بریکنگ, طالبان کی صدارتی محل میں داخل ہونے کی اطلاعات
بی بی سی فارسی کو موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبان افغانستان کے صدارتی محل میں داخل ہو گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔
بی بی سی فارسی کو موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبان افغانستان کے صدارتی محل میں داخل ہو گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
افغانستان کی تازہ ترین صورت حال جاننے کے لیے دیکھیے ہمارے ساتھیوں سارہ عتیق، خدائے نور ناصر اور عابد حسین کا خصوصی فیس بک لائیو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ کابل میں اپنے سفارتخانے کی عمارت کو کابل کے ہوائی اڈے پر منتقل کر رہا ہے۔
انھوں نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ’اس لیے ہمارے فوجیں وہاں تھے تاکہ ہم یہ کام احسن طریقے اور بحفاظت کر سکیں۔ عمارت کو وہاں منتقل کیا گیا ہے اور ہمارے ساتھی وہاں سے نکل کر ائیرپورٹ جا رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ سفارتخانے کے پاس ان افراد کی فہرست موجود ہے جنھیں بحفاظت وہاں سے نکالا جانا ہے اور ہم اس کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔
انھوں نے سنہ 1975 میں ویتنام کے دارالحکومت سیگن پر قبضے اور کابل کے تقابلی جائزے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغان جنگ میں امریکہ کو کامیابی ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سیگن نہیں ہے۔‘
دوسری جانب امریکی سفارتخانے کے اعلی اہلکار روس ولسن سفارتخانہ چھوڑ گئے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق انھیں ایئرپورٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔
افغانستان میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر لہرائے جانے والا امریکی جھنڈا بھی اتار لیا گیا ہے اور اسے ایئرپورٹ پہنچایا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈومینک راب نے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے بات کرتے ہوئے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نےایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ ’انتہائی اہم‘ ہے کہ بین الاقوامی برادری متحد ہو کر طالبان کو باور کروائیں کہ تشدد کا اختتام ہونا چاہیے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے۔
انھوں نے یہ تبصرہ ایک کنزرویٹو رکن پارلیمان کی جانب سے کی گئی تنقید کے بعد دیے ہیں کہ وہ افغانستان بھر میں طالبان کی پیش قدمی پر تبصرہ نہیں کرتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے ڈی سی منصور ارشد کا کہنا ہے کہ طالبان اور پاکستانی حکام کے درمیان طورخم سرحد پر مذاکرات ہوئے جس کے بعد درآمدات و برآمدات سمیت ٹرانزٹ گاڑیاں بارڈر کراس کرگئی ہیں۔
یاد رہے کہ طورخم سرحدکو طالبان نے اتوار کو تجارتی سرگرمیوں کےلیے بند کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حزبِ اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نے لڑائی ختم کرنے اوراقتدار چھوڑنے میں ہچکچاہٹ دکھائی جس سے اقتدار کی ایک ایسی حکومت کو منتقلی میں تاخیر ہوئی جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان نے آغاز میں کابل شہر میں داخل ہونے سے اجتناب کیا لیکن کچھ لوگ اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا لوگوں کو اپنی حفاظت اپنے ہی ہاتھ میں لے لینی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ہم نے حال ہی میں یہ دیکھا ہے کہ افغانستان میں طالبان پاکستان کی سرحد سے جُڑے افغان علاقوں میں اپنے قدم جما رہے ہیں۔‘ حسین طُوری نے بندوقیں ایک بند بکسے سے نکالتے ہوئے کہا۔
’یہ نہ ہی پہلی دفعہ ہے کہ ہم اس جنگ کا نا چاہتے ہوئے حصہ بنیں گے اور نہ ہی ایسا آخری دفعہ ہو گا۔ لیکن اگر ہماری جان پر آئی اور لڑائی ہوئی تو ہم اسے آخر تک ضرور پہنچائیں گے۔‘
حسین طُوری کا تعلق خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرّم کے علاقے پاراچنار سے ہے۔ اس علاقے میں حسین جیسے اور بھی لوگ موجود ہیں جو ماضی میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
حسین نے جہاں مارچ 2017 کے مسجد پر بم حملے کے نتیجے میں اپنے والد کو کھو دیا، اسی طرح ان کا ایک دوست ہاتھ اور پاؤں سے معذور ہو گیا۔ اسی حملے میں حسین کے والد کے علاوہ 23 اور افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری اس وقت تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاہرار نے قبول کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/HamidKarzai
سابق افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے فیس بک پیج پر ایک ویڈیو پیغام شائع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب بھی کابل میں ہیں۔
حامد کرزئی نے پیغام میں کہا کہ ’انھیں امید ہے کہ موجودہ صورتحال امن مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گی۔‘
حامد کرزئی نے طالبان اور سکیورٹی فورسز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سکیورٹی فورسز اور طالبان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں، سکیورٹی برقرار رکھیں۔‘
انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے گھروں میں ’پرسکون‘ رہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم افغان قیادت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کو حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور بڑھتے ہوئے کنٹرول کے باعث وہاں کی خواتین مایوس ہیں اور ایک بار پھر 20 سال پہلے کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہی ہیں۔
دوحہ میں طالبان سے مذاکرات کرنے والے افغان حکومتی مشن میں چار خواتین بھی موجود ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ تشدد روکنے اور مؤثر اقدامات نافذ کرنے کے لیے نہ بات آگے بڑھی ہے اور نہ ہی طالبان سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بی بی سی نے افغانستان کے مختلف علاقوں کی خواتین سے بات کی جنھیں اس تحریر میں ان ہی کی زبانی پیش کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے جنگجوؤں کو کابل میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’شہر میں لوٹ مار روکنے اور بدامنی سے بچنے کے لیے کابل کی سکیورٹی سنبھالنے کے احکامات دیے ہیں۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’ہم نے صبح جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم اپنے جنگجوؤں کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے تھے لیکن کیونکہ کابل میں سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس کی جانب سے اہم مقامات چھوڑ دیے گئے ہیں جس کے باعث اب شہر میں غیر یقینی صورتحال ہے اور اس سے بچنے کے لیے ہم نے جنگجوؤں کو شہر میں داخل ہو کر سکیورٹی سنبھالنے کی ہدایت کی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
عبداللہ عبداللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’خدا اُن کے ساتھ حساب کرے گا‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کو افغان وزارتِ دفاع کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’جیسے جیسے طالبان افغانستان کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں ہم مکمل طور پر سکتے میں ہیں۔
’میں خواتین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اقلیتوں کے بارے میں بہت پریشان ہوں۔ عالمی، مقامی اور خطے کی طاقتوں کو فوری سیزفائر پر زور دینا ہو گا اور فوری انسانی امداد اور پناہ گزینوں اور سویلین کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔‘
خیال رہے کہ بچیوں کی تعلیم کے لیے کوشاں ملالہ کو سنہ 2012 میں تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا جس کے بعد وہ برطانیہ منتقل ہو گئی تھیں۔ سنہ 2014 میں انھیں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
سنہ 1997 میں صحافی محمود جان ایک گاڑی میں چند سینئر صحافیوں کے ہمراہ طورخم بارڈر کی جانب جا رہے تھے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کا یہ دوسرا سال تھا اور محمود جان چند سنی سنائی باتوں کی خود جانچ کرنا چاہتے تھے۔
اپنے اس سفر پر انھوں نے افغانستان میں کیا دیکھا؟ جانیے اس آڈیو سٹوری میں جسے پیش کر رہے ہیں خدائے نور ناصر ایڈٹ: محمد ابراہیم
افغانستان میں طالبان کے کابل تک پہنچنے کے بعد نیٹو کا کہنا ہے کہ ’افغانستان تنازعے کے سیاسی حل کی ضرورت آج ماضی سے کہیں زیادہ ہے‘
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق طالبان کے افغانستان کے دارالحکومت کابل تک پہنچنے پر 30 ممالک کے اتحاد نیٹو کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ہم اس تنازعے کے سیاسی حل کی تلاش کے لیے افغان کوشش کی حمایت کرتے ہیں اور ماضی کے مقابلے میں آج اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘
نیٹو اہلکار کا کہنا تھا کہ ’نیٹو مسلسل افغانستان میں بدلتی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم کابل ہوائی اڈے پر آپریشنز بحال رکھنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں تاکہ افغانستان کا بیرونی دنیا سے رابطہ قائم رہے۔ ہم اپنی سفارتی نمائندگی بھی کابل میں قائم کیے ہوئے ہیں، ہمارے اہلکاروں کی سکیورٹی سب سے اہم ہے اور ہم حالات کے مطابق اس میں تبدیلی لا رہے ہیں۔‘
طالبان نے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد سے ملک سے علاقوں پر قابض ہونا شروع کیا تھا اور چند ہی دنوں میں وہ کابل تک پہنچ گئے ہیں۔
طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ اگلے چند دنوں میں پرامن طریقے سے ’اقتدار کی منتقلی‘ کے لیے پرامید ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ کبھی بھی، کسی بھی صورت حال میں ’طالبان دہشت گردوں‘ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے ہیرو احمد شاہ مسعود کی روح اور یاد سے کبھی بے وفائی نہیں کروں گا جو میرے کمانڈر، لیجنڈ اور رہنمائی کرنے والے تھے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں طالبان کے ساتھ کبھی ایک چھت کے نیچے نہیں بیٹھوں گا۔ کبھی بھی نہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
افغان کرکٹر راشد خان کی جانب سے ایک ٹویٹ میں لفظ ’امن‘ لکھا گیا ہے۔
اس سے قبل انھوں نے ایک ٹویٹ میں عالمی رہنماؤں سے درخواست کی تھی کہ ’میرے ملک میں اس وقت افراتفری کے حالت میں ہے، ہزاروں معصوم افراد جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں انھیں ہر روز شہید کیا جا رہا ہے اور گھروں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
’ہزاروں خاندانوں کو بھی جبری منتقلی کا سامنا ہے۔ ہمیں اس افراتفری میں نہ چھوڑیں۔ افغانوں کو قتل کرنا اور افغانستان کو تباہ کرنا بند کریں۔ ہمیں امن چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’کابل میں پریس سیکشن کو بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے کابل سے محفوظ انخلا کے لیے سینکڑوں ویزا درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس کے بعد اس حوالے سے ایک خصوصی سیل بنا دیا گیا ہے جو بین الاقوامی میڈیا کے صحافیوں کی معاونت کرے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے دعا گو ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد جہاں ملک کے مستقبل کے بارے میں کئی سوال اٹھائے جا رہے ہیں وہیں اکثر لوگ بالخصوص نوجوان نسل تیزی سے پیش قدمی کرتے طالبان کی تاریخ سے اب بھی ناواقف ہے۔
آخر طالبان کون ہیں اور کیا موجودہ طالبان 20 سال پہلے والے طالبان سے مختلف ہیں؟ اس سب پر ہم نے بات کی صحافی احمد رشید سے ویڈیو: آصف فاروقی اور وقاص انور
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے خصوصی مندوب برائے افغانستان محمد صادق کی جانب سے ایک ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے افغانستان کے سیاسی رہنماؤں کے اعلیٰ سطحی وفد کو کچھ دیر قبل اسلام آباد میں خوش آمدید کہا ہے۔
اس وفد میں سپیکر میر رحمان رحمانی، صلاح الدین ربانی، محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم خلیلی، احمد ضیا مسعود، احمد ولی مسعود، عبدالطیف پدرام اور خالد نور شامل ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے تھا کہ ’اس دورے کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔‘
افغانستان میں طالبان کا کہنا ہے کہ وہ انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتے اور خواتین کے حقوق، میڈیا نمائندوں اور سفارتکاروں کی آزادی کا یقین دلاتے ہیں۔
بی بی سی کی صحافی یلدا حکیم سے ایک ٹی وی انٹرویو میں بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ’ہم عوام خصوصاً کابل کے شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی جائیدادیں، ان کی زندگیاں محفوظ ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم خواتین کے حقوق، میڈیا نمائندوں اور سفارتکاروں کی آزادی کے تحفظ کا یقین دلاتے ہیں۔
واضح رہے کہ طالبان پیش قدمی کرتے ہوئے اتوار کو افغانستان کے دارالحکومت کابل تک پہنچ گئے ہیں۔ جس کے بعد وہاں عوام میں خوف و ہراس اور غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ شہری لمبی قطاروں میں بینکوں کے باہر پیسے نکلوانے کے لیے موجود ہیں۔
طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے قیادت نے جنگجوؤں کو کابل شہر میں داخل نہ ہونے اور شہر کے دروازوں پر رہنے کا حکم دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگلے چند دنوں میں ہم پرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کی توقع کرتے ہیں۔‘