لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی
طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔
لائیو کوریج
گھر بار چھوڑنے والے افغانوں میں سے نصف سے زیادہ بچے ہیں: اقوامِ متحدہ
،تصویر کا ذریعہEPA
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں برس جن افغان شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے ان میں سے 60 فیصد کے قریب بچے ہیں۔
یو این اوچا کے دفتر سے جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق مئی سے اب تک چار لاکھ سے زیادہ افغانوں کی بطور پناہ گزین رجسٹریشن کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں برس اپنا گھر بار چھوڑنے والے افغانوں کی کل تعداد ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
فرانس کی جانب سے انخلا کا عمل جمعرات سے روکنے کا امکان
فرانس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا کی تاریخ میں توسیع سے انکار کے بعد وہ جمعرات سے افغانستان کے دارالحکومت کابل سے لوگوں کے انخلا کا عمل روک سکتا ہے۔
یورپی امور کے فرانسیسی وزیر کلیمنٹ بیون نے بدھ کو خبردار کیا اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان کا ملک انخلا کی کارروائی جمعرات سے روک سکتا ہے۔
کیا افغان باشندوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت ہے؟, یوگیتا لمائے
افغانستان سے لوگوں کے انخلا کے عمل میں شامل افراد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان کے اس اعلان کے بعد کہ اب افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ پر جانے کی اجازت نہیں ہو گی، کچھ افغان شہریوں کو بدھ کی صبح ہوائی اڈے کے راستے پر واقع شناختی چوکیوں پر روکا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ انھیں روکنے والے کون تھے۔
بی بی سی کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کچھ افغان شہری جن کی ملک سے روانگی بدھ کو طے تھی انھوں نے ملک سے باہر جانے کا ارادہ فی الحال ترک کر دیا ہے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ ہوائی اڈے کی طرف جانے والے راستے پر ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
افغانستان سے انخلا کا عمل جاری ہے تاہم طالبان کے اعلان کے بعد یہ خدشات ہیں کہ کابل کے ہوائی اڈے سے اڑنے والی کئی پروازوں پر لوگ نہیں ہوں گے۔
عالمی برادری طالبان کی حکومت پر کڑی نظر رکھے
اقوامِ متحدہ کے لیے افغانستان کے سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کو کسی قسم کی رعایات دینے سے قبل ان کے طرزِ حکومت پر کڑی نظر رکھے۔
غلام اسحاق زئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان پر اعتماد کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ ’اس سارے معاملے میں اصل بات حکومت کو تسلیم کرنے کی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے ’تشدد میں کمی یا القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے تعلق کے حوالے سے اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کیا اس لیے میرے خیال میں طالبان کو پہلے ہی ضرورت سے زیادہ رعایتیں دی جا چکی ہیں۔
’میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ ہم ذرا پیچھے ہوں اور کہیں کہ ہم اصل بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا طالبان نے حقیقت میں کام کیا ہے اور پھر ہم اس چیز کو قدم بہ قدم آگے بڑھائیں گے۔‘
ملالہ یوسفزئی: طالبان کی ایک گولی کا زخم جو نو برس بعد بھی بھر نہیں سکا
روس بیلاروس، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور یوکرین کے شہری بھی نکالے گا
روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے روسی شہریوں کے علاوہ بیلاروس، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور یوکرین کے شہریوں کے انخلا کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے صحافیوں کو بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے میں چار فوجی طیارے استعمال کیے جائیں گے۔
روسی حکام کے مطابق یہ طیارے الیانووسک کے فضائی اڈے پر تیار کھڑے ہیں اور ان پر ایک مکمل طبی ٹیم بھی افغانستان جائے گی تاکہ وہاں سے نکالے جانے والے افراد کو ضرورت پڑنے پر طبی امداد مہیا کی جا سکے۔
طالبان: کام کرنے والی خواتین ’وقتی طور پر گھروں میں رکیں‘
،تصویر کا ذریعہReuters
طالبان نے کہا ہے کہ کام کرنے والی خواتین کو اس وقت تک گھروں میں بیٹھنا چاہیے جب تک ان کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق ’یہ ایک عارضی اقدام ہے‘ اور افغان خواتین پر پابندیاں بہت تھوڑے عرصے کے لیے ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ ’ہماری سیکیورٹی فورسز کو پتا نہیں ہے کہ خواتین کے ساتھ معاملات کیسے کرنے ہیں، خواتین سے بات کیسے کرنی ہے۔ جب تک ہمارے پاس مکمل سیکیورٹی نہیں ہے، ہم خواتین سے کہیں گے کہ وہ گھروں میں رکیں۔‘
کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے طالبان نے اپنا قدرے اعتدال پسند تاثر دینے کی کوشش کی ہے اور خواتین اور لڑکیوں کی آزادی اور کسی حد تک آزادیِ اظہار رائے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
تاہم اقوام متحدہ نے طالبان جنگجوؤں کی جانب سے خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی ’صدقہ اطلاعات‘ کی نشاندہی کی ہے۔
’افغان پیرالمپک کھلاڑیوں کو ملک سے بحفاظت نکال لیا گیا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بدھ کے روز انٹرنیشنل پیرا اولمپک کمیٹی (آئی پی سی) نے بتایا کہ افغانستان کے دو پیرا اولمپک کھلاڑیوں کو بحفاظت ملک سے نکال لیا گیا ہے۔
دونوں ٹائیکوانڈو کھلاڑیوں زکیہ خدادادی اور حسین رسولی کو ٹوکیو پیرالمپکس میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا تھی۔
مگر افغانستان میں طالبان کی کامیابی کے بعد دونوں ان ہزاروں لوگوں میں سے تھے جو کہ ملک سے باہر نہیں جا پا رہے تھے۔
ان کھیلوں کے آغاز سے قبل انٹرنیشنل پیرا اولمپک کمیٹی نے کھلاڑیوں کو یہ کہہ دیا تھا کہ وہ مقابلوں میں شرکت نہیں کر سکیں گے اور کھیلوں کے آغاز میں افغان پرچم صرف علامتی طور پر لہرایا گیا اور ایک رضاکار اسے لے کر گراؤنڈ میں اترا۔
آئی پی سی کے ترجمان کریگ سپینس نے بدھ کے روز کہا کہ ’انھیں افغانستان سے نکال لیا گیا ہے اور اب وہ ایک محفوظ مقام پر ہیں۔ میں آپ کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ وہ کہاں ہیں کیونکہ یہ کھیلوں کا نہیں بلکہ انسانی جان کو محفوظ رکھنے کا معاملہ ہے۔‘
اگر ان کا خواب پورا ہو جاتا تو 23 سالہ زکیہ خدادادی ان کھیلوں میں افغانستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون ہوتیں۔
بریکنگ, امریکی فوجیوں کا پہلا دستہ افغانستان سے روانہ
،تصویر کا ذریعہReuters
اگرچہ دیگر اتحادی اس پر ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے وباؤ ڈال رہے ہیں، امریکی صر جو بائیڈن کے بیان کے مطابق امریکہ 31 اگست تک افغانستان سے اپنے تمام اہلکار نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق سینکڑوں امریکی فوجی افغانستان سے روانہ ہو چکے ہیں تاہم سی این این سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی دفاعی اہلکار نے کہا کہ ان کے جانے سے افغانستان میں امریکی صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
طالبان نے 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں کسی قسم کی توسیع سے انکار کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق کابل سے لوگوں کو نکالنے کا کام رفتار پکڑ رہا ہے اور منگل کو 12 گھنٹوں میں وہ 12 ہزار افراد کو نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ان میں سے 6400 افراد کو امریکی فوجی طیاروں پر جبکہ دیگر کو اتحادی ممالک کے جہازوں میں بھیجا گیا۔
امریکہ نے 14 اگست سے اب تک 70 ہزار سے زیادہ افراد کو افغانستان سے نکالا ہے۔
تاہم دیگر ممالک کا ماننا ہے کہ 31 اگست تک تمام شہریوں، اہلکاروں اور ان کے افغان اتحادیوں کو ملک سے بحفاظت نکالنا ممکن نہیں ہوگا اور امریکی صدر سے ڈیڈ لائن میں توسیع کی اپیل کی ہے۔
نیٹو سفارت کار: ہمسایہ ممالک کو افغان پناہ گزین کے لیے سرحدیں کھول دینی چاہییں
افغانستان میں نیٹو کے ایک سفارت کار نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کو اپنی افغان شہریوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول دینی چاہییں تاکہ زیادہ سے زیادہ پناہ گزین وہاں سے نکل سکیں۔
کابل میں موجود سفارت کار نے روئٹرز کو بتایا: ’ایران، پاکستان اور تاجکستان کو پروازوں کے ذریعے یا زمینی راستوں سے اور لوگوں کو نکالنا چاہیے۔‘
فلاحی اداروں کے مطابق افغانستان کو طالبان کے قبضے کے دوران انسانی بحران کا سامنا کرنا ہو سکتا ہے۔
نیٹو کے سفارت کار کے مطابق کئی بین الاقوامی امدادی ادارے اپنے افغان کارکنوں کو ہمسایہ ممالک پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کے مطابق ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ طالبان افغانستان میں سنگین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں جن میں ہتھیار ڈالنے والے افغان شہریوں اور فوجیوں کا قتل بھی شامل ہے۔
طالبان نے کہا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی واقعے کی تحقیقات کریں گے۔
وادی پنجشیر: طالبان سمیت بیرونی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ
منی سکرٹ سے برقعے تک: افغان خواتین کی زندگیاں کیسے بدلیں
تجزیہ: کابل میں کئی لوگ مایوس ہوں گے, ٹارا میک کلوی، بی بی سی وائٹ ہاؤس رپورٹر
،تصویر کا ذریعہEPA
عملہ بالکل وقت پر آیا اور وائٹ ہاؤس کے روزویلٹ روم میں مقررہ وقت پر سب تیاریاں مکمل تھیں۔
لیکن جب ان کی تقریر کا وقت آیا تو صدر خود وہاں موجود نہیں تھے۔ وہ اوول آفس میں اپنے مشیروں کے ساتھ اپنے تقریر پر کام کر رہے تھے۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا، مجھے نیوزروم میں اپنے ساتھیوں کی جانب سے ٹیکسٹ آنا شرو ہوگئے۔
جب تقریر کا وقت بار بار ملتوی ہوتا رہا تو ایک ساتھی نے پوچھا ’وہاں کیا ہو رہا ہے؟‘
وہ ہی نہیں، کابل میں کئی ہزاروں لوگ صدر کی یہ تقریر سننے کے لیے بیتاب تھے۔
تاہم جب صدر بائیڈن نے آخرکار شام پانچ بجے اپنا خطاب شروع کیا تو اس میں ان کے لیے کوئی خوشخبری نہیں تھی۔
صدر نے کہا کہ وہ 31 گست کی ڈیڈ لائن پر قائم ہیں۔ یہ خبر یقیناً کابل میں کئی لوگوں کے لیے دکھ کا باعث ہوگی کیونکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ افغانستان سے شاید کبھی نہ نکل سکیں۔
پسِ پردہ، وائٹ ہاؤس میں تقریر سے پہلے کہرام برپا تھا اور کوئی چیز وقت پر نہیں ہو پا رہی تھی، کچھ کے خیال میں بالکل ان کی افغان پالیسی کی طرح۔
امریکی کانگریس اراکین کے دورہ کابل پر واشنگٹن میں تنقید
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی ایوانِ نمائندگان کے دو اراکین نے منگل کو افغانستان کا دورہ کیا ہے۔
ڈیموکریٹ پارٹی کے سیٹھ مولٹن اور ریپبلکن جماعت کے پیٹر میجیئر دونوں سابق امریکی فوجی ہیں اور عراق کی جنگ میں حصہ لے چکے ہیں۔
ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کانگریس کے نمائندوں کی حیثیت سے معلومات حاصل کرنے کابل گئے تھے۔
’امریکہ پر اپنے شہریوں اور وفادار اتحادیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ ذمہ داری نبھائی جا رہی ہے۔‘
اپنے دورے کی دوران انھوں نے کابل ایئرپورٹ پر انتظامات کا جائزہ لیا۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا: کہ وہ ایک ایسے طیارے پر کابل گئے جس میں خالی نشستیں موجود تھیں تاکہ ان کی موجودگی سے کسی کا حق نہ مارا جائے۔
انھوں نے کہا افغانستان جانے سے پہلے وہ انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی حمایت کر رہے تھے تاہم کابل کی صورتحال دیکھ کر اور وہاں موجود کمانڈروں سے بات کرنے کے بعد ’یہ بات واضح ہے کہ ہم نے انخلا کا عمل شروع کرنے میں تاخیر کی کہ ہم جتنی بھی کوشش کر لیں، ہم 11 ستمبر تک بھی یہ کام مکمل نہیں کر سکیں گے۔
تاہم ان کانگریس اراکین کو اپنے دورے پر تنقید کا سامنہ بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
دورے کے بعد اراکین کو بھیجے گئے ایک خط میں ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی نے سیٹھ مولٹن اور پیٹر میجیئر کا نام لیے بغیر کہا کہ ایسے دورے امریکیوں کو نکالنے کے کام میں خلل پیدا کر سکتے ہیں اور ان سے قیمتی وسائل ضائع ہوتے ہیں۔
انھوں نے بعد میں رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے کئی اراکین افغانستان جانا چاہتے ہیں تاہم ان کا خیال تھا اس وقت ایسا کرنا نادانی ہوگی۔
امریکہ کے بغیر کابل ایئرپورٹ کیوں نہیں چل سکتا؟
بریکنگ, عالمی بینک کا افغانستان کو دی جانے والی امداد معطل کرنے کا اعلان
طالبان
کی جانب سے ملک کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد عالمی بینک نے افغانستان کو دی جانے والی
امداد معطل کر دی ہے۔
عالمی
بینک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں افغانستان کی صورت حال اور ملک کی ترقی کے امکانات
بالخصوص خواتین پر اثرات کے حوالے سے گہری تشویش ہے۔‘
ترجمان
نے کہا کہ بینک افغانستان میں ’مشکل سے حاصل ہونے والی بہتری‘ کو محفوظ بنانے اور ان
سے وابستہ رہنے کے طریقے ڈھونڈ رہا ہے۔
بینک
کی ویب سائٹ کے مطابق عالمی بینک کے اس وقت افغانستان میں دو درجن سے زائد ترقیاتی
منصوبے ہیں اور انھوں نے 2002 کے بعد سے 5.3 ارب ڈالر فراہم کیے ہیں۔
بریکنگ, جتنی جلدی ہم ختم کریں گے اتنا ہی بہتر ہے: جو بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن
کا کہنا ہے کہ انہوں نے جی سیون رہنماؤں کے ساتھ ساتھ نیٹو اور اقوام متحدہ کے رہنما
سے بھی بات کی۔
ان
کا کہنا تھا ’میں نے اظہار یکجہتی کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔‘
انھوں
نے مزید کہا کہ 14 اگست سے اب تک 70،700 افراد کو کابل سے نکالا جا چکا ہے۔
جو
بائیڈن کا کہنا تھا ’ہم فی الحال 31 اگست تک انخلا مکمل کر رہے ہیں۔ جتنی جلدی ہم ختم
کریں گے اتنا ہی بہتر ہے۔‘
امریکی
صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’طالبان ہمارے لوگوں کو نکالنے میں مدد کے لیے اقدامات
کر رہے ہیں۔‘
انھوں
نے کہا ، ’ہم سب نے آج اتفاق کیا کہ ہم اپنے موجودہ حلیفوں کے ساتھ کندھے سے کندھا
ملا کر افغانستان میں چیلنجوں کا مقابلہ کریں گے، جیسا کہ ہم نے برسوں سے کیا ہے۔‘
انھوں
نے مزید کہا کہ ’ہم متحد رہیں گے۔‘
کچھ
امریکی اتحادی امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ فوجیوں کے انخلا کی آخری تاریخ میں توسیع
کرے لیکن بائیڈن 31 اگست کی ڈیڈ لائن پر قائم ہیں۔
4000 امریکیوں کو کابل سے کامیاب انخلا
امریکی
محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق امریکہ نے 4،000 سے زیادہ
امریکی پاسپورٹ رکھنے والوں اور ن کے اہل خانہ کو کابل سے نکال لیا ہے۔
عہدیدار
نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو جلد از جلد
کابل سے نکالنے کی کوشش کی وجہ سے رپورٹنگ میں ابتدائی تاخیر ہوئی۔
عہدیدار
نے مزید کہا، ’ہم توقع کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد بڑھتی رہے گی۔‘
دریں
اثنا، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکیوں کے انخلا کے ساتھ ساتھ افغان باشندوں کو امریکہ
لانے کے فیصلہ کی وجہ سے صدر بائیڈن پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
انھوں
نے ایک بیان میں کہا ’بائیڈن نے افغانستان کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا اور شہریوں
سے پہلی فوج کو نکال کر ہزاروں امریکیوں کو مرنے کے چھوڑ دیا۔ اب تک صرف 4000 امریکیوں
کو نکالا گیا۔
انھوں
نے کہا ، ’آپ یقین کر سکتے ہیں کہ طالبان، جو اب مکمل کنٹرول میں ہیں انھوں نے انخلاء
کی ان پروازوں میں بہترین اور ذہین ترین افراد کو سوار نہیں ہونے دیا۔‘
انھوں
نے ثبوت دیے بغیر دعویٰ کیا کہ ’ہزاروں دہشت گردوں کو افغانستان سے دنیا بھر میں بذریعہ
ہوائی جہاز منتقل کیا گیا ہے۔‘
کابل کے ایئرپورٹ پر کس ملک کی کتنی فوج موجود ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کابل کے بین الاقوامی
حامد کرزئی ایئرپورٹ پر اس وقت سب سے زیادہ فوجی امریکہ کے ہی تعینات ہیں۔
ان امریکی فوجیوں
کی تعداد تقریباً چھ ہزار بنتی ہے۔
اس وقت کابل کی
فضا میں بڑی تعداد میں امریکی طیارے اور لڑاکا ہیلی کاپٹرز دیکھے جا سکتے ہیں۔
جبکہ کابل کے ہوائی اڈے پر ایک ہزار سے زائد برطانوی
فوجی موجود ہیں، جس میں فوجی 16 ایئر اسالٹ بریگیڈ بھی شامل ہے۔
محدود تعداد میں
نیٹو اتحاد میں شامل فرانس، جرمنی اور ترکی کی افواج بھی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ
ایئربیس پر ناروے نے ایک ہسپتال بھی قائم کر رکھا ہے۔
نیٹو کے مطابق
اس وقت اس کے آٹھ سو سے زائد سویلین کنٹریکٹر افغانستان میں موجود ہیں جن کی بڑی تعداد
ایئرپورٹ پر اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔