صدر بائیڈن نے اس معاہدے کو توڑا جو امریکی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا تھا: مائیک پینس
افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔
لائیو کوریج
افغانستان میں صحافی قومی مفاد کا خیال رکھیں: طالبان کا پیغام, خدائے نور ناصر، بی بی سی
،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں قندھار اور دیگر بڑے شہروں میں طالبان نے کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایسے میں طالبان کی جانب سے صحافیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا صحافتی کام جاری رکھ سکتے ہیں اور اُنھیں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔
مگر جاری کردہ ہدایات کے مطابق صحافیوں کے لیے لازم ہوگا کہ اپنی رپورٹنگ کے دوران ’افغانستان کے قومی مفاد کا خیال رکھیں۔‘
طالبان کے کلچرل کمیشن برائے ملٹی میڈیا کے سربراہ اسد افغان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں صحافیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ’چند پیسوں کی خاطر اپنی اہم ذمہ داری کو ملک اور قوم کے خلاف استعمال نہ کریں اور ذمہ داری کے ساتھ افغان عوام کی مشکلات پر کام کریں اور ان کی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچائے۔‘
واضح رہے کہ بیشتر شہروں پر طالبان کے قبضوں کے بعد افغانستان کے صحافیوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اُنھیں آزادی سے کام نہیں کرنے دیا جائے گا اور اسی وجہ سے کئی صحافی ملک چھوڑنے کی تگ و دو میں ہیں۔
عالمی برادری کا افغانستان میں سیز فائر کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں امن کی بحالی کے حوالے سے دوحہ میں ایک اجلاس کے موقع پر ملک کے قومی مصالحتی کمیشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ملک کی صورتحال پر فوری اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔
افغانستان میں غیر ملکی شہریوں اور سفارتی عملے کی باحفاظت واپسی کے لیے امریکہ اور برطانیہ کے بعد اب کینیڈا نے بھی خصوصی فوجی دستے تعینات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
افغان سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے لوگوں کا دفاع کریں گے۔ افغان نائب صدر امراللہ صالح نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں لوگوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔
امریکہ، برطانیہ، ازبکستان، چین اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے دوحہ میں افغان امن عمل پر اجلاس کے موقع پر ایک مشترکہ قراردار منظور کی جس میں سیاسی مفاہمت اور سیز فائر کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عالمی برادری نے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں کسی ایسی حکومت کو منظور نہیں کریں گے جو طاقت کے زور پر آئی ہو۔
اسلامی نظریاتی کونسل (او آئی سی) نے بھی افغانستان میں پُرتشدد واقعات میں کمی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک بیان میں او آئی سی نے کہا کہ اسے افغانستان کی صورتحال پر کافی تشویش ہے اور یہ کہ تمام فریقین کو تشدد میں کمی اور سیز فائر پر اتفاق کرنا چاہیے۔
تصاویر: افغانستان میں طالبان کی کامیابیوں پر کوئٹہ کے کچھ سیاسی رہنما ’مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور افغان فوج کے ساتھ ان کی لڑائی پر پاکستان میں بھی مختلف حلقوں نے نظر رکھی ہوئی ہے۔ سرکاری سطح پر تو پاکستانی حکام افغانستان میں کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کرتے بلکہ مذاکرات کے ذریعے امن کی بات کرتے ہیں۔ مگر ملک میں کچھ حلقے اب بھی طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔
پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعے کو مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے رہنماؤں کی ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں وہ افغانستان میں طالبان کی کامیابیوں پر مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
افغان طالبان نے ملک کے بڑے شہروں قندھار اور ہلمند پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ انھیں ان اہم شہروں کا مکمل کنٹرول حاصل ہوچکا ہے تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یورپین پریس فوٹو ایجنسی نے ان تصاویر کے حوالے سے بتایا ہے کہ جماعت جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے رہنما افغانستان میں ’طالبان کی فتوحات‘ پر کافی خوش ہیں اور ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلا رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق جمعے کو جے یو آئی نظریاتی کے رہنما اور کارکنان کوئٹہ میں پارٹی کے دفتر میں جمع ہوئے جن میں مولانا عبدالستار لونی اور سید عبدالستار چشتی کے علاوہ دیگر رہنما شامل تھے۔
اس سلسلے میں سنیچر کو نواں کلی کے علاقے میں جے یو آئی کے رہنماﺅں کا ایک اجتماع ہوا جس میں افغان طالبان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔
جے یو آئی نظریاتی کے رہنما ابتدا سے افغان طالبان کے حامی رہے ہیں۔ وہ پہلے جے یو آئی (فضل الرحمان گروپ) کا حصہ تھے۔ مگر جب افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جے یو آئی کی افغان طالبان کی حمایت میں سرد مہری آئی تو بلوچستان میں جماعت کے بعض رہنماؤں نے جے یو آئی نظریاتی کے نام سے ایک الگ دھڑا قائم کیا۔
مرکزی جماعت سے علحیدگی کے بعد انھوں نے اپنی جماعت کو پاکستان بھر میں منظم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
جے یو آئی نظریاتی 2008 سے عام انتخابات میں بھی حصہ لے رہی ہے تاہم 2008 کے عام انتخابات کے سوا اسے دیگر انتخابات میں کامیابی نہیں ملی۔ اسے بلوچستان سے 2008 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی ایک، ایک نشست پر کامیابی ملی تھی۔
افغان طالبان کابل سے کتنے دور ہیں؟
طالبان جنگجو اب افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مزید قریب آچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے ملک کے مرکزی حصے اور کابل کے جنوب مغرب میں واقع میدان وردگ صوبے کے شہر میدان شار پر حملہ کر دیا ہے۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق میدان شار میں طالبان جنگجوؤں اور افغان فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ کابل سے محض 40 کلو میٹر دور یہ شہر اس صوبے کا دارالحکومت ہے جسے ’گیٹ وے ٹو کابل‘ بھی کہا جاتا ہے۔
طالبان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے دو دوسرے صوبوں میں کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
مسلح جنگجو اب تک ملک کے 34 صوبائی دارالحکومتوں میں سے نصف پر قابض ہوچکے ہیں۔
جہاں ایک طرف پورے ملک سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کابل کا رُخ کر رہی ہے وہیں امریکی فوج کے تین ہزار جوان بھی اپنے شہریوں کی باحفاظت واپسی کے لیے یہاں پہنچ چکے ہیں۔
پنٹاگون کے ترجمان نے طالبان کی اس پیش قدمی کو ’کافی پریشان کن‘ قرار دیا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ ’کابل اس وقت خطرے کے ماحول میں نہیں ہے۔‘
ملک کے دوسرے اور تیسرے سب سے بڑے شہروں پر طالبان اپنے قبضے کا دعویٰ کر چکے ہیں جس کی تاحال سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق لوگر صوبے کے دارالحکومت پل عالم پر قبضے کے دعوے کے بعد طالبان کی پیش قدمی کابل کے مزید قریب آچکی ہے۔ مسلح جنگجوؤں نے کابل سے صرف 50 کلو میٹر دور اپنے کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔
افغانستان سے اہم اطلاعات
،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان کے جنوبی اروزگان صوبے میں چھ طالبان جنگجو حالیہ فضائی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں
اروزگان کے صوبائی دارالحکومت ترینکوٹ میں مقامی لوگوں نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر شکایت کی ہے
مشرقی ننگرھار صوبے میں بعض مذہبی رہنماؤں نے افغان فوج کی حمایت کا اعلان کیا ہے
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ طالبان کے جارحانہ رویے کے خلاف اقدامات کیے جائیں
کابل میں امریکی سفارتخانے نے طالبان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا ہے
پاکستان میں حکام نے انڈیا کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی ہے جن میں اس پر افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں امن کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں
طالبان اور افغان فوج کے درمیان لڑائی جاری
،تصویر کا ذریعہEPA
شمالی صوبوں کندز اور سرپل کے دارالحکومتوں میں طالبان جنگجوؤں اور افغان فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے
افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شمال میں جوزجان صوبے کے دارالحکومت شبرغان میں بی 52 بمبار طیاروں کی مدد سے 200 سے زیادہ طالبان جنگجوؤں کو ہدف بنایا گیا ہے
مشرقی خوست صوبے کے شہر باک میں طالبان حملے کے بعد افغان فوج نے جوابی کارروائی کی ہے
شمالی پنجشیر صوبے کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے
قندھار کے بین الاقوامی ایئر پورٹ پر حالیہ راکٹ حملوں کے بعد پروازیں معطل کی گئی ہیں
مشرقی پکتیا صوبے کے شہر سیدکرم میں ایک دھماکے میں ایک خاندان کے 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں
طالبان کا کنر صوبے کے شہروں پر قبضے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہEPA
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلح گروہ نے کنر صوبے کے شہروں شلطن اور اسمار پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ تاہم افغان حکومت نے تاحال ان قبضوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
شمال مشرقی صوبے کے یہ شہر اب قندھار، غزنی، ہرات اور لشکر گاہ سمیت ان بڑے شہروں میں سے ایک بن گئے ہیں جہاں طالبان نے مکمل کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اپنے ٹویٹ میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’طالبان نے (شلطن) شہر کے مرکز پر مکمل طور پر قبضہ کر لیا ہے جس میں پولیس کمانڈر اور ان کے ساتھی شامل ہیں۔۔۔ (اسمار میں) پولیس ہیڈ کوارٹر، انٹیلیجنس سنٹر اور تمام سامان اب طالبان کے قبضے میں ہے۔‘
دریں اثنا طالبان نے پکتیکا صوبے کے مرکزی شہر شرنه کے باہر دفاعی حدود عبور کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ پکتیکا کے شہروں یوسف خیل اور جانی خیل کے مراکز پر بھی کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاہم افغان حکومت نے تاحال ان قبضوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔
امریکی سفارتخانے کے عملے کو حساس مواد جلانے کا حکم
،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں امریکی سفارتخانے نے اپنے عملے سے کہا ہے کہ دستاویزات، سامان اور پرچم سمیت تمام حساس مواد کو ختم کیا جائے۔
یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں آئی ہیں کہ جب امریکہ نے افغانستان میں انخلا کے بعد دوبارہ تین ہزار فوجی تعینات کیے ہیں تاکہ اس کے شہریوں کی باحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جاسکے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں امریکی سفارتخانے کے عملے سے کہا گیا ہے کہ حساس مواد کو جلایا یا شریڈ کر دیا جائے تاکہ اسے پروپیگنڈا کے طور پر استعمال نہ کیا جاسکے۔
خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور افغان فوج سے جاری لڑائی کے دوران جمعے کو برطانیہ، جرمنی، ڈنمارک اور سپین سمیت دیگر یورپی ممالک نے اپنے سفارتی عملہ کی وطن واپسی کا اعلان کیا تھا۔
کینیڈا کا 20 ہزار افغانوں کو پناہ دینے کا اعلان، روانگی شروع
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنمارکو مینڈیسینو کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ (فائل فوٹو)
کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 20 ہزار افغان مہاجرین کو اپنے پاس پناہ دے گا جن میں طالبان سے خطرے کی شکار خواتین رہنما، حکومتی اہلکا اور دیگر افراد شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیرِ امیگریشن مارکو مینڈیسینو نے بتایا کہ ’افغانستان میں صورتحال دل شکستگی کا باعث ہے اور کینیڈا اس صورتحال میں تماشا نہیں دیکھے گا۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ کئی طیارے پہلے ہی پناہ کے متلاشی افراد کو لے کر کینیڈا کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور پہلا طیارہ جمعے کو لینڈ کر رہا ہے۔
سپین نے افغانستان سے سفارتی عملے، شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا
سپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ کابل میں اپنے سفارت خانے کے اہلکاروں اور اُن کے افغان ملازمین سمیت افغانستان میں باقی بچے اپنے کچھ شہریوں کو نکالنے کے مشن کا آغاز کر رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے وزیرِ خارجہ ہوزے مینوئل البریس نے کہا کہ ’سفارتی عملے، افغانستان میں رہنے والے ہسپانویوں، اور ہمارے ساتھ کام کرنے والے افغانوں اور اُن کے اہلِ خانہ کو نکالنا شروع‘ ہو چکا ہے۔
وزارت کے مطابق سفارت خانے کے عملے کے علاوہ افغانستان میں چھ ہسپانوی شہری موجود ہیں۔
ہسپانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق سنہ 2014 سے اب تک سپین 55 افغان مترجمین اور اُن کے رشتے داروں کو پناہ فراہم کر چکا ہے جبکہ وہ ہسپانوی فورسز کے لیے کام کرنے والے افغان مترجمین اور دیگر افراد کی پناہ کے درخواستوں کو بھی پراسیس کریں گے۔
بریکنگ, اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا ہے ’افغانستان ہاتھ سے نکل رہا ہے‘
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گیوٹرز نے جمعے کو طالبان کی پیش قدمی کو فوری ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’افغانستان قابو سے باہر نکل رہا ہے۔‘
انھوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ ’عالمی برادری کی جانب سے ان کے لیے جو جنگ کے رستے پر پیں پیغام ہے کہ عسکری قوت سے اقتدار حاصل کرنا فتح نہیں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ صرف ایک طویل خانہ جنگی کو جنم دے سکتی ہے یا افغانستان کو مکمل تنہائی میں دھکیل سکتی ہے۔‘
طالبان کے خوف سے گھربار چھوڑنے والوں کو کابل میں پناہ کی تلاش
افغانستان میں تشدد میں حالیہ اضافے اور طالبان کی جانب سے شمالی افغانستان میں متعدد علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ہزاروں افراد نے وہاں سے جان بچا کر دارالحکومت کابل کا رُخ کیا ہے۔
دارالحکومت میں آنے والے ان پناہ گزینوں میں سے بیشتر رات خالی عمارتوں میں یا فٹ پاتھوں پر گزارتے ہیں۔
قندوز کے رہائشی اسد اللہ ایک پھیری والے تھے جو رواں ہفتے اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ کابل پہنچے جب طالبان نے ان کا گھر نذرِ آتش کر دیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں سڑکوں پر گھوم کر کھانے پینے کی چیزیں اور مصالحے بیچتا تھا۔ جب طالبان نے حملہ کیا تو ہم کابل آ گئے۔ اب ہمارے پاس نہ تو روٹی خریدنے کو پیسے ہیں اور نہ دوائی۔‘
’طالبان کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی عمارتوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے‘
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اب سے کچھ دیر قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ’طالبان کا کہنا ہے کہ وہ سفارتی عمارتوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔‘
امریکی ٹی وی چینل ایم ایس این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ طالبان کابل میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ نہیں بنائے گے؟
پرائس کا سوال کا جواب نہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’طالبان نے خود کہا تھا کہ ان کا سفارتی عمارتوں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یقیناً یہ بین الاقوامی قوانین میں درج ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ لیکن جو طالبان کہتے ہیں ہم اس پر اعتبار نہیں کر سکتے، لیکن ہم اپنے معلومات کے تمام ذرائع سے یہ بتا سکتے ہیں کہ وہ کچھ منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اسی لیے ہم نے کچھ اہم اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ ہم اپنے شہریوں کو بحفاظت وہاں سے نکال سکیں۔‘
’اقوام متحدہ ہر گھنٹے سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں سکیورٹی صورتحال کا ہر گھنٹے کی بنیاد پر جائزہ لے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ترجمان سٹیفنے دجارک نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ملک میں اقوام متحدہ کے تقریباً تین ہزار افغان عملے اور تین سو غیر ملکی عملے کی طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں ’بہت کم موجودگی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کابل اور دیگر علاقوں میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کا ہر گھنٹے کی بنیاد پر جائزہ لے رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے عملے کا انخلا جاری نہیں ہے اور اقوام متحدہ کے پاس ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے متبادل پلان تیار ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس وقت ہم کابل میں ہی رہیں گے۔‘
’طالبان کے شہر میں داخل ہوتے ہی میں نے گھر سے قومی پرچم اُتار دیا، کتابیں اور ٹی وی چھپا دیے‘, خدائے نور ناصر بی بی سی ، اسلام آباد
’رات بھر جاری شدید لڑائی کے بعد جب علی الصبح یہ اطلاع ملی کہ غزنی شہر پر طالبان کو قبضہ ہو چکا ہے تو میں نے فی الفور اپنے گھر کی چھت سے ڈش انٹینا اُتارا اور اس کے بعد گھر میں موجود بڑا ٹی وی سیٹ، کتابیں اور لیپ ٹاپ چھپا دیے۔‘
غزنی کے شہری صلاح الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گذشتہ 24 گھنٹوں میں شہر میں پیش آنے والے واقعات پر بی بی سی سے بات کی ہے۔
افغان حکومت اور فوج کی کمزوریاں جو طالبان کی پے در پے فتوحات کی وجہ بن رہی ہیں
،تصویر کا ذریعہEPA
طالبان جس برق رفتاری سے افغانستان میں پیش قدمی کر رہے ہیں اس سے بظاہر کئی لوگ حیرت کے شکار ہو گئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت ایک کے بعد ایک حکومت کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل رہے ہیں اور طالبان کے کنٹرول میں جا رہے ہیں۔
اس وقت طالبان جنگجو مکمل طور پر طاقتور نظر آ رہے ہیں اور افغان حکومت کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
رواں ہفتے امریکی انٹیلیجنس کی لیک ہونے والی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ کابل آئندہ چند ہفتوں میں جنگجوؤں کے حملے کا نشانہ بن سکتا ہے اور کابل حکومت 90 دن کے اندر گِر سکتی ہے۔
نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ افغان حکومت کی ہر ممکنہ مدد کرے گا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینس سٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ ’ہمارا مقصد افغان حکومت اور افواج کی ہر ممکنہ مدد کرنا ہے۔ اور سکیورٹی اہلکار سب سے اہم ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نیٹو افغانستان میں اپنی سفارتی موجودگی برقرار رکھے گا اور حالات اور ضرورت کے تحت اس میں تبدیلی لاتا رہے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ 30 یورپی اور شمالی امریکی ممالک کے درمیان ایک طاقتور سیاسی اور عسکری اتحاد نیٹو کو طالبان کی جارحیت کے نتیجے میں پونے والے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی خبروں کے بارے میں تشویش ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ طالبان کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر انھوں نے طاقت کے زور سے ملک پر قبضہ حاصل کیا تو بین الاقوامی برادری ان کو تسلیم نہیں کرے گی۔ ہم افغان تنازعے کے سیاسی حل کے لیے مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ناروے اور فن لینڈ کا بھی افغانستان سے اپنے شہری نکالنے کا فیصلہ
طالبان کے افغانستان پر بڑھتے قبضے کے پیش نظر متعدد یورپی ممالک نے کابل میں اپنے سفارتخانے بند کر دیے ہیں اور وہاں سے اپنے شہریوں کو نکال رہے ہیں۔
اسی ضمن میں ناروے نے بھی کابل میں اپنے سفارتخانے کو عارضی طور پر بند کرنے اور اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔
ناروے کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے اپنے سفارتکاروں کو، مقامی طور پر کام کرنے والے افراد اور ان کے اہلخانہ کو نکالے گا۔
فن لینڈ کے وزیر کے مطابق وہ بھی افغانستان میں موجود اپنے عملے کے 130 ارکان کو نکال رہے ہیں۔
جبکہ فرانس نے بھی اپنے شہریوں سے افغانستان کو جلد از جلد چھوڑنے کا کہا ہے۔
طالبان افغانستان کے کن کن علاقوں پر قابض ہو چکے ہیں اور کہاں لڑائی جاری ہے؟
افغانستان میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے طالبان جنگجوؤں نے گذشتہ دو ماہ میں جتنے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اتنا وہ سنہ 2001 میں اقتدار سے علیحدہ کیے جانے کے بعد سے کبھی نہیں کر سکے تھے۔
گذشتہ 20 برس میں افغانستان کے کن علاقوں پر کس کا قبضہ ہے اس کا نقشہ مستقل تبدیل ہوتا رہا ہے۔ ذیل میں بی بی سی نے حالیہ لڑائی کے بعد تیزی سے بدلتے نقشے پر نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
امریکی فوجیوں کی انخلا میں مدد کے لیے افغانستان پہنچنے کی اطلاعات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان کی بڑھتی پیش قدمی کے پیش نظر کابل میں پھنسے امریکی سفارتی عملے کے بحفاظت انخلا کے لیے بھیجے جانے والے تین ہزار امریکی فوجیوں میں سے بیشتر کی کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
افغانستان کے محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کے امریکی پارٹنر ادارے سی بی ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ باقی فوجیوں کا اگلے 24 گھنٹوں میں پہنچنا متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان متوقع 30 دنوں سے قبل قبضہ حاصل کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف طالبان نے ملک کے 14 صوبوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
طالبان قندھار پر قبضہ کے بعد صوبہ لوگر میں داخل
طالبان نے افغانستان میں جاری اپنی پیش قدمی کے دوران ملک کے دوسرے بڑے شہر قندھار پر قبضہ کر لیا ہے۔
حالیہ لڑائی میں قندھار پر قبضہ مسلح جنگجوؤں کی بڑی فتح اور افغان حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔