کابل کے علاوہ افغانستان کے وہ شہر جہاں طالبان اپنا کنٹرول سنبھال چکے ہیں

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں حکومت بنانے، خواتین کے معاشرے میں کردار، میڈیا کی آزادی سمیت متعدد موضوعات پر بیانات دیے ہیں۔ جبکہ سابق امریکی نائب صدر نے بائیڈن انتظامیہ پر 'طالبان سے معاہدہ' توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔


،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تناؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ طالبان تمام اہم شہروں پر قبضے کے بعد تیزی سے اس کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
اتوار کو مسلح جنگجوؤں نے مشرقی شہر جلال آباد کا کنٹرول سنبھال لیا اور اس سے ایک دن قبل انھوں نے مزار شریف پر قبضے کا اعلان کیا تھا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جلال آباد میں طالبان اور فوج کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی کیونکہ گورنر نے سرینڈر کر دیا تھا۔
اب تک کی معلومات کے مطابق طالبان نے کل 34 میں سے 23 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
طالبان سے لڑائی میں افغان فوج کی ناکامیوں کے بعد صدر اشرف غنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ان سے استعفی مانگا جا رہا ہے۔ ان کے پاس اب دو ہی راستے ہیں، استعفی دیں یا دارالحکومت پر حکومتی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے لڑائی جاری رکھیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ازبکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ان 84 افغان فوجیوں کو حراست میں لیا گیا ہے جنھوں نے طالبان پیش قدمی کے دوران جان بچانے کے لیے سرحد پار کی تھی۔
تاشقند حکومت کا کہنا ہے کہ افغان سرحد کے قریب چیک پوائنٹ پر فوجیوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوچکی ہے۔
گذشتہ ماہ بھی طالبان کی پیش قدمی کے دوران افغان فوجی سرحد پار کر کے تاجکستان داخل ہوگئے تھے۔ اپنی پیش قدمی کے دوران طالبان نے کابل کے علاوہ تمام بڑے شہروں کا مکمل کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ازبک دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 84 افغان فوجیوں کو جب بارڈر گارڈز نے حراست میں لیا تو انھوں نے کوئی مزاحمت نہیں دکھائی بلکہ طبی امداد کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ تاشقند حکومت سرحد پر جمع افغان فوجیوں کو انسانی امداد فراہم کر رہی ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان وہ ایک ایسے پُل پر جمع ہیں جو ان کی سڑکیں اور ریلوے لائن ملاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ازبک حکومت کابل سے بات چیت کر رہی ہے تاکہ ان فوجیوں کو باحفاظت گھر واپس بھیجا جاسکے اور پُل پر صورتحال حل کی جاسکے۔

،تصویر کا ذریعہepa
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلح گروہ نے مشرقی صوبے ننگرھار کے شہر جلال آباد پر قبضہ کر لیا ہے۔ ملک کے دارالحکومت کابل کے باہر یہ وہ واحد بڑا شہر تھا جس پر حکومت کا کنٹرول تھا۔
طالبان کا کہنا ہے کہ جلال آباد میں وہ گورنر ہاؤس، انٹیلیجنس، پولیس ہیڈ کوارٹر اور دیگر تمام اعلیٰ عہدیداران کی عمارتوں پر قابض ہوچکے ہیں۔ سرکاری سطح پر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی مگر جلال آباد کے ایک شہری احمد ولی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم صبح اٹھے تو طالبان کے سفید پرچم شہر بھر میں لہرائے جا رہے تھے۔ وہ لڑے بغیر ہی شہر میں داخل ہوگئے۔‘
جلال آباد کابل سے قریب 150 کلو میٹر دور مشرق میں واقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق قبائلی رہنماؤں کی مشاورت کے بعد جلال آباد بغیر لڑائی کے مسلح جنگجوؤں کے حوالے کر دیا گیا۔
جلال آباد پر قبضے کا مطلب یہ ہوگا کہ طالبان نے ان شاہراہوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے جو ملک کو پاکستان سے ملاتی ہیں۔ جلال آباد پر طالبان کے ’قبضے‘ سے قبل انھوں نے مزار شریف پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وائٹ ہاؤس سے جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ انھوں نے ’سفارتی، فوجی اور انٹیلی جنس گروپوں کی سفارشات کی بنیاد پر‘ افغانستان میں موجود ’امریکی عملے‘ اور ’امریکی اتحادیوں‘ کو ملک سے نکالنے کے لیے ’تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی‘ کی اجازت دی ہے۔
امریکی صدر کے بیان کے مطابق وہ گذشتہ کئی روز سے امریکی قومی سلامتی ٹیم سے اس حوالے سے بات چیت کر رہے تھے اور اس بارے میں انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی عسکری مشن ختم کرنے کے بعد بھی وہ علاقے میں ہونے والی صورتحال کی نگرانی کریں گے تاکہ مستقبل میں افغانستان سے ابھرنے والے کسی بھی دہشت گردی کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انھوں نے دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کو پیغام دیا ہے کہ اگر طالبان کی جانب سے ایسی کوئی بھی کارروائی کی گئی جس سے امریکی عملے اور ان کے مشن کو خطرہ پہنچنے کا خدشہ ہو، تو امریکہ بھرپور قوت سے جواب دے گا۔
صدر بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ افغان فوج کو خود اپنی سرزمین کی ذمہ داری لینا تھی۔
انھوں نے کہا کہ وہ ایک اور ملک میں خانہ جنگی کے دوران نہ ختم ہونے والی امریکی موجودگی کا جواز نہیں دے سکیں گے۔ بائیڈن کا موقف تھا کہ مزید پانچ برسوں سے بھی کوئی فرق نہ پڑے اگر افغان فوج خود اپنے ملک کی ذمہ داری نہ لے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان جنگجوؤں نے شمالی افغانستان میں حکومت کے آخری مضبوط گڑھ مزار شریف پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ جبکہ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مزار شریف اب بھی حکومت کے زیر قبضہ ہے۔
طالبان جو بہت تیزی سے پے در پے متعدد افعان صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کیے جا رہے ہیں وفاقی دارلحکومت کابل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
دو دن قبل افغان صدر اشرف غنی نے مزار شریف کا دورہ کیا تھا اور افغان فوجیوں کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
مزار شریف کو طالبان مخالف گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
افغانستان میں حالیہ بد امنی اور تشدد کے باعث تقریباً ڈھائی لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔
ملک کے بیشتر حصے پر طالبان قابض ہیں اور ایسے میں نقل مکانی کرنے والے بہت سے افراد کابل کا رخ کر رہے ہیں۔
طالبان کے زیر قبضہ علاقوں میں خواتین سے برقعہ پہننے کے لیے کہا جا رہا ہے جبکہ عسکریت پسندوں کی جانب سے سماجی قوانین توڑنے پر لوگوں کو مارنے اور کوڑنے لگانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SayedSamiSadat
افغان صدر اشرف غنی نے میجر جنرل سید سمیع سادات کو صوبہ کابل میں سیکورٹی کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔
طالبان کی افغانستان میں تیزی سے پیش قدمی اور ان کے دارالحکومت کابل کے قریب پہنچنے کے پیش نظر افغان صدر اشرف غنی نے صوبہ کابل کی سکیورٹی کے لیے نئے سربراہ کو تعینات کیا ہے۔
افغانستان کے صدارتی محل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر اشرف غنی کے احکامات پر میجر جنرل سید سمیع سادات کو صوبہ کابل کا نیا سکیورٹی سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
'ان احکامات کی روشنی میں تمام حکومتی ایجنسیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ان کی ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ صوبہ کابل کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور بڑے شہروں پر ان کے قبضے کے دعوؤں کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ مسلح افواج کی تنظیم نو ان کی اولین ترجیح ہے۔
سنیچر کو ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں صدر غنی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اندرون و بیرون ملک وسیع مشاورت شروع کر دی ہے اور نتائج جلد عوام کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ملک عدم استحکام سے دوچار ہے اور ’میری کوشش ہوگی کہ ملک کو مزید عدم استحکام، تشدد اور لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچایا جائے۔‘
صدر غنی نے کہا کہ ’میں اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ افغان شہریوں پر جنگ مسلط کی جائے جس سے ان کی جانیں ضائع ہوں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’20 سال میں جو کچھ حاصل ہوا اسے گنوا دیا جائے، لوگوں کے املاک کو نقصان پہنچایا جائے اور مزید عدم استحکام بڑھے، میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔‘
افغان صدر کے استعفے کی افواہوں کے برعکس انھوں نے اس ویڈیو پیغام میں ایسی کوئی بات نہیں کی۔ مگر اس پیغام کے دوران ان کے چہرے پر تناؤ دیکھا جاسکتا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بی بی سی کی یلدا حکیم افغانستان سے موصول ہونے والی تصاویر شیئر کر رہی ہیں جن میں کابل ایئرپورٹ سے سنیچر کے روز لوگ بیرونِ ملک روانگی کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔
انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ چند خوش قسمت افراد ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ہم جانا نہیں چاہتے لیکن ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔ ہمیں زندہ رہنا ہے، ہمارے بچوں نے بھی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
قطر نے افغانستان کی صورتحال کے پیش نظر طالبان سے جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے سنیچر کو طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ سے ملاقات کی ہے اور امن مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔
قطری حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق ’اس ملاقات میں قطر کے وزیر خارجہ نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کو ختم اور سیز فائر کریں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
افغانستان کے شہر قندھار کے ہوائی اڈے پر امریکی فضائی حملے کی اطلاعات ہیں۔
افغانستان کے ایک مقامی صحافی بلال سروری کے مطابق امریکی فوج نے قندھار کے ہوائی اڈے پر فضائی حملہ کیا ہے۔
انھوں نے مقامی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر اور سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں ’متعدد طالبان جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔‘
یاد رہے کہ طالبان نے جمعے کو افغانستان کے دوسرے بڑے اور اہم تجارتی شہر پر قبضہ کیا تھا۔ طالبان کی جانب سے قندھار پر قبضے کو افغان حکومت اور فوج کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
سنہ 1997 میں صحافی محمود جان ایک گاڑی میں چند سینئر صحافیوں کے ہمراہ طورخم بارڈر کی جانب جا رہے تھے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کا یہ دوسرا سال تھا اور محمود جان چند سنی سنائی باتوں کی خود جانچ کرنا چاہتے تھے ۔ اپنے اس سفر پر انھوں نے افغانستان میں کیا دیکھا؟ جانیے اس آڈیو سٹوری میں جسے پیش کر رہے ہیں خدائے نور ناصر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان نے دو مزید صوبوں پکتیکا اور کنڑ کے دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
پکتیکا کی صوبائی کونسل کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت شاران پر سنیچر کے روز قبضہ کیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ صوبے کا محکمہ انٹیلیجنس، گورنر کا دفتر، پولیس ہیڈکوارٹر اور مقامی جیل اب طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ شاران ملک کے دارالحکومت کابل کے جنوب میں 200 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اسدآباد صوبہ کنڑ کا دارالحکومت ہے اور ایک مقامی رکنِ پارلیمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس پر بھی طالبان نے سنیچر کے روز قبضہ کر لیا ہے۔
ٹوئٹر پر شائع ہونے والی غیرتصدیق شدہ فوٹیج میں طالبان کا جھنڈا لہراتے افراد گلیوں سے گزرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اسد آباد کابل کے مشرق میں 235 کلومیٹر دور ہے۔
طالبان اس وقت ملک کے آدھے سے زیادہ صوبائی دارالحکومتوں پر قابض ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ ابھی بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر تشریف لائے ہیں تو آج کی نمایاں خبروں کا خلاصہ پڑھیے:
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
فاطمہ حسینی کابل کی سڑکوں پر فیشن فوٹوگرافی کرتی ہیں۔ ان کی تصاویر میں خواتین مقامی روایات کو چیلینج کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن طالبان اب ایسے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
مزید جانیے اس ویڈیو میں۔

،تصویر کا ذریعہMoD Handout via PA
ان تصاویر میں برطانوی مسلح افواج کے اہلکار کابل کے لیے روانہ ہو رہے ہیں تاکہ وہاں موجود برطانوی باشندوں کو بحفاظت واپس لایا جایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہMoD Handout via PA
اسے آپریشن پٹنگ کا نام دیا گیا ہے اور اس کے لیے تقریباً 600 فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔
برطانیہ کی جانب سے اپنے شہریوں کو ’ملک کی بگڑتی سکیورٹی صورتحال‘ کے باعث فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کا کہا گیا ہے اور اس حوالے سے تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہMoD Handout via PA

افغانستان میں ایک مقامی رکن پارلیمان نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان ضلع چھار آسیاب پہنچ چکے ہیں اور دارالحکومت کابل کے جنوب میں صرف سات میل یعنی 11 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔
بی بی سی کی جانب سے تاحال اس دعوے کی آزادانہ تحقیق نہیں ہو سکی۔
اگر اس بات کی تصدیق حکومت کی جانب سے کر دی جاتی ہے تو یہ افغان فورسز کے لیے ایک اور دھچکا ثابت ہو گا کیونکہ اب تک طالبان پیش قدمی کرتے ہوئے کابل کے سب سے قریب پہنچ چکے ہیں۔
اوپر دیے گئے نقشے میں اس وقت طالبان اور حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی تفصیل موجود ہے۔

افغانستان میں تشدد میں حالیہ اضافے اور طالبان کی جانب سے شمالی افغانستان میں متعدد علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ہزاروں افراد نے وہاں سے جان بچا کر دارالحکومت کابل کا رُخ کیا ہے۔
دارالحکومت میں آنے والے ان پناہ گزینوں میں سے بیشتر رات خالی عمارتوں میں یا فٹ پاتھوں پر گزارتے ہیں۔
انھیں اپنی بنیادی ضروریات جیسا کہ ادویات، خوراک اور رہائش کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس یہاں آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور انھوں نے کابل میں مشکلات کو اپنے آبائی علاقوں میں ممکنہ موت پر ترجیح دی ہے۔
ایسے ہی ہزاروں پناہ گزین شہر کے مضافات میں واقع عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
افغان صدر اشرف غنی نے اپنے پیغام میں حکومت اور شہریوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے مگر یہ بیانات ایک ایسے وقت میں جاری ہوئے ہیں کہ جب طالبان جنگجوؤں نے لوگر صوبے کے دارالحکومت پل عالم پر قبضہ کر لیا ہے۔
پل عالم میں مقامی کونسل کے ایک رکن نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کو وہاں زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ شہر کابل کے جنوب میں قریب 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
افغان حکومت کے ایک اہلکار نے جمعے کو تصدیق کی تھی کہ ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر قندھار پر طالبان نے اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ جبکہ ایران کی سرحد کے قریب ہرات شہر پر بھی طالبان نے قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی اور بڑے شہروں پر ان کے قبضے کے دعوؤں کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ مسلح افواج کی تنظیم نو ان کی اولین ترجیح ہے۔
سنیچر کو ایک خصوصی ویڈیو پیغام میں صدر غنی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اندرون و بیرون ملک وسیع مشاورت شروع کر دی ہے اور نتائج جلد عوام کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ملک عدم استحکام سے دوچار ہے اور ’میری کوشش ہوگی کہ ملک کو مزید عدم استحکام، تشدد اور لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچایا جائے۔‘
صدر غنی نے کہا کہ ’میں اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ افغان شہریوں پر جنگ مسلط کی جائے جس سے ان کی جانیں ضائع ہوں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’20 سال میں جو کچھ حاصل ہوا اسے گنوا دیا جائے، لوگوں کے املاک کو نقصان پہنچایا جائے اور مزید عدم استحکام بڑھے، میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔‘
افغان صدر کے استعفے کی افواہوں کے برعکس انھوں نے اس ویڈیو پیغام میں ایسی کوئی بات نہیں کی۔ مگر اس پیغام کے دوران ان کے چہرے پر تناؤ دیکھا جاسکتا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام

،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کی پیش قدمی جاری ہے اور افغان فوج سے لڑائی میں وہ آہستہ آہستہ دارالحکومت کابل کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
کابل کے قریب ایک شہر میدان شار میں دونوں فریقین کی لڑائی جاری ہے۔ یہ شہر کابل سے 40 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔
طالبان نے اب تک ملک کے نصف صوبائی دارالحکومتوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری طرف شمالی شہر مزار شریف میں بھی لڑائی جاری ہے جو فی الحال وہ واحد بڑا صوبائی شہر ہے جو اب بھی پوری طرح حکومت کے کنٹرول میں ہے۔
طالبان نے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کے دوران پکتیکا اور کنر صوبوں کے کئی علاقوں پر قبضوں کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم اب تک سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔