امریکی صدر جو بائیڈن افغانستان کی صورتحال پر خطاب کریں گے

،تصویر کا ذریعہPA Media
امریکہ کے صدر جو بائیڈن وائٹ ہاؤس سے افغانستان کی صورتحال پر خطاب کرنے جا رہے ہیں۔
یہ خطاب پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 45 منٹ پر متوقع ہے۔
افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
امریکہ کے صدر جو بائیڈن وائٹ ہاؤس سے افغانستان کی صورتحال پر خطاب کرنے جا رہے ہیں۔
یہ خطاب پاکستانی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 45 منٹ پر متوقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد ملک سے نکلنے کی کوششں کر رہی ہے۔ کابل ایئر پورٹ پر افراتفری کے مناظر دیکھے گئے ہیں۔
ایئر پورٹ پر کم از کم پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایسی ویڈیوز دیکھی گئی ہیں جن میں افغان شہری فوجی طیارے کے ساتھ بھاگ رہے ہیں اور کچھ نے تو اسے پکڑنے کی کوشش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سابق افغان صدر حامد کرزئی کہتے ہیں کہ وہ ملک میں امن قائم کرنے کے لیے طالبان سے رابطے میں ہیں
ازبکستان کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ انھوں نے افغان فوج کے ایک طیارے کو مار گرایا ہے جس نے غیر قانونی طور پر سرحد پار کی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP
متعدد مغربی ممالک نے کابل سے اپنے شہریوں کو واپس بلانے کے لیے پروازیں شروع کر دی ہیں۔
60 سے زیادہ ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کو ملک سے نکلنے دیں۔
امریکہ نے اپنے سفارتی عملے کو وطن واپس بلانے کا آپریشن مکمل کر لیا ہے اور اپنے سفارتخانے سے پرچم اتار لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام افغان نسلی گروہوں کو ایک جامع سیاسی مفاہمت کے ذریعے نمائندگی ملے۔
ملک کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان میں فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کا احترام کریں، تمام افغانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین دہشت گرد تنظیم یا گروہ کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کریں۔
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کی کمیٹی نے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے توثیق کو تنازع کا منطقی انجام قرار دیا۔
پیر کو افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اجلاس ہوا۔ اس کی صدات وزیراعظم عمران خان نے کی اور اس اجلاس میں کابینہ کے سینیئر ارکان اور فوجی سربراہان نے شرکت کی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس اجلاس کا حصہ تھے۔
شرکا کو افغانستان میں تازہ ترین پیش رفت اور پاکستان اور خطے پر ان کے ممکنہ اثرات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ اگرچہ پاکستان افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری تنازع کا خود بھی شکار ہے اس لیے وہ اپنے ہمسائے میں امن اور استحکام کا خواہشمند ہے۔
اجلاس میں زور دیا گیا کہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان کی قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ یہاں اس بات کی توثیق کی گئی کہ پاکستان عالمی برادری اور تمام افغان سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ملک میں ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے کام جاری رکھے گا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں عدم مداخلت کے اصول پر قائم رہنا چاہیے۔
پاکستان میں قومی سلامتی کی کمیٹی نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ افغانستان میں بڑے تشدد کو ٹالا جا چکا ہے، کمیٹی نے افغانستان میں فریقین پر زور دیا کہ وہ قانون کی بالادستی کا احترام کریں اور تمام افغانوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کریں۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ افغانستان سے واپس پاکستان آنے کے خواہشمند پاکستانیوں، سفارتکاروں، صحافیوں اور بین الاقوامی اداروں کے عملے کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزیراعظم نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے اور ریاستی مشینری کی جاری کوششوں کو سراہا۔
قومی سلامی کی کمیٹی نے پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ افغانستان کے تنازع کا کبھی کوئی فوجی حل نہیں رہا۔
کمیٹی کا اعلامیہ میں کہنا تھا ’مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے کا مثالی وقت وہ ہو سکتا ہے جب امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کے پاس افغانستان میں زیادہ سے زیادہ فوجی طاقت تھی۔‘
اعلامیے کے مطابق افغانستان میں غیر ملکی فوج کی طویل عرصے تک موجودگی سے کوئی مختلف نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ ’لہذا سابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے فوج کے انخلا کے فیصلے کی بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے توثیق کیا جانا ہی اس تنازع کا منطقی نتیجہ ہے۔‘
پاکستانی کی قومی سلامتی کی کمیٹی کے کہنا تھا کہ عالمی برادری افغانستان خطے کے لیے طویل المدتی امن، سلامتی اور ترقی کے لیے ایک جامع سیاسی تصفیے کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کرے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ وہ طالبان سے رابطے میں ہیں تاکہ ملک میں امن قائم کیا جاسکے۔ وہ ملک میں سنہ 2001 سے 2014 تک صدر رہے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اس تین رکنی کونسل کے ممبر ہیں جو پُرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کے لیے کام کر رہی ہے۔
اس کونسل میں گلبدین حکمتیار بھی شامل ہیں جو سیاسی جماعت حزب اسلامی کے سربراہ ہیں۔ اس میں قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ بھی شامل ہیں۔
بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ وہ طالبان قیادت سے رابطے میں ہیں اور مسئلے کے حل کے لیے ان سے تعاون کریں گے۔
’افغان شہریوں کی زندگی اور حفاظت اہم چیز ہے اور ہمارا مقصد یہی ہے۔ طالبان نے مجھے بتایا ہے کہ انھوں نے شہر (کابل) میں سکیورٹی کے لیے لوگ تعینات کیے ہیں۔ اور مجھے امید ہے کل (پیر کو) اس میں مزید پیشرفت ہوگی۔‘
’ڈاکٹر اشرف غنی (موجودہ صدر) عہدہ چھوڑ کر جا چکے ہیں۔۔۔ ان کی جگہ پُر کرنے کے لیے قانون کی بحالی ضروری ہے۔ ایک قانونی ادارے کے ذریعے ہی کابل اور ملک بھر میں صحیح لوگوں کو سکیورٹی کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔‘
’طالبان غالب آچکے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ کنٹرول مضبوط ہو اور افغان شہریوں کے لیے بہتر ہو۔‘
اشرف غنی کی حکومت کی وزیرِ تعلیم رنگینہ حمیدی کا کہنا ہے کہ انھیں صدر غنی سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ایسے ملک چھوڑ جائیں گے۔ 'مجھے صدمہ پہنچا ہے اور یقین نہیں آ رہا۔'
دیکھیے بی بی سی کے ساتھ ان کی خصوصی گفتگو۔۔۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہReuters
ازبکستان میں وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ان کی فضائیہ نے افغان فوج کے ایک طیارے کو مار گرایا ہے جو سرحد پار کر آیا تھا۔
فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ طیارہ غیر قانونی طور پر ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوگیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ معلوم نہیں کہ اس پر کتنے لوگ سوار تھے اور آیا کوئی اس میں بچ پایا ہے۔
افغانستان کی سرحد پر واقع علاقے کے ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اتوار کی شب دو مریضوں کو ان کے ہسپتال داخل کیا گیا جنھوں نے افغان فوج کا یونیفارم پہنا ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص نے پیراشوٹ پہنا ہوا تھا اور وہ زخمی ہوا ہے۔
اتوار کو ازبکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ 84 افغان فوجیوں کو سرحد پار کرنے پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون نے پیر کو کہا کہ صدر جو بائیڈن افغانستان میں انسانی حقوق پر عالمی برادری کی قیادت کرنے کو تیار ہیں۔
گُڈ مارننگ امریکہ نامی شو میں ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اس مسئلے پر عالمی برادری کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ انسانی حقوق کے سوالات سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ اور آئندہ عرصے میں وہ اس چیز پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔‘
’لیکن یہ وہ وجہ نہیں جس کی بنیاد پر امریکہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی مسئلے پر جنگ کی تیسری دہائی کے لیے مداخلت کرے۔‘

،تصویر کا ذریعہFARS
ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ افغانستان میں ’امریکی انخلا اور شکست‘ سے ملک میں پائیدار امن کا موقع پیدا ہوا ہے۔
صدر کی ویب سائٹ کے مطابق رئیسی نے سبکدوش ہونے والے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے بات چیت میں یہ کہا۔
صدر رئیسی کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کے سلامتی، استحکام اور فلاح کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ ’ایران استحکام قائم کرنے کے لیے کوششں کرے گا۔ یہ افغانستان کی سب سے پہلی ضرورت ہے۔ ہمسایہ ملک کی حیثیت سے یہ تمام گروہوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ قومی اتفاق پیدا کریں۔‘
انھوں نے مزید بیانات میں تسلیم کیا کہ ایران اس پیشرفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایران نے سابق صدر حامد کرزئی کی جانب سے پیش اقتدار کی عبوری منتقلی کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔
جواد ظریف نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے عزم کیا ہے کہ برطانوی شہریوں اور دیگر اہل افراد کو افغانستان سے نکالنے کے لیے پروازیں اس وقت تک چلیں گی جب تک ایسا کرنا محفوظ ہوگا۔
پیر کو وزیراعظم کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’روزانہ کی بنیاد پر کئی سو لوگ ان پروازوں پر نکلیں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ پروازیں کب تک چلتی رہیں گی تو برطانوی وزیراعظم نے بتایا ’ہم یہ تب تک جاری رکھیں گے جب تک ہم ایسا کر سکتے ہیں۔‘

طالبان کے تنظیمی ڈھانچے میں اب بھی ایسے رہنما موجود ہیں جو ماضی میں افغانستان میں طالبان کی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
اس وقت طالبان کے اہم قائدین میں تنظیم کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اور اُن کے تین نائبین ملا عبدالغنی برادر، ملا محمد یعقوب اور سراج الدین حقانی شامل ہیں۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کیجیے۔

افغان طالبان کے اہم رہنما اور سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں سیاسی سطح پر جوڑ توڑ جاری ہے اور افغانستان سے ایک کمیشن نے آج (پیر) قطر پہنچنا تھا لیکن گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حالات اچانک کافی بدل گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہوا تھا کہ یہ کمیشن صدر اشرف غنی کا استعفیٰ اور مکمل اختیار کے ساتھ پہنچے گا تاکہ انتقالِ اقتدار کا مرحلہ مکمل ہو سکے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
طالبان کے ایک نمائندے نے کہا ہے کہ ان کے جنگجوعام لوگوں سے ہتھیار جمع کر رہے ہیں۔
بی بی سی عربی کے مطابق طالبان نمائندے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ لوگوں نے یہ ہتھیار اپنی حفاظت کے لیے رکھے ہیں۔ اب وہ محفوظ ہیں، ہم عام لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
افغانستان کے مقامی میڈیا طلوع نیوز سے وابستہ سعد محسینی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ طالبان کابل میں ان کے دفتر آئے اور ہمارے سیکیورٹی گارڈز کے پاس موجود اسلحے کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔
’سرکاری طور پر جاری کیے گئے ہتھیار واپس کر دیے گیے اور طالبان نے یقین دہانی کروائی کہ وہ ہمارے دفتر کی حفاظت کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نسیم جاوید (فرضی نام) اپنے شہر کو پہچان نہیں پا رہے۔
انھوں نے بی بی سی کے وقاص پانڈے کو بتایا کہ شہر میں زیادہ تر کاروبار بند ہیں اور لوگوں نے اپنے آپ کو گھروں میں بند کر لیا ہے۔
’ہمارے لیے یہ ایک انتہائی بےچینی کی گھڑی ہے اور ہم ایک انجانے خوف کی گرفت میں ہیں۔‘
جاوید کے مطابق مزارِ شریف ملک کا سب سے ’لبرل‘ شہر ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اب انھیں ان نوجوانوں کی فکر ہے جو سنیما، موسیقی اور تعلیم تک رسائی کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔
’یہ گھڑی نوجوان خواتین کے لیے بہت مشکل ہوگی۔ میں بہت سی ایسی میڈیکل کی طالبات کو جانتا ہوں جو بہترین ڈاکٹر بن
انھوں نے سنا ہے کہ طالبان لوٹ مار بھی کر رہے ہیں۔ ’میرے ایک عزیز کے پاس ایک مہنگی گاڑی تھی جو طالبان نے ان سے دن دہاڑے چھین لی۔‘
ان کے مطابق ایسے واقعات انھیں خوفزدہ کرتے ہیں اور وہ کئی روز سے سو نہیں سکے۔

،تصویر کا ذریعہChinese Foreign Ministry
طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد چین نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دوستی اور مشترکہ تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔
طالبان نے بھی چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور اس سے پہلے بھی ان کی جانب سے ایسے بیان سامنے آئے ہیں جن میں چین سے افغانستان کی ترقی میں ہاتھ بٹانے کی امید شامل ہے۔
واضح رہے کہ چین اور افغانستان کی سرحد ملتی ہے اور ماضی میں بیجنگ کو خدشہ رہا ہے کہ افغانستان اویغور علیحدگی پسندوں کا مرکز بن جائے گا۔
’افغان عوام کو حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا خود تعین کریں اور چین ان کے اس حق کی قدر کرتا ہے۔‘
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ نے طالبان پر زور دیا کہ انھیں اقتدار کی منتقلی کو پرامن اور کھلی ذہن کی شراکت داری پر مبنی اسلامی حکومت کے قیام کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ افغان اور بین الاقوامی شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
چین نے ماضی میں بھی امریکہ پر افغانستان سے جلد بازی میں نکلنے پر تنقید کی ہے۔ اگرچہ انھوں نے اب تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تاہم چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے انھیں ’ایک عسکری اور سیاسی حقیقت‘ کہہ کر پکارا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اس وقت کابل میں پھنسے غیر ملکیں کو نکالنے کے لیے مہم جاری ہے تاہم برطانوی سیکریٹری دفاع بین والس نے اقرار کیا ہے کہ ’کچھ لوگ افغانستان سے واپس نہیں آ پائیں گے۔‘
اس سے قبل بین والس نے کہا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ تمام برطانوی شہریوں کو بحفاظت نکال کیا جائے گا۔ تاہم پیر کی صبح ایل بی سی ریڈیو پر وہ آبدیدہ ہو گئے۔
میرے لیے یہ پچھتاوے کی بات ہے لیکن دیکھیں، کچھ لوگ واپس نہیں آ پائیں گے۔۔۔ اور ہمیں تیسرے ممالک کے ساتھ کام کر کے انھیں تحفظ فراہم کرنا ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اتنے غمزدہ کیوں ہیں تو بین والس نے کہا ’کیونکہ میں بھی ایک فوجی ہوں۔۔۔ کیونکہ یہ ایک افسفسناک بات ہے اور مغرب نے جو کرنا تھا وہ کر لیا۔ اب ہمارا کام ہے کہ ہم اپنے فرایض نبھائیں اور 20 برس کی قربانیاں رائیگاں نہ جانے دیں۔‘
کابل ایئرپورٹ سے موصول ہونے والی تازہ ترین معلومات کے مطابق کم از کم تین افراد امریکی طیاروں سے لٹک کر فرار ہونے کی کوشش کے دوران جہاز سے گر کر ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سینکڑوں لوگ کابل ایئر پورٹ سے اڑنے والے امریکی سی 17 طیارے کے ساتھ ساتھ بھاگ رہے ہیں اور اس سے لٹکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق طیارے نے جب اڑان بھری تو جہاز کے پر اور پہیے سے چمٹے تین افراد نیچے گر گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ افراد زور دار آواز کے ساتھ لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر گر کر ہلاک ہوگئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکی اندازوں کے برعکس طالبان نے بہت تیزی سے کابل پر قبضہ کر لیا تاہم کچھ مبصرین کے لیے یہ حیرانی کی بات نہیں تھی۔
امریکی انٹیلیجنس نے چند روز قبل پیش گوئی کی تھی کہ طالبان کو کابل پہنچنے میں 90 دن لگیں گے۔
تاہم لینکاسٹر یونیورسٹی کے شعبہ سیاست سے وابستہ پروفیسر املیندو مشرا کے مطابق طالبان کی تحریک کافی عرصے سے زور پکڑ رہی تھی۔
پروفیسر مشرا کا کہنا تھا کہ پہلے طالبان نے رفتہ رفتہ چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں اپنا اثر بٹھایا۔
’ایسے لگتا تھا کہ طالبان کو ان دور دراز علاقوں میں حمایت حاصل ہے۔‘
انھوں نے بی بی سی کے وقاص پانڈے کو بتایا کہ افغان فوج کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کے کچھ اہلکار طالبان سے ہمدردی رکھتے تھے اور ان سے لڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔

،تصویر کا ذریعہChinese Foreign Ministry
ایک جانب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کابل میں اپنے سفارت خانے بند کر دیے ہیں تو دوسری طرف پاکستان، چین اور روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے سفارت خانوں کو فعال رکھیں گے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں، میڈیا کے نمائندوں اور دیگر افراد کے لیے پاکستانی سفارت خانہ ترجیحی بنیادوں پر ویزے جاری کر رہا ہے جبکہ پاکستانی ایئر پورٹس پر آنے والے افراد کو آمد پر ویزا حاصل کرنے کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
چین نے افغانستان میں بسنے والے اپنے شہریوں کو اپنے اپنے گھروں میں رہنے کے لیے کہا ہے تاہم چینی حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اس نے افغانستان میں مختلف فریقوں سے اپنے لوگوں کی حفاظت کے بارے میں بات کی ہے۔
دوسری طرف روس کی وزارت خارجہ نے اتوار کو بتایا کہ اس کا کابل میں سفارت خانہ بند کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

طالبان نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ قندھار کے ہوائی اڈے میں محصور افغان فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
طالبان جنگجوؤں نے گذشتہ تین دن سے ایئر پورٹ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔
قندھار افغانستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور امریکہ کا بگرام ایئر بیس بھی یہیں واقع تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/peaceforchange
افغانستان میں لمحہ با لمحہ بدلتی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پیر کو سر جوڑ کر بیٹھے گی۔
پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز وزیر اعظم ہاوس میں ہوگا جس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔
کمیٹی کے اس اجلاس میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے علاوہ تینوں مسلح افواج اور آئی ایس آئی کے سربراہ بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ خارجہ امور، داخلہ امور اور وزارتِ دفاع کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔
وزیر اعظم ہاؤس کے ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی غور کیا جائے گا۔
اگر افغانستان میں بدامنی پھیلتی ہے اور لوگ وہاں سے نقل مکانی کر کے پاکستان کا رخ کرتے ہیں تو ایسے حالات میں پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا، اس معاملے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان ترک صدر طیب اردوغان کے ساتھ اتوار کے روز ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں بھی شرکا کو آگاہ کریں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں اس وقت ایک خصوصی افغان وفد بھی موجود ہے جس میں افغانستان کے سابق نائب صدر اوّل یونس قانونی کے علاوہ افعان رہنما احمد شاہ مسعود کے بھائی اور مسعود فاونڈیشن کے چیئرمین احمد ولی مسعود بھی شامل ہیں۔
وفد میں افغان پارلیمان کے سپیکر رحمان رحمانی بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل افغانستان کے سپیکر کی دعوت پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں پاکستانی پارلیمان کے اراکین کا ایک وفد افغانستان گیا تھا لیکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس جہاز کو لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جس کے بعد یہ وفد واپس پاکستان آگیا تھا۔