لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی
طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔
لائیو کوریج
تجزیہ: ایئرپورٹ پر خودکش حملے کا خطرہ, پال ایڈمز، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہEPA
برطانوی دفتر خارجہ نے پہلے ہی اپنے تمام شہریوں کو افغانستان سفر کرنے سے منع کرتے ہویے کہا تھا کہ وہاں ’دہشت گرد حملوں کا خطرہ‘ ہے۔
تاہم ان کی تازہ ہدایات بہت مخصوص ہیں: کابل ایئرپورٹ کی طرف مت جائیں۔ اگر آپ علاقے میں ہیں تو کسی محفوظ مقام کی طرف جائیں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔
حکام نے تاحال اس خطرے کے حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں لیکن یہ الرٹ صدر بائیڈن کے خطاب کے 24 گھنٹوں بعد جاری ہوا ہے۔
امریکی صدر نے اپنی حالیہ تقریر میں نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) کے خطرے کا ذکر کیا تھا۔
ایئرپورٹ کے گرد جمع ہونے والے دیوہیکل مجمعے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنے والے کمانڈرز بھی حملے کے خطرے سے واقف ہیں۔
تاہم ان ہدایات کا برطانوی انخلا آپریشن پر کیا اثر پڑے گا، یہ تاحال واضح نہیں ہے۔
بریکنگ, ایئرپورٹ پر حملے کا خطرہ، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کا اپنے شہریوں کے لیے انتباہ
،تصویر کا ذریعہReuters
کئی مغربی حکومتوں نے افغانستان میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ کابل کے ہوائے اڈے پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر وہ وہاں جانے سے گریز کریں۔
امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ نے اپنے شہریوں
کو خبردار کیا ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ سے چلے جائیں اور سکیورٹی خطرات کے باعث
وہاں جانے سے گریز کریں۔
تینوں ممالک کی جانب سے بدھ اور جمعرات کو جاری ہونے والے الرٹ میں کہا گیا ہے۔
ہزاروں لوگ اب بھی ہوائی اڈے کے اندر اور باہر انتظار کر رہے
ہیں۔
کابل پر 10 روز قبل طالبان نے
قبضہ حاصل کر لیا تھا جس کے بعد وہاں سے تقریباً 82 ہزار سے زائد افراد کو ہوائی اڈے کے ذریعے ملک سے نکالا گیا ہے۔
مغربی ممالک 31 اگست کی ڈیڈ لائن تک زیادہ
سے زیادہ لوگوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن
کے مطابق طالبان نے ڈیڈ لائن میں توسیع کی مخالفت کی ہے لیکن غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کو 31 اگست کے بعد بھی ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔
بدھ کے روز ایک انتباہ میں امریکی
محکمہ خارجہ نے ایبی گیٹ، ایسٹ گیٹ اور نارتھ گیٹ پر انتظار کرنے والوں سے کہا کہ وہ ’فوری
طور پر نکل جائیں۔‘
اس سے قبل برطانیہ نے اسی طرح کی
ہدایات جاری کی تھیں اور لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ’محفوظ مقام پر چلے جائیں اور مزید
ہدایات کا انتظار کریں۔‘
طالبان 31 اگست کے بعد بھی لوگوں کو افغانستان سے جانے کی اجازت دیں: امریکہ
امریکہ کا کہنا ہے کہ طلبان 31 اگست کے بعد بھی خطرے
سے دوچار لوگوں کو ملک سے باہر جانے کی جانے کی اجازت دیں گے۔
یہ بات امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے بریفنگ
کے دوران بتائی۔
بلنکن کا کہنا تھا کہ طالبان نے 31 اگست کو انخلا
کی آخری تاریخ کے بعد بھی امریکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو ملک چھوڑنے کی
اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو لوگ وہاں سے جانا
چاہتے ہیں ان کی مدد کرنے کی امریکی کوششیں اس تاریخ کو ختم نہیں ہوں گی۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک ہزار امریکی شہری
یا شاید اس بھی زیادہ اب بھی افغانستان میں ہو سکتے ہیں اور انتظامیہ ان کا سراغ لگانے
کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
ایک رپورٹر کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر کہ امریکہ
کو وہ کرنا چاہیے جو طالبان چاہتے ہیں، بلنکن نے کہا کہ اس وقت ان کی توجہ امریکی شہریوں
اور دوسروں کو محفوظ بنانے پر مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا ’اس مقصد کے لیے ہمیں ان کے ساتھ مل کر کام
کرنا ہے چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں کیونکہ زیادہ
تر ملک ان کے کنٹرول میں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک عملی اقدام کے طور پر ،
یہ ہمارے مفادات کے حق میں ہے۔‘
ترکی نے افغانستان سے اپنی فوج نکالنا شروع کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے افغانستان سے اپنی
فوج نکالنا شروع کر دی ہے۔
نیٹو فورس کے ایک حصے کے طور پر 500 سے زائد فوجی
ملک میں تعینات تھے۔
اس سے قبل یہ قیاس کیا جا رہا تپا کہ 31 اگست
کے بعد ترک فوجیوں کی موجودگی برقرار رہ سکتی ہے تاکہ کابل کے ہوائی اڈے کو چلانے میں
مدد کی جا سکے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بدھ
کے روز ترک صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ افغانستان کے لیے استحکام ضروری ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ترکی اس مقصد کے حصول کے
لیے افغانستان میں تمام فریقوں کے ساتھ قریبی بات چیت جاری رکھے گا۔
بریکنگ, خواتین کی تعلیم جاری ہے، لوگ طالبان سے خوش ہیں: ملا عبدالسلام ضعیف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا ہے کہ اُن کا اپنے سخت گیر دور کو دہرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ پہلے ہی اپنے عہد کی پاسداری کر رہے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ ’اب لوگوں کی زندگیاں معمول پر لوٹ چکی ہیں۔‘
ملا عبدالسلام ضعیف 20 سال قبل افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں پاکستان کے لیے سفیر تھے۔
پاکستان دنیا کے اُن تین ممالک میں شامل تھا جنھوں نے امارتِ اسلامی افغانستان کو باقاعدہ تسلیم کر رکھا تھا۔
بعد میں امریکی حملے میں طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو ملا عبدالسلام ضعیف کو بھی امریکہ نے گرفتار کر لیا تھا مگر بعد میں وہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے میں بھی شامل رہے۔
ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا: ’خواتین کی تعلیم جاری ہے اور وہ کام پر بھی جا سکتی ہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ کچھ افغان کابل ایئرپورٹ پر ہونے والی افراتفری کو بغیر دستاویزات ملک سے باہر جانے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے طالبان کے بارے میں کوریج کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے طالبان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
’یہ طالبان کے خلاف بڑی سازش ہے، یہ تصور دینا کہ طالبان برے لوگ ہیں اور وہ عوام اور تعلیم کے خلاف ہیں۔‘
’جب میں کابل میں لوگوں سے بات کرتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔ طالبان کسی سے کوئی بدلہ نہیں لے رہے، یہاں تک کہ کابل ایئرپورٹ جانے والوں کو بھی طالبان نہیں روک رہے، اگر وہ قانونی انداز میں جائیں۔‘
’ہم روزانہ کی بنیاد پر طالبان کمانڈروں سے بات کر رہے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہPentagon
پریس سیکریٹری جان کربی سے ان اطلاعات کے حوالے سے پوچھا گیا کہ طالبان لوگوں کو کابل ایئرپورٹ تک پہنچنے سے روک رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر امریکی فوج کے ساتھ 30 سے زیادہ قونصلر حکام تعینات ہیں جو اہل لوگوں کو پرواز تک پہنچنے میں مدد کر رہے ہیں۔
جان کربی نے کہا: ’اس کے باہر طالبان نے ناکے لگا رکھے ہیں اور ہم روزانہ کی بنیاد پر طالبان کمانڈروں سے بات کر رہے ہیں کہ ہمیں کون لوگ اندر چاہییں، وہ کیسے لگتے ہیں اور اُن کے پاس کیا دستاویزات ہوں گی۔‘
’یہ بات چیت روزانہ ہوتی ہے۔ ہم طالبان سے کھلے طور پر بات کر رہے ہیں کہ ہمیں کون لوگ چاہییں۔‘
شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کی افغانستان کے معاملے پر گفتگو
مضمون کی تفصیل
مصنف, کیری ایلن
عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔‘
شی جن پنگ نے ’زور دیا کہ چین افغانستان کی خود مختاری، آزادی اور سالمیت کا احترام کرتا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’چین افغانستان کے داخلی اُمور میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہے۔‘
واضح رہے کہ افغانستان میں چین کا سفارت خانہ کھلا ہوا ہے مگر اس نے وہاں پل پل بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر ملک میں موجود چینیوں سے اپنا اندراج کروانے کے لیے کہہ رکھا ہے۔
آج چین کی وزارتِ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ’چین کی طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔‘
حالیہ چند دن میں چینی میڈیا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ بس اپنی مرضی سے افغانستان سے نہیں نکل سکتا۔
میڈیا اداروں نے وزارتِ خارجہ کے حکام کے تبصروں کو نمائندہ جگہ دی ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ امریکہ کے افغانستان سے ’جلد بازی‘ میں کیے گئے انخلا کے باعث ’افراتفری‘ پھیلی ہے۔
’جرمنی طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ اُن کا ملک گذشتہ 20 سالوں میں افغانستان میں حاصل ہونے والے فوائد کے ’تحفظ‘ کی خاطر طالبان سے بات کرنے کے لیے تیار ہے تاہم طالبان کو کوئی غیر مشروط پیشکش نہیں کی جائے گی۔
بدھ کو جرمن پارلیمان سے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ جرمنی کے ساتھ کام کرنے والے فوجی اور امدادی اہلکاروں کا افغانستان سے انخلا تب تک جاری رہے گا جب تک کہ ضرورت ہوگی۔
اُنھوں نے اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں امداد فراہم کرنے والے اداروں کی حمایت کا بھی اعلان کیا۔
اینگلا مرکل نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بارے میں کہا کہ ’یہ نئی حقیقت تلخ حقیقت ہے مگر ہمیں اس سے نمٹنا ہوگا۔‘
واضح رہے کہ فرانس پہلے ہی افغانستان سے انخلا کے آپریشن کے خاتمے کا اعلان کر چکا ہے جبکہ امریکہ نے 31 اگست کو انخلا کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد اس میں توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
’یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کو افغانستان سے نکلنا ہو اور ہم کوشش نہ کریں‘
،تصویر کا ذریعہEPA
پینٹاگون کی اسی پریس بریفنگ میں امریکی وزارتِ دفاع کے پریس سیکریٹری جان کربی سے پوچھا گیا کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان سے لوگوں کے انخلا کے منصوبے کا انجام کیا ہوگا۔
اُنھوں نے کہا: ’ہم آخر تک عوام کو وہاں سے نکالتے رہیں اگر ہمیں کرنا پڑا اور ہمیں ضرورت پڑی۔‘
’مگر ہم نے گذشتہ چند دنوں میں فوجیوں اور فوجی صلاحیتوں کو افغانستان سے نکالنے کو ترجیح دینی شروع کی ہے۔‘
’مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر آپ کو افغانستان سے نکلنا ہے اور ہم اس کے لیے کوشش نہیں کریں گے۔‘
امریکہ کے افغانستان سے انخلا کی تاخیر منگل 31 اگست تک ہے۔
’اب بھی 10 ہزار لوگ کابل ایئرپورٹ پر اپنے انخلا کے منتظر ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی دفاعی اور فوجی حکام اب پینٹاگون میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
امریکی فوج کے میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کو نکالنے کے آپریشن کی توجہ اب بھی اس بات پر ہے کہ ’محفوظ اور مؤثر انداز میں جتنے زیادہ لوگوں کو نکالنا ممکن ہو، نکالا جائے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ امریکی فوج کے 42 طیارے جن میں 37 سی 17 اور پانچ سی 130 شامل ہیں، نے گذشتہ روز افغانستان سے 11 ہزار 200 امریکیوں اور 48 اتحادی ممالک کے 7800 افغان اہلکاروں کو افغانستان سے نکالا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ سے ہر 39 منٹ میں ایک طیارہ ٹیک آف کر رہا ہے۔
میجر جنرل ہینک ٹیلر نے کہا کہ اب بھی کابل ایئرپورٹ پر 10 ہزار سے زیادہ افراد اپنے انخلاف کا انتظار کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے امکان ظاہر کیا کہ مزید لوگ بھی ایئرپورٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔
’وہ شہر جس سے مجھے محبت تھی اب وہاں کچھ محفوظ نہیں تھا‘
طالبان کا پوست کی کاشتکاری پر ریکارڈ کیا ہے؟
طالبان نے ڈالر اور نوادرات ملک سے باہر بھیجنے پر پابندی لگا دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان نے کہا ہے کہ اُنھوں نے افغان شہریوں پر ڈالر اور مقامی نوادرات باہر منتقل کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔
افغان اسلامک پریس سے بات کرتے ہوئے ایک طالبان ترجمان نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب طالبان پر عالمی سطح پر مالیاتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
افغانستان کے مرکزی بینک کے پاس کوئی نو ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ کے ذخائر ہیں جن کی اکثریت امریکہ میں ہے۔
مگر امریکہ نے یہ اثاثے منجمد کر رکھے ہیں چنانچہ انھیں استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔
اس کے علاوہ عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ نے بھی افغانستان کے لیے اپنے قرض اور اپنی امداد بھی معطل کر دی ہے۔
تاجکستان کے صدر اور شاہ محمود قریشی کی ملاقات، افغانستان کے مسئلے پر بات چیت
مضمون کی تفصیل
مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا ذریعہPRESIDENT.TJ
تاجکستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں تمام گروہوں کی نمائندہ حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔
تاجک صدر امام علی رحمان نے بدھ کو دوشنبے میں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔
شاہ محمود قریشی اس کے بعد ازبکستان، ترکمانستان اور ایران کا دورہ بھی کریں گے۔
تاجکستان کی صدارتی ویب سائٹ کے مطابق ملاقات میں پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کے متوقع دورہ تاجکستان کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور تعلقات سمیت علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل اُمور بالخصوص افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ افعانستان دوبارہ مسلط کی گئی خونی جنگوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
صدارتی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ تاجکستان نے ہمیشہ پڑوسی ملک کے طور پر افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کی حمایت کی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں ریاستی ڈھانچے کا تعین ریفرینڈم کے ذریعے اور ملک کے تمام شہریوں کے مؤقف کے مطابق کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا کہ تاجکستان زبردستی کے ذریعے قائم کی گئی کسی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا جس میں افغان لوگوں اور بالخصوص اقلیتوں کا خیال نہ رکھا گیا ہو۔
دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کیا ہے اور یہ گروپ طالبان کے خلاف کیوں ہے؟
مضمون کی تفصیل
مصنف, بی بی سی مانیٹرنگ
گذشتہ رات امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ کابل ایئرپورٹ پر امریکی سپاہیوں کی موجودگی کی مدت میں توسیع نہیں کریں گے۔
اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان (آئی ایس کے پی) سے امریکی فوجیوں کو لاحق ممکنہ خطرے سے خبردار کیا تھا۔
خراسان ایک تاریخی خطے کا نام ہے جو موجودہ دور کے افغانستان اور پاکستان پر مشتمل تھا۔
دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان میں پہلے افغانستان اور پاکستان دونوں شامل تھے تاہم سنہ مئی 2019 میں دولتِ اسلامیہ نے صوبہ پاکستان کے نام سے ایک نئی شاخ کا اعلان کیا تھا۔
دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کا قیام جنوری 2015 میں عمل میں آیا تھا اور اس میں مبینہ طور پر پاکستانی اور افغان طالبان کے سابقہ ارکان شامل ہیں۔
یہ افغان طالبان کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت گیر ہے اور دونوں گروہ ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں۔
اس گروہ کے نزدیک طالبان ’مرتد‘ ہیں اور اس لیے دولتِ اسلامیہ کے مطابق ان کا قتل جائز ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دولتِ اسلامیہ کی جانب سے امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری 2020 کو ہونے والے امن معاہدے کو بھی مسترد کیا گیا تھا اور انھوں نے لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
اسی طرح اس گروپ نے طالبان کے افغانستان پر حالیہ قبضے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے خفیہ معاہدے کے تحت افغانستان طالبان کے حوالے کر دیا۔
سنہ 2019 کے اواخر میں عسکری جھڑپوں میں پہنچنے والے نقصانات اور اپریل 2020 میں سینیئر رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سے دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کو کافی دھچکا پہنچا ہے۔
تاہم اس تنظیم نے دوبارہ سر اٹھاتے ہوئے طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے دوران ہونے والے حملوں اور دھماکوں کی ذمہ دار قبول کی تھی۔
اپنے قیام سے اب تک اس گروہ نے افغانستان بھر میں کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔
یہ گروپ سب سے زیادہ فعال مشرقی صوبے ننگرہار اور اس کے دارالخلافہ کابل میں ہے، مگر اس نے کُنڑ، جوزجان، پکتیا، قندوز اور ہرات میں بھی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دولتِ اسلامیہ صوبہ خراسان کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز، افغان سیاست دانوں اور وزارتوں، طالبان، مذہبی اقلیتوں بشمول شیعہ مسلمانوں اور سکھوں، امریکی اور نیٹو افواج اور بین الاقوامی اداروں بشمول امدادی تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ستمبر 2018 میں اس نے ایران میں ایک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
امریکہ نے مزید 19 ہزار افراد کو افغانستان سے نکال لیا
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ نے منگل کو مزید 19 ہزار لوگوں کو افغانستان سے نکالا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ایک ترجمان نے ٹویٹ میں آگاہ کیا کہ 14 اگست سے اب تک امریکہ نے امریکی فوجی اور اتحادی ممالک کی پروازوں کے ذریعے 82 ہزار 300 افراد کو وہاں سے نکالا ہے۔
جولائی کے اواخر سے اب تک افغانستان سے نکال لیے گئے افراد کی کُل تعداد 87 ہزار 900 ہو چکی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
افغانستان سے نکل کر نئی منزل کی تلاش
کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں سے اب تک ہزاروں افغان شہریوں کو نکالا جا چکا ہے لیکن اب بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے کے منتظر ہیں۔ کابل سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے افراد کو دنیا کے مختلف ممالک میں لے جایا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنواشنگٹن پہنچنے والا افغان خاندان
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنکویت پہنچنے والے ان افغان بچوں میں امریکی خاتون فوجی پانی تقسیم کرتی دیکھی جا سکتی ہے
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسپین کے شہر میڈرڈ کے قریب واقع فوجی اڈے پر اترنے والی اس پرواز پر بچے بھی سوار تھے
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنکابل کے ہوائی اڈے پر اب بھی ہزاروں افراد ملک چھوڑنے کے منتظر ہیں
کابل میں عارضی بندش کے بعد بینک دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے
15 اگست کو افغان دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے لگ بھگ دس روز بعد بینک دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کو اب بھی اپنی اکاؤنٹس تک رسائی اور رقم نکلوانے میں دشواری کا سامنا ہے۔
بینک آف کابل نے صارفین سے ڈیل کرنا شروع کر دیا ہے مگر صارفین کو زیادہ رقم نکلوانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
دیگر نجی بینک بھی کھلے ہیں مگر صارفین کو ان کے اکاؤنٹس سے یہ کہتے ہوئے ادائیگیاں نہیں کی جا رہی کہ مرکزی بینک سے کیش کی ترسیل کا نظام متاثر ہے۔
حالیہ دنوں میں کابل میں بینکوں کی بندش کے باعث یہاں کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ویسٹرن یونین نے افغانستان بھر میں اپنے آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ہالینڈ میں افغان پناہ گزینوں کی آمد کے خلاف مظاہرہ
ہالینڈ میں افغان پناہ گزینوں کی ملک میں ممکنہ آمد کے خلاف ہونے والی ایک مظاہرہ افراتفری کا شکار ہو گیا جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈھائی سو کے لگ بھگ مظاہرین اس آرمی کیمپ کے باہر جمع ہوئے جہاں افغانستان سے آنے والے تقریباً 800 پناہ گزینوں کو ٹھہرایا جائے گا۔
مظاہرین ابتدا میں پرامن تھے مگر صورتحال اس وقت کشیدہ ہوئی جب پولیس نے انھیں منتشر ہونے کی وارننگ دی جسے مظاہرین نے ماننے سے انکار کر دیا۔
مظاہرین نے قوم پرست گانے گائے، تشدد پر آمادہ کرنے والے بینرز لہرائے اور ٹائروں کو نذرِ آتش کیا۔
اس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
یاد رہے کہ ہالینڈ میں 800 پناہ گزینوں کو رکھنے کے انتظامات کیے ہیں اور پناہ گزینوں کی پہلی کھیپ منگل کی شام نیدرلینڈ پہنچ چکی ہے۔
یہ آرمی کیمپ ہالینڈ میں افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم کی گئی چار پناہ گاہوں میں سے ایک ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
طالبان کے حوالے سے ایران کا رویہ نرم کیوں ہو رہا ہے؟