صدر بائیڈن نے اس معاہدے کو توڑا جو امریکی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا تھا: مائیک پینس

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. تجزیہ: طالبان درست وقت کا انتظار کر رہے تھے, پال ایڈمز بی بی سی، نامہ نگار برائے سفارتی امور

    afg

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 2001 میں افغانستان میں جنگ کا آغاز کیا تو انھیں بہت جلد اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ وہ اس جگہ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے جہاں وہ جنگ لڑ رہے تھے۔

    اس حوالے سے انھوں نے ملک کے مختلف عسکری مقامات پر ثقافتی ماہر بشریات بھیجے جو افغانستان کی قبائی روایت کو سمجھے سکیں۔ امریکی افسران نے مقامی رہنماؤں کے ساتھ چائے پی اور لاتعداد جرگوں میں شرکت بھی کی۔

    میں نے جلال آباد کے نزدیک ایسے ہی ایک جرگے میں شرکت کی اور اس کا مشاہدہ کیا۔ وہاں موجود امریکی افسر سنجیدہ، بردبار اور سمجھدار لگ رہا تھا لیکن ساتھ ساتھ تھوڑا حیران و پریشان بھی لگ رہا تھا۔

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مغربی طاقتوں کو ایسا لگا کہ اگر وہ افغانستان میں بہت سارے پُل بنا دیں، وہاں کی بچیوں کو سکول بھیج دیں، پوست کی کاشت کے لیے ہل چلوا دیں، اور سب سے اہم بات کہ اربوں ڈالر خرچ کر کے افغان فوج کو تیار کریں جو امریکی فوج کی مانند ہو، تو شاید ان اقدامات کے بعد افغانستان کے عوام ان کے حامی ہو جائیں گے اور ساتھ ساتھ نئی افغان حکومت بھی اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی۔

    لیکن وہ حیرانی و پریشانی کبھی ختم نہیں ہوئی اور نظر یہ آیا کہ طالبان نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور وہ انتظار کرتے رہے کہ کب ہماری دلچسپی یہاں سے ختم ہو۔

  2. کابل کے ہوائی اڈے پر افراتفری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے میں جلدبازی نہ کریں: بورس جانسن

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ یہ واضح ہے کہ افغانستان میں ایک نئی حکومت بنے گی اور مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ مل کر کام کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان ’دہشت گردی‘ کی افزائش گاہ نہ بن جائے۔

    انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا ، ’صورتحال مشکل ہے اور یہ مزید خراب ہو جائے گی۔‘

    بورس جانسن نے کہا کہ برطانوی حکومت اگلے چند دنوں میں اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے دیگر ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ نئی حکومت کے طور پر طالبان کو ’جلد تسلیم‘ کرنے سے گریز کریں۔

  4. امریکہ افغانستان میں مزید ایک ہزار فوجی بھیج رہا ہے

    امریکی فوجی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ پینٹاگون نے امریکی شہریوں کے انخلا میں مدد کے لیے افغانستان میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کی اجازت دی ہے۔

    اس فیصلے کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی کل تعداد چھ ہزار ہو جائے گی۔

    عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ایک ہزار فوجی افغانستان روانگی کے لیے تیار ہیں۔

  5. ایران کی جانب سے حامد کرزئی کے اقتدار منتقلی کونسل کے قیام کے منصوبے کی حمایت

    zarif

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی جانب سے طالبان کی جانب سے افغانستان پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد اقتدار کی منتقلی کے لیے کونسل قائم کرنے کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔

    جاوید ظریف، جنکی وزارت کا دور نئے ایرانی صدر کے منتخب ہونے کے بعد ختم ہونے والا ہے، نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’جنگ و جدل سے مسئلے حل نہیں ہوتے، ایران حامد کرزئی کے اعلان کی حمایت کرتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس کی مدد سے مذاکرات اور اقتدار کی پرامن منتقلی ممکن ہو سکے گی‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے کابل میں داخل ہونے کے بعد سابق صدر حامد کرزئی نے منتقلی کی کونسل قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔

    افغان صدر اشرف غنی طالبان کے شہر میں داخل ہونے کے بعد تاجکستان کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔

  6. افغان طالبان کون ہیں: طالبان کے عروج، زوال اور اب دوبارہ عروج کی داستان

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے دو دہائیوں پر محیط جنگ کے بعد مئی 2021 سے ایک مربوط طریقے سے دوبارہ افغان فوج کی چوکیوں، قصبوں، بڑے شہروں سے متصل دیہات اور صوبائی ہیڈکوارٹروں کو قبضے میں لینا شروع کیا اور اگست کے مہینے میں ان کی پیش قدمی میں ایسی تیزی آئی کہ عسکری ماہرین ہوں یا دفاعی تجزیہ کار وہ سب کے اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے 15 اگست کو کابل میں داخل ہو چکے ہیں۔

    لیکن طالبان کون ہیں، اور ان آج سے 25 سال قبل ان کے عروج، پھر نائن الیون کے بعد زوال اور آج کابل میں ایک بار پھر فاتح کی حیثیت سے داخل ہونے کی کیا داستان ہے، جانیے اس مضمون میں۔

  7. ’شہر میں افواہوں کا بازار گرم ہے اور ہر طرف خوف اور بےیقینی ہے‘

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کی رفتار نے جہاں تجزیہ کاروں کے اندازوں کو غلط ثابت کیا وہیں صحافیوں کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ کابل اتنی جلد طالبان کے کنٹرول میں چلا جائے گا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بہت سے غیر ملکی صحافی اور میڈیا سے متعلق افراد بھی وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ بی بی سی کے کیمرہ پرسن مدثر ملک بھی ان میں سے ایک ہیں جنھوں نے اتوار کو اپنے کابل کے سفر اور وہاں کی صورتحال کی تفصیلات حمیرا کنول کو بتائیں۔

    ’میں یہاں کابل کے مرکز میں اپنی رہائش گاہ پر ہوں۔ میرے کمرے سے سڑک پر مجھے کچھ دیر پہلے مجھے گاڑیاں گزرتی دکھائی دیں۔ ان کی تعداد تین تھی فور بائی فور۔ ان گاڑیوں میں حکومتی اہلکار نہیں بظاہر طالبان کے حلیے کے لوگ تھے۔ اس وقت یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ کابل شہر میں وہ کھلے عام گھوم رہے ہیں۔

    ’کبھی کبھی شہر میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں معلوم نہیں یہ ہوائی فائرنگ ہے یا پھر طالبان اور فورسز کے مابین کہیں لڑائی ہو رہی ہے۔ لیکن میں اتنا سمجھ رہا ہوں کہ یہ عام پستول کی نہیں بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ ہے۔ اوپر فضا میں بھی ہیلی کاپٹروں کی، جیٹ طیاروں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’آج کے دن میں صورتحال اتنی تیزی سے بدلی ہے کہ نہ تو ہم صحافیوں کو سمجھ آ رہی ہے کہ وہ کام کیسے کریں اور نہ ہی دوسرے صوبوں سے کابل میں پناہ لینے والوں کو سجھائی دے رہا ہے کہ وہ کہاں جائیں۔ آخری خبر یہی ہے کہ اشرف غنی کے جانے کے بعد صدارتی محل اب طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ میں ابھی گلبدین حکمت یار کا ٹی وی انٹرویو دیکھ رہا ہوں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے طالبان کو سمجھایا ہے کہ لڑائی نہ کریں اس سے گریز کریں۔

    ’ایئرپورٹ سے یہاں اپنی قیام گاہ تک پہنچنے میں مجھے عام طور پر 30 منٹ لگتے ہیں لیکن آج مجھے ساڑھے تین گھنٹے لگ گئے۔ بہت زیادہ رش تھا۔ بہت سے راستے بند بھی تھے، راستوں سے منسلک بیرونی گلیاں بھی بند تھیں۔ یوں لگ رہا تھا کہ کابل شہر کے سب لوگ مرکز سے مضافاتی علاقوں کی جانب بھاگ رہے ہوں۔ انھیں دیکھ کر میں سوچ رہا تھا نجانے یہ جا کہاں رہے ہیں کیونکہ پورے ملک میں ایک ہی جیسی صورتحال تھی۔ شہر کے تمام علاقوں میں دکانیں بند نظر آ رہی تھیں۔

    ’میرا ایک مہینے میں کابل کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ دو ہفتے قبل میں یہاں سے پاکستان گیا تھا اس وقت بھی کابل سے نکلنے والی فلائٹس فل تھیں لیکن یہاں لینڈ کرنے والے جہازوں میں بہت کم مسافر ہیں۔ اسلام آباد سے 55 منٹ کی فلائٹ کے ذریعے میں کابل کے ہوائی اڈے پر پہنچا تو ایئرپورٹ پر سٹاف تو اپنی جگہ موجود تھا لیکن ایئرپورٹ پر معمول کے حالات کی نسبت 70 فیصد سے زیادہ کمی محسوس ہوئی۔ شاید اندرون ملک فلائٹس نہیں تھیں اس لیے یہ سناٹا کچھ زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ جس جہاز میں میں آیا تھا اسے اسلام آباد جانے میں تین گھنٹے انتظار کرنا پڑا اس دوران یہاں کوئی اور فلائٹ لینڈ بھی نہیں کر سکی۔

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’جب میں یہاں پہنچا تو معلوم ہو چکا تھا کہ طالبان کابل شہر کے مضافات میں پہنچ چکے ہیں۔ کہیں کہیں فون کی سروس خراب چل رہی ہے اور انٹرنیٹ کا بھی یہی حال ہے۔ بین الاقوامی میڈیا سے منسلک صحافی بتا رہے ہیں کہ ان کے اداروں نے انھیں ملک چھوڑنے کو کہا ہے وہ سب اپنی ٹکٹس ارینج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کام کیسے کیا جائے۔

    ’دن بھر میں صورتحال بہت تیزی سے بدلی۔ شہر میں بہت سی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں۔ ہم صحافیوں کو بھی اپنی طے شدہ جگہوں کو چھوڑ کر ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہونا پڑا جب ہمیں یہ افواہ سننے کو ملی کہ ہوٹل میں سکیورٹی ایشو ہو گیا ہے۔ باہر بھی جگہ جگہ لوگ افواہیں سن کر ادھر ادھر جا رہے تھے۔

    ’ طالبان کی جانب سے جاری بیانات میں یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ وہ صحافیوں سمیت کسی کو کچھ نہیں کہیں گے لیکن ہر جانب خوف ہے اور بےیقینی ہے۔ حکومت نے گذشتہ ہفتے تک چار افغان صحافیوں کو گرفتار کیا تھا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے خفیہ ادارے کے ایجنٹ ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ افغان صحافی بھی ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں ہر شخص یہی چاہتا ہے کہ چاہے کوئی انسانی سمگلر ہو وہ اسے افغانستان کی سرحدوں سے باہر لے جائے۔‘

  8. صدر طیب اردوگان کا وزیرِ اعظم عمران خان سے رابطہ، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    imran erdogan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی کے صدر طیب اردوگان نے وزیرِ اعظم عمران خان سے رابطہ کیا ہے اور دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی بدلتی صورتحال بر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    پاکستان کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق عمران خان کی جانب ترک صدر کو بتایا گیا کہ ’پاکستان کابل سے سفارتی عملے، اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اہلکاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہے اور کل قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔‘

  9. بریکنگ, کابل کو خون ریزی سے بچانے کے لیے میں نے ملک چھوڑنا مناسب سمجھا: اشرف غنی

    اشرف غنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغان صدر اشرف غنی نے ملک چھوڑنے کے بعد اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’آج مجھے ایک مشکل فیصلہ کرنا تھا کہ یا تو میں مسلح طالبان جو محل میں داخل ہونا چاہتے تھے ان کے سامنے کھڑا ہو جاؤں یا پھر اپنے پیارے ملک جس کی گذشتہ 20 سالوں میں حفاظت کے لیے میں نے اپنی زندگی صرف کر دی اسے چھوڑ دوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر اس دوران ان گنت افراد ہلاک ہوتے اور ہمیں کابل شہر کی تباہی دیکھنا پڑتی تو اس 60 لاکھ افراد کے شہر میں ایک بڑا انسانی المیہ ہو جاتا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’طالبان نے مجھے یہ شہر چھوڑنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ وہ کابل اور اس کے باسیوں پر حملہ کرنے آئے تھے۔

    ’کابل کو خون ریزی سے بچانے کے لیے میں نے ملک چھوڑنا مناسب سمجھا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان نے تلواروں اور بندوقوں کے زور پر فتح حاصل کر لی ہے، اور اب ملک کی عوام کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مگر وہ دلوں کو جیت نہیں سکے ہیں۔ تاریخ میں کبھی بھی کسی کو صرف طاقت سے یہ حق نہ ملا ہے اور نہ ہی ملے گا۔ اب انھیں ایک تاریخ امتحان کا سامنا ہے، یا تو وہ افغانستان کا نام اور عزت بچائیں گے یا دوسرے علاقے اور نیٹ ورکس۔

    ’بہت سے لوگ اپنے غیر یقین مستقبل کے بارے میں خوفزدہ اور فکرمند ہیں۔ طالبان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ تمام عوام کو، تمام اقوام کو، معاشرے کے تمام طبقات، بہنوں، اور افغانستان کی خواتین کو یقین دلائیں اور ان کی دلوں کو جیتیں۔’

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ افغانستان کے مستقبل کے متعلق واضح منصوبہ بندی کریں اور اسے عوام کو بتائیں۔ میں ہمیشہ اپنے ملک و قوم کی بہتری اور ترقی کے لیے کام کرتا رہوں گا۔‘

  10. طالبان افغانستان تنازعے میں سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کس کے ساتھ ہیں؟

    گلف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے گزشتہ چند ہفتوں میں تقریباً پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ اور اب وہ کابل تک پہنچ چکے ہیں۔ افغان حکومت نے فوجی دستوں کو اکٹھا کر کابل کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اب افغان حکومت بہت دنوں تک ٹِک نہیں پائے گی۔

    باقی دنیا کی طرح ظاہر ہے اس وقت مسلم ممالک کی نگاہیں بھی کابل کی صورت حال پر ہیں۔ حالانکہ چند مسلم ممالک تو اس میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ چند نے اس صورت حال پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

    اسلام ممالک کے اتحاد او آئی سی نے ایک بیان جاری کر کے افغانستان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    او آئی سی نے اپنے بیان میں سبھی فریقوں سے تشدد بند کرنے اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ او آئی سی نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    حالانکہ اس بیان سے زیادہ او آئی سی نے اور کچھ نہیں کیا ہے۔ ادارے نے دونوں فریقوں سے برابر فاصلہ قائم کیا ہوا ہے۔

    تو ایسے میں افغانستان اور طالبان کے تنازعے میں سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کس کے ساتھ ہیں؟

  11. بریکنگ, کابل صوبے کے 11 اضلاع پر قبضہ کر چکے ہیں: طالبان

    taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اب تک کابل صوبے کے متعدد اضلاع میں داخل ہو چکے ہیں اور ان میں 11 اضلاع کا کنٹرول سنبھال چکے ہیں۔

    ایک ترجمان کے مطابق وہ ان اضلاع میں اس لیے داخل ہوئے تاکہ ’سکیورٹی کو یقینی بنا سکیں۔‘ خیال کے کابل صوبے کے کل 22 اضلاع ہیں۔

    اس سے قبل طالبان یہ بھی دعویٰ کر چکے ہیں کہ انھوں نے صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ہے۔

  12. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ سے تمام کمرشل پروازیں معطل

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیٹو کے ایک اہلکار کے مطابق کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تمام کمرشل پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہاں سے صرف فوجی طیاروں کو پرواز بھرنے کی اجازت ہو گی۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب برطانوی فضائی کمپنی برٹش ایئرویز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’وہ اس وقت افغانستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کر رہے۔‘

  13. حامد کرزئی نے ملک میں امن قائم کرنے کے لیے رابطہ کونسل تشکیل دے دی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ صدر غنی کی اپنے عہدیداروں کے ساتھ ملک سے روانگی کے بعد انتشار روکنے، لوگوں کی تکلیفوں کو دور کرنے، امن قائم کرنے کے لیے ایک رابطہ کونسل تشکیل دی ہے۔

    سابق صدر نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ کونسل میں قومی مفاہمتی رہنما عبداللہ عبداللہ اور حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار بھی شامل ہوں گے۔

    سابق صدر کرزئی نے کونسل کی جانب سے افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان عسکریت پسندوں سے مطالبہ کیا کہ وہ حالات خراب کرنے والوں کو روکیں۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ کونسل کو کوئی ایگزیکٹو پاور حاصل ہو گی یا نہیں۔ طالبان نے ابھی تک کونسل کی تشکیل پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سابق صدر حامد کرزئی کی طرف سے ایک رابطہ کونسل کی تشکیل کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک کونسل کے قیام کا اقدام امن، بات چیت اور پرامن منتقلی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

  14. چمن سپین بولدک سرحد کے مناظر

    spin boldak

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایک انتہائی اہم پاکستان افغانستان سرحد پر گذشتہ کچھ دنوں میں پاکستانی سکیورٹی حکام اور افغان باشندوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    چمن سپین بولدک چیک پوائنٹ پر طالبان نے گذشتہ ماہ قبضہ کر لیا تھا اور اسے آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم اسے سنیچر کے روز طالبان اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے جس کے بعد سینکڑوں افراد کو اپنے گھروں میں جانے کا موقع ملا ہے۔

    افغانستان چاروں جانب دوسرے ممالک سے گھرا ہوا ہے اس لیے یہ سرحد تجارتی اعتبار سے بھی اس کے لیے بہت زیادہ اہم ہے اور یہ اس وقت افغانستان کی دوسری سب سے مصروف سرحد ہے۔

    چمن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چمن سرحد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چمن سرحد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    spin boldak

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    spin boldak

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سپین بولدک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  15. کابل ایئرپورٹ کی تازہ ترین صورتحال

    اس سے قبل ہم خبر دے چکے ہیں کہ کابل میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ایئرپورٹ پر فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

    اس کے علاوہ عینی شاہدین کے مطابق لوگوں کو طیاروں کی جانب بھاگتے بھی دیکھا گیا ہے اور اس وقت امیگریشن ڈیسک اور ایئرلائنز کے لیے عملہ کم پڑ رہا ہے۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ ادارہ کابل سے لوگوں کی محفوظ منتقلی کے لیے ایئرپورٹ کھلا رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. بریکنگ, طالبان کا صدارتی محل پر قبضے کا دعویٰ

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ انھوں نے صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل صدر اشرف غنی ملک چھوڑ گئے تھے تاہم تاحال محل کی موجودہ صورتحال واضح نہیں ہے۔

    طالبان کے اس دعوے کی حکومتی اہلکاروں کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔

    صحافی بلال سروری کے مطابق ان کی دو ایسے افغان اہلکاروں سے بات ہوئی ہے جو اس وقت مذاکرات کا حصہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ معاہدے کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ صدر اشرف غنی محل میں اقتدار کی منتقلی کی تقریب میں شریک ہوں گے تاہم وہ اور ان کے سینیئر اہلکار ملک سے فرار ہو گئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’محل میں کام کرنے والے اہلکاروں کو محل چھوڑنے کی ہدایت کی گئی تھی اور اسے خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔

  17. ’میں ایئرپورٹ پہنچنے کے لیے پانچ گھنٹے پیدل چلا‘

    کابل ایئرپورٹ
    ،تصویر کا کیپشنکابل ایئرپورٹ کا منظر

    سعیدی (فرضی نام) کابل میں ایک 22 سالہ طالبعلم ہیں جنھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آج انھوں نے ایئرپورٹ تک پہنچنے کے لیے پانچ گھنٹے تک پیدل سفر کیا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے پیر درد کر رہے ہیں اور مجھ سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا۔‘

    یہ ایک فوجی ٹاؤن لگ رہا تھا، لوگوں نے روایتی لباس پہن رکھے ہیں لیکن ان کے ہاتھ میں اسلحہ ہے اور وہ ہوائی فائرنگ بھی کر رہے ہیں۔ اس سے میری اس جہاد کی یاد تازہ ہوئی جس کی کہانیاں میں نے اپنے والدین سے سنی تھیں۔‘

    سعیدی کچھ ہی دنوں میں استبول میں ماسٹرز کرنے والے ہیں۔ وہ کچھ روز اپنے خاندان کے پاس گزارنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب میں جا رہا ہوں، اور اپنی فیملی کے بارے میں سوچ رہا ہوں، ان کے پاس فرار ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ مجھے مستقبل میں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔‘

  18. بریکنگ, کابل میں کرفیو نافذ کر دیا ہے: افغان وزارتِ داخلہ

    وزیرِ داخلہ

    ،تصویر کا ذریعہMoI

    افغان وزارت داخلہ نے کابل میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے قائم مقام سربراہ عبدالستار مرزاکوال نے ایک مختصر ویڈیو میں میڈیا کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے رات نو بجے سے کابل میں کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس وقت کے بعد جو بھی شہر میں نظر آئے گا اس سے ’چور اور ڈاکو‘ سمجھ کر نمٹا جائے گا۔

  19. طالبان چاہتے ہیں کہ ’اقوام متحدہ ملک میں رہے‘

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اقوامِ متحدہ کے بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق ادارے یونیسیف کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب تک طالبان نے ’ان کے دفاتر کو نقصان نہیں پہنچایا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’طالبان چاہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ یہیں رہے اور اپنا کام جاری رکھے۔‘

    سیم مورٹ کا کہنا تھا کہ جنگجوؤں کا رویہ اچھا ہے اور وہ اس وقت اقوامِ متحدہ کے آپریشنز کی حفاظت کر رہے ہیں۔

    انھوں نے یونیسیف کا خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے کام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ’دفاتر میں اگلے چند روز میں کام کا دوبارہ آغاز کر دیا جائے گا۔‘

  20. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ پر فائرنگ کی اطلاعات: امریکی سفارت خانہ

    امریکہ کے سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق کابل کے ایئرپورٹ پر فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

    حکام نے علاقے میں موجود امریکی شہریوں کو ’مسلسل بدلتی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر‘ محفوظ ٹھکانوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

    امریکی سفارت خانے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ’کوئی بھی امریکی جسے کابل چھوڑنے میں مدد درکار ہو، خود کو آن لائن رجسٹر کروائے کیونکہ سفارت خانہ بند کر دیا گیا ہے۔‘