صدر بائیڈن نے اس معاہدے کو توڑا جو امریکی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ کیا تھا: مائیک پینس

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کابل کے بینکوں کے سامنے شہریوں کی لمبی قطاریں

    @ahmermkhan ·

    ،تصویر کا ذریعہ@ahmermkhan

    افغان وزارت داخلہ نے دارالحکومت کابل میں طالبان کی آمد کی تصدیق کی ہے، شہر میں بہت سے لوگ پیسے نکالنے کے لیے بینکوں کی برانچوں کے سامنے قطاروں میں کھڑے ہیں۔

    کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کئی بینکوں کے پاس پیسے نہیں ہیں اور بینک میں اکاؤنٹس رکھنے والے لوگ بینکوں سے نقد وصول کرنے سے قاصر ہیں۔

  2. اشرف غنی کی خلیل زاد اور نیٹو کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہنگامی ملاقات

    اطلاعات کے مطابق افغان صدر محمد اشرف غنی نے افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد اور نیٹو کے ایلچیوں کے ساتھ ایک ہنگامی ملاقات کی ہے۔

    یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان کا کہنا ہے کہ وہ کابل کے دروازے پر پہنچ چکے ہیں۔

    طالبان نے آج صبح ایک بیان جاری کرتے ہوئے کابل کے شہریوں کو یقین دلایا کہ وہ شہر میں داخل نہیں ہوں گے اور اقتدار کی منتقلی پرامن ہوگی۔

    دریں اثنا غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ طالبان کا ایک وفد مذاکرات کے لیے صدارتی محل میں داخل ہو چکا ہے۔

  3. کابل ایئر پورٹ سے پروازوں کی آمد و رفت کا سلسلہ رُک گیا

    کابل میں موجود بی بی سی کے نمائندے کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر پی آئی اے کی پرواز پی کے 250 ایک گھنٹے سے کھڑی ہے جسے اڑنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

    فلائٹ ریڈار کے ڈیٹا کے مطابق دہلی اور دبئی سے آنے والی دو پروازیں جنھیں کابل کے ہوائی اڈے پر لینڈ کرنا تھا وہ ابھی تک ایئر پورٹ کے اوپر ہی چکر لگا رہی ہیں۔

  4. طالبان وفد صدارتی محل پہنچ گیا

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کا ایک وفد اقتدار کی منتقلی پر مذاکرات کے لیے افغان صدارتی محل پہنچا ہے۔

    افغان حکومت کے حکام نے ابھی تک ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اس سے قبل طالبان نے ایک بیان میں طالبان نے اقتدار کی پُرامن منتقلی پر زور دیا تھا۔

  5. افغان صدر اشرف غنی کی حکومت پر دباؤ، ہنگامی اجلاس طلب

    افغان صدر اشرف غنی کی حکومت پر دباؤ

    ،تصویر کا ذریعہGE

    اطلاعات کے مطابق طالبان کی کابل آمد کے بعد افغان صدر اشرف غنی، امریکی نمائندے خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اور نیٹو حکام کے مابین ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

    سنیچر کو طالبان پیش قدمی میں تیزی پر صدر غنی نے تسلیم کیا تھا کہ ملک ’خطرے میں ہے۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ افغان فوج کی تنظیم نو ان کی اولین ترجیح ہے۔

    تاہم اطلاعات کے مطابق مسلح جنگجوؤں کو کابل پہنچنے میں بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    مقامی رہنماؤں سے مذاکرات کے بعد طالبان نے لڑائی کے بغیر مشرقی شہر جلال آباد پر قبضہ کیا اور اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ وہ کابل داخل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

    حکومتی فورسز کی ناکامی پر صدر اشرف غنی سے استعفی لینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکہ نے کابل میں اپنے شہریوں اور سفارتی عملے کی واپسی کے لیے مزید پانچ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی ہے۔

  6. روس کا کابل میں سفارتی عملہ واپس نہ بلانے کا فیصلہ

    روسی صدر ولادیمیر پوتن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روس نے کہا ہے کہ وہ فی الحال کابل میں اپنی سفارتی عملے کو واپس بلانے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتے۔

    افغانستان میں طالبان پیش قدمی میں تیزی دیکھی گئی ہے اور مسلح جنگجو اب دارالحکومت کابل میں داخل ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ملک افغانستان میں اپنے شہریوں اور سفارتی عملے کی واپسے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    مگر روس کے دفتر خارجہ کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے انٹرفیکس کو بتایا ہے کہ وہ ’کابل میں ماسکو کے سفیر سے براہ راست رابطے میں ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ روس کا سفارتی عملہ ’پُرسکون ماحول‘ میں کام کر رہا ہے اور فی الحال ان کا ’واپسی کے لیے کوئی منصوبہ تشکیل نہیں دیا گیا۔‘

  7. افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات جاری ہیں: طالبان

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طالبان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ افغانستان میں اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات جاری ہیں۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی بی بی سی پشتو ویب سائٹ کو تصدیق کی ہے کہ قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ ثالثی کر رہے ہیں۔

    انھوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ گروپ کے پولیٹیکل بیورو چیف ملا برادر کابل پہنچے ہیں۔

    افغان حکومت نے ابھی تک طالبان کے تبصرے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. کابل میں تازہ صورتحال: دکانیں بند، سرکاری دفاتر خالی اور لوگوں کی نقل مکانی

    کابل

    افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کے دوران گذشتہ ہفتوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر کے دارالحکومت کابل آئے تھے۔ جیسے جیسے صوبائی دارالحکومتوں پر طالبان کنٹرول بڑھ رہا تھا، یہاں پر بھی تناؤ میں اضافہ ہو رہا تھا۔

    لیکن اب طالبان جنگجوؤں کی جانب سے کابل پہنچنے پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد کابل سے نکلنے پر مجبور ہے۔ بی بی سی کو ایسی متعدد ویڈیوز موصول ہوئی ہیں جن میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ بعض سڑکوں پر افراتفری ہے۔

    کابل میں بی بی سی کے ایک صحافی کے مطابق کئی دکانیں بند ہیں اور سرکاری دفاتر خالی کر لیے گئے ہیں۔ دارالحکومت میں افغان فوج اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا خدشہ ہے مگر طالبان نے کہا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر یہاں قبضہ نہیں کریں گے۔

    افغان فوج نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ وہ شہر کا دفاع کریں گے۔

  9. لوگ ملک چھوڑ کر نہ جائیں، ہم انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتے: طالبان

    @BBCYaldaHakim

    ،تصویر کا ذریعہ@BBCYaldaHakim

    طالبان نے کابل پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ لوگ شہر یا ملک چھوڑ کر نہ جائیں کیونکہ وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’ وہ تمام لوگ جنھوں نے کابل انتظامیہ میں فوجی اور سویلین شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں انھیں معاف اور محفوظ رکھا گیا ہے، کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ سب کو اپنے اپنے ملک میں رہنا چاہیے، اپنی جگہ اور گھر میں اور ملک چھوڑنے کی کوشش نہ کریں۔‘

    طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ’تمام افغان زندگی کے ہر شعبے سے مستقبل کے اسلامی نظام میں خود کو ایک ذمہ دار حکومت کے ساتھ دیکھیں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔‘

  10. کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا، اقتدار پرامن طریقے سے منتقل ہو گا: قائم مقام وزیر داخلہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ عبدالستار مرزاکوال کا کہنا ہے کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا اور اقتدار پرامن طریقے سے منتقل ہو گا۔

    طلوع نیوز پر جاری کردہ ویڈیو پیغام میں انھوں نے کابل کے شہریوں کو یقین دلایا کہ سکیورٹی فورسز شہر کی حفاظت کو یقینی بنائیں گی۔

  11. تحریک طالبان کا آغاز کیسے ہوا اور ان کی موجودہ حکمت عملی ماضی سے کتنی مختلف ہے؟

    طالبان، افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہVT FREEZE FRAME

    افغان طالبان نے اکتوبر 1994 میں ایک مقامی مذہبی پیشوا ملا محمد عمر کی سربراہی میں افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں جنم لیا تھا۔

    نوے کی دہائی میں طالبان تحریک کی ابتدا اگرچہ نوجوان مدارس کے طلبہ سے ہوئی تھی جو کہ جنگی اور سیاسی حکمت عملیوں سے نابلد تھے۔ مگر اب طالبان ایک منظم قوت بن چکے ہیں۔

  12. طالبان کا بگرام ائیر بیس کی سب سے اہم جیل پر بھی قبضے کا دعویٰ

    بگرام

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے بگرام ائیر بیس کی سب سے اہم جیل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

    ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ تمام قیدیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

  13. کابل میں چھپنے کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی، افغان رکن پارلیمنٹ

    farzana

    ،تصویر کا ذریعہFacebook\@FarzanaElhamaf

    کابل میں ایک افغان رکن پارلیمنٹ فرزانہ کوچائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لوگ کیسے دارالحکومت سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ’وہ کہیں نہیں جا سکتے، چھپنے کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچی۔ میں نے کچھ دوستوں سے بات کی ہے جو کابل سے باہر انڈیا یا کسی اور پڑوسی ملک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ مگر تمام طیارے مسافروں سے بھرے ہوئے ہیں۔‘

    ’انھیں کہا جا رہا ہے کہ فلائٹس بھری ہوئی ہیں۔ ہم یہاں پھنس گئے ہیں، جو لوگ باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی آخر کہاں جا سکتے ہیں۔۔۔ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں، انھیں یہاں رہنا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ملک کے دیگر حصے جہاں طالبان پہلے ہی کنٹرول سنبھال چکے ہیں، وہاں خواتین اب کام یا سکول نہیں جا رہی ہیں۔

    ’خواتین کے لیے صورتحال اتنی ہی خراب ہے جتنی توقع کی جا رہی تھی۔ عورتوں کو ان کے گھروں میں قید کیا جائے گا، کیا ایسا ہو گا؟ ابھی تو لگتا ہے کہ ایسا ہی ہو گا لیکن آنے والے دن بتائیں گے کہ کیا تبدیلی آتی ہے۔‘

  14. بریکنگ, افغان حکومت: کابل میں صورتحال ’قابو میں ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور کابل میں مسلح جنگجوؤں کے داخلے کے موقع پر مختلف مقامات پر فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تاہم افغان صدر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بتایا گیا ہے کہ صورتحال کنٹرول میں ہے۔

    اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’کابل میں وقفے وقفے سے فائرنگ ہوئی ہے۔ کابل پر حملہ نہیں ہوا۔ ملک کی دفاعی فورسز بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر شہر میں سکیورٹی کو یقینی بنا رہی ہیں۔ صورتحال قابو میں ہے۔‘

  15. طالبان کو کابل میں بہت زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا

    بی بی سی کی یلدا حکیم، جنھوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے افغانستان سے رپورٹنگ کی ہے، کا کہنا ہے کہ طالبان کو افغان دارالحکومت میں بہت زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. طالبان کا کابل میں ’جنگ کا ارادہ نہیں‘

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    افغان طالبان نے ایک بیان میں کابل میں ’لڑائی نہ کرنے کا اعلان‘ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’دارالحکومت کابل ایک بڑا اور گنجان آباد شہر ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین طاقت یا جنگ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ کابل کے ذریعے پُرامن طریقے سے داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کسی کی جان، مال اور عزت پر سمجھوتہ کیے بغیر۔‘

    ’(ہم) اپنی تمام افواج کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ کابل کے دروازوں پر کھڑے رہیں، شہر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔۔۔ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔‘

  17. بریکنگ, ’افغان طالبان کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہو رہے ہیں‘

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہو رہے ہیں۔ افغانستان میں کابل وہ واحد اہم شہر ہے جو اس وقت افغان طالبان کے قبضے میں نہیں ہے۔

    افغانستان کے دارالحکومت سے سفارتی اور بین الاقوامی عملے کی واپسی کے لیے کوششوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اتوار کی صبح کئی ہیلی کاپٹروں کو امریکی سفارتخانے آتے دیکھا گیا ہے۔ یہاں بکتر بند گاڑیاں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    نام نہ ظاہر کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں نے اے پی کو بتایا کہ سفارتی عملے کی جانب سے حساس دستاویزات کو جلایا گیا ہے اور سفارتخانے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

    دوحہ میں طالبان رہنماؤں نے کہا ہے کہ مسلح جنگجوؤں کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کابل میں پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں، شہر سے باہر نکلنے والوں کو راستہ دیں اور خواتین و بچوں کو حفاظتی مقامات تک پہنچائیں۔

    نیٹو اہلکار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ کابل میں یورپی یونین کے ممبران کو ایک نامعلوم حفاظتی مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    کابل میں بی بی سی کے ایک صحافی نے بتایا ہے کہ کابل میں کچھ دکانیں بند کر دی گئی ہیں اور حکومتی دفاتر خالی کرا لیے گئے ہیں۔ جبکہ سرکاری سطح پر اس کی کوئی وجہ نہیں دی گئی۔

  18. ’بااختیار مذاکرات کار کو قطر بھیجنے پر مشاورت‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق افغان صدر حامد کرزئی نے اتوار کو افغانستان کی قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی ہے۔

    حامد کرزئی کی ایک ٹویٹ کے مطابق ملاقات کے دوران طالبان کے ساتھ ایک بااختیار مذاکرات کار کو قطر بھیجنے اور ضروری فیصلے لینے پر مشاورت کی گئی۔

  19. کابل میں طالبان اور افغان فوج کے درمیان لڑائی کا خدشہ

    کابل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فضائی حملوں کی قوت کے بغیر طالبان نے راکٹ حملوں اور دیگر ہتھیاروں کی مدد سے زمینی لڑائی میں کئی شہروں اور اہم صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ جبکہ کچھ علاقوں میں مقامی رہنماؤں نے خونریزی سے بچنے کے لیے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

    دارالحکومت کابل میں صرف اسی صورت میں خونریزی روکی جاسکتی ہے اگر حکومت اور طالبان میں سیاسی معاہدہ طے پاتا ہے۔

    تاہم مسلح جنگجوؤں نے کہا ہے کہ وہ صدر اشرف غنی کی قیادت میں حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

    دوسری طرف صدر غنی نے استعفے کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے۔

    سنیچر کو انھوں نے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر مقامی رہنماؤں اور بین الاقوامی اتحادیوں سے بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی فورسز کی تنظیم نو ان کی اولین ترجیح ہے۔

    عالمی سطح پر بھی دونوں فریقین کے درمیان سیز فائر اور سیاسی مفاہمت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    کابل کی 50 لاکھ کی آبادی میں گذشتہ ہفتوں کے دوران ہزاروں افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ملک بھر میں لڑائی سے بچنے کے لیے دارالحکومت کا رُخ کیا اور اس کے گرد و نواح علاقوں میں پناہ لی۔

    افغان فوج نے اب تک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کابل کا دفاع کرے گی۔

  20. ’ہمارے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں جنھوں نے دخل اندازوں کی مدد کی‘, طالبان ترجمان کا ٹوئٹر پر پیغام

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح جنگجوؤں کے ’دروازے ان تمام لوگوں کے لیے کھلے ہیں جنھوں نے ماضی میں دخل اندازوں کی مدد کی، یا اب وہ بدعنوان کابل انتظامیہ کی صف میں کھڑے ہیں۔

    ’ہم پہلے ہی عام معافی (ایمنسٹی) کا اعلان کر چکے ہیں۔ ہم ایک بار پھر ان سب کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیں، قوم اور ملک کی خدمت کریں۔‘