لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. کابل میں رات کو ہونے والے دھماکے امریکیوں نے کیے، عوام پریشان نہ ہوں: ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کابل کے عوام کو بتایا ہے کہ رات کو شہریوں نے جن دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں وہ امریکی فوج نے ایئرپورٹ کے اندر کیے تھے جن کا مقصد اپنا سازوسامان تباہ کرنا تھا۔

    طالبان کے ترجمان نے کابل کے عوام سے کہا ہے کہ وہ فکرمند نہ ہوں

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. بریکنگ, دولت اسلامیہ نے کابل ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

    شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے کابل ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    گروپ نے کہا کہ ایک خودکش حملہ آور نے جس کی تنظیم نے شناخت بھی ظاہر کی ہے، افغانوں اور امریکی افواج کے درمیان دھماکہ خیز مواد سے بھرے جیکٹ سے دھماکہ کیا۔

    امریکی محکمہ دفاع نے بھی کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان حملوں کے پیچھے دولت اسلامیہ کے علاقائی شدت پسند تھے۔

  3. انخلا کا عمل جاری رہے گا: پینٹاگون

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل کینتھ میک کینزی کا کہنا ہے کہ ’ہم اس حملے کے باوجود انخلا کے مشن پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ تقریباً 1،000 ایک ہزار امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔

    انھوں نے خدشات کا اظہار کیا کہ اب حملے جاری رہیں گے۔

    جنرل میک کینزی کا کہنا ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور ان حملوں سے نمٹنے کے لیے ہم ممکن تیاررہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے اس حملے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ گروپ پر عائد کی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ذمہ داروں کے پیچھے جائے گا۔

  4. ’اس بچی نے میرے بازوؤں میں دم توڑ دیا‘

    امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے ایک افغان مترجم نے کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اس مترجم نے جسے سی بی ایس نیوز میں ’کارل‘ کے نام سے پکارا گیا بتایا کہ کس طرح اس نے ایک بچی کو سنبھالنے کی کوشش کی جو پھر اس کے ہاتھوں میں ہی دم توڑ گئی۔

    انھوں نے کہا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو زخمی ہوتے دیکھا اور بہت سے لوگ زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔

    ’ان میں میں نے ایک بچی بھی دیکھی جو زخمی تھی۔ میں اسے اٹھا کر ہسپتال کی طرف چل پڑا۔‘

    ’میں اسے ہسپتال لے کر پہنچا لیکن وہ میرے ہاتھوں میں مر گئی۔‘ انھوں نے بتایا کہ اس کی عمر غالباً پانچ برس تھی۔

    ’یہ سب جو ہو رہا ہے دل توڑ دینے والا ہے۔ پورا ملک ٹوٹ رہا ہے۔‘

    ’میں نے کوشش کی۔ میں جو کر سکتا تھا میں نے کیا۔‘

  5. بریکنگ, کابل دھماکوں میں 12 امریکی فوجیوں سمیت کم سے کم 60 ہلاک

    کابل میں محکمہ صحت کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کابل ایئر پورٹ کے باہر ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 60 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوئے ہیں۔

    امریکی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ خودکش حملے تھے جن میں مرنے والوں میں 11 امریکی میرینز اور امریکی بحریہ کے طبی عملے کا ایک رکن بھی شامل ہے جبکہ 15 فوجی ان دھماکوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    یہ افغانستان میں ایک دن میں امریکی فوج کے بڑے جانی نقصانوں میں سے ایک ہے جبکہ فروری 2020 کے بعد افغانستان میں کسی امریکی فوجی کی ہلاکت کا پہلا واقعہ بھی ہے

  6. کیا اب امریکہ افغانستان سے نکلنے میں جلدی کرے گا؟, جوناتھن بیل، بی بی سی نامہ نگار دفاعی امور

    امریکہ کی توجہ اس وقت افغانستان میں موجود اہلکاروں کو نکالنے پر ہو گی۔ 31 اگست کی ڈیڈ لائن تو پہلے ہی موجود ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس حملے کے بعد وہاں سے فوجیوں کو نکالنے کا عمل تیز ہو جائے گا۔ انخلا میں ایک رسک بھی ہے کہ پھر وہاں زمین پر فوجیوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ ان کے لیے اس طرح کے ایک اور حملے کا امکان بھی فکر کی بات ہو گی۔

    امریکی صدر کے پاس بہت سے راستے ہوتے ہیں۔ اس کے پاس ڈرون، جیٹ اور بی 52 بمبار ہیں جن سے وہ ہوائی اڈے کی فضائی حدود کو محفوظ کر سکتے ہیں تاکہ وہاں موجود فوجیوں کو نکالا جا سکے۔

    اب سوال یہ پیدا پوتا کہ انخلا کا عمل جو پہلے ہی تیزی سے مکمل کیا جا رہا تھا اس حملے کی وجہ سے مزید تیز ہو جائے گا۔

  7. ناروے نے دھماکے کے بعد اپنے شہریوں کو کابل سے نکالنے کا عمل روک دیا

    ناروے کے وزیر خارجہ کے مطابق ناروے اب اپنے باقی شہریوں کو کابل سے نکالنے کام عمل جاری نہیں رکھ سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ایئرپورٹ کے دروازے بند ہو چکے ہیں اور لوگوں کو وہاں لانا ممکن نہیں ہے۔

    کابل میں دھماکے اسی روز ہوئے جب کئی ممالک نے سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے وہاں سے لوگوں کے انخلا کا عمل روک دیا تھا۔

  8. بریکنگ, کابل دھماکوں میں متعدد امریکی فوجی بھی ہلاک

    پینٹاگون کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں میں افغان شہریوں کے علاوہ متعدد امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔ جان کربی کی جانب سے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد تو نہیں بتائی گئی تاہم امریکی میڈیا کے مطابق چار امریکی میرینز اس دھماکے میں مارے گئے ہیں۔

  9. بے چین افغان شہری حملوں کی وارننگ پر کان نہیں دھر رہے تھے, سکندر کرمانی، بی بی سی نیوز، کابل

    بی بی سی نیوز کے سکندر کرمانی کے مطابق اس کے باوجود کے حکام نے حملے کے ممکنہ خطرات سے خبردار کر دیا تھا مگر کابل کے ایئرپورٹ کے باہر جہاں دھماکہ ہوا ہے وہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

    کابل میں لوگ اس قدر بے چین تھے کہ انھوں نے اس طرح کے حملوں کی خبر پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ اگرچہ وہ ہر طرح کی افواہوں کے بارے میں سن رہے ہیں اور ان کی توجہ صرف ملک سے باہر نکلنے پر ہی مرکوز ہے۔

    اس صورتحال تک پہنچنے کے لیے وہ پہلے ہی بہت کچھ بھگت چکے ہیں۔ پریشان کن صورتحال میں بہت سے افغان شہریوں نے ایئرپورٹ کے باہرے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ جس خطرے کے بارے میں وہ تذبذب میں تھے وہ انھیں ایئرپورٹ کا رخ کرنے سے نہ روک سکا۔

  10. شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کا دعویٰ

    افغان اسلامک پریس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نےے کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    یہ کابل کے طالبان کے قبضے میں جانے کے بعد وہاں ہونے والا پہلا حملہ ہے۔ اب تک اس حملے میں کم از کم 13 افراد کی ہلاکت اور 50 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

  11. ’لاشیں نالے میں پھینک دی گئیں‘

    جمعرات کو کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد دلخراش واقعات سامنے آئے ہیں۔

    میلاد، جو دھماکے کے وقت اس جگہ پر موجود تھا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ لاشوں، گوشت اور لوگوں کو قریبی ہی ایک نالے میں پھینک دیا گیا۔

    جب لوگوں نے دھماکے کے بارے میں سنا تو ہر طرف افرا تفری پھیل گئی۔ ایک دوسرے عینی شاہد کے مطابق اس صورتحال میں لوگوں کو گیٹ سے ہٹانے کے لیے طالبان نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔

    عینی شاہد کے مطابق میں نے ایک شخص کو ہاتھ میں ایک زخمی بچے کو اٹھائے بھاگتے ہوئے دیکھا۔

    عینی شاہد، جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے، کے مطابق اس نے وہ کاغذات پھینک دیے جو اسے اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت بیرون ملک سفر کرنے میں مدد فراہم کر سکتے تھے۔

    عینی شاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ شخص یہ کہہ رہا تھا اب میں ایئرپورٹ کی طرف دوبارہ کبھی رخ نہیں کرونگا۔ وہ امریکہ اور اس امریکہ کا انخلا کے لیے ویزہ پروگرام کے خلاف نعرے لگا رہا تھا۔

  12. دھماکے کے مقام کی سکیورٹی کی ذمہ دار امریکی افواج تھیں: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر جہاں دھماکہ ہوا وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری امریکی افواج کی ہے۔ انھوں نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی امارت عوام کی سکیورٹی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. یہ ابتدا ہے، ابھی ہمیں خمیازہ بھگتنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر کا کابل دھماکوں پر رد عمل

    USA

    ،تصویر کا ذریعہUS ARMY PUBLIC AFFAIRS

    امریکہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والا حملہ ابتدا ہے۔

    جنرل میک ماسٹر، جو افغانستان میں ایک سینیئر افسر کے طور پر کام کر چکے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکہ نے سنگین تنائج کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کو جہنم بنانے کو ترجیح دی ہے اور ایک دہشتگرد تنظیم کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔

    سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے امریکی انخلا کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے آپ کو دھوکے میں رکھ کر افغانستان میں ایک دہشتگرد اور جہادی تنظیم کے لیے حکومت بنانے کا رستہ ہموار کر دیا ہے، جس کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا پڑے گا۔

  14. کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکوں کے بعد کے مناظر

    ،ویڈیو کیپشنکابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکوں کے بعد کے مناظر

    پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دو دھماکوں میں متعدد امریکی اور افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

  15. فرانسیسی صدر: بہت پریشان ہوں مگر ہم اپنا کام جاری رکھیں گے

    FRANCE

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے اردگرد صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔

    ان کے مطابق اب ہم ایسی صورتحال میں جو ہمارے بھی قابو میں نہیں ہے ہر شخص کو یہی مشورہ دیں گے وہ اس صورتحال میں محتاط رہیں۔

    ان کے مطابق اس حملے باوجود فرانس افغانستان سے انخلا کے اپنے آپریشن کو جاری رکھے گا۔

    اس وقت فرانس نے اپنے 115 شہریوں کو افغانستان سے نکالا ہے جبکہ دو ہزار افغان شہریوں کو بھی فرانس بیرون ملک لے جانے میں کامیاب ہوا ہے۔

    فرانس کا آخری جہاں کل شام کو کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہو گا۔

  16. کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکوں کے بعد کے مناظر

  17. افغان صحافی ہوائی اڈے پر موجود اپنی دوست کے لیے پریشان, میں یہاں مر جاؤنگی مگر میں یہاں سے نہیں جاؤنگی! سوری

    افغانستان سے تعلق رکھنے والی صحافی عائشہ احمد نے ٹویٹ کیا ہے جس میں انھوں نے بتایا کہ ان کا اپنی ایک دوست سے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جسے انھوں نے وہ علاقہ چھوڑنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

    عائشہ احمد نے اپنی دوست کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ عائشہ احمد کے مطابق انھوں نے اپنی دوست کو متعدد بار فون کیا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق ان کے واٹس ایپ پر ان کی دوست کی ابھی بھی آواز محفوظ ہے جس میں وہ میں یہاں مر جاؤں گی مگر یہاں سے نہیں جاؤں گی! سوری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. دھماکہ بہت زوردار تھا، یہ ایک قیامت خیز لمحہ تھا

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    کابل میں ایک عینی شاہد نے ایئرپورٹ پر موجود ایک صحافی کو بتایا کہ ایئرپورٹ کے ابے گیٹ کے قریب ہونے والا دھماکہ بہت زوردار تھا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی طرف سے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ جس جگہ پر ہم موجود تھے وہاں اچانک دھماکہ ہوا۔

    اس شخص کے مطابق اس نے دھماکے والی جگہ کے قریب کم از کم 400 سے 500 کے قریب لوگ دیکھے ہیں اور اس شخص کے مطابق اس دھماکے کے کچھ متاثرین غیر ملکی افواج سے تعلق رکھتے تھے۔

    اس عینی شاہد کے مطابق ہم نے سٹریچرز پر زخمیوں کو ہسپتال کی طرف لے کر گئے۔۔۔ اس دوران میرے کپڑے مکمل خون میں لت پت ہو گئے تھے۔

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابقہ مترجم: یہ ایک قیامت خیز لمحہ تھا

    دیبورا ہینز، سکائی نیوز کے فارن افئیرز کے ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے برطانوی افواج کے ساتھ کام کرنے والے ایک سابق افغان مترجم سے بات کی ہے جو اپنی اہلیہ اور چھوٹے بچے کے ساتھ ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے کے لیے اپنی پرواز کا انتظار کر رہے تھے جب یہ دھماکہ ہوا۔

    سابق مترجم کے مطابق یہ قیامت خیز منظر تھا، ہر طرف زخمی افراد تھے۔ انھوں نے سکائی نیوز کی ایڈیٹر کو مزید بتایا کہ اس نے دیکھا کہ لوگوں کے چہروں اور جسم پر خون ہی خون تھا اور وہ ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔

  19. کوئی برطانوی فوجی زخمی نہیں ہوا

    برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے دھماکوں میں کسی برطانوی فوجی یا حکومتی اہلکار کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ ہوائی اڈے کا وہ دروازہ جس کے باہر دھماکہ ہوا وہاں چند دن سے برطانوی فوج کے جوان ہی تعینات تھے

  20. کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکوں کے بارے میں اب تک کیا تفصیلات سامنے آ چکی ہیں

    دھواں

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ کے قریب کم از کم دو دھماکے ہوئے ہیں۔ یہ ایئرپورٹ کا وہ گیٹ ہے جسے شہریوں کے انخلا کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایک دھماکہ بیرون ہوٹل کے قریب ہوا جسے مغربی ممالک اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

    پینٹاگون کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اس دھماکے میں متعدد امریکی اور عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ دھماکے کی جگہ سے ہلاک ہونے والوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ایئرپورٹ پر گن فائر کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    Kabul

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu

    یہ دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب امریکی اور برطانوی حکام نے اپنے شہریوں کو دہشتگردی کے دھماکوں کے خطرات کے پیش نظر ایئرپورٹ کا رخ نہ کرنے کی تجویز دی تھی۔

    امریکہ کے صدر جو بائیڈن کو اس صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے اور وہ دھماکوں کی بعد کی صورتحال کو مانٹیر کر رہے ہیں۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن دھماکوں کے بعد ایمرجنسی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔