لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, سی آئی اے ڈائریکٹر نے طالبان رہنما عبدالغنی برادر سے ملاقات کی ہے: واشنگٹن پوسٹ

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق سوموار کو سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز نے کابل میں طالبان رہنما عبدالغنی برادر سے خفیہ ملاقات کی ہے۔

    اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی حکام جو اس ملاقات کے متعلق جانتے ہیں کے مطابق اس ملاقات میں ممکنہ طور پر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کی 31 اگست کی تاریخ کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سی آئی اے نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

    یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب جی سیون ممالک کا اجلاس ہو رہا جس میں انخلا کی تاریخ میں توسیع کے بارے میں اتحادیوں کو سنا جائے گا۔

    برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک نے امریکی صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ 31 اگست کے انخلا کی تاریِخ میں توسیع پر غور کریں۔

    امریکی اتحادیوں نے متنبہ کیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ تک طالبان سے دوڑ کر ملک چھوڑنے والے افغان باشندوں کا انخلا مکمل نہیں کر سکے گے جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ اگر 31 اگست تک انخلا میں توسیع کی گئی تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘

  2. طالبان کا غنی حکومت کے عہدیداروں کے لیے معافی کا اعلان, خلیل الرحمٰن حقانی کہتے ہیں افغان شہری واپس آ کر افغانستان کی ترقی میں کردار ادا کریں

    haqqani

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان رہنما خلیل الرحمٰن حقانی نے افغان شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جائیں اور جو پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں وہ واپس آ کر اپنے ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔

    پاکستان کے سرکاری چینلز پی ٹی وی، اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی اگلی حکومت تمام سیاسی جماعتوں اور قبائل گروہوں اور نسلوں کی نمائندگی کرے گی۔

    حقانی کے مطابق اسی سلسلے میں مختلف سیاسی اور قبائلی رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں جو کہ طالبان سے بیت کا اعلان کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق انھوں نے سابق صدر حامد کرزئی، چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کے علاوہ حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار، گل آغا شیرازی، مولانا شیر محمد اور عمر زخیلوال سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

    انھوں نے سابق صدر اشرف غنی، ان کے مشیروں اور فوجی سربراہان کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب کو معاف کرتے ہیں اور اب سب کو اپنے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

    حقانی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے افغان عوام پر جنگ مسلط کی تھی جس کا مقصد بھائی، بھائی میں فساد پیدا کرنا تھا۔

  3. افغانستان سے انخلا کا فیصلہ جس نے امریکہ اور برطانیہ کے ’خاص رشتے‘ کی قلعی کھول دی

  4. کابل ایئرپورٹ کے باہر انتظار کی گھڑیاں, ملک مدثر، بی بی سی نیوز، کابل

    abbey gate

    آج صبح جب ہم کابل ایئر پورٹ کے شمالی گیٹ کی جانب بڑھے، جس کی سکیورٹی افغان اہلکاروں کے ہاتھوں میں ہے، تو ہمیں گاڑیوں کی ایک لمبی قطار نظر آئی۔

    جوں جوں ہم ایئر پورٹ کے قریب پہنچے، وہاں سے آنے والی فائرنگ کی آوازیں بلند ہوتی گئیں۔

    جب ہم نے وہاں موجود لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو افغان اہلکاروں نے ہمیں سختی سے کہا کہ ہم وہاں سے چلے جائیں۔ وہ کافی غصے میں تھے۔

    ان کے ہاتھ میں کوئی کوڑا نما چیز تھی۔ ہم بھی دو بار ان کے نشانے پر آئے لیکن ہمارے پریس کارڈ دیکھنے کے بعد انھوں نے ہمیں جانے دیا۔

    آج کابل سے چار پروازیں اڑیں لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ پاکستان کی قومی ایئرلائن کی پرواز کیوں منسوخ ہوئی۔

    ملک سے نکلنے کے خواہش مند افراد میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جو غیر ملکی میڈیا اہلکاروں کے ساتھ یا مترجم کے طور پر کام کرتے تھے۔

    ان سب کے چہروں پر غم کے سائے تھے، جیسے کوئی انھیں اپنے گھر سے نکلنے پر مجبور کر رہا ہے اور یہاں ان کے لیے کچھ نہیں بچا۔

    جب ہم ہوٹل واپس پہنچے تو وہاں لوگوں کا ایک ہجوم خصوصی امیگریشن ویزوں کا انتظار کر رہا تھا اور ہوٹل کی سکیورٹی اب قطاری محافظوں کے ہاتھ میں تھی۔

  5. ایئر بی این بی کا 20 ہزار افغان پناہ گزینوں کو جگہ دینے کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    کرائے پر گھر حاصل کرنے کے آن لائن پلیٹ فارم ایئر بی این بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے 20 ہزار افغآن پناہ گزینوں کو مفت رہنے کی جگہ فراہم کریں گے۔

    کمپنی کے سربراہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ اقدام ’دورِ حاظر کے سب سے ْرے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے‘ لیا گیا۔

    چیف ایگزیکیٹیو برائن چیسکی نے کہا کہ انھیں لگا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اس بارے میں کچھ کیا جائے۔

    ’میں امید کرتا ہوں کہ یہ قمد ہمارے دیگر کاروباری رہنماوں کو متاثر کرے گا اور وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔‘

    طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد ہزاروں لوگ افغانستان سے نکلنے کے کوشش کر رہے ہیں جبکہ ملک کے اندر 35 لاکھ سے زیادہ افراد بےگھر ہوچکے ہیں۔

  6. طالبان نے کابل میں اہم مقامات کی سکیورٹی سنبھال لی, خدائے نور ناصر، بی بی سی

    طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کابل شہر میں سکیورٹی کا نظام پوری طرح سنبھال لیا ہے اور اُن کے جنگجو شہر کے اہم مقامات پر تعینات کر دئیے گئے ہیں۔

    طالبان کے ملٹی میڈیا کمیشن کے سربراہ احمداللہ متقی کی جانب سے ٹوئٹر پر شئیر کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کابل کی فتح کے بعد اسلامی امارت نے سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اہم مقامات پر خصوصی یونٹس تعینات کیے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    متقی کے مطابق یہ خصوصی یونسٹس ’کاروباری مرکز (سرائے شہزادہ) سمیت دیگر علاقوں میں امن و امان کے قیام کے علاوہ کلیئرنگ آپریشنز بھی کررہے ہیں۔‘

  7. افغانستان سے نکلنے والے برطانوی شہری کی کہانی: دفتر خارجہ نے مجھے کہا ’ٹکے رہو‘ لیکن میں نے ان کی نہیں مانی

    لائڈ کومر نے 35 برس برطانوی فوج میں نوکری کی اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد کابل میں نجی کمپنیوں کے ساتھ 2013 سے منسلک رہے ہیں۔

    جب انھیں معلوم ہوا کہ طالبان ان کے علاقے کی طرف آ رہے ہیں تو انھوں نے دفتر خارجہ سے رابطہ کیا لیکن جواب میں انھیں „ٹکے رہنے‘ کا کہا گیا۔

    تاہم لائڈ نے ان کی تجویز پر توجہ نہ دی اور ایئرپورٹ کے لیے نکل کر اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔

    انھوں نے بکتر بند گاڑی میں سفر کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ انھوں معلو تھا کہ اس طرح وہ زیادہ بڑا ہدف بن جائیں گے۔

    بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے مقامی افغان سٹائل کا لباس پہن کر ایک سفید ٹویوٹا کرولا گاڑی کے پیچھے سفر کیا۔

    وہ اسی حلیے میں طالبان کے قائم کیے گئے چیک پوسٹس سے بھی گزرے تھے لیکن انھیں کسی نے نہیں روکا۔

    ’میرے ساتھ کے لوگوں نے مجھے ہجوم میں سے نکال کر بیرن ہوٹل پہنچا دیا جو کہ ہمارے لیے محفوظ مقام تھا۔‘

    جب وہ نوٹنگ ہیم میں اپنے گھر واپس پہنچے تو انھیں دفترِ خارجہ کی جانب سے ایک اور فون آیا جس میں پوچھا گیا: ’کیا آپ ابھی تک کابل میں ہیں؟‘

  8. داڑھی سے ’استثنیٰ کا سرٹیفیکیٹ‘ اور طالبان کی کاسمیٹکس کی دکان پر بیویوں کے لیے خریداری

    صحافی اقبال خٹک نے مارچ 2001 کے چند واقعات کا ذکر کیا ہے جب انھیں ایک مغربی میڈیا کی ٹیم کے ساتھ کابل جانے موقع ملا۔

    طالبان کے گذشتہ دور اور اُس وقت کے افغانستان کے حالات کے بارے میں ان کی یادداشتوں پر مبنی یہ آڈیو سٹوری سنیے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  9. تجزیہ: آج کے جی سیون اجلاس سے کیا توقعات ہیں؟, پال ایڈمز، بی بی سی نامہ نگار برائے سفارتی امور

    بورس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کابل ایئرپورٹ پر دل دہلا دینے والے مناظر دیکھنے کے بعد کئی لوگ امید کر رہے ہوں گے کہ جی سیون ممالک کے رہنما افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن کو 31 اگست سے، بیشک چند دن کے لیے ہی، آگے کر دیں گے۔

    تاہم اس وقت یہ واضح نہیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    پینٹاگون کے حکام کہتے ہیں کہ اگر ڈیڈ لائن میں توسیع کا کوئی فوجی جواز ہوا تو اس حوالے سے وہ صدر سے مشاورت کریں گے تاہم ان کے مطابق ابھی تک ایسی کوئی صیرتحال پیدا نہیں ہوئی۔

    لیکن اپنے اتحادیوں کو بغیر بتائے 11 ستمبر کی ڈیڈ لائن دینے کے بعد (جسے پھر 31 اگست تک بڑھا دیا گیا تھا) کیا بائیڈن دیگر ممالک کا مؤقفسننے کو راضی ہوں گے؟

    آج کے اجلاس میں طویل مدتی اہداف پر بھی بات ہوگی، مثلاً پناہ گزینوں کی مدد کیسے کی جائے، آبادکاری، امدادی اور دیگر فلاحی کاموں کی سکیمیں اور افغانستان کے مستقبل کو کیسے مستحکم بنایا جائے۔

    یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ گذشتہ 20 سال میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو (جیسے کے لڑکیوں کا سکول جانا) کیسے تحفظ دیا جائے۔

  10. بریکنگ, یوکرین کی وزارتِ خارجہ: ’طیارہ ہائی جیک‘ ہونے کا دعویٰ درست نہیں

    یوکرین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل سے یوکرینی شہریوں کو نکالنے کے لیے بھیجا گیا طیارہ ہائی جیک ہونے کا دعویٰ درست نہیں ہے۔

    یوکرین کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان اولے نیکولینکو نے کہا ہے کہ یوکرین کا کوئی طیارہ ہائی جیک نہیں ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں ’طیارے کے اغوا‘ کی جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ درست نہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ’کابل یا کسی اور جگہ کوئی ایسا یوکرینی طیارہ موجود نہیں جسے ہائی جیک کیا گیا ہو۔‘

    ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان سے لوگوں کو لانے کے لیے جو بھی طیارے بھیجے گئے تھے وہ ’بحفاظت یوکرین پہنچ چکے ہیں۔‘ اور ان تین پروازوں پر 256 افراد کو لایا گیا ہے۔

    اولے نیکولینکو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے نائب وزیرِ خارجہ سے جو بیان منسوب کیا گیا اس میں وہ کابل میں پھنسے یوکرینی عوام کو نکالنے کی کوششوں میں درپیش بےمثال مشکلات کا ذکر کر رہے تھے۔

    ’آپ سمجھیں کہ ہوائی اڈے پر شدید افراتفری ہے اور بہت سے لوگ ملک سے باہر نکلنے کے لیے دستیاب ہر موقع کی جانب لپک رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ یوکرین کے نائب وزیرِ خارجہ ینین نے ایک ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ اتوار کو یوکرینی طیارے پر ’دیگر افراد نے عملی طور پر قبضہ ہی کر لیا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’دیگر افراد نے ہمارا جہاز گذشتہ اتوار کو پکڑ لیا اور منگل کو عملی طور پر وہ ہم سے چھین لیا گیا۔ وہ ایران کی جانب گیا اور اس پر یوکرینیوں کی بجائے نامعلوم مسافر سوار تھے۔‘

    نائب وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’شہریوں کو نکالنے کی ہماری مزید تین کوششیں بھی ناکام رہیں کیونکہ ہمارے مسافروں کو ہوائی اڈے تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہا۔‘

    یاد رہے کہ یوکرین کے صدارتی دفتر کے ایک پریس ریلیز کے مطابق اتوار کو ایک فوجی مال بردار طیارہ 83 افراد کو لے کر کابل سے یوکرین کے دارالحکومت پہنچا تھا جس میں 31 یوکرینی شہری سوار تھے۔

  11. طالبان: پنجشیر کی مزاحمت کا باآسانی مقابلہ کر سکتے ہیں

    zabeehullaH

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    طالبان نے کہا ہے کہ وہ پنجشیر میں پنپنے والی مزاحمت کا باآسانی مقابلہ کر سکتے ہیں۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان کے چینل طلوع نیوز کو بتایا ’پنجشیر میں بہت کم لوگ جنگ چاہتے ہیں۔ وہاں کے بااثر افراد اور رہنما ہمیں بار بار پیغام بھجواتے ہیں اور کہتے ہیں وہ جنگ نہیں چاہتے۔ اس کا مطلب ہے وہاں کے لوگ لڑنا نہیں چاہتے۔‘

    یاد رہے کہ پنجشیر وہی علاقہ ہے جہاں احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اور ملک کے نائب صدر امراللہ صالح نے پناہ لی ہوئی ہے۔

    انھوں نے پنجشیر سے ایک قومی مزاحمتی فرنٹ کا بھی اعلان کر رکھا ہے تاہم اپنی ایک حالیہ ٹویٹ میں انھوں نے طالبان کی پیش قدمی کے حوالے سے بتاتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان نے وادی اندراب کا بھی محاصرہ کر لیا ہے۔

  12. برطانوی وزیر دفاع: 31 اگست کے بعد شاید مزید پروازوں کی اجازت نہ ملے

    Afghanitan

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے وزیر دفاع بین والس نے کہا ہے کہ مغربی حکومتیں افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن کے بعد اپنے شہریوں کو کابل سے نکلنے کی مہلت نہیں دیں گی۔

    منگل کو جی سیون ممالک کے اجلاس میں دنیا کے دیگر ممالک کے رہنما امریکی صدر پر 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے کے حوالے سے دباؤ ڈالیں گے، تاہم بین والس کے مطابق شاید ایسا ہو نہیں پائے گا۔

    طالبان نے پہلے ہی 31 اگست کو ’ایک سرخ لکیر‘ قرار دیا ہے اور برطانوی وزیر کے مطابق صدر بائیڈن کے بیانات سے ایسا نہیں لگتا کہ ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے گی۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ سب مل کر انخلا کے لیے زیادہ وقت حاصل کرنے کی کوشش ضرور کریں گے۔

  13. کابل ایئرپورٹ: وقت کم، مقابلہ سخت, یوگیتا لمائے، بی بی سی نیوز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    امریکی انخلا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے اور کابل ایئرپورٹ پر مغربی اہلکار تیزی سے لوگوں کو نکالنے کا کام کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی کوششوں کے باوجود انھیں ڈر ہے کہ یہ کام وقت پر مکمل نہیں ہو پائے گا۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایئرپورٹ کے جنوب مشرق میں واقع ایبی گیٹ بھی اب لوگوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    ایئرپورٹ کے باہر ہزاروں افراد کا مجمع لگا ہے۔ غیر ملکی اور افغان، بچے، عورتیں اور بوڑھے ہوائی اڈے کے داخلی راستوں کے باہر انتظار میں کھڑے ہیں لیکن متعلقہ دستاویزات کے بغیر ان میں سے زیادہ تر کو اندر جانے کی اجازت نہیں مل پائے گی۔

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکابل ایئر پورٹ کے باہر دن رات مجمع لگا رہتا ہے

    اب تک یہاں کم از کم 20 افراد بھگدڑ یا فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق گذشتہ روز یہاں سے 10 ہزار افراد کو نکالا گیا۔

    لیکن اب بھی وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔

    عالمی برادری آج جی سیون اجلاس میں امریکہ پر 31 اگست کی ڈیڈ لائن کو بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالے گی لیکن دوسری جانب طالبان نے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے کہ ڈیڈ لائن سے تجاوز معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی جس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

    ہجوم

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکئی لوگ دیواریں پھلانگ کر ائیر پورٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں
  14. افغان خواتین کو طالبان کی آمد سے کیا خدشات ہیں؟

    طالبان کا دعویٰ ہے کہ خواتین کے حقوق کا اسلامی قوانین کے مطابق احترام کیا جائے گا۔ تاہم بہت لوگوں کو خدشہ ہے کہ خواتین کے کام کرنے اور بچیوں کے تعلیم حاصل کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔

    تفصیل دیکھیے سکندر کرمانی اور مدثر ملک کی اس رپورٹ میں۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  15. ’31 اگست تک تمام امریکیوں اور اتحادیوں کو نکالنے کا کام مکمل ہوتا نظر نہیں آ رہا‘

    Schiff

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شف کہتے ہیں کہ انھیں نہیں لگتا کہ 31 اگست تک افغانستان سے تمام امریکی شہریوں اور ان کے اتحادیوں کو نکالنے کا کم مکمل ہو سکے گا۔

    ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’یہ ممکن تو ہے لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ جتنے امریکی شہریوں کو اب بھی نکالنا باقی ہے، جتنے صحافیوں، سِول سوسائٹی اور خواتین رہنماوں کو نکالنا ہے، مجھے نہیں لگ رہا کہ یہ مہینے کے آخر تک ممکن ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایک دن میں 11 ہزار افراد کو نکالنے کا ریکارڈ خوش آئند ہے تاہم عملی مشکلات کے باعث ’میرا نظریہ ہے کہ ہمیں اپنی افواج کو تب تک وہیں رکھنا چاہیے جب تک تمام امریکیوں کو وہاں سے نکال نہ لیا جائے اور اپنے افغان اتحادیوں کا حق ادا نہ کر دیا جائے۔

  16. روس طالبان کے لیے اتنا ’نرم گوشہ‘ کیوں رکھتا ہے؟

  17. امراللہ صالح: طالبان کی پنجشیر کی جانب پیش قدمی، وادی اندراب کا محاصرہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے کے ہمراہ طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کرنے والے افغان نائب صدر امراللہ صالح کے مطابق طالبان وادی پنجشیر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    منگل کی صبح ٹوئٹر پر جاری ہونے والے ایک پیغام میں انھوں نے لکھا کہ طالبان نے وادی اندراب کا محاصرہ کر لیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں خوراک اور ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان بچوں اور بوڑھوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور مخالفین کی تلاش میں گھر گھر جا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں صورتحال بہت خراب ہے اور عورتیں اور بچے پہاڑوں میں چھپ گئے ہیں۔

    صالح کے بیان پر طالبان کی جانب سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    map
  18. تجزیہ: اپنے شہریوں کو نکالنے کا آخر موقع, جوناتھن بیل، نامہ نگار برائے دفاعی امور

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    برطانیہ پسِ پردہ امریکہ پر کابل ایئر لفٹ کی تاریخ بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

    زیادہ آگے نہیں، بس چند دن کی بات ہے۔

    اس یہ قلیل وقت کے نتیجے میں شہریوں کو نکالنے والی پروازوں اس پورے ہفتے جاری رہ سکیں گی جس کے بعد فوج کے پاس سامان سمیٹنے اور تمام فوجیوں کو واپس بھیجنے کے لیے دو سے تین ہوں گے۔

    تاہم اب تک 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی اور اس کی سب سے بڑی وجہ طالبان خود ہیں۔

    کچھ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ برطانیہ یا دیگر مغربی ممالک امریکہ کے بغیر کیوں نہیں اپنے آپریشن جاری رکھ سکتے؟ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ اس عمل میں امریکہ ہی سب سے زیادہ مدد فراہم کر رہا ہے۔

    ایئرپورٹ کی سکیورٹی سے لے کر ایئر ٹریفک کنٹرول تک اور انٹیلیجنس فراہم کرنے سے لے کر ارد گرد کے علاقوں میں پہرا دینے تک، سب کام امریکہ ہی سنبھال رہا ہے۔

    لہٰذا امریکہ کے جانے کے بعد ان تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وقت اور پیسہ درکار ہو گا۔

    یہ بھی یاد رکھیں کہ امریکی سکیورٹی کے بغیر ایئرپورٹ پر حملے کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔

    برطانیہ نہ تو افغانستان میں اکیلا کھڑا ہو سکتا ہے اور نہ ہی کابل ایئرپورٹ پر۔۔۔

  19. امریکہ جانے کی امید میں کابل جانے والا پناہ گزین جس کا پشاور لوٹنا بھی مشکل ہو گیا

  20. کابل میں بظاہر معمول پر آتی زندگی لیکن امیگریشن ویزا کے لیے ہجوم برقرار