لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. برطانوی وزیر اعظم مزید افراد کو افغانستان سے نکالنے کے لیے ’پراعتماد‘

    Boris Johnson

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے اب تک 57 پروازوں کے ذریعے نو ہزار افراد کو کابل سے نکالا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم آخری حد تک جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ’پراعتماد ہیں‘ کہ برطانیہ ’افغانستان سے مزید ہزاروں افراد کو نکالنے میں کامیاب ہو جائے گا۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’کابل ایئرپورٹ پر صورتحال میں بہتری نہیں آ رہی ہے۔

    ’وہاں سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے والوں کے بہت دلخراش اور افسوسناک مناظر سامنے آ رہے ہیں۔‘

    برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جی سیون نے افغانستان سے انخلا کے لیے ’مشترکہ حکمت عملی‘ اپنانے پر نہ صرف اتفاق کیا ہے بلکہ طالبان کے ساتھ رابطے کے لیے ایک ’روڈ میپ‘ بھی بنایا ہے۔

  2. بریکنگ, برطانیہ کا 31 اگست کے بعد بھی افغانستان سے محفوظ انخلا کا پر اصرار

    برطانیہ کے وزیر اعظم نے جی سیون ممالک کے افغانستان کی صورتحال اور انخلا کی تاریخ میں توسیع پر مشاورتی اجلاس کے بعد افغانستان سے 31 اگست کے بعد بھی محفوظ انخلا پر زور دیا ہے۔

    جی سیون ممالک کے اجلاس کے بعد، برطانیہ کے وزیر اعظم جانسن کا کہنا ہے کہ:’ جس پہلی شرط پر ہم اصرار کر رہے ہیں وہ یہ کہ 31 اگست تک انخلا کے ابتدائی مرحلے کے بعد ان افراد کو محفوظ راستہ دینا چاہیے جو افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں۔‘

    جی سیون ممالک کا افغانستان کی صورتحال اور انخلا کی تاریخ میں توسیع پر مشاورت کے بارے میں ورچوئل اجلاس ہوا جس میں برطانیہ سمیت رکن یورپی ممالک نے امریکہ سے افغانستان سے محفوظ انخلا کی تاریخ میں ممکنہ توسیع کا مطالبہ کیا۔

    اس اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن نے سات منٹ تک رکن ممالک کے رہنماؤں سے بات کی۔ جبکہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اس اجلاس کی سربراہی کی۔

  3. بریکنگ, امریکی صدر 31 اگست تک انخلا کے فیصلے پر قائم

    امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن 31 اگست تک انخلا کے فیصلے پر قائم ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پینٹاگون کی سفارش پر 31 اگست تک انخلا کا فیصلہ امریکی افواج کو افعانستان میں درپیش سکیورٹی خطرات و خدشات کی بنیاد پر سوموار کو کیا گیا ہے۔

  4. جی سیون ممالک کا ورچوئل اجلاس جاری

    G7 Summit

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جی سیون ممالک کا افغانستان کی صورتحال اور انخلا کی تاریخ میں توسیع پر مشاورت کے بارے میں ورچوئل اجلاس جاری ہے۔

    اس اجلاس میں برطانیہ سمیت رکن یورپی ممالک امریکہ سے افغانستان سے محفوظ انخلا کی تاریخ میں ممکنہ توسیع کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اس اجلاس کی سربراہی کر رہے ہیں۔

    G-7 Summit

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ورچوئل اجلاس کی تصاویر جاری کی گئیں ہیں جس میں جرمن چانسلر انگیلا مرکل اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں دکھائی دے رہے ہیں۔

    اس اجلاس میں رکن ممالک کے سربراہان افغانستان سے انخلا کی 31 اگست کت تاریخ میں توسیع پر زور دے رہے ہیں۔

    اس اجلاس کے فیصلوں اور تازہ ترین معلومات ہم آپ تک پہنچاتے رہے گے۔

  5. اب تک افغانستان سے تقریباً 64 ہزار افراد کا انخلا ہو چکا ہے: پینٹاگون

    امریکی فوج کے میجر جنرل ولیم ہانک ٹیلر کے مطابق جولائی سے لے کر اب تک امریکہ نے افغانستان سے 63900 افراد کا انخلا ممکن بنایا ہے، جن میں امریکی اور نیٹو کے افراد سمیت افغانستان کے عام شہری بھی شامل ہیں۔

    ان کے مطابق افغانستان سے نکالے گئے یہ لوگ اب ایک بہتر زندگی گزارنے کی راہ پر گامزن ہیں۔

    امریکی فوجی افسر کے مطابق کابل ایئر پورٹ سے ہر 45 منٹ بعد ایک طیارہ پرواز بھر رہا ہے۔ ان کے مطابق ہم مزید افراد کے انخلا کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ صرف سوموار کو 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ نے 21600 افراد کو افغانستان سے نکالا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. طالبان کے الفاظ نہیں بلکہ طرز عمل اہمیت کا حامل ہے:‘ سابق برطانوی سفیر

    Taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کے لیے برطانیہ کے سابق سفیر سٹیفن ایونز نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ طالبان کے صرف الفاظ پر یقین نہیں کرنا چائیے کہ جیسا کہ طالبان کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ان کے پاس ان افراد کی ایسی کوئی فہرست نہیں ہے جن کے خلاف انتقامی کارروائی کرنی ہے۔

    ان کے مطابق ہمیں یہ بہت محتاط انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ حقیقت میں طالبان کا طرز عمل کیا ہوگا۔

    سابق برطانوی سفیر کے مطابق ’الفاظ نہیں بلکہ طالبان کا طرز عمل اہمیت کا حامل ہے۔‘

    سٹیفن ایونز کے مطابق طالبان کی پریس کانفرنس میں کچھ باتیں بہت پریشان کن تھیں۔ ان کے مطابق طالبان کے ترجمان نے اس بات کی یقین دہانی نہیں کرائی ہے کہ ایسے افغان شہری جن کے پاس کسی مغربی ممالک کا ویزہ ہے کیا وہ ایئرپورٹ جا سکیں گے۔

    سابق برطانوی سفیر کے مطابق اب دنیا کو طالبان کی باتوں کے بجائے ان کے طرز عمل پر نظر رکھنا ہو گی۔

  7. طالبان جنگجو نے پوچھا ’کیا آپ افغانستان واپس آئیں گی؟ میں نے کہا نہیں، ہم آپ سے ڈرتے ہیں‘

  8. داعش خراسان کے سربراہ کی ہلاکت کی اطلاعات پر طالبان کی خاموشی کیوں؟

  9. ’جو کچھ بھی شریعت کے مطابق ہو گا اس کی اجازت ہو گی‘: ذبیح اللہ مجاہد

    ملک میں گلوکاروں اور فلمسازوں کا مستقبل کیا ہو گا کے سوال کے جواب میں طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ شرعی قانون لے کر آئیں، اگر اسلامی شریعت میں رہتے ہوئے فلمیں یا ڈرامے بناتے ہیں اور گانے بناتے ہیں اس کی اجازت ہو گی۔

    مگر اگر وہ اسلامی شریعت کے مطابق نہیں ہو گا تو وہ اپنے پروفیشن کو بدل لیں کیونکہ وہ مسلمان ہیں اور اسلامی احکامات کا احترام کریں جس کے لیے ہم نے بہت قربانی دی ہے۔بہتر ہے کہ ہم شرعی زندگی گزاریں۔‘

  10. افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ہمارے معاہدے کی نفی ہے: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ہمارے معاہدے کے خلاف ہے۔‘

    پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کہ کیا طالبان انخلا کی تاریخ میں توسیع کے لیے تیار ہیں کا جواب دیتے ہوئے طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ مقررہ تاریخ تک اپنا انخلا مکمل کر لے تاہم اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو ہم اس پر بعد میں اپنا موقف دیں گے۔‘

  11. ’کابل ایئرپورٹ کی اندرونی سکیورٹی امریکہ کے پاس ہے‘: طالبان

    کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے حادثے کے حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ہم نے کوئی فائرنگ نہیں کی۔ ہوائی اڈے کے اندر کی سکیورٹی امریکہ کے پاس ہے۔‘

    صحافیوں نے پریس کانفرنس کے دوران کابل ایئر پورٹ پر فلمنگ کی اجازت نہ دی جانے کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے محفوظ فاصلہ رکھ کر دور رہ کر کام کریں۔‘

    خواتین کے منسٹری کے دفاتر میں نہ جا سکنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’ان کی سکیورٹی کی خاطر ہم خواتین کو وہاں نہیں جانے دے رہے۔ وہاں ہمارے جنگجو موجود ہیں۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہاں پر جو بیت المال کا سامان ہے وہ چوری نہ ہو اس لیے اس کو بند کیا ہوا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ملک کے آئین کے حوالے سے ابھی دیکھ رہے ہیں۔

  12. ہم انسانی ہمدردی کے تحت امداد کا خیرمقدم کریں گے: طالبان

    طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت دی جانے والی امداد کا خیرمقدم کریں گے۔

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کہ افغانستان کو کتنی امداد کی ضرورت ہے کے جواب میں کہا ہے کہ ’ہمیں ممالک کی جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت امداد کی ضرورت ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ لیکن ہم اس مدد کے حق میں نہیں ہیں جو ہماری آزادی یا شناخت کی قیمت پر ہو۔‘

  13. بریکنگ, ’ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے لیکن اس کی فوج ملک میں نہیں چاہتے:‘ طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’ہمارے ترکی سمیت تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے لیکن ہم اس کی فوج اپنے ملک میں نہیں چاہتے۔‘

    کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہیے ہیں اور کسی بھی ملک کے متعلق منفی تاثر نہیں رکھتے ہیں۔‘

    سی آئی اے ڈائریکٹر کی عبدالغنی سے ملاقات کے سوال پر طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس ملاقات کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ تاہمذبیح اللہ کا کہنا تھا تمام سفارتخانوں سے ہمارے نمائندے بات کر رہے ہیں ہمیں نہیں معلوم کہ اس میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔

    ایک خاتون صحافی جن کا تعلق بلخ سے تھا انھوں نے پوچھا کہ آپ بین الاقوامی صحافیوں کے تحفظ کی بات تو کر رہے ہیں لیکن مقامی صحافیوں کا کیا ہو گا جس صوبے سے میں آئی ہوں میں وہاں واپس نہیں جا سکتی۔

    اس کے جواب میں طالبان کے ترجمان نے کہا کہ صحافی بالکل ہمارے نشانے پر نہیں ہیں انھوں نے کوئی جنگ نہیں کی وہ عام شہری ہیں۔

    ہم صرف ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جنھوں نے ہمارے خلاف جنگ کی ہے۔ آپ بلخ جا کر کام کر سکتی ہیں شاید کوئی ایک آدھ واقعہ ہوا ہو کوئی ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے لیکن میں پھر بھی اس کو دیکھوں۔

  14. بریکنگ, پنجشیر کا مسئلہ جلد حل کر لیا جائے گا: طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’پنجشیر کا مسئلہ‘ ایک معمولی مسئلہ ہے اور اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل کر لیا جائے گا۔‘

  15. بریکنگ, افغان شہریوں کو اب کابل ایئرپورٹ جانے کی اجازت نہیں ہو گی، طالبان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر افراتفری کی صورتحال کے باعث طالبان اب افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ پر جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

    کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر موجود ہجوم کو واپس اپنے گھروں کو جانا چاہیے ان کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ لوگوں کو پروازوں پر آنے کی دعوت دیتا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے امریکیوں کو کہا ہے کہ افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ترغیب نہ دیں، ہمیں ان کے ہنر کی ضرورت ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں ہسپتال، سکول، یونیورسٹیاں، میڈیا کے ادارے اور مقامی حکومتیں کام کر رہی ہیں۔

  16. ایک مترجم 'جہنم' میں اور دوسرا اس سے بہت دور جانے میں کامیاب

  17. ’ہم چاہتے ہیں حکومت سازی کا عمل جلد مکمل ہو:‘ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد

    Taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں حکومت سازی کا عمل جلد مکمل ہو۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ اس وقت افغانستان میں امور مملکت اور ادارے احسن طور پر چل رہے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملک و قوم کی خدمت کرنے والے ادارے مکمل طور پر بحال ہیں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں واضح طور پر بہتری آئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ دس روز میں کسی ماں یا بہن نے اپنے بیٹے یا بھائی سے محروم نہیں ہوئی ہے۔‘

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق تمام ادارے بینک، ہسپتال، سرکاری ٹی وی اور ریڈیو نشریات چل رہی ہیں۔

    ان کے مطابق تمام بینکوں نے آزادی سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

  18. گذشتہ 24 گھنٹوں میں 20 ہزار سے زائد افراد کو افغانستان سے نکالا گیا: امریکہ

    Afghanistan

    امریکی حکام کے مطابق پیر کی صبح سے افغانستان سے امریکی فوجی طیاروں کے ذریعے 12700 افراد کو ملک سے باہر لے جایا گیا ہے جبکہ اتحادی ممالک کی طرف سےچلائی جانے والی پروازوں سے اس دوران 8900 افراد کو بحفاظت ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق ابھی بھی کابل کے ایئرپورٹ پر ہزاروں افراد بیرون ملک جانے کے منتظر ہیں تاکہ وہ امریکی افواج کے ملک سے 31 اگست تک مکمل انخلا سے پہلے باہر منتقل ہو سکیں۔

    خیال رہے کہ طالبان نے امریکہ کو طے شدہ وقت تک افواج کو نہ نکالنے کی صورت میں سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔

  19. افغانستان میں ادویات کی قلت پیدا ہو رہی ہے: عالمی ادارہ صحت

    Afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عالمی ادارہ صحت کے ایک علاقائی اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صرف ایک ہفتے کی ادویات کا ذخیرہ بچا ہے۔

    عہدیدار نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابل ایئرپورٹ پر پابندیوں کے باعث پانچ سو ٹن ادویات جن میں سرجیکل سامان اور شامل دیگر اہم ادویات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ادویات دبئی کے ایئرپورٹ پر موجود ہیں اور عالمی ادارہ صحت کا مطالبہ ہے کہ انخلا کے عمل میں شامل خالی پروازیں افغانستان آتے ہوئے ان ادویات کو وہاں سے لیتی آئیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی کہا ہےکہ افغانستان میں 95 فیصد صحت کی سہولیات فعال ہیں تاہم چند خواتین عملہ ابھی تک کام پر واپس نہیں آئی ہیں اور چند خواتین طالبان کے افغانستان پر قبضہ کے بعد سے گھروں سے نکلنے پر خوفزدہ ہیں۔

  20. برطانیہ نے 13 اگست سے ابتک تقریباً 8500 افراد کو افغانستان سے نکالا ہے

    برطانیہ کی وزارت دفاع کے مطابق برطانیہ نے 13 اگست سے ابتک افغانستان سے تقریباً 8500 افراد کو نکالا ہے۔

    وزارت دفاع نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کا انخلا برطانوی فوجی آپریشن کے تحت کیا گیا ہے۔

    برطانیہ کی جانب سے افغانستان سے نکالے جانے والے افراد میں پانچ ہزار سے زائد وہ شہری شامل ہیں جنھوں نے افغان ری لوکیشن اور امداد کی سکیم کے تحت برطانوی حکومت کو درخواست دی تھی۔

    برطانوی وزارت داخلہ نے ٹویٹ میں مزید بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران نو فوجی پروازیں کابل سے اڑان بھر چکی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام