڈن میں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ۔
عالمی ادارہ صحت نے کیا کہا؟
عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق یورپی یونین میں شامل سویڈن میں گذشتہ 14 دنوں میں ایک لاکھ افراد میں سے 155 اس وائرس سے متاثرہ نکلے، جو پورے خطے میں آرمینا کے علاوہ سب سے زیادہ شرح بنتی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ہر ایک کی نظر طبی تحقیق کی جانب ہے کہ کب اس بیماری کا علاج دریافت ہوگا۔
لیکن جب بھی مثبت نتائج کے بعد کسی نئی دوائی کا نام سامنے آتا ہے تو پاکستان میں اس کی قلت یا پھر قیمت میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔
خود سے اپنی من پسند کی ادویات کو بازار سے لے کر کھانے کے کیا نقصانات ہیں، یہ بتا رہی ہیں ڈاکٹر تمکینت منصور اس وی لاگ میں۔۔۔
زیادہ تر بچوں میں کورونا وائرس کی معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپ میں بچوں پرایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کووڈ-19 سے بہت کم تعداد میں بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
لندن کی گریٹ اورمنڈ سٹریٹ ہسپتال کے محقیقن کے مطابق اس وائرس سے متاثرہ 582 بچوں میں سے چار اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
اس تحقیق میں شامل 25 یورپی ممالک میں رہنے والے ان بچوں کی عمریں تین دن سے 18 سال تک بنتی ہیں۔
کچھ بچوں میں اس وائرس کی معمولی علامات جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جن میں وائرس کی تشخیص ہوئی مگر ان میں کووڈ-19 کی سرے سے کوئی علامات نہیں تھیں۔ تاہم دس میں سے ایک بچے کو شدید دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔
ڈاکٹرز نے اس تحقیق کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق ایسے بچوں جن میں اس وائرس کی علامات شدید ہوں تو ان کے علاج کے لیے بہترین ذرائع عمل میں لائے جائیں۔
کیا کورونا وائرس کی وبا پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو بھی متاثر کر سکتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاریخ کے سب سے پرعزم منصوبوں میں سے ایک سمجھےجانے والا منصوبہ چین کا ’ون بیلٹ ون روڈ‘ پروجیکٹ ہے جسے ’نیو سلک روڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
سنہ 2013 میں چینی صدر شی جن پنگ نے انفراسٹرکچر کی ترقی کے اس منصوبے کا آغاز کیا۔ اس کے تحت مشرقی ایشیا سے لے کر یورپ، افریقہ اور لاطینی امریکہ تک کے ترقیاتی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کی ایک پوری سیریز پر کام کیا جانا ہے۔
بین الاقوامی تعاون اور معیشت کے محاذ پر چین کے لیے صدر شی جن پنگ کی یہ اہم حکمت عملی ہے۔ لیکن ناقدین کی رائے اس سے مختلف ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ چین دنیا بھر کے ممالک پر اپنا اثر بڑھانے کے لیے قرض دینے والی سفارت کاری کا استعمال کر رہا ہے۔
لیکن وہ منصوبہ جس کا مقصد مصنوعات، سرمائے اور ٹیکنالوجی کے عالمی بہاؤ کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینا تھا، کورونا کی وبا کی وجہ سے اچانک رک گیا ہے۔
برازیل کے صدر جیر بولسونارو نے جمعرات کو کہا کہ عین ممکن ہے کہ ماضی میں انھیں کورونا وائرس ہوا ہو اور وہ اس بیماری کا پتا چلانے سے متعلق اپنا دوسرا ٹیسٹ کروا سکتے ہیں۔ تاہم اس سے قبل کیے گئے تمام ٹیسٹ نیگیٹو آئے ہیں۔
جمعرات کو برازیل میں 39،483 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس وقت ملک میں اس وائرس کے کل متاثرین کی تعداد 1228114 ہو چکی ہے۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس وائرس سے مرنے والوں کی تعاد 55 ہزار کے قریب بنتی ہے۔ اس وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 54971 ہے۔
کورونا وائرس سے معلق بی بی سی کا مختصر دورانیے کا خصوصی بلیٹن
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
لندن میں غیرقاونی پارٹی پر چھاپہ مارنے والی پولیس پر مسلسل دوسرے روز حملہ
لندن میں مسلسل دوسری رات چلنے والی غیر قانونی پارٹی پر دھاوا بولنے والی پولیس پر حملہ کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق اس وقت افسران پر اشیا پھینکی گئیں جب نوٹنگ ہال ویسٹ لندن میں وہ ایک اجازت کے بغیر ہونے والے میوزک کے پروگرام میں شریک لوگوں کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم اس دوران کسی پولیس کو شدید زخم نہیں آئے ہیں۔
پولیس نے جنوبی لندن میں بھی ایک غیر قانونی پارٹی کو بھی منتشر کیا جو کہ پولیس کا ایک معمول ہے۔
بدھ کو ہونے والے پرتشدد واقعات میں 22 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
برطانیہ میں لاک ڈاؤن جیسے اقدامات اب بھی نافذ ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہے۔
میکسیکو: کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والی کی تعداد 25 ہزار سے زائد
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے پڑوسی ملک میکسیکو میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ میکسکیو کی حکومت کے اعلان کے مطابق اس وقت ملک میں کورونا وائرس متاثرین کی کل تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔
میکسیکو میں 28 فروری تک کورونا وائرس کا کوئی نام و نشان نہیں تھا جس وقت ایشیا اور یورپ بھی اس وائرس کی لپیٹ میں آچکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مارچ کے آخر تک میکسیکو میں کاروبار زندگی معمولات کے مطابق آگے بڑھ رہے تھے اور ملک میں کسی قسم کا کوئی شٹ ڈاؤن یا لاک ڈاؤن کا اطلاق نہیں کیا گیا تھا۔
ملک کے سوشلسٹ صدر اینڈرس مینول لوپز ابراڈور پر اس حوالے سے تنقید بھی ہوئی کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کاروبار ٹھپ کرنے جیسے سخت اقدامات نہیں اٹھا رہے ہیں۔ انھیں اس وقت بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب دوبارہ ملک میں لاک ڈاؤن کے بعد کاروبار زندگی بحال کر دیے گئے۔
ناقدین کے مطابق صدر نے ملک کو دوبارہ پرانی ڈگر پر رواں دواں رکھنے کے لیے عجلت سے کام لیا اور خطرے کا صیحح طور پر اندازہ نہیں لگایا۔
اس کے باوجود کے ملک میں یومیہ متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا اس مہینے کے آغاز میں میکسیکو میں کاروبار زندگی بحال ہونا شروع ہوئے۔
بخار، کھانسی اور سانس میں دشواری، اس بیماری کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟
دنیا بھر میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور اب تک مصدقہ متاثرین کی تعداد 94 لاکھ اور ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ 80 ہزار لاکھ سے زیادہ ہے۔ پاکستان پر نظر ڈالیں تو وہاں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ہے جبکہ تین ہزار 900 سے زیادہ افراد اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔
بریکنگ, اسد عمر کو جون کے آخر تک کورونا متاثرین کی تعداد تین لاکھ کی بجائے دو لاکھ 25 ہزار ہونے کی توقع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ وزیرِ برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد پہلے لگائے گئے اندازوں کے برعکس کم ہونے کی توقع ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس سے قبل ہم نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ یہ تعداد 30 جون تک تین لاکھ کے قریب ہو گی، تاہم اب یہ کم ہو کر دو لاکھ 25 ہزار تک ہونے کی توقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ 30 مئی سے عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دینا، انتظامی کارروائی میں اضافہ اور سمارٹ لاک ڈاؤن ہے۔
انھوں نے کہا کہ بطور قوم اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم متاثرین کی تعداد کتنی کم کر سکتے ہیں اور مروجہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرتے ہیں یا نہیں۔