صدر بائیڈن نے اس معاہدے کو توڑا جو امریکی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا تھا: مائیک پینس

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. افغانستان: امریکیوں کا نیا ویتنام؟

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنکابل میں امریکی ہیلی کاپٹر امریکی سفارت خانے کے اوپر پرواز کرتے ہوئے

    امریکہ کی جانب سے جہاں کابل سے اپنے سفارتی عملے کا انخلا جاری ہے وہیں، اس وقت اس حوالے سے بھی موازنے کیے جا رہے ہیں کہ جنگ کے اختتام پر کس طرح امریکہ نے ویتنام چھوڑا تھا۔

    یہ ایک اور ایسی جنگ تھی جہاں طویل عرصہ گزارنے کے باوجود امریکہ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کی جانب سے تیزی سے ملک چھوڑنے کے بعد کچھ ہی عرصے میں سیگن شہر پر بھی قبضہ کر لیا گیا تھا۔

    وہاں موجود کچھ ویتنامی باشندوں اور امریکیوں کو سفارت خانے کی چھت پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے واپس لے جایا گیا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے اس مرتبہ کابل سے لے جایا گیا ہے۔

  2. ضرورت پڑنے پر کابل پولیس گرفتار کرنے اور گولی مارنے کی اجازت ہے: افغان وزارت داخلہ

    kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغان وزارت داخلہ نے کابل میں پولیس کو موقع پرستوں کو گرفتار کرنے اور ضرورت پڑنے پر انھیں ’گولی مارنے‘ کی اجازت دے دی ہے۔

    بی بی سی کی پشتو سروس کے مطابق اس وقت اطلاعات کے مطابق کابل کے عوام افراتفری کے حالات میں لوٹ مار اور چوری کے بارے میں شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’طالبان گروپ کے بیان کے مطابق اگر وہ موقع پرست اور بدسلوکی کرنے والوں کو دیکھیں گے تو انھیں گرفتار کر لیا جائے گا اور اگر ضروری ہوا تو انھیں نکال دیا جائے گا۔‘

  3. طالبان ’کابل پہنچ گئے‘، سڑکوں پر افراتفری

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    افغان وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان جنگجو دارالحکومت کابل میں داخل ہوچکے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق مسلح جنگجوؤں کو کابل داخلے کے دوران بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد کیا حالات ہیں؟ دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  4. افغانستان میں طاقت کے حصول کی لڑائی اور طالبان کی ظالمانہ طرزِ حکمرانی کی حمایت

    افغانستان

    ہم جن طالبان جنگجوؤں سے ملے وہ افغانستان کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک مزارِ شریف سے صرف 30 منٹ کی مسافت پر تعینات تھے۔

    انھوں نے ہمیں جو بطور ’مالِ غنیمت‘ (جنگ میں ہاتھ آنے والا سامان) ہمیں دکھایا اُس میں ایک ہموی جیپ، دو پک اپ ٹرک اور متعدد طاقتور مشین گنز شامل تھیں۔

    سنجیدہ چہرے والے سابق مدرسہ طالبعلم اور اب مقامی ملٹری کمانڈر عین الدین مسلح مجمعے کے درمیان کھڑے ہیں۔

    بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد جنگجو تقریباً ہر گزرتے روز کے ساتھ نئے علاقے اور شہر فتح کرتے جا رہے ہیں اور خوفزدہ عوام یہ سب اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

    حالیہ ہفتوں میں ہزاروں کی تعداد میں عام افغان شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں جبکہ سینکڑوں یا تو ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

  5. کابل کی دیواروں پر موجود خواتین کی تصاویر پر سفیدی کر دی گئی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    افغان نیوز سروس طلوع نیوز کے سربراہ لطف اللہ نجفی زادہ نے ایک ٹویٹ میں تصویر شیئر کی ہے جس میں کابل کی ایک دیوار پر ایک شخص کی جانب سے خواتین کی تصاویر پر سفیدی کرتا دیکھا جا سکتا ہے۔

    طالبان کی کابل کی جانب پیش قدمی کے بعد سے شہر میں موجود نوجوان خواتین کی جانب سے مدد مانگی جا رہی ہے۔

    سنہ 2002 سے قبل جب طالبان کی افغانستان میں حکومت تھی تو ان کی جانب سے سنگساری، چوری کی صورت میں ٹانگیں کاٹنے اور 12 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو سکول جانے سے روکنا شامل تھا۔

    ایک طالبان اہلکار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس طرح کی سزاؤں کے نفاذ کا فیصلہ ’عدالتوں کی جانب سے کیا جائے گا۔‘

    اس حوالے سے اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ طالبان کی جانب سے جن شہروں پر حال ہی میں قبضہ کیا گیا ہے وہاں خواتین کو بغیر کسی مرد باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ان کی نوکریاں مردوں کے سپرد کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان علاقوں میں خواتین کو برقعہ پہننے کا بھی کہا گیا ہے۔

  6. کابل کے ہوائی اڈے پر پھنسے پی آئی اے کے طیارے کو پرواز کی اجازت مل گئی

    پاکستانی ذرائع ابلاغ نے ملک کی قومی فضائی کمپنی کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ کابل کے ہوائی اڈے پر پھنسی دونوں پاکستانی پروازوں کو پرواز کی اجازت ملتے ہی روانہ کر دیا جائے گا۔

    کابل کے ہوائی اڈے پر پی آئی اے کے دو طیارے موجود ہیں جن پر 499 مسافر موجود ہیں۔ ان میں سے ایئربس 329 پر 170 جبکہ بوئنگ 777 پر 329 مسافر ہیں۔

    ترجمان کے مطابق کابل کا ہوائی اڈہ ممکنہ طور پر امریکا کے چار سی ون تھرٹی طیاروں کی کی لینڈنگ کی وجہ سے بند کیا گیا جو اب اتر چکے ہیں اور ہوائی اڈہ کھلتے ہی پاکستانی طیارے بھی پرواز کریں گے۔

    کابل ایئرپورٹ پر دو امریکی ہیلی کاپٹروں نے محاصرہ کیا ہوا تھا جس کے باعث کابل ایئرپورٹ کو اچانک بند کردیا گیا اور پی آئی اے کے دو طیاروں کو پرواز کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

  7. طالبان افغانستان کے کن کن علاقوں پر قابض ہو چکے ہیں اور کہاں لڑائی جاری ہے؟

    افغانستان کا نقشہ

    افغانستان میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے طالبان جنگجوؤں نے گذشتہ دو ماہ میں جتنے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اتنا وہ سنہ 2001 میں اقتدار سے علیحدہ کیے جانے کے بعد سے کبھی نہیں کر سکے تھے۔

    گذشتہ 20 برس میں افغانستان کے کن علاقوں پر کس کا قبضہ ہے اس کا نقشہ مستقل تبدیل ہوتا رہا ہے۔ ذیل میں بی بی سی نے حالیہ لڑائی کے بعد تیزی سے بدلتے نقشے پر نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

  8. روس: کابل میں روسی سفارتخانہ خالی نہیں کیا جائے گا ، طالبان نے سیکیورٹی کی ضمانت دی ہے

    روس نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

    روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ روس کا کابل میں اپنا سفارت خانہ خالی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔کیونکہ طالبان نے روس اور کئی دوسرے ممالک کو سکیورٹی کی ضمانت دی ہے۔

    دریں اثنا ، دنیا کے کیتھولک رہنما پوپ فرانسس نے افغانستان میں مسلح تصادم کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت ہی اس بات کو یقینی بنانے کا واحد طریقہ ہے کہ لوگ امن ، سلامتی اور باہمی احترام میں رہیں۔

  9. ’لوگ گاڑیوں میں چابیاں چھوڑ کر کابل ایئرپورٹ کی جانب دوڑ رہے ہیں‘

    ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    طالبان کی پیش قدمی کی خبریں سامنے آنے کے بعد سے کابل میں موجود اکثر افراد تیزی سے دارالحکومت چھوڑ رہے ہیں۔

    اس وقت شہر کی مختلف شاہراہوں پر شدید رش ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ بینکوں میں بھی خاصا رش ہے کیونکہ اکثر افراد اپنی جمع پونجی نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔

    افغان رکنِ پارلیمان فرزانہ کوچائی جن سے ہم کچھ دیر پہلے بات کر رہے تھے، اس منظر کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں اپنے گھر میں ہوں، اور ایسے افراد کو دیکھ رہی ہوں جو فرار ہو رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں۔ گلیوں اور اپنے گھروں سے وہ بیگ اٹھائے جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے طورخم سرحد پر قبضہ کرنے کے بعد پاکستان نے طورخم سرحد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اس کے بعد اب کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہی صرف ملک سے باہر جانے کا واحد ذریعے بن جاتا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک شہری کا کہنا تھا کہ ’کچھ افراد نے اپنی گاڑیوں میں چابیاں چھوڑ کر ایئرپورٹ کی جانب بھاگنا شروع کر دیا ہے۔‘

  10. عوام سے شکایات وصول کرنے کے لیے ٹیلی فون نمبر قائم کریں: غنی کا سکیورٹی اداروں سے مطالبہ

    افغان صدر محمد اشرف غنی نے آج کابل کے سکیورٹی حکام سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

    اس کال میں غنی نے سیکورٹی ایجنسیوں، وزارت داخلہ اور دفاع کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ عوامی شکایات اور معلومات حاصل کرنے کے لیے ٹیلی فون نمبر قائم کریں اور رابطے میں رہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. طالبان نے افغانستان میں طورخم بارڈر کا کنٹرول سنبھال لیا, عزیز اللہ خان، بی بی سی، پشاور

    طورخم بارڈر (فائل فوٹو)

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنطورخم بارڈر (فائل فوٹو)

    آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کے ننگرھار پر قبضے کے بعد طورخم بارڈر بند کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم بارڈر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طالبان نے افغانستان کی جانب سرحد کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور وہ جگہ جگہ اپنا سفید پرچم لہرا رہے ہیں۔

    اس دوران بارڈر پر تعینات افغان فورسز نے زیادہ مزاحمت نہیں دکھائی تھی اور اپنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

    بارڈر پر موجود پاکستانی عہدیداران نے بتایا ہے کہ سرحد بند ہے اور وہاں تجارتی گاڑیوں کی ایک بڑی قطار دیکھی جاسکتی ہے۔ طالبان نے نقل و حرکت کے حوالے سے فی الحال پابندی عائد نہیں کی اور یہ پابندی پاکستان کی طرف سے ہے۔

    اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام نے کابل میں صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ جلد سرحد کھولنے یا نہ کھولنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔

    سرحد پر اس وقت افغان شہریوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں تازہ صورتحال کے بعد افغان پناہ گزین کی آمد کے حوالے سے حکومت نے لائحہ عمل طے نہیں کیا ہے۔ عام حالات میں افغان پناہ گزین کی پاکستان آمد کے لیے پاسپورٹ، مہاجر کارڈ اور دیگر دستاویزات درکار ہوتے ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ آیا نئے پناہ گزین کو بھی پاکستان آنے دیا جائے گا۔

    یاد رہے اس سے قبل افغان طالبان نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن بارڈر پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

  12. پاکستان سیاسی سمجھوتے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا: ترجمان دفترِ خارجہ

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا ہے کہ ’پاکستان افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان سیاسی سمجھوتے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔‘

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ تمام افغان فریق اس اندرونی سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    کابل میں پاکستان کا سفارت خانہ پاکستانیوں، افغان شہریوں اور سفارتی اور بین الاقوامی برادری کو قونصلر کے امور اور پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے تعاون اور ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ سفارتی عملے، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، بین الاقوامی تنظیموں، میڈیا اور دیگر کے لیے ویزا/آمد کے معاملات کو آسان بنانے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک خصوصی بین وزارتی سیل قائم کیا گیا ہے۔

  13. ٹائم لائن: طالبان کی برق رفتار پیش قدمی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے افغانستان میں تیزی سے پیش قدمی کے بعد کابل کے علاوہ تمام بڑے شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    آئیے ذرا پیچھے مڑ کر ان کی برق رفتار پیش قدمی پر نظر ڈالتے ہیں:

    • اپریل: امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکی فوجی مئی سے لے کر 11 ستمبر کے دورانیے میں افغانستان سے نکل جائیں گے، جس سے امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔
    • مئی: طالبان نے جنوبی صوبہ ہلمند میں افغان فوج پر ایک بڑا حملہ شروع کیا اور دوسرے صوبوں میں بھی حملہ کیا۔
    • جون: افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی کا کہنا تھا کہ طالبان نے 370 اضلاع میں سے 50 سے زیادہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان نے جنوب میں اپنے روایتی گڑھوں سے دور شمال میں حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔
    • 21 جولائی: ایک سینئر امریکی جنرل کے مطابق طالبان ملک کے تقریباً نصف اضلاع پر قابض ہیں۔
    • 6 اگست: عسکریت پسندوں نے جنوب میں زرنج پر قبضہ کیا، جو کہ ایک سال میں ان کے قبضے میں آنے والا پہلا صوبائی دارالحکومت ہے۔
    • 13 اگست: ایک دن میں طالبان نے مزید چار صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، جن میں ملک کا دوسرا شہر قندھار بھی شامل ہے۔
    • 14 اگست: طالبان نے شمالی شہر مزار شریف پر قبضہ کر لیا۔
    • 15 اگست: طالبان نے بغیر کسی لڑائی کے مشرقی شہر جلال آباد پر قبضہ کر لیا اور کابل کو گھیر لیا۔
  14. طالبان کی نفسیاتی جنگ, اتھیراجن انبراسن، بی بی سی ورلڈ سروس

    طالبان کی نفسیاتی جنگ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جب سے طالبان جنگجو کابل کے گرد و نواح میں پہنچے ہیں تب سے دارالحکومت کے شہری خوف میں مبتلا ہیں۔ سرکاری دفاتر خالی کرا لیے گئے ہیں اور دکانیں بند ہوچکی ہیں۔ حکومتی سطح پر اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    کابل کے ساتھ موجود شہروں پر قبضے کے بعد یہ واضح تھا کہ طالبان اب کابل کو ہدف بنائیں گے۔ یہ واحد بڑا شہر تھا جہاں حکومت کو کنٹرول حاصل تھا۔

    ممکنہ طور پر کئی جنگجو پہلے سے کابل داخل ہوچکے تھے یا کابل کے اندر ہی رہائش پذیر تھے۔

    فوجی حکمت عملی کے اعتبار سے ان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ کابل میں لڑائی کی صورت میں بہت زیادہ خونریزی ہوگی اور شہریوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ طالبان یہ جانتے ہیں اور وہ عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اب بدل چکے ہیں۔

    انھوں نے ہتھیار ڈالنے والے فوجیوں اور حکومتی اہلکاروں کو باحفاظت نکلنے کی اجازت دی ہے۔ افغان فوج کے خلاف ان کی نفسیاتی جنگ اب تک کامیاب رہی ہے۔ کئی صوبے تو بغیر لڑائی کے ان کے قبضے میں آگئے تھے۔

    کابل میں جہاں مغربی شہری ملک واپسی کی کوششیں کر رہے ہیں تو وہاں ممکن ہے کہ طالبان یہی کھیل کھیلیں گے۔

    طالبان پہلے ہی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا سے انھوں نے دنیا کی سپر پاور کو شکست دے دی ہے۔

    مقامی رہنماؤں کا یہ سوچنا کہ وہ امریکی اور برطانوی شہریوں کی وطن واپسی میں معاونت کر سکتے ہیں اور اس سے انھیں پروپگینڈا کی سطح پر بڑی فتح حاصل ہوگی، حیران کن نہیں۔

  15. کابل کے شہری ’پہلے کبھی اتنے پریشان نہیں ہوئے‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کابل میں بی بی سی کے ایک رپورٹر نے شہر کا حال بیان کا ہے: بہت سی دکانیں اور بازار بند ہیں اور کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ ’پہلے کبھی اتنے پریشان نہیں ہوئے۔‘

    کچھ سرکاری دفاتر بھی بند ہیں اور فوج اور پولیس اپنی اپنی جگہوں سے اپنی ڈیوٹی پوسٹس چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

    کچھ علاقوں میں گولیاں چلنے اور چھوٹے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایسی افواہیں آن لائن گردش کر رہی ہیں کہ طالبان کابل میں داخل ہو گئے ہیں۔ تاہم طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں کو کہا گیا ہے کہ وہ شہر کے دروازوں پر رہیں اور حملہ نہ کریں۔

  16. بریکنگ, افغانستان کی صورتحال پر برطانوی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے برطانوی پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس منعقد کرے۔

    برطانوی وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ملاقات کی تاریخ اور وقت ابھی طے نہیں کیا گیا ہے۔

  17. طالبان کی کابل ’آمد‘ پر بین الاقوامی ردعمل

    طالبان کے کابل پہنچنے پر بین الاقوامی ردعمل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمیں افغانستان میں بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے۔ ہم نے تاحال سفارتخانہ بند کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔‘

    آسٹریلیا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’علاقے میں لڑائی اور عدم استحکام آج نہیں تو کل یورپ اور پھر آسٹریلیا میں بھی داخل ہوسکتا ہے۔‘

    یورپی یونین کے کمشنر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اب وقت گزر ہوچکا ہے کہ ہم یورپ میں پناہ گزین اور پناہ لینے کے حوالے سے قوانین میں رد و بدل کریں۔‘

  18. ’کابل میں ہسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو نہیں روکا جائے گا‘

    ’کابل میں ہسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو نہیں روکا جائے گا‘

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان حکام نے کہا ہے کہ کابل طالبان کے گھیرے میں ہے مگر ایئر پورٹ کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ غیر ملکی افراد کو ملک چھوڑنے کی اجازت ہے یا آئندہ دنوں میں وہ اپنی موجودگی کا اندراج طالبان انتظامیہ کے ساتھ کرا سکتے ہیں۔

    طالبان اہلکار نے بتایا ہے کہ کابل میں ہسپتالوں اور ایمرجنسی سروسز کو کام کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔

  19. طالبان افغانستان کے کن کن علاقوں پر قابض ہو چکے ہیں اور کہاں لڑائی جاری ہے؟, نقشے کی مدد سے جانیے کہ افغانستان کے کن کن علاقوں پر طالبان قابض ہو چکے ہیں اور کہاں کہاں لڑائی جاری ہے۔

    bbc
  20. طالبان نے بگرام ائیر بیس کی جیل سے قیدیوں کو رہا کر دیا

    dgdg

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے کابل کے مضافات میں واقع بگرام ائیر بیس کی سب سے بڑی جیل سے قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

    کل رات افغان حکومت کے حکام کا کہنا تھا کہ بگرام جیل مکمل کنٹرول میں ہے۔

    تاہم اب سے کچھ دیر قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ طالبان نے بگرام ائیر بیس کی سب سے اہم جیل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

    ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ تمام قیدیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حالیہ دنوں میں طالبان نے صوبائی دارالحکومتوں میں داخل ہونے کے بعد قیدیوں کو رہا کیا ہے۔