لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. کابل حملے عام شہریوں پر وحشت انگیز حملہ تھا: اقوامِ متحدہ

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ کابل میں ہونے والے وحشت انگیز حملوں میں ملوث ہیں انھیں ’انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘

    اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر روپرٹ کولوائل کا کہنا ہے کہ ’افغان دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ پر ہلاکت خیز حملوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عام شہریوں، بچوں، خواتین کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ حملے خاص طور پر دہشت پھیلانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے، اور ان کے باعث دہشت پھیلی۔‘

    امریکی صدر جو بائیڈن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان شدت پسند عناصر کو پکڑیں گے جنھوں نے 90 افغان اور 13 امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔

  2. کابل: برطانوی سفارتخانے کی خالی عمارت سے بعض افغانوں کی دستاویزات ملنے کا انکشاف

  3. افغان خواتین غیر یقینی کا شکار

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    طالبان کا دعویٰ ہے کہ خواتین کے حقوق کا اسلامی قوانین کے مطابق احترام کیا جائے گا۔ تاہم بہت لوگوں کو خدشہ ہے کہ خواتین کے کام کرنے اور بچیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔

    تفصیل دیکھیے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی اس رپورٹ میں

  4. مزارِ شریف میں پاکستانی حکومت کی مدد سے ایئر برج بنانے کی کوشش کریں گے: عالمی ادارہ صحت

    hospital

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طبی سامان کی ضرورت بہت زیادہ اور وقت کے ساتھ اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے خطے کے ایمرجنسی ڈائریکٹر رک برینن افغانستان میں سامان کی قلت سے متعلق بات کر رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اگلے دو سے تین روز میں مزارِ شریف میں پاکستانی حکومت کی مدد سے ایئر برج بنانے کی کوشش کریں گے۔

    برینن نے جنیوا میں ایک بریفنگ میں بتایا کہ ایمرجنسی کی صورت میں ہسپتالوں میں درکار سازوسامان اور بچوں میں غذائی قلت سے متعلق ادویات اس وقت ترجیحات میں سب سے اوپر ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس وقت سکیورٹی صورتحال اور اور دیگر آپریشنل مسائل کے باعث کابل ایئرپورٹ کے ذریعے ایسا کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔

    یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کابل ایئرپورٹ پر جمعرات کے روز دو خودکش حملوں میں کم سے کم 90 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور 150 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

  5. ہرات سے ایک ڈائری: ’میں ایک قیدی کی طرح ہوں، میری زندگی رک گئی‘

  6. کابل ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے سے متعلق ترکی اور طالبان کے درمیان مذاکرات جاری

    kabul airport

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے صدر طیب اردوگان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت طالبان سے براہ راست بات چیت کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کا مشترکہ انتظام سنبھالنے میں مدد سے متعلق حتمی فیصلے کیے جا سکیں۔

    صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ ترک حکام نے طالبان سے تین سے چار گھنٹوں پر محیط بات چیت کے دوران یہ واضح کیا کہ ترکی ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنےکے لیے تیار ہے لیکن اس کی سکیورٹی کے انچارج طالبان ہوں گے۔

    ایئرپورٹ کا انتظام کیسے سنبھالا جاتا ہے اور اسے کس طرح محفوظ بنایا جاتا ہے یہ ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ امریکہ نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ اس کا متحرک ہونا افغانستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہو گا۔

    ترکی نیٹو کا رکن ملک ہے اور یہ اس اتحادی افواج کا حصہ بھی رہ چکا ہے۔ ترکی نے گذشتہ چھ سالوں سے ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔

    تاہم طالبان ترکی سمیت تمام بین الاقوامی افواج کا ملک سے انخلا چاہتے ہیں۔ صدر اردوگان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے باوجود تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ان کی افواج ایئرپورٹ پر موجود رہیں گی یا نہیں۔

  7. ’خطے کی دیگر افواج سے کوئی براہ راست رابطے نہیں‘

    چین اور ازبکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک سے عسکری تعاون کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی افواج میں کوئی براہ راست رابطے نہیں ہیں اور یہ حکومتی سطح پر ہی محدود ہیں۔

  8. ’افغانستان میں ابھی خانہ جنگی کا کوئی امکان نہیں‘

    panjsheer

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجشیر میں جنم لینے والی مزاحمتی تحریک کے حوالے سے سوال پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا ہمیشہ سے خطرہ رہا ہے تاہم اس وقت صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی اور اس وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔

    تاہم ان کے مطابق افغانستان میں ابھی خانہ جنگی کا کوئی امکان نہیں۔

  9. ’طالبان کی حکومت بنی تو حکومتی سطح پر رابطہ ہوگا‘

    ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کی حکومت قائم ہوتی ہے تو پاکستان کی حکومت کا ان کے ساتھ یقیناً رابطہ ہوگا۔

  10. ’کوئی پناہ گزین پاکستان نہیں آ رہے‘

    afghansitan

    ایک صحافی نے جب ان سے چمن پر آنے والے پناہ گزینوں کے حوالے سے سوال کیا تو میجر جنرل بابر افتخار نے کہا: ’ہمارے ہاں کوئی پناہ گزین نہیں آئے۔‘

    یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر چمن کے مقام پر بڑی تعداد میں افغان پاکستان کی جانب آ رہے ہیں۔

    ان کے مطابق سرحد پر افراتفری کی صورتحال نہیں ہے اور ہر آنے جانے والا متعلقہ دستاویزات کے ساتھ آ رہا ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیسے یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دولت اسلامیہ خراسان یا کسی اور گروہ کے رکن پناہ گزین بن کر پاکستان میں داخل نہیں ہو جائیں گے تو میجر جنرل بابر افتخار نے اس امکان کو رد نہیں کیا۔

  11. میجر جنرل بابر افتخار: امید ہے کابل سے انڈیا کا اثر ختم ہو جائے گا

    جب میجر جنرل بابر افتخار سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا اور افغان انٹیلیجنس کا گٹھ جوڑ برقرار ہے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا جواب دینے کے لیے ہمیں حکومت سازی کا انتظار کرنا پڑے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ انڈیا کا اثر وہاں سے ختم ہو جائے گا۔

    ’انڈیا کا وہاں کیا کردار رہا ہے؟ جو بھی انھوں نے وہاں سرمایہ کاری کی وہ صرف پاکستان کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کیا گیا۔ انھیں افغان عوام سے کوئی لگاؤ نہیں۔

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق ہم نے افغان رہنماؤں سے رابطے رکھنے کی کوشش کی لیکن جب بھی ہم مل کر واپس آنے تو کوئی منفی بیان سامنے آ جاتا

    ان کے مطابق این ڈی ایس را کے لیے پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کرتی رہی۔ اگر وہ اپنا کام کرتی تو ایسا نہ ہوتا جو ان کے ساتھ ہوا۔

  12. ’ٹی ٹی پی سے کوئی خطرہ ہوا تو ہم تیار ہوں گے‘

    ایک صحافی نے پوچھا کہ پاکستان نے طالبان سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے لیکن اگر افغان طالبان ایسا نہیں کرتے تو کیا پاکستان کوئی فوجی آپریشن کرے گی۔

    اس سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ طالبان نے یقین دلایا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے پاکستان یا کسی بھی اور ملک کے خلاف کارروائی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس لیے وہ وہاں آزادی سے نہیں رہ سکیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کی طرف کوئی مسئلہ ہوا تو وہ اس کے لیے تیار ہوں گے۔

  13. ’سی پیک منصوبوں پر ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں پر ہونے والے حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی ایس پی آ ر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان تمام حملوں کو منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور سب کو خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی حمایت حاصل تھی۔

  14. ’سرحد پر باڑ لگانے کا کام بہت بڑی اور اہم کاوش تھی‘

    فوج

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ جب مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن چل رہے تھے اور مشرقی سرحد پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہو رہی تھیں، یہ وہ وقت تھا جب پاکستان نے جامع بارڈر مینیجمنٹ سسٹم کا انعقاد کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بڑے بارڈر ٹرمینل کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔

    افغان سرحد پر باڑ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی اور اہم کاوش تھی۔

    اس کام کے دوران کئی پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور ایران کی سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام ہو رہا ہے اور 50 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔

  15. میجر جنرل بابر افتخار: ہم نے افغان فوج کو تربیت کی پیشکش کی تھی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے سرحد پر سکیورٹی اور انٹیلیجنس تعاون کے علاوہ فوجیوں کی تربیت کی کئی بار پیشکش کی تاہم صرف کچھ ہی افغان افسر یہاں آئے جبکہ سینکڑوں تربیت کے غرض سے انڈیا گئے۔

    اس تعاون کا پس منظر بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پاکستان میں امن و امان کے قیام سے جڑا ہے۔

  16. میجر جنرل بابر افتخار: ’افغان عوام کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا‘

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق افغان عوام کے بعد اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا: ’80 ہزار سے زیادہ اموات، 102 بلین ڈالر کے نقصانات، اور ابھی بھی گنتی جاری ہے۔‘

  17. میجر جنرل بابر افتخار: پاکستان اب افغانستان سے انخلا کا سب سے اہم حصہ ہے

    آئی ایس پی آر کے سربراہ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان 78 راہداریاں ہیں جن میں سے 18 سرکاری نوعیت کی ہیں۔

    میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق افغانستان کے ساتھ سرحدی راہداریاں کھلی رکھی گئی ہیں اور تجارت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    ان کا کہنا تھا پاکستان ہی اب افغانستان سے انخلا کے عمل کا سب سے اہم حصہ ہے اور 5500 غیر ملکیوں کو پاکستان کے ذریعے افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔

  18. پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کی پریس کانفرنس شروع: پاکستان کی طرف سرحد پر معاملات قابو میں ہیں

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کی افغانستان کے مسئلے پر پریس کانفرنس شروع ہو چکی ہے۔

    میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس معاملے کے عسکری پہلوؤں تک محدود رکھیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں عسکری صورتحال بہت جلدی تبدیل ہوئی اور کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اتنی تیزی سے حالات بدلیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر پاکستان کی طرف حالات قابو میں ہیں۔

  19. کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکے کے بعد شہر میں خوف کا عالم

  20. ’ایئرپورٹ کی سکیورٹی کے لیے طالبان پر بھروسہ نہ کریں‘

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہgett

    امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک انسداد دہشت گردی کے ماہر کا کہنا ہے کہ کابل میں جمعرات کو ہونے والے دھماکوں کے بعد امریکی فوج کو فوری طور پر ایئرپورٹ کی سکیورٹی سنبھال لینی چاہیے تاکہ لوگوں کے انخلا کے دوران ایسے واقعات دوبارہ نہ پیش آئیں۔

    سابق سفیر ناتھن سیلز ماضی میں امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینے والے ایک عالمی اتحاد کے نمائندہ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن اپنا وعدہ پورا کریں اور اس دھماکے کے ذمہ داران کو نہ صرف گرفتار کریں بلکہ 31 اگست کو انخلا کی ڈیڈ لائن پر بھی نظر ثانی کریں۔

    ’یہ قطعی ناقابل قبول ہے کہ امریکہ یا کوئی اور مہذب ملک طالبان پر سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے بھروسہ کرے۔‘

    ’ہمیں اس وقت تک وہاں اپنی فوجیں موجود رکھنی ہوں گی جب تک ہم تمام امریکیوں کو باہر نہ نکال لیں ورنہ وہ پھر ہمیں اغوا ہونے والی ویڈیوز میں نظر آئیں گے، اور وہ افغان اتحادی جنھوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ہماری مدد کی۔‘