لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. افغانستان سے اکثریت کا انخلا ہو چکا ہے: بورس جانسن

    بورس جانسن

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ افغانستان سے ایسے افراد کی اکثریت کا انخلا مکمل ہو چکا ہے جو بیرون ملک سفر کرنے کے اہل تھے۔

    انھوں نے یہ بات شمالی لندن پرمننٹ جائنٹ ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران براڈ کاسٹرز سے ملاقات میں کی۔ ان کے اس دورے کے دوران ان کی وہاں پر موجود ایسے فوجی اہلکاروں سے بھی ملاقات ہوئی جو انخلا کے اس مرحلے میں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

    اس موقع پر بورس جانسن کا کہنا تھا کہ تقریباً 15 ہزار لوگوں کو برطانوی دستوں نے انخلا میں مدد فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق جتنے کم وقت میں ہم نے انخلا کو یقینی بنایا ہے اس کی ہر کوئی تعریف ہی کر سکتا ہے اور ہم دیگر لوگوں کے انخلا کے لیے بھی جو کر سکے ضرور کریں گے۔

    تاہم ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تقریباً دو ہزار ایسے لوگ جو برطانوی حکومت کے آبادی کاری کے پروگرام کے اہل ہیں مگر وہ ابھی افغانستان میں ہی ہیں۔

  2. امراللہ صالح: کابل پر طالبان کے قبضے کے ذمہ دار زلمے خلیل زاد اور پاکستان ہیں

    امراللہ صالح

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    افغانستان کے قائم مقام صدر ہونے کے دعویدار امراللہ صالح نے کہا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اور پاکستان کابل پر طالبان کے قبضے کے ذمہ دار ہیں۔

    بی بی سی نیوز سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کے ذریعے امریکہ کو بلیک میل کیا اور امریکہ نے انخلا سے قبل افغان حکومت کو تیاری کرنے کا وقت نہیں دیا۔

    امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ امریکہ نے راتوں رات افغان فوج کی فضائی حملوں کے ذریعے مدد کرنی بند کر دی۔

    ’ہم اپنے سپاہیوں تک رسد نہیں پہنچا پائے جس کے باعث اُنھوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔‘

    ’واشنگٹن کبھی بھی اس سب سے بری الذمہ نہیں ہو سکے گا۔‘

    امراللہ صالح افغانستان کے صدر اشرف غنی کی حکومت میں نائب صدر اول تھے۔

    اشرف غنی کے ملک سے چلے جانے کے بعد اُنھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آئینی طور پر وہ افغانستان کے صدر ہیں۔

  3. قندھار میں پاکستانی صحافی طالبان کی حراست میں, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    میمد علی اور عبدالمتین

    ،تصویر کا ذریعہNiamat Sarhadi

    افغانستان کے شہر قندھار میں دو پاکستانی صحافیوں عبدالمتین اور محمد علی کو حراست میں لیا گیا ہے جن کا تعلق نجی ٹی وی خیبر سے ہے۔

    دونوں کا تعلق قندھار سے متصل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے ہے جن میں عبدالمتین چمن میں ٹی وی کے رپورٹر جبکہ محمد علی کیمرہ مین کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    عبدالمتین کے بھتیجے محمد نعیم نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں تین روز قبل چمن سے افغانستان میں تبدیل شدہ صورتحال کی کوریج کے لیے گئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ایک بچہ بھی ہے۔

    اُنھوں نے بتایا کہ ان کو قندھار شہر سے حراست میں لیا گیا اور گذشتہ شب ان کی اہلخانہ سے بات بھی کروائی گئی تھی۔

    ’عبدالمتین نے بتایا تھا کہ اُنھیں آج چھوڑ دیا جائے گا لیکن ابھی ان سےرابطہ نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ہم سخت پریشان ہیں۔‘

    چمن کے سینیئر صحافی نعمت سرحدی نے نجی ٹی وی کے کیمرہ مین اور رپورٹر کو حراست میں لیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اطلاعات یہ ہیں کہ ان کو قندھار کے پوش علاقے عینو مینہ سے حراست میں لیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان سے صحافیوں کی بہت بڑی تعداد کابل اور افغانستان کے دوسرے علاقوں میں ہے لیکن چمن سے تعلق رکھنے والے ان دو صحافیوں کو حراست میں لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    اس متعلق تاحال طالبان کا مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔

  4. ’ہم اپنے گھر چھوڑتے وقت خوف اور صدمے کی حالت میں تھے‘, شمائلہ جعفری، بی بی سی نیوز

    چمن

    میں افغانستان کی پاکستان کے ساتھ سرحد پر سپن بولدک کے مقام پر موجود ہوں۔ عام طور پر یہ سرحد پر مصروف ترین چوکی ہوتی ہے۔

    آج یہاں ہزاروں لوگ سرحد پار کرنے کی کوشش میں موجود ہیں۔

    کچھ پناہ گزینوں نے ہمیں بتایا کہ وہ کاروبار میں مندی کے باعث وہاں سے جانا چاہ رہے ہیں جبکہ کچھ نے کہا کہ وہ طالبِ علم ہیں اور طالبان دور میں تعلیم کے حوالے سے خدشات کے پیشِ نظر پاکستان جانا چاہتے ہیں۔

    مگر کئی لوگوں، بالخصوص شمالی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کہا کہ وہ اپنی جان کے خوف سے بھاگ رہے ہیں۔

    یہاں موجود کئی لوگوں کے رشتہ دار، دوست اور خاندان کے افراد پاکستان میں ہیں۔ کچھ لوگوں کے تو پاکستان میں اپنے گھر بھی ہیں۔ اگر یہ لوگ سرحد پار کر سکے تو دوسرے شہروں تک پھیل جائیں گے۔

    ہم نے ایک سابق افغان سپاہی کے بیٹے سے بھی ملاقات کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے باوجود وہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔

    اس کے علاوہ اقلیتی ہزارہ برادری کے کچھ پناہ گزینوں نے کہا کہ اُنھیں انسانی بنیادوں پر سفری دستاویزات کے بغیر ہی آنے دیا گیا ہے۔

    ایک ہزارہ خاتون نے کہا: ’طالبان ہمارے لیے بہت سخت ہیں۔ زندگی اب اچھی نہیں ہے۔ اس لیے ہم اپنے گھر چھوڑ کر یہاں آ گئے ہیں۔ ہم اپنے گھر چھوڑتے وقت خوف اور صدمے کی حالت میں تھے۔‘

    ’یہاں سرحد پر رہنے اور بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اُنھیں چاہیے کہ ہمارے لیے کوئی کیمپس بنا دیں۔ پچھلی حکومت میں صورتحال بہتر تھی مگر اب ہمارے پاس اپنا علاقہ چھوڑ دینے کے علاوہ چارہ نہیں رہا۔‘

  5. افغانستان میں اب کوئی موسیقی یا ساز نہیں بجے گا

    music

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے افغانستان میں ایک بار پھر موسیقی پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

    طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ ’اسلام میں موسیقی حرام ہے۔۔۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ ہم لوگوں کو مجبور کرنے کے بجائے انھیں ایسی چیزیں ترک کرنے پر امادہ کر لیں گے۔‘

    1990 کی دہائی میں طالبان نے بیشتر موسیقی، ٹیلی وژن اور سنیما کا ملک سے خاتما کر دیا تھا۔

    ذبیع اللہ مجاہد نے امریکی اخبار کو بتایا کہ خواتین کے حوالے سے لوگوں کے خدشات بےبنیاد ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کو گھروں میں رہنے یا برقے پہننے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔

    ان کے مطابق سفر کے دوران مرد کے ساتھ ہونے کی شرط صرفتین روز یا اس سے زیادہ کے سفر کے لیے ہے۔ انھوں نے کہا کہ خواتین جلد اپنے معمول کے کاموں پر واپس آ سکیں گی۔

  6. بریکنگ, برطانوی وزیر: کابل میں ’تباہ کن اور ہلاکت خیز‘ حملے کا قوی امکان

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی مسلح افواج کے وزیر نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر جلد ہی ’ایک تباہ کن اور ہلاکت خیز‘ حملہ ہونے کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ برطانیہ کے دفتر خارجہ نے رات گئے اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ ہوائے اڈے کی طرف نہ آئیں اور جو لوگ وہاں موجود ہیں انھیں وہاں سے نکل جانا چاہیے۔

    وزیر جیمز ہیپی نے اس سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ حملے کےخطرے کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات ہیں۔

    اس کے کچھ دیر بعد انھوں نے بتاتا کہ: وہ مصدقہ اطلاعات اس نہج پر پہنچ گئی ہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ کابل میں ایک تباہ کن اور ہلاکت خیز حملہ ہو سکتا ہے۔

    خطرے کے نویت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ایک بہت پیچیدہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے کابل میں اور لندن میں کئی اہم فیصلے کرنے پڑیں گے۔

  7. ’اُمید تھی طالبان خواتین کو حجاب میں گھروں سے نکلنے دیں گے لیکن یہ صرف دعویٰ تھا‘

  8. سابق برطانوی کمانڈر: کابل ایئرپورٹ کو صرف دولتِ اسلامیہ سے ہی خطرہ نہیں

    Kemp

    افغانستان میں برطانوی افواج کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر دہشت گردی کا خطرہ اس وقت سے منڈلا رہا ہے جب سے انخلا کا عمل شروع ہوا۔

    کرنل رچرڈ کیمپ نے بی بی سی کو بتایا: یہ خطرہ کسی سے بھی ہو سکتا ہے، چاہے وہ طالبان، القائدہ یا دولت اسلامیہ کیوں نہ ہوں۔‘

    ’اگر لوگ صرف دولتِ اسلامیہ کے بات کر رہے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ خطرہ صرف ان کی جانب سے ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں یہ خطرہ اس وقت سے ہے جب سے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع ہوا اور مجھے شک ہے کہ ہماری افواج کواس خطرے کا پوری طرح علم نہیں تھا۔ اب کئی دنوں سے وہ ایسے اقدامات لے رہے ہیں جن سے ایسا کچھ ہونے سے روکا جا سکے۔‘

    ان کے مطابق یہ بات طے ہے کہ ’ایئرپورٹ کو کسی نہ کسی قسم کا خطرہ ضرور لاحق ہے، چاہے وہ ایئرپورٹ میں موجود افواج پر کسی قسم کا دہشت گرد حملہ ہو یا ایئرپورٹ کے باہر موجود اہلکاروں یا وہاں جمع ہونے والے لوگوں پر۔‘

  9. کابل کی صورتحال: دکانیں کھلی ہیں لیکن گاہک دور دور تک نہیں, ملک مدثر، بی بی سی نیوز، کابل

    KABUL CITY CENTER

    یہ ہے کابل سٹی سینٹر، افغانستان کے دارالحکومت کا سب سے بڑا شاپنگ مال۔

    آج مال اور اس میں واقع دکانیں تو کھلی ہیں اور دکاندار بھی بیٹھے ہیں لیکن گاہک دور دور تک نہیں نظر آ رہے۔

    ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ بینک بند ہیں، اس لیے ہمارا کاروبار بھی بالکل ٹھپ ہو چکا ہے۔

    KABUL CITY CENTER
    atm

    شہر کے بیشتر بینک بند ہیں اور صرف چیدہ چیدہ مقامات پر اے ٹی ایم کھلے ہیں جن کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

    اس مشین کے باہر کھڑے افراد نے بتایا کہ کھانے کی چیزیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں۔ آٹے کی جو بوری پہلے 1600 کی تھی وہ اب دو ہزار کی ہوگئی ہے اور جو چیز دو ہزار کی تھی وہ اب 2700 میں مل رہی ہے۔ اسی طرح دیگر اجناس اور تیل کی قیمتیں بھی بہت بڑھ چکی ہیں۔

  10. طالبان، احمد مسعود کے مذاکرات: بات چیت سے مسئلہ حل کرنا طالبان کے حق میں بہتر ہو گا

    احمد مسعود

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وادی پنجشیر میں جنم لینے والی مزاحمت کے رہنما، احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اور طالبان رہنما امیر خان متقی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا ہے۔

    مذاکرات کے بعد بی بی سی فارسی سے گفتگو کرتے ہوئے احمد مسعود کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تھی کہ یہ بحران بات چیت کے ذریعے حل ہو سکے۔

    ’لیکن ہم نے اُنھیں یہ بھی صاف صاف بتا دیا ہے کہ ایسا کرنا طالبان کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ اگر صرف ایک ہی فریق کی حکومت بنتی ہے تو، خدا نہ کرے، افغانستان تنہائی کا شکار ہوگا اور بین الاقوامی برادری کے لیے اور افغان عوام کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، جس سے افغانستان کا نظام اور اقتصاد دونوں خراب ہوں گے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کیا وہ مزاحمت جاری رکھ پائیں گے، احمد مسعود نے کہا: ’اتنا کہہ سکتا ہوں کہ پنجشیر میں جنگجو اور تجربہ دونوں ہیں، ہم اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔‘’

    یاد رہے کہ احمد مسعود نے سابق نائب صدر امراللہ صالح کے ساتھ مل کر طالبان کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور وادی پنجشیر سے ایک مزاحمتی فرنٹ شروع کیا ہے۔

    احمد مسعود کے مطابق ہزاروں لوگ ان کی مزاحمتی فوج میں شامل ہو رہے ہیں تاہم انھوں نے مغرب سے امداد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کی مدد کرنا ان ممالک کا ’اخلاقی فرض‘ ہے۔

    map

    دوسری جانب احمد شاہ مسعود کے بھائی نے کہا ہے کہ پچھلے 20 سالوں میں افغان لوگوں کے عقائد اور رویوں میں ایک تبدیلی آئی ہے اور طالبان اس بار اتنی آسانی سے اسے روند نہیں پائیں گے۔

    احمد ولی محسود نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایک بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اب خواتین ہی مزاحمت کا مرکز ہیں کیونکہ ان کا طرزِ زندگی طالبان سے بہت مختلف ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی نوجوان نسل بھی اس نئی مزاحمت کا حصہ ہیں اور وہ ملک کی آبادی کا 70 فیصد ہیں۔

  11. معید یوسف: بین الاقوامی کمیونٹی کو طالبان سے رابطے رکھنے پڑیں گے

    Moeed Yusuf

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ ایک انسانی المیے اور پناہ گزین کے بحران سے بچنے کے لیے بین الاقوامی کمیونٹی کو طالبان سے بات چیت کرنی ہوگی۔

    بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کی ’سرحد پر کوئی افراتفری نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ ہزاروں افغان سپین بولدک کے راستے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔

    ’ابھی تک ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر کوئی تشدد یا خون ریزی نہیں ہوئی ہے اس لیے پناہ گزینوں کا ریلا۔۔۔ (پاکستان کی طرف) آیا ہی نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر بین الاقوامی برادری ’ماضی کی غلطیوں سے سیکھے‘ تو افغانستان میں انسانی بحران ناگزیر نہیں ہے۔

    زمینی حقائق یہ ہیں کہ طالبان کنٹرول میں ہیں۔ ہمیں ان کو اپنے واعدے بھولنے نہیں دینا چاہیے لیکن عام افغان شہریوں کی خاطر ہمیں ان کے رابطے رکھنے چاہییں ورنہ ہم پھر اسی جگہ آ کھڑے ہوں گے اور پچھلی بار ہمارا تجربہ اچھا نہیں رہا۔‘

  12. عالمی ادارۂ خوراک پاکستان سے افغانستان کے لیے امدادی پروازیں چلانے کے لیے تیار

    عالمی ادارۂ خوراک کے سربراہ ڈیوڈ بیزلی نے بتایا ہے کہ ان کا ادارہ اب اسلام آباد سے کابل اور دیگر افغان شہروں کے لیے انسانی امداد کی غرض سے پروازیں چلانے کے لیے تیار ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے طیارے مرمت ہو چکے ہیں ان سے عالمی ادارۂ خوراک کو افغان عوام کی ضروریات پوری کرنے کے آپریشن کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  13. کابل ایئرپورٹ کو کس سے خطرہ ہے؟, بی بی سی مانیٹرنگ

    IS-K

    کابل ایئرپورٹ کو درپیش دہشت گرد خطرے کے حوالے سے کوئی تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں تاہم یہ بات طے ہے کہ خطرہ اتنا سنگین ہے کہ اس کے پیش نظر مغربی ممالک کی جانب سے انخلا کا کام سست پڑ گیا ہے۔

    گذشتہ کچھ دنوں میں ایسی اطلاعات بار بار سامنے آ رہی ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ (یا داعش) خراسان کے جنگجو کابل پہنچ چکے ہیں۔

    تو یہ گروہ ہے کیا؟

    دولتِ اسلامیہ افغانستان اور پاکستان میں داعش خراسان کے نام سے سرگرم ہے۔ خراسان موجودہ پاکستان اور افغانستان کے کچھ حصوں کا تاریخی نام ہے۔

    اس تنظیم کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی اور اطلاعات کے مطابق اس میں پاکستانی اور افغان طالبان کے سابق اراکین شامل ہیں۔

    یہ گروہ افغان طالبان سے بھی زیادہ سخت گیر ہے اور خیال ہے کہ ان کی طالبان سے جانی دشمنی ہے کیونکہ یہ گروہ طالبان جنگجوؤں کو واجب القتل تصور کرتے ہیں۔

    دولت اسلامیہ نے فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے ہونے والے معاہدے پر بھی تنقید کرتے ہوئے لڑائی جاری رکطنے کا عزم کیا تھا۔

    حال ہی میں انھوں نے طالبان کے ملک پر قبضے کو بھی رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ انھیں خفیہ معاہدے کے تحت ملک کی چابیاں پکڑا کر چلا گیا۔

    اس گروہ کو 2019 کے اوآخر میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اگلے سال کے اوال میں ہی اس کے سینیئر رہنماؤں کو گرفار کر لیا گیا تھا۔

    تاہم اس کے بعد سے اس گروہ کی صلاحیتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے اور اس نے امن مذاکرات کے دوران اور اس کے بعد ہونے والے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    ابتدائی طور پر دولتِ اسلامیہ خراسان کا دائرہ کار افغانستان اور پاکستان دونوں تک تھا تاہم مئی 2019 میں پاکستان کو ایک علیحدہ صوبہ قرار دے دیا گیا۔

    دولتِ اسلامیہ خراسان نے ستمبر 2018 میں ایران میں ہنے والے ایک حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔

  14. افغان پناہ گزینوں کو یقین نہیں طالبان کی پالیسی کیا ہوگی, شمائلہ جعفری، بی بی سی، چمن

    chaman

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کی افغانستان سے متصل سرحد چمن سے بڑی تعداد میں پناہ گزین پاکستان آ رہے ہیں۔

    چمن سرحد پر خواتین، بچوں اور مریضوں پر مشتمل پناہ گزین کے ٹولے جوق در جوق چمن کے راستے پاکستان آ رہے ہیں اور مختلف شہروں کی جانب سفر کر رہے ہیں کیونکہ سرحد پر ان کے لیے فی الحال کوئی کیمپ یا انتظامات نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو سرحدی علاقہ ہے اس کا طویل ترین حصہ بلوچستان میں ہے۔

    اس سرحد پر بلوچستان کے چھ اضلاع واقع ہیں، جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں تاہم یہاں سے پیدل اور گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے سب سے بڑی گزرگاہ چمن ہے۔

    چمن سے متصل افغان علاقے سپین بولدک پر جولائی کے وسط میں طالبان کے قبضے کے بعد دو مرتبہ چمن سے لوگوں اور گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوئی تھی لیکن 12 اگست کے بعد سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔

    کابل، قندھار اور غزنی سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ویسے تو ان کے علاقوں میں ابھی تک صورتحال پرامن ہے اور کوئی لڑائی نہیں ہو رہی لیکن لوگوں میں بہت زیادہ خوف ہے اور ابھی اس بارے میں یقین نہیں کہ طالبان کی پالیسی کیا ہو گی۔

    کچھ لوگ افغانستان کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے بھی پاکستان آ رہے ہیں کیونکہ ان کے علاوں میں کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں۔

  15. افغان صحافیوں پر تشدد کے واقعات، صحافی تنظیموں کا تشویش کا اظہار

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ہے جس پر بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ایک تازہ واقعے میں نجی افغان چینل طلوع نیوز کے دو صحافیوں کو اپنے کام کے دورانمارا پیٹا گیا اور ان کے کیمرے اور دیگر آلات توڑ دیے گئے۔

    طلوع کے رپورٹر زیار یاد نے کے مطابق طالبان نے انھیں اور ان کے کیمرہ مین کو کابل کے شهرنو علاقے میں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے موبائل فون اور کیمرے ضبط کر لیے گئے۔

    زیار یاد کا کہنا تھا انھوں نے طالبان کو اپنے پریس کارڈ بھی دکھائے لیکن انھوں نے پروا نہیں کی۔

    طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے طالبان کے ثقافتی کمیشن کے نائب احمداللہ واسق نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے ایک بیان میں کہا کہ اگست 17 اور 20 اگست کو طالبان نے دو صحافیوں کے گھروں پر چھاپے مارے جبکہ گذشتہ 20 دنوں میں کم از کم چار دیگر صحافیوں کے گھروں کی تلاشی لی جا چکی ہے۔

  16. افغانستان پر طالبان کا کنٹرول، سعودی عرب اب تک خاموش کیوں ہے؟

  17. طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ

    کابل کے شمال میں, ہندو کش کی چوٹیوں سے گھری وادی پنجشیر طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے۔ طالبان اور مزاحمتی فورس نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے درمیان لڑائی اور بات چیت دونوں جاری ہے۔ پنجشیر وادی میں صورتحال کیا ہے اور اس کو مزاحمت کا گڑھ کیوں کہا جاتا ہے؟

    جانیے ہمارے ساتھی خدائے نور ناصر سے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  18. افغانستان سے پیدل سرحد پار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ, یوگیتا لمائے، بی بی سی نیوز

    چمن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ملک سے نکلنے کے خواہش مند افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی سرحد پر موجود ہے۔ اب تک افغانستان کی جانب سے کسی بھی شخص کو سرحد پار کرنے سے روکے جانے کی اطلاعات نہیں ہیں۔

    یہاں سامان کے نام پر محض چند بیگ تھامے لوگ اپنے پورے خاندانوں کے ساتھ سرحد پار کرنے آئے ہیں۔

    یہ سب طالبان سے بھاگ رہے ہیں اور سپین بولدک میں موجود لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے

    طالبان کی جانب سے رواں ہفتے کام کرنے والی خواتین کو گھر رہنے کے احکامات جاری ہونے کے بعد بی بی سی کی کئی ایسی خواتین سے بات ہوئی ہے جنھیں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کام پر آنے سےمنع کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے کئی اب ملک چھوڑ کر جانا چاہتی ہیں۔

  19. کابل ایئرپورٹ کے باہر ہجوم: ’یہ لوگ ملک سے نکلنا چاہتے ہیں، چاہے ان کی جان ہی چلی جائے‘

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غیر ملکی شہریوں کو تو حملے کے خطرے کے حوالے سے انتباہ جاری ہوا ہے لیکن اس سے ہوائے اڈے کے باہر موجود ہجوم کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

    ایک جانب کابل ایئرپورٹ میں تعینات مغربی فوجی وہاں جمع مجمعے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف طالبان جنگجو ایئرپورٹ کے باہر سکیورٹی کی نگرانی کر رہے ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اب بھی موجود ہیں۔

    یاد رہے کہ طالبان نے کہا تھا کہ وہ افغان شہریوں کو ایئرپورٹ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    ایئرپورٹ پر کام کرنے والے ایک افغان سِول ایوی ایشن اہلکار کے مطابق ہدایات کے باوجود لوگ اب بھی ایئرپورٹ کی جانب آنے کو کوشش کر رہے ہیں۔

    انھوں نے روئٹرز کو بتایا: ’کسی بھی خودکش بمبار کے لیے لوگوں سے بھری راہداریوں پر حملہ کرنا بہت آسان ہے اور لوگوں کو بار بار خبردار کیا جا چکا ہے۔‘

    لیکن اہلکار کے مطابق لوگ وہاں سے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ ’وہ اس ملک سے نکلنا چاہتے ہیں اور وہ اس کی راہ میں جان دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہر کوئی اپنی جان پر کھیل رہا ہے۔‘

    ایک نیٹو کے سفارتکار نے روئٹرز کو بتایا کہ اگرچہ طالبان نے ایئرپورٹ کے باہر سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری لی ہے تاہم دولت اسلامیہ کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ایک اور اہلکار نے بتایا کہ بدھ کو انخلا کی رفتار میں سستی آئی تاہم جمعرات کو اس میں اضافہ متوقع ہے۔

  20. ’ذبیح اللہ کا اجازت نامہ بھی شاید آپ کو طالب کے تھپڑ سے نہ بچا سکے‘