لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. ترجیح زیادہ سے زیادہ افراد کا جلد از جلد افغانستان سے انخلا ہے: نیٹو سیکریٹری جنرل

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل ہانس سٹولٹنبرگ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کابل ایئرپورٹ کے باہر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کی ترجیح بدستور کم سے کم وقت میں جتنے افراد کو بھی ممکن ہو سکے محفوظ مقام تک پہچانا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. ہوٹل کے قریب دھماکے میں بھی ’متعدد زخمی‘

    برطانیہ کی امورِ خارجہ اور قومی سلامتی کی حکمتِ عملی پر کمیٹیوں کی رکن ایلیشیا کیئرنز نے کا ہے کہ بیرن ہوٹل کے قریب ہونے والے دھماکے میں بھی کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    بیرن ہوٹل وہ مقام ہے جہاں برطانوی حکام افغانستان سے انخلا کے قابل برطانوی اور افغان شہریوں کی جانچ پڑتال کا عمل ہو رہا ہے۔

  3. کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد کی تصاویر: زخمیوں کو ریڑھیوں پر ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

    کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں زخمیوں کو ہاتھ والی ریڑھیوں کی مدد سے ہسپتال تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ان تصاویر میں ان زخمیوں کے کپڑوں کو خون میں لت پت دیکھا جا سکتا ہے۔

    افغانستان کے نجی میڈیا طلوع نیوز نے ٹوئٹر پر کچھ ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں مرد، خواتین اور بچے ۔۔ جن میں سے کچھ نے اپنے سر پر ایک عارضی پٹی باندھ رکھی ہے۔۔ دھماکے کی جگہ سے محفوظ جگہ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

    وارننگ: کچھ تصاویر قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    افغانستان سے تعلق رکھنے والے صحافی بلال سروری جو چند دن قبل کابل سے بیرون ملک جانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ انھیں اس دھماکے کی خبر ان کے ایک دوست نے دی جو ایئرپورٹ پر قطار میں کھڑا تھا اور دھماکے سے 15 منٹ قبل اس کی دستاویزات کی تصدیق ہوئی تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    ان کے مطابق اس کے دوست نے دیکھا کہ دھماکے کے بعد متاثرین کو لے جایا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق فوری طور پر وہاں ایمبولینس نہیں پہنچ سکی تھیں۔

  4. دھماکے کی جگہ پر ’لاشوں کے ڈھیر‘

    کابل میں موجود بی بی سی کے سکندر کرمانی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر دھماکے کے مقام کی جو ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں ان میں لاشوں کے ڈھیر دیکھے جا سکتے ہیں اس لیے بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ درست ہے۔

  5. فرانسیسی صدر: افغانستان کی صورتحال ہمارے قابو سے باہر ہو سکتی ہے

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے مطابق افغانستان کی صورتحال بہت بگڑ رہی ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اس طرف جا رہی ہے کہ جہاں سے پھر ہم بھی اسے کنٹرول نہیں کر سکیں گے۔ فرانس کے صدر نے مزید کہا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے اردگرد صورتحال بہت خطرناک ہے۔

  6. کابل دھماکے میں متعدد امریکیوں اور افغانوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی تصدیق

    امریکی وزارتِ دفاع کے ترجمان جان کیربی کا کہنا ہے کہ کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکے میں امریکی فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کے دروازے کے علاوہ قریب واقع بیرن ہوٹل کے قریب بھی دھماکہ ہوا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. ایئرپورٹ کے گیٹوں سے فوری طور پر دور چلے جائیں: فرانسیسی سفیر

    کابل میں فرانسیسی سفیر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ مزید دھماکوں کے پیش نظر وہ ایئرپورٹ کے تمام گیٹوں سے دور ہو جائیں۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر کہا ’تمام افغان دوستوں کے لیے، اگر آپ ایئرپورٹ کے کسی گیٹ کے قریب ہیں تو فوری طور پر وہاں سے ہٹ کر محفوظ مقام کی طرف چلے جائیں۔ کیوں کہ دوسرا دھماکہ ہو سکتا ہے۔‘

    اب سے کچھ دیر پہلے انھوں نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کسی فرانسیسی کی اس واقعے میں زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

    ’آج ایبی گیٹ کے قریب کوئی فرانسیسی فوجی، پولیس اہلکار یا سفارتکار تعینات نہیں تھا‘

  8. امریکی صدر بائیڈن کو سکیورٹی بریفنگ کے دوران دھماکے کی اطلاع دی گئی

    روئٹرز کے مطابق امریکی صدر بائیڈن کو اس واقعے کے بارے میں اس وقت اطلاع دی گئی جب وہ سکیورٹی کی صورتحال پر حکام کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔

  9. کابل ایئرپورٹ: ہوائی اڈے کے دروازے پر دھماکے کے بعد ایک اور دھماکہ بھی ہوا

    بی بی سی نیوز کے نمائندے جوناتھن بیئل کا کہنا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے باہر ہونے والے پہلے دھماکے کے بعد ایک دوسرا دھماکہ ہوا، جس کے بعد فائرنگ بھی کی گئی۔

    دونوں دھماکے ابے گیٹ کی طرف ہی ہوئے۔ ان کے مطابق یہ کابل ائیرپورٹ کا وہ گیٹ ہے جہاں افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کئی دنوں سے جمع تھی۔

  10. ہسپتال میں زخمیوں کی آمد

    افغانستان میں طلوع نیوز کے مطابق ایئرپورٹ کے گیٹ پر زخمی ہونے والے متعدد افراد کو مقامی ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. پیٹاگون کی جانب سے ہلاکتوں کی تصدیق

    پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ کابل میں ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. ابے گیٹ پر برطانوی فوجی تعینات تھے مگر کسی برطانوی فوجی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی

    کابل

    برطانیہ کے ایک دفاعی ذریعے نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ ابھی تک اس دھماکے میں کسی برطانوی فوجی کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کے ابے گیٹ پر حالیہ دنوں میں ہی برطانوی فوجی تعینات کیے گئے تھے۔

    خیال رہے کہ ابے گیٹ کابل ایئرپورٹ کے ان تین گیٹس میں سے ایک ہے، جسے دہشتگردی کے حملے کے خطرے کے پیش نظر بند کر دیا گیا تھا۔

    ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ یہ دھماکہ ایک خود کش حملہ آور نے کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر جو بائیڈن کو بھی اس حملے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ابھی تک اس دھماکے میں نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ ایئرپورٹ پر گن فائر کی بھی اطلاعات ہیں۔

  13. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ دھماکہ: طالبان کے مطابق کم از کم 11 افراد ہلاک

    طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کابل ائیر پورٹ پر حملے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    طالبان کے مطابق اس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور بعض طالبان گاڑڈ بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    ابھی ان اطلاعات کی دوسرے ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

  14. ایک نہیں دو دھماکے ہوئے ہیں: ترک وزارت دفاع

    ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے ہوئے ہیں۔ تاہم ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  15. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکہ

    کابل کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس میں کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان کیربی نے اپنے ٹویٹ میں کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کی تصدیق کی ہے تاہم انھوں نے کہا کہ ابھی اس دھماکے میں جانی نقصان کے بارے میں کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔ ان کے مطابق جب ان کے پاس مزید معلومات جمع ہوں گے تو وہ اضافی تفصیلات بھی شیئر کر دیں گے۔

  16. مغرب نے غلطیاں دہرائیں تو پاکستان مزید ایک پناہ گزین لینے کو بھی تیار نہیں: معید یوسف

    معید یوسف نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کئی ماہ سے طالبان سے براہ راست بات چیت کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان ممالک کا اثر و رسوخ آج پاکستان سے زیادہ ہے کیوں کہ طالبان چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت کو قبول کیا جائے، انھیں مستقبل کے لیے مالی مدد کی ضرورت ہے ’ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، آپ کے پاس ہیں‘۔

    انھوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی کہ اگر طالبان مخلوط حکومت قائم نہیں کرتے تو کیا پاکستان اس کو تسلیم کر لے گا۔

    معید یوسف نے کہا کہ پاکستان جو کچھ کر سکتا ہے کر رہا ہے لیکن یہ ایک مشترکہ کوشش ہونی چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ایک عام افغان کو یہ اشارہ دیا جا رہا ہے کہ مغرب کو صرف ان کی پرواہ ہے جو ان کے اداروں اور سفارتی مشنز کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے ’ہم افغانستان کو تنہا چھوڑنے کی غلطی کو دہرا رہے ہیں، اس سے بحران پیدا ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس سے پاکستان متاثر ہوگا اور پاکستان میں پہلے سے 30 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں ’اور ہم مزید ایک فرد بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

  17. دنیا بھول جاتی ہے کہ پاکستان افغان جنگ کے متاثرین میں سے ہے: معید یوسف

    معید یوسف نے کہا کہ افغانستان میں مخلوط حکومت کا قیام عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔

    انھوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کی کہ کیا پاکستان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں جس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک مخلوط حکومت بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

    انھوں نے کہا کہ دنیا بھول جاتی ہے کہ ’پاکستان افغانستان جنگ کے متاثرین میں سے ہے‘۔

    انھوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان نے 80 ہزار جانیں گنوائی ہیں، 150 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے اور آج بھی پاکستان میں 30 لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔

  18. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ پر ٹیک آف کے دوران اطالوی طیارے پر فائرنگ کی اطلاعات

    کابل کے ایئرپورٹ پر ایک اطالوی طیارے کی طرف اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ ٹیک آف کر رہا تھا۔

    تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ فائرنگ کس نے کی ہے اور کیوں کی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ملٹری ذرائع سے متعلق خبر دی ہے کہ اس واقعے کے بعد کسی بھی قسم کے نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

  19. ہمیں ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانی چاہییں: معید یوسف

    معید یوسف نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو جس بڑے پیمانے پر انخلا کا خدشہ تھا وہ صورتحال ابھی پیدا نہیں ہوئی ہے لیکن بین الاقوامی برادری کو پناہ گزینوں کے بحران کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

    انھوں نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کی کہ اطلاعات کے مطابق پناہ گزینوں کے لیے، اس میں وہ لوگ شامل نہیں جن کے پاس آنے جانے کی اجازت ہے، صرف پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں چمن کی سرحد کھلی ہے۔

    معید یوسف نے اس وال کے جواب میں کہا کہ یہ باتیں ان افرد کے تناظر میں ہو رہی ہیں جو ’20 سے 25 ہزار افراد روزانہ پاکستان آتے اور واپس چلے جاتے ہیں۔‘

    انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انخلا ایک اہم عمل ہے لیکن ’ہم بطور بین الاقوامی برداری وہ غلطی دہرا رہے ہیں، نوے کی دہائی میں افغانوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا تھا اور وہاں سکیورٹی کے حوالے سے مسائل پیدا ہوئے اور نائن الیون جیسے واقعات رونما ہوئے‘۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم ہر مرتبہ غلطی کرتے ہیں جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہو جائے گا، ہم پناہ گزینوں کا بحران ہیدا ہی کیوں ہونے دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مغرب نے ماضی میں بڑی غلطیاں کی ہیں اور پاکستان نے سوویت یونین کے خلاف 1980 کی دہائی میں اس کی مدد کی لیکن ’ہمیں تنہا چھوڑ دیا گیا، افغانوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا‘۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں افغانوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ایسا بحران پیدا ہی نہ ہو۔

    انھوں نے کہا کہ یہ بات یقینی بنانی ہوگی کہ ’مدد موجود ہو، حکومت سازی کا منصوبہ ہو۔۔۔تاکہ پناہ گزینوں کی صورتحال نہ پیدا ہو۔‘

  20. 'پاکستان نے اب تک 18 ممالک سے تعلق رکھنے والے سات ہزار سے زیادہ افراد کے انخلا میں مدد کی ہے'

    معید یوسف

    پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ ’پاکستان ہمیشہ سے انسانی بحران کی صورت میں مدد کے لیے فرنٹ لائن پر رہا ہے۔ اس معاملے میں ہم نے اب 18 ممالک کے سات ہزار افراد کے انخلا میں مدد کی ہے‘۔

    وہ بی بی سی کے ’ٹو ڈے پروگرام‘ میں مشعل حسین کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ کیا پاکستان زمینی راستوں سے آنے والے افغان پناہ گزینوں کے لیے تیار ہے؟

    ان کا کہنا تھا کہ یا تو ان افراد نے پاکستان سے ٹرانزٹ کیا ہے یا یہ پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان میں سے پانچ سو سے زیادہ افراد پاکستان نے بڑی مشکل صورتحال میں اپنی فضائی ضروریات پر ترجیح دیتے ہوئے، خود اپنی ایئرلائن کے ذریعے نکالے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے 24 گھنٹوں میں 25 خواتین صحافیوں کی افغانستان سے نکلنے میں معاونت کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقومی برادری کے ساتھ دن رات کام کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہوائی یا سرحدی راستوں کے ذریعے ، جو ہو سکتا ہے پاکستان کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان نے جتنا کیا ہے وہ اب تک کسی ملک نے نہیں کیا۔

    انھوں نے کہا کہ سرحدوں پر کوئی افراتفری کی صورتحال نہیں ہے۔ پاکستان نے ویزا کے حصول میں آسانیاں پیدا کی ہیں ’ہم لوگوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ اگر وہ شرائط پر پورا اترتے ہیں تو وہ سرحد پر آکر ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پوری بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کر رہا ہے اور وہ اس کے معترف ہیں‘۔