لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی
طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔
لائیو کوریج
کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکے کے بعد شہر میں خوف کا عالم، زخمیوں کا علاج جاری
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جمعرات کو ایئرپورٹ پر ہونے
والے دو دھماکوں کے بعد شہر میں خوف کا عالم ہے۔
ان دھماکوں میں مجموعی طور پر 90 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے
جس میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی تھی جو ملک سے باہر جانے والی پروازوں پر چڑھنے
کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
ان دھماکوں میں امریکی فوج سے تعلق رکھنے والے 13 افراد
بھی شامل تھے۔
شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری
قبول کی ہے اور اس میں کم از کم 150 افراد
زخمی ہوئے ہیں جو اس وقت شہر کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
طالبان جنگجو اس وقت وقوعہ پر موجود ہیں جہاں ہلاک ہونے والوں
کا سامان اور سفری دستاویزات ابھی بھی موجود ہے۔
،تصویر کا ذریعہAFP
دہرے بم دھماکوں کے باعث کابل کے ہسپتالوں پر دباؤ میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہReuters
کابل میں گذشتہ روز ہونے والے دہرے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے کوئی 150 کے قریب افراد کا علاج کرنے کے لیے ڈاکٹر اور نرسیں پوری رات مصروف رہے۔
واضح رہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے ہسپتال پہلے ہی سٹاف کی کمی کے شکار ہیں اور کل پیدا ہونے والی اس ایمرجنسی صورتحال کے باعث ہسپتالوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔
بین الاقوامی طبی فلاحی ادارے ’ایمرجنسی‘ کے زیرِ انتظام چلنے والے کابل سرجیکل سینٹر نے کہا کہ اُن کے پاس دو گھنٹوں سے بھی کم وقت میں کوئی 60 کے قریب زخمی لوگ آئے اور کم از کم 16 لوگوں کو ہسپتال لائے جانے پر مردہ قرار دیا گیا۔
فلاحی ادارے کی صدر روزیلا میچیو جو افغانستان میں موجود نہیں ہیں، نے کہا کہ سٹاف اپنی شفٹس ختم کر چکا تھا جب اُنھیں دھماکوں کے باعث ہسپتال لوٹنا پڑا۔
اُنھوں نے بی بی سی کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہسپتال کے تینوں آپریشن تھیٹر پوری رات کام کرتے رہے۔ آخری مریض کا آپریشن چار بجے کیا گیا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ کچھ مریض اب بھی انتہائی نگہداشت یونٹ میں موجود ہیں ’اس لیے صورتحال اب بھی سنگین ہے۔‘
ہسپتال کے میڈیکل کوآرڈینیٹر نے گروپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی کہ مریض ’خوف کے شکار تھے، اُن کی آنکھیں کھوئی کھوئی لگ رہی تھیں، اُن کی نظریں تاریک تھیں۔ ہم نے شاید ہی کبھی ایسی صورتحال دیکھی ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان آنے والے افغان پناہ گزین: ’طالبان خوفناک لوگ ہیں۔۔۔ ان کے سینوں میں دل نہیں‘
دولتِ اسلامیہ خراسان کیا ہے اور کابل میں اتنا بڑا حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی
برطانوی وزیرِ دفاع: ’مغرب کو لگتا ہے کہ کچھ چیزیں کرنے سے سب ٹھیک ہوجائے گا‘
برطانیہ کے وزیرِ دفاع بین والیس نے کہا ہے کہ ’مغرب کو یہ لگتا ہے کہ وہ یہاں آئیں گے، کچھ چیزیں کریں گے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔‘
سکائی نیوز سے گفتگو کے دوران جب اُن سے پوچھا گیا کہ تاریخ افغانستان میں مغرب کی کارروائیوں کو کیسے دیکھے گی، تو بین والس نے کہا کہ ’افغانستان جیسے مسائل کو ٹھیک نہیں کیا جاتا۔‘
’افغانستان جیسے مسائل ٹھیک نہیں کیے جاتے۔ یہاں ایک ہزار سالہ قبائل لڑائیاں اور جنگ ہے۔ آپ انھیں صرف 'سنبھالتے‘ ہیں۔ اگر آپ یہاں قوم سازی کرنا چاہتے ہیں یا اس قوم کو پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا چاہتے ہیں، تو یہ کرنے کا بہتر طریقہ کسی بین الاقوامی ادارے کے طور پر ہی ہے، اور آپ کو پھر یہاں طویل عرصے تک موجودگی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ برطانیہ کی جانب سے لوگوں کو افغانستان سے نکالنے کا مشن اب سے ’کچھ گھنٹوں‘ میں ختم ہو جائے گا۔
اُنھوں نے کہا کہ ’افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سب لوگ نہیں نکل سکیں گے۔‘
بین والیس نے کہا کہ مزید لوگوں سے ایئرپورٹ آنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔ اُنھوں نے بتایا کہ برطانیہ نے بیرن ہوٹل بند کر دیا ہے جہاں برطانیہ جانے والے لوگوں کو ٹھہرایا جا رہا تھا۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے مغربی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونے کے قریب پہنچے گا، ویسے ویسے کابل ایئرپورٹ کے گرد مزید حملوں کا خطرہ بھی بڑھے گا۔
’جب ہم جانے لگیں گے تو داعش جیسے گروہوں کا بیانیہ یہی ہوگا کہ اُنھوں نے برطانیہ اور امریکہ کو ملک سے نکال دیا ہے۔‘
چمن بارڈر سے آنے والوں کو صرف چمن اور قلعہ عبداللہ جانے کی اجازت: حکام, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہget
بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن کے حکام نے کہا ہے کہ افغان دستاویز ’تذکرہ‘ پر آنے والے افغان شہری صرف چمن اور قلعہ عبد اللہ تک آ سکتے ہیں اور اگر کوئی ان دو اضلاع سے باہر جانے کی کوشش کرے گا تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔
افغانستان کے صوبہ قندھار سے متصل چمن کے ڈپٹی کمشنر جمعداد مندوخیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ افغان شہری جو افغانستان سے باب دوستی کے راستے افغان دستاویز تذکرہ کے ذریعے پاکستان آتے ہیں اُنھیں صرف چمن اور قلعہ عبداللہ کے حدود تک آنے کی اجازت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سابقہ افغان سرحدی حکام کے ساتھ ماضی میں طے ہواتھا، جس میں صرف سپین بولدک کا تذکرہ رکھنے والے چمن یا ضلع قلعہ عبداللہ کے حدود تک آ سکتے تھے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دیگر شہروں کے لوگوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔
اُنھوں نے کہا کہ اب بھی اسی معاہدے پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور وہ افغان شہری جو اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئٹہ جانے کی کوشش کرتے ہیں، اُنھیں کوئٹہ اور چمن کے درمیان مختلف چیک پوسٹوں سے گرفتار کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ کر کے ان کو واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔
کراچی میں افغانستان سے لوگوں کی آمد کے لیے تیاریاں شروع, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی
،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں افغانستان سے آنے والے دو ہزار کی رہائش کا انتظام کیا جا رہا ہے جو آنے والے ایک سے دو روز میں بذریعہ ہوائی جہاز کراچی ایئرپورٹ پہنچیں گے۔
کمشنر کراچی کی جانب سے ڈی جی رینجرز، ایف آئی اے سمیت پولیس، محکمہ صحت اور کے الیکٹرک کو ایک لیٹر تحریر کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 26 اگست کو ففتھ کور ہیڈ کوارٹر میں چیف آف سٹاف کی زیر صدارت اجلاس میں آگاہ کیا گیا ہے کہ یہ افراد افغانستان سے دوسرے ممالک جانے کے لیے کراچی میں قیام کریں گے۔
اس لیٹر کے مطابق ڈپٹی کمشنر کراچی کو ہدایت کی گئی ہے کہ جناح انٹرنینشل ایئرپورٹ کے قریب ہنگامی بنیادوں پر ان افغان اور غیر ملکی شہریوں کی ٹرانسپورٹ، رہائش اور سیکیورٹی کا انتظام کیا جائے۔
لیٹر کے مطابق تین جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں ایئرپورٹ کے نزدیک ہوٹلز، رمادا ہوٹل، اور ایئرپورٹ کے قریب واقع مارکیز شامل ہیں۔
محکمہ صحت کو گزارش کی گئی ہے کہ وہ موبائل صحت یونٹ، ایمبولینس اور طبی عملے کی موجودگی کو یقینی بنائے جبکہ کے الیکٹرک کو کہا گیا ہے کہ وہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے۔
اسی طرح ایف آئی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان ٹرانزٹ مسافروں کے کوائف چیک کریں۔
لیٹر میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان سہولیات کے اخراجات یہ افراد خود ادا کریں گے۔
ذبیع اللہ مجاہد: طالبان کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کل رات کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکوں میں طالبان کو کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا ہے۔
بی بی سی پشتو سروس سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’ہمارا (طالبان کا) کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یہ واقعہ اُس علاقے میں ہوا جو امریکی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔‘
واضح رہے کہ اس سے پہلے خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ دی تھی کہ ان دو بم دھماکوں میں کم از کم 28 طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔
بورس جانسن: برطانیہ بھی انخلا کا عمل جاری رکھے گا
،تصویر کا ذریعہEPA
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے باوجود ملک سے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری رہے گا۔
جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ’آخری وقت تک‘ لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کرتی رہے گی۔
تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ اس عمل کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس بہت کم وقت، شاید کچھ گھنٹے ہی بچے ہیں۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق دھماکوں میں کوئی بھی برطانوی اہلکار متاثر نہیں ہوا۔
البتہ طالبان کی جانب سے ایئرپورٹ کا راستہ بند کیے جانے کی وجہ سے لوگ اب وہاں پہنچنے سے قاصر ہیں۔
تاہم بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار ڈیمیئن گرامیٹیکاس کے مطابق جو لوگ ایئرپور کے احاطے اندر موجود تھے انھیں نکالنے کا عمل جاری رہے گا۔
کابل سے نکلنے والوں کے لیے ایک نئی زندگی کی امید
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنایس آئی وی ویزے پر امریکہ آنے والے عبدل امان صدیقی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتے ہوئے
اگرچہ انخلا کا عمل جاری ہے تاہم جمعرات کے حملوں کے بعد کابل سے نکلنے والے لوگ سوگوار ہیں۔
تاہم جو لوگ کابل سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں وہ ایک نئی زندگی کی تلاش میں ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشناس سب میں ایک اچھی خبر یہ ہے کہ جنوبی کوریا پہنچنے والے پناہ گزین بچوں کو ٹیڈی بیئر فراہم کیے گئے جن سے ان کے چہرے کِھل اٹھے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنالبانیہ کے شہر تیرانا کے ایئرپورٹ پر ایک افغان خاتون سکیورٹی چیک سے گزرتے ہوئے
طالبان کو ایئرپورٹ کے احاطے کی سکیورٹی سونپنے پر امریکہ پر تنقید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کابل ہوائے اڈے پر حملے کے بعد طالبان کو ایئرپورٹ کے احاطے کی سکیورٹی سونپنے پر امریکہ کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکی صدر جو بایئڈن نے جمعرات کی شب رپورٹرز کے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا: ’یہ بھروسے کی بات نہیں ہے، یہ باہمی فائدے کا معاملہ ہے۔۔۔ تاہم اس بات کا ابھی تک کوئی ثبوت میرے سامنے نہیں رکھا گیا کہ طالبان اور دولت اسلامیہ خراسان کے درمیان کوئی گٹھ جوڑ ہے۔‘
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی بریفنگ میں وزیر خارجہ اینتھونی بلنکن سے پوچھا گیا کہ امریکہ طالبان کے مطالبات کو کیوں اہمیت دے رہی ہے، ُاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب کوئی عالمی حمایت یافتہ حکومت بھی نہیں بنی۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمیں یہ بات پسند آئے یا نہ آئے لیکن طالبان کنٹرول میں ہیں۔ زیادہ تر ملک اور کابل تو خاص طور پر ان کے قبضے میں ہے اور ملک چھوڑنے کے خواہشمند تمام لوگوں کو نکالنے کے لیے طالبان کے ساتھ کام کرنا بہت اہم ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ امریکہ انخلا کے بعد کے صورتحال پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔
افغانستان کی صورتحال نے کیسے چین کے حوصلے بلند کیے اور دیگر ایشیائی ممالک کو ہلا کر رکھ دیا
’غیر ملکی سفارت کار، شہریوں کو نکالنے کا کام 30 اگست تک ختم ہوگا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کابل ایئرپورٹ سے عام شہریوں کے انخلا کے کام میں تیزی آ گئی ہے اور پروازیں باقاعدگی سے اڑ رہی ہیں۔
ادھر نیٹو کے مطابق افغانستان میں موجود بیشتر غیر ملکی سفارت کاروں اور دیگر عملے سمیت عیڑ ملکی شہریوں کو نکالنے کا کام 30 اگست تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
امریکہ نے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو کابل سے نکالا ہے جو کہ تاریخ میں اپنی نویت کا سب ائیرلفٹ آپریشن ہے۔
جمعرات کو امریکی صدر بائیڈن نے کہا کہ گذشتہ 12 گھنٹوں میں سات ہزار افراد کو نکالا گیا لیکن یہ واضح نہیں ان میں سے کتنی پروازیں حملوں سے قبل نکلی تھیں۔
دوسری جانب برطانیہ کے مطابق وہ اب تک ک"ل 13 ہزار افراد کو کابل سے نکال چکا ہے۔
دنیا کے تقریباً 100 ممالک اس انخلا مشن میں حصہ لے رہے ہیں اور پانچ ہزار سے زیادہ فوجی تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان میں تقریباً 1500 امریکہ شہری، 400 برطانوی اور 200 جرمن شہری جب بھی موجود ہیں۔
بریکنگ, کابل حملہ: ہلاک ہونے والوں کی تعداد 90 ہوگئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 90 ہو گئی ہے۔
افغان وزارت صحت کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک 150 افراد کے حملے میں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
طالبان: ایئرپورٹ حملوں میں امریکی فوجیوں سے زیادہ نقصان اٹھایا
ایک طالبان رہنما نے دعوی کیا ہے کہ ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ان کے کم از کم 28 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
روئٹرز سے بات کرتے ہوئے طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’ہمیں امریکیوں سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔‘
جمعرات کو ہونے والے حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور یہ 2011 کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کے لیے سب سے زیادہ خونریز دن ہے۔
طالبان رہنما کے مطابق اس حملے کے باوجود امریکہ کو اپنے انخلا کی تاریخ میں توسیع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
کابل: خوفناک حملے کے بعد پہلی صبح
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کابل میں صبح ہو چکی ہے اور کابل میں بیدار ہونے والے لوگوں ایک مختلف کیفیت میں ہیں۔
امریکہ کی انخلا کے اعلان کے بعد سے ہی شہر میں خوف اور خدشات تو تھے ہی۔ پھر جب طالبان نے دارالحکومت اور پورے ملک پر قبضہ کر لیا تو یہ خوف اور بڑھ گیا۔
گذشتہ ہفتے سے ہم نے ہزاروں افراد کو کابل ایئرپورٹ کی طرف آتے دیکھا۔ یہ سب 31 اگست سے پہلے پہلے ملک سے نکلنے کے لیے بیتاب تھے۔
لیکن جمعرات کو ہونے والے دھماکوں نے کئی خاندانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
سوشل میڈیا دلخراش تصاویر، دکھی پیغاموں اور جذباتی پوسٹس سے بھرا ہوا ہے۔
بریکنگ, امریکی کمانڈر مزید حملوں کے لیے تیار، بائیڈن کا دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف انتقامی کارروائی کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ افغانستان سے انخلا کا عمل جاری رہے گا تاہم کابل اور واشنگٹن میں امریکی حکام مزید حملوں کے خطرے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔
امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک مکنزی کے مطابق نام نہاد دولت اسلامیہ کی جانب سے راکٹ حملوں یا کار بم کے ذریعے مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’ہم تیار رہنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘
جمعرات کو صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ حملوں کے باوجود انخلا کا عمل جاری رہے گا اور انھوں نے ایئرپورٹ حملے کا بدلہ لینے نام نہاد دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف کارروائی کے لیے پینٹاگون کو احکامات جاری کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دولت اسلامیہ خراسان نے دعوی کیا تھا کہ اس کے ایک خودکش بمبار نے امریکے فوج کے مترجم اور حامیوں کو نشانہ بنایا تھا۔
’تین روز سے سن رہے تھے کہ ایئرپورٹ پر دھماکے کا خطرہ ہے اور پھر وہی ہو گیا‘
بریکنگ, امریکہ کو نقصان پہنچانے والوں کو ہم معاف نہیں کریں گے: جو بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے دشمنوں کو معاف نہیں کریں گے۔
جو بائیڈن نے جمعرات کو کابل کے لیے
ایک ’مشکل دن‘ قرار دیا۔
اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا یہ ’دہشت گرد‘ حملہ اسی قسم
کا تھا جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں اور جس کی ہمیں فکر تھی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’کابل میں بدلتی صورتحال
سے مجھے مسلسل باخبر رکھا جارہا ہے۔‘
انھوں نے ان فوجیوں کی تعریف کی جو ان کے بقول ’دوسروں
کی زندگیاں بچانے کے خطرناک مشن میں مصروف‘ تھے۔
جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکی ’ان تمام افغان خاندانوں
کے لیے دکھی ہیں جنھوں نے اس ظالمانہ حملے میں بچوں سمیت اپنوں کو کھو دیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم غصہ ہونے کے ساتھ ساتھ دل شکستہ
بھی ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا ’ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔ ہم یہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں صرف ثابت قدم رہنا ہے۔‘
’ہم اپنا مشن مکمل کریں گے اور فوجیوں کے انخلا کے بعد ہم ان ذرائع کی وضاحت کریں گے جن کے ذریعے ہم کسی بھی امریکی کو تلاش کر سکتے ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔‘
’ہم انہیں ڈھونڈیں گے اور ہم انہیں باہر نکالیں گے۔‘
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’یہ حملہ کرنے والے اور ان کے علاوہ جو کوئی بھی امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے وہ یہ جان لے: ہم معاف نہیں کریں گے۔ ہم نہیں بھولیں گے۔ ہم آپ کا شکار کریں گے اور آپ کو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘
ان کے خیال میں یہ حملہ آور شاید ان جیلوں سے آئے ہوں گے جو طالبان نے افغانستان پر اپنی فتح کے دوران کھول دے تھیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا ’ہم دہشت گردوں سے گھبرائیں گے نہیں۔ ہم مشن کو نہیں روکیں گے۔ ہم انخلا جاری رکھیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ان حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔
اسلام آباد کے ہوٹلوں میں تین ہفتوں کے لیے نئی بکنگ بند
افغانستان سے غیرملکیوں کے انخلا اور ان کی پاکستان آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر کے تمام ہوٹلوں کو جمعے سے کم از کم تین ہفتے کے لیے نئی بکنگ نہ کرنے اور کمرے افغانستان سے آنے والے مسافروں کے لیے دستیاب رکھنے کے لیے کہا ہے