صدر بائیڈن نے اس معاہدے کو توڑا جو امریکی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا تھا: مائیک پینس

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان: افغانستان نے غلامی کی زنجیریں توڑ دیں

    افغانستان کے حوالے سے اپنے پہلے بیان میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’افغانستان میں انھوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔‘

    پیر کو اسلام آباد میں یکساں قومی نصاب کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’اصلی غلامی سے زیادہ بری ذہنی غلامی ہے اور اس کی زنجیریں توڑنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔‘

    نصاب میں انگریزی زبان کے استعمال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی بچہ انگریزی تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ ان کی پوری ثقافت اپنا لیتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں (لوگوں) نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں‘ اور زور دیا کہ ’غلام ذہن کبھی بھی بڑے کام نہیں کر سکتا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی سمجھوتہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے: پاکستان

    پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کی پوزیشن واضح ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی سمجھوتہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان میں خانہ جنگی کا سلسلہ جاری رہے اور وہ چاہتا ہے کہ افغان عوام صرف بقا کی جنگ ہی نہ لڑتے رہیں بلکہ وہ انھیں خوشحال اور آگے بڑھتا دیکھنا چاہتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. طالبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغان عوام کو تحفظ کا یقین دلائیں: ملا برادر

    ملا برادر

    ،تصویر کا ذریعہTwitter

    افغان طالبان کے ڈپٹی لیڈر ملا عبدالغنی برادر نے ایک ویڈیو پیغام میں یقین دلایا ہے کہ وہ افغان عوام کو تحفظ اور ایک بہتر زندگی دینے کے لیے کام کریں گے۔

    طالبان کے سیاسی ونگ کے سربراہ نے اپنے پیغام میں افغان قوم اور اپنے ’مجاہدین‘ کو اس ’فتح‘ پر مبارکباد بھی دی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب یہ طالبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کی خدمت کریں اور اسے یقین دلائیں کہ وہ افغان عوام کو مستقبل میں ایک محفوظ اور خوشحال زندگی دیں گے۔ ملا برادر فی الوقت قطر کے دارالحکومت دوہا میں موجود ہیں۔

    ملا برادر کے علاوہ ان کے نائب ملا عبدالسلام حنفی نے بھی افغان قوم کو یقین دلایا ہے کہ عوام کے حقوق غصب نہیں کیے جائیں گے۔

  4. کابل: پی آئی اے کی پروازیں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے ایک بیان کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر سیکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث پی آئی اے کی کابل آنے جانے والی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔

    بیان کے مطابق یہ فیصلہ کابل ائیرپورٹ پر سیکیورٹی اور ائیرپورٹ سٹاف کے نہ ہونے اور لوگوں کے رن وے پر ہجوم کی صورت میں آنے کے باعث کیا گیا۔

    پی آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ وزارت خارجہ اور افغان سول ایوی ایشن سے مشاورت کے بعد اور مسافروں، عملے اور اثاثوں کی حفاظت کی خاطر کیا گیا۔

  5. روئٹرز: کابل ہوائی اڈے پر پانچ ہلاکتیں

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ کابل ایئر پورٹ پر ملک چھوڑ کر جانے والوں کا ایک ہجوم جمع تھا جو اتوار کو ہوائی اڈے کی رن وے پر بھی چڑھ دوڑا۔

    ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے امریکی فوجیوں نے ہوائی فائرنگ کی تھی تاہم عینی شاہدین کے مطابق پانچ افراد کی لاشیں ایک گاڑی میں ڈالی گئی ہیں۔

    موقع پر موجود ایک اور شخص کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ہلاکتیں امریکی فوجیوں کی فائرنگ سے ہوئیں یا کسی اور وجہ سے۔

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی کی جانب سے نشر کی جانے والی ایک ویڈیو میں ہوائی اڈے کے گیٹ کے قریب چند افراد کو زمین پر گرے دیکھا جا سکتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. طالبان کتنےدولت مند ہیں؟

    taliban

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے سنہ 1996 سے 2001 تک افغانستان پر حکومت کی اور وہاں شریعہ قانون کو سختی کے ساتھ نافذ کیا۔ اقتدار سے ہٹنے کے بعد سے وہ طویل عرصے سے ملک بھر میں بغاوت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ان کی فنڈنگ کے ذرائع کے بارے میں ویسے تو صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کیونکہ خفیہ طور پر کام کرنے والی عسکری تنظیمیں اپنی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات واضح نہیں کرتیں۔ تاہم افغانستان کے اندر اور ملک سے باہر بی بی سی نے جو انٹرویوز کیے ان سے ان کے پیچیدہ مالی نیٹ ورک اور ٹیکس کے نظام کا اندازہ ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی بغاوت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    سنہ 2020 میں سکیورٹی کونسل کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق اس کے رکن اور دیگر ممالک کی جانب سے لگائے گئے اندازوں کے مطابق طالبان کی مجموعی سالانہ آمدن 30 کروڑ ڈالر سے 1.5 ارب ڈالر تک ہے۔

    طالبان کے مالی وسائل پر تفصیلی مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

  7. ’ایران افغانستان میں مصالحت کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد، جنگ اور قبضہ افغانستان کے مسائل کا حل کبھی نہیں تھا اور نہ کبھی ہوگا۔‘

    انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ’رابطہ کونسل کے ساتھیوں اور دیگر افغان رہنماؤں کا اقدام مذاکرات اور دیرپا امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران افغانستان میں مصالحت کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  8. بریکنگ, کابل کا ہوائی اڈہ بند کر دیا گیا

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    ہوائی اڈے پر افراتفری کے بعد کابل کے ایئر پورٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی کی یلدا حکیم کے مطابق ہوائی اڈے کی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ہوائی اڈہ اب عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایئر پورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں نے عوام کے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی اور اطلاعات کے مطابق اس کے بعد ایئر پورٹ پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی کی جانب سے نشر کی جانے والی ایک ویڈیو میں ہوائی اڈے کے گیٹ کے قریب تین افراد کو زمین پر گرے دیکھا جا سکتا ہے۔

  9. کابل کا علاقہ وزیر اکبر خان: چیک پوسٹیں خالی، سڑکیں سنسان

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    کابل کا علاقہ وزیر اکبر خان، جہاں کبھی سفارتکاروں اور بین الاقوامی مشنز کی سکیورٹی پر مامور اہلکار ہر کونے پر نظر آتے تھے، آج سنسان پڑا ہے۔

    سخت سکیورٹی والے اس علاقے میں اب چیدہ چیدہ چیک پوانٹس پر کچھ محافظ موجود ہیں۔

    جہاں کبھی بھاری بھاری رکاوٹیں ہوتی تھیں وہاں آج گاڑیوں میں آنے والے شہری خود ہی گیٹ کھول کر آ جا رہے ہیں۔

    گل محمد حکیم کابل میں نان بائی کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کی سڑکوں پر چھائی خاموشی عجیب لگ رہی ہے۔

    ’کوئی گہما گہمی نہیں ہے، یہاں کبھی سفارتکاروں کے قافلے اور بھاری اسلحے سے لیس گاڑیاں گزرتی تھیں لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ چیک پوانٹس پر تعینات گارڈ، جن سے ان کی دوستی تھی، اب چلے گئے ہیں۔

    گل محمد کا تندور فی الحال خالی پڑا ہے اور انھیں معلوم نہیں کہ گاہک وہاں کب واپس آئیں گے۔

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  10. بریکنگ, ’طالبان کو لوگوں کے گھروں میں بغیر اجازت داخل ہونے کی اجازت نہیں‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    افغان طالبان کے دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک تازہ بیان میں اپنے جنگجوؤں کو مطلع کیا ہے کہ کوئی بھی ’مجاہد‘ عام شہریوں کے گھروں میں بغیر اجازت داخل نہیں ہو سکتا۔

    انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی کی جان، مال یا عزت کو پامال نہیں کیا جائے گا اور ان کی حفاظت طالبان کے ’مجاہدین‘ کی ذمہ داری ہے۔

  11. بریکنگ, امریکی فوجیوں کی کابل ایئر پورٹ پر ہوائی فائرنگ

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک امریکی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ کابل ایئر پورٹ پر موجود امریکی فوجیوں نے افغان شہریوں کے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی ہے۔

    اہلکار کے مطابق ’لوگوں کا ہجوم بےقابو ہو رہا تھا اور وہ رن وے پر بھاگ رہے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہوائی فائرنگ کا مقصد افراتفری پر قابو پانا تھا۔

    واضح رہے کہ طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد سے سینکڑوں افغان شہری ملک چھوڑنے کے غرض سے ائیر پورٹ پر جمع تھے۔

    اس وقت ہوائی اڈہ امریکی افواج کے کنٹرول میں ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. کابل ہوائی اڈا: ’یہ ہمارا ایئر پورٹ ہے لیکن صرف سفارت کاروں کو نکالا جا رہا ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    اس وقت افغانستان میں موجود تمام امریکی اہلکار کابل ایئر پورٹ میں موجود ہیں جو کہ اس وقت افغانستان کے دارالحکومت میں واحد جگہ ہے جہاں امریکی فوجی پہرا دے رہے ہیں۔

    ان کے علاوہ کئی سو افغان شہری بھی ائیر پورٹ پر موجود ہیں۔ اتوار کو جب امریکہ نے ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالا تھا تو کابل سے نکلنے والی آخری پروازوں میں لوگوں کا ایک ہجوم موجود تھا۔

    اس وقت ائیر پورٹ مسافر طیاروں کے لیے بند ہے اور صرف امریکی اہلکاروں کی فوجی طیاروں کے ذریعے روانگی ہو رہی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    ایئر پورٹ پر موجود ایک افغان خاتون نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ پاکستان پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    خاتون انسانی حقوق کی کارکن ہیں اور ان کے مطابق ان کی جان کو خطرہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا: ’امریکی ہوائی اڈے پر قبضہ کر کے ہم پر حکم کیسے چلا سکتے ہیں؟ یہ ہمارا ائیر پورٹ ہے لیکن یہاں سے صرف سفارت کاروں کو نکالا جا رہا ہے جبکہ ہم غیر یقینی کے عالم میں ہیں۔‘

    کابل کے ہسپتالوں میں بھی رش لگا ہوا ہے۔ فلاحی تنظیم ایمرجنسی کے مطابق ان کے ہسپتال میں 80 کے قریب زخمیوں کو لایا گیا ہے لیکن وہاں اب مزید مریضوں کی جگہ نہیں رہی۔

  13. یوکرین کی جانب سے امریکہ کی انخلا کی حکمت عملی پر ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید

    یوکرین کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے جس میں افغانستان سے انخلا کی امریکی حکمت عملی کو آڑے ہاتھ لیا گیا ہے۔

    اس بیان میں یوکرین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے شہری بلکہ دیگر ممالک کے شہریوں کو بھی افغانستان سے باہر جانے میں مدد کریں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    یوکرین کے وزیر خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ افغانستان میں موجود یوکرین کے طیارے نے نہ صرف یوکرین بلکہ نیدرلینڈز، کروشیا اور بیلاروس کے شہریوں کو کابل سے باہر لے جانے میں مدد کی۔

    ’وہ اب محفوظ ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑتے اور دوسروں کی بھی مدد کرتے ہیں۔ اگر کوئی بھی درخواست کرے، تو ہم اپنی ہر ممکن کوشش کریں گے کہ یوکرینین اور دیگر افراد کی مدد کریں۔

  14. تمام عملے کو کابل ائیرپورٹ پہنچا دیا گیا ہے: امریکہ

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والا تمام عملہ کابل کے ائیرپورٹ میں موجود ہے۔

    امریکی حکمت عملی کے تحت وہ ٹکڑیوں میں اپنے عملے کو ملک سے باہر لے جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ نے چھ ہزار فوجی بھی کابل بھیجے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی فوجی ائیرپورٹ کی حدود کی نگرانی کر رہے ہیں۔

  15. کابل ائیرپورٹ پر عوام کا رش

    افغان صحافی جواد سخن یار نے 16 اگست کی صبح کابل ائیرپورٹ کے باہر کے مناظر فلم بند کیے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ائیرپورٹ داخل ہو رہی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. افغانستان میں ہونے والے واقعات پر بائیڈن استعفی دیں: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    trump

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    گذشتہ برس نومبر میں جو بائیڈن نے امریکی صدارتی انتخاب میں جس حریف کو واضح شکست دی تھی، اس حریف کو افغانستان میں رونما ہونے والے واقعات کے بعد موقع ملا ہے کہ وہ ان پر تنقید کی بوچھاڑ کر سکیں۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر بائیڈن افغانستان میں ہونے والے واقعات پر استعفی دیں۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ اگر وہ اس وقت بھی صدر ہوتے تو امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا ’کہیں مختلف اور کہیں زیادہ کامیاب ہوتا۔‘

    سابق صدر کے مطالبے پر صدر بائیڈن کی ٹیم نے جواب میں کہا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان فروری 2020 میں طے کیا گیا معاہدے صدر ٹرمپ کے دور میں کیا گیا تھا۔

    biden

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی شمالی امریکہ کے مدیر جان سوپیل نے اس بارے میں لکھا کہ ’اس معاہدے کو تیار ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا لیکن اس تمام افراتفری کی ذمہ دار جو بائیڈن پر لاگو ہوتی ہے۔‘

    طالبان نے جس سرعت سے افغانستان پر قبضہ کیا ہے اس کے بعد سے صدر بائیڈن پر ہر جگہ سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کی اپنی انتظامیہ کہ اہم رکن خود اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ افغانستان کا طالبان کے ہاتھ میں جانے امریکہ کی توقع کے برخلاف کہیں زیادہ تیزی سے ہوا۔

  17. افغان فوج کی ناکامی ہماری توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے ہوئی: امریکہ

    US

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن نے تسلیم کیا ہے کہ جس افغان فوج کو انھوں نے گذشتہ بیس برس سے تربیت دی ے اور انھیں اسلحے سے لیس کیا، امریکہ ان کی طاقت اور صلاحیتوں کا درست اندازہ نہیں لگا سکا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا کہ ’ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ افغان فوج اپنے ملک کا دفاع نہیں کر سکی اور اس ناکامی کی رفتار ہماری توقع سے کہیں زیادہ تیز تھی۔‘

    امریکی صدر جو بائیڈن صرف گذشتہ ہفتے بھی تین لاکھ فوجیوں پر مبنی افغان فوج پر اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔دوسری جانب طالبان جنگجوؤں کی تعداد کا اندازہ ہے کہ وہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان ہیں۔

    تاہم امریکی افواج کی جانب سے زمینی حمایت نہ ملنے پر حکومتی افواج نے فوراً ہتھیار ڈال دیے اور فوجی اہلاکاروں نے اپنی اپنی چوکیاں چھوڑ دیں اور کچھ واقعات میں تو فوجی بالکل بھاگ گئے۔

    طالبان نے پہلا صوبائی دارالحکومت صوبہ نمروز کے شہر زرنج قابو کیا اور اگلے دس دن میں وہ پورے ملک پر حاوی ہو گئے اور اتوار کو کابل داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

  18. کابل فضائی اڈے پر جاری افراتفری: تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کابل کے فضائی اڈے پر ابھی بھی مکمل طور پر افراتفری کا سماں ہے جہاں ہزاروں افراد موجود ہیں تاکہ وہ ملک سے کوئی بھی پرواز پر بیٹھ کر کسی بھی طرح روانہ ہو سکیں۔

    اتوار کی شام سے ائیرپورٹ پر لوگ جمع ہو رہے ہیں تاکہ وہ طالبان سے بچ سکیں۔ پہلے پہلے اطلاعات تھیں کہ ائیرپورٹ کے رن وے پر متعدد مسافر رش کے باعث زخمی ہو گئے تھے۔

    امریکی فوج کے چھ ہزار اہلکار کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اب پورے ائیرپورٹ کو اپنی حفاظت میں لے لیں۔

    امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور محکمہ دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں تاکہ فضائی اڈے کو مکمل طور پر محفوظ بنا سکیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ امریکی اور اتحادی عملہ محفوظ طریقے سے پروازوں پر روانہ ہو سکے۔

  19. افغانستان میں اب تک کی صورتحال کیا ہے؟

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اس وقت افغانستان میں صبح کے چار بج رہے ہیں اور جب کل صبح افغان عوام بیدار ہوں گے تو ان کو ممکنہ طور پر ایک نیا ملک ملے گا۔

    ہم آپ کو گذشتہ روز ہونے والے اہم ترین واقعات سے آگاہ کرتے چلیں:

    یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ طالبان نے اب ملک پر پوری طرح قبضہ کر لیا ہے اور ان کی اس پیشقدمی میں انھیں بمشکل کہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ چھ اگست کو وہ کابل شہر میں داخل ہو گئے اور صدارتی محل تک رسائی حاصل کر لی۔

    ملک کے صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ازبکستان میں پناہ لے رہے ہیں۔

    افغان طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ان کی تنظیم ’پر امن منتقلی اقتدار‘ چاہتی ہے اور ان کا مزید کہنا تھا کہ کابل کے عوام ’محفوظ‘ ہیں۔

    Kabul

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لیکن طالبان کی شہر آمد کے بعد کابل کے فضائی اڈے پر بے یقینی اور پریشانی کا عالم تھا جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی افراد، افغان حکام اور دیگر روانہ ہونے کے خواہشمند تھے لیکن تمام کمرشل پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔

    کئی مغربی ممالک جیسے امریکہ، جرمنی، برطانیہ وغیرہ نے فوجی جہاز روانہ کیے تاکہ وہ اپنے شہریوں کو افغانستان سے باہر نکال سکیں۔

    افغانستان میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے کہ طالبان کی فتح کے بعد وہ ملک میں خواتین کے مستقبل کے لیے انتہائی پریشان ہیں۔

  20. بریکنگ, افغانستان کی صورتحال، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس پیر کو طلب

    UN

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اتوار کو طالبان کی پیشقدمی اور کابل میں داخلے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا پیر کے روز ہنگامی اجلاس منعقد ہوگا۔

    اس اجلاس کو منعقد کرنے کے لیے یورپی ممالک ایسٹونیا اور ناروے نے درخواست دی تھی جو کہ 16 اگست کو پاکستان وقت کے مطابق شام سات بجے شروع ہوگا۔

    سلامتی کونسل سے منسلک سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتیریز کونسل کے ممبران سے مختصر خطاب کریں گے اور انھیں افغانستان کی صورتحال سے آگاہ کریں گے۔

    واضح رہے کہ جمعے کو انھوں نے طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنی جارحیت کو روکیں اور ’نیک نیتی‘ سے امن مذاکرات کریں تاکہ ملک میں خانہ جنگی کو روکا جا سکے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان خبروں سے ’سخت پریشان‘ ہیں کہ طالبان اپنے کنٹرول والے علاقوں میں لوگوں پر سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں جس کا خاص نشانہ خواتین اور صحافی ہیں۔