شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان
وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, سندھ میں ہر جگہ پانی ہی پانی ہے، اولین ترجیح لوگوں کی جان بچانا ہے: مراد علی شاہ

،تصویر کا ذریعہPPP Media Cell
پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ بھر میں حالات خراب ہیں، ہماری اولین ترجیح لوگوں کی جان بچانا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے منچھر جھیل پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں میں تقریباً سندھ بھر کا دورہ کیا ہے، قمبر، شہداد کوٹ، لاڑکانہ سمیت ہر شہر میں پانی ہی پانی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت دریا کے دونوں اطراف دباؤ زیادہ ہے کل رات کو سپریو بند میں شگاف پڑا جس سے جوہی شہر کو شدید خطرہ ہے۔
انھوں نے کراچی کو پانی فراہم کرنے والی منچھر جھیل کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ منچھر جھیل کی سطح اس وقت 121 ہے جبکہ سنہ 2010 میں یہ سطح 118 میں بھر گئی تھی۔
علاقے میں امدادی سرگرمیوں کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیول چیف سے بات کی ہے، نیوی کے دو ہیلی کاپٹر دادو پہنچ رہے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’ہم ایک لاکھ 5 ہزار خیمے تقسیم کر چکے ہیں مگر مزید بہت سے خیموں کی ضرورت ہے۔
سیلاب متاثرین کی امداد و بحالی کی حکومتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ممالک سے بات کی ہے، اتوار کو پاکستان کو ترکی سے کچھ امداد ملی ہے۔ ہم امداد تقسیم کر رہے ہیں مگر ضروریات کچھ زیادہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو ساڑھے 7 لاکھ راشن بیگس کا آرڈر دیا ہے۔ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں آپ کےساتھ ہوں۔ اور میرے تمام نمائندے یہاں موجود رہیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اس صورتحال کو خود مانیٹر کر رہے ہیں۔
بریکنگ, وزیرِ اعظم شہباز شریف سیلاب متاثرین سے ملاقات کے لیے نوشہرہ پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہPMO
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سیلاب کی صورتحال اور ریسکیو و امدادی کاروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے پیر کو خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ کا دورہ کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کو نوشہرہ میں سیلاب کی صورتحال اور جاری ریسکیو و امدادی کاروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نوشہرہ میں مردان پُل پر سیلاب کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ مردان پُل پر وزیرِ اعظم کو دریائے کابل میں سیلاب کی صورتحال اور جاری ریسکیو کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیرِ اعظم نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے اور فوری ریسکیو کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے کی ہدایات جاری کیں۔
جس کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف گورنمنٹ کامرس کالج نوشہرہ میں سیلاب متاثرین کے لیے قائم امدادی کیمپ گئے اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کی۔
بریکنگ, شدید سیلاب سے ملکی معیشت کو کم از کم 10 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا: مفتاح اسماعیل

پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پاکستان کو کم از کم 10ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو حالات بہتر ہونے کے بعد سروے میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان کے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے مختلف شعبوں کو کم از کم 10ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس وقت معیشت کے ہر شعبے کو درپیش نقصانات کی تفصیلات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ابھی تک اس نقصان سے متعلق بین الاقوامی ڈونرز کو اعتماد میں نہیں لیا۔
سیلاب کے معاشی نقصانات پر سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی, تنویر ملک، صحافی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے بڑے معاشی نقصان کی خبروں کا سوموار کے روز سٹاک مارکیٹ پر منفی اثر پڑا جب کاروبار کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
پیر کے روز سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے پہلے آدھے گھنٹے میں مارکیٹ کے انڈیکس میں ساڑھے چار سو پوائنٹس سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ملک کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا منفی اثر سٹاک مارکیٹ میں دیکھا جا رہا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سیلاب کی وجہ سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ دس ارب ڈالر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ملک معاشی اشاریوں میں ابتری آنے سے سرمایہ کار خریداری کے سلسلے میں محتاط ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سیلاب متاثرین کے لیے آج ٹیلی تھون کریں گے
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’ذمہ داری تھی کہ کسی سے قربانی مانگنے سے پہلے خود قربانی دیتا‘
سیلاب زدگان کی بحالی میں برسوں لگیں گے، پوری قوم کی مدد چاہیے: آرمی چیف

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں کئی برس لگیں گے، اس کے لیے پوری قوم کی مدد چاہیے۔
ایک ویڈیو بیان میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سیلاب زدگان کے لیے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں چند دنوں سے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کر رہا ہوں، کل میں نے بلوچستان کے علاقے اوتھل اور بیلا کا دورہ کیا، آج خیر پور سندھ آیا ہوں، یہاں بہت تباہی ہوئی ہے، وفاقی،صوبائی حکومتیں، آرمی، نیوی، ائیرفورس اور فلاحی ادارے ریلیف کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ’اس سال سیلاب بہت بڑے پیمانے پر آیا ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی میں بہت سال لگ جائیں گے، بحالی کے لیے ہمیں پوری قوم کی مدد چاہیے، دوست ممالک سے ہم نے اور ہماری حکومت نے درخواست کی ہے، حکومت اور پاکستانی عوام کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دوستوں سے اپیل کرتا ہوں، آگے آئیں اور مشکل حالات میں گِھرے لوگوں کی مدد کریں، یقین ہے ہمیشہ کی طرح ہمارے تارکین وطن پاکستان میں اپنے بھائیوں کو مایوس نہیں کریں گے۔‘
سیلاب متاثرین لاڑکانہ ریلوے سٹیشن پر رہنے پر مجبور

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے، ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور اب کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ضلع لاڑکانہ میں سیلاب متاثرین چند خاندانوں نے لاڑکانہ ریلوے سٹیشن پر عارضی قیام کیا ہوا ہے۔
وہ ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارمز پر کیمپ بنا کر رہنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں غیر معمولی طویل مون سون کے باعث شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق اس سیلاب سے سوا تین کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی تازہ ترین صورتحال
- وزیرِ اعظم شہباز شریف آج (پیر) خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلا ع نوشہرہ اور چار سدہ کا دورہ کرینگے۔
- فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سوات میں چکدرہ اور منڈا ہیڈ ورکس کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا گذر رہا ہے۔
- دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس وقت تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
- قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1061ہے جبکہ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔
- سیلاب سے ملک بھر میں تقریباً دس لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور ساڑھے سات لاکھ کے قریب مال مویشی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں۔
- ملک کے چاروں صوبے میںسیلابی پانی نے ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سڑکوں اور شاہراوں کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ 157 پل بھی تباہ ہوئے ہیں۔
- قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے ملک کے 72 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔
پاکستان کے وسطی پنجاب کے علاقے سیلاب سے کیسے محفوظ رہے ہیں؟
پوپ فرانسس کی پاکستان کے لیے دعا، عالمی برادری سے امداد کی اپیل

،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو) کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے اتوار کو پاکستانی عوام کے لیے خصوصی دعا کی اور عالمی برادری پر پاکستان کی امداد کے لیے زور دیا۔
وہ اٹلی کے شہر لا آقوئلا کے دورے پر ہیں۔ اٹلی کے اس شہر میں سنہ 2009 میں زلزلے کے باعث 300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
پوپ فرانسس کا کہنا تھا کہ آفت کا نشانہ بننے والی اس جگہ پر وہ پاکستانی عوام کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ شدید سیلاب سے متاثر ہونے والے پاکستان کے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ ان کے قریب ہیں۔
’میں ان لاتعداد متاثرین کے لیے، زخمیوں کے لیے اور بے گھر ہونے والوں کے لیے دعاگو ہوں، عالمی برادری کی سخاوت اور فوری یکجہتی کے لیے دعا کرتا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنپوپ فرانسس اپنے حالیہ دورے میں سیلاب ڈائری: پانی سے کسے بچائیں اور کون ڈوبے، سندھ میں بڑا سوال
بارشوں، سیلاب سے بلوچستان میں 200 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا: عبدالقدوس بزنجو

،تصویر کا ذریعہEPA
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں 200 ارب روپے سے زائد کے نقصانات ہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا بلوچستان میں 2010ء کے سیلاب کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ تباہی ہوئی ہے۔
اُنھوں نے اس کی سب سے بڑی وجہ غیر معمولی بارشوں کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بارشیں معمول سے زیادہ ہونے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سو سال سے زائد پرانا ریلوے کا پل اتنے عرصے میں بارشوں سے نہیں گرا لیکن موجودہ بارشوں اور سیلابی ریلوں میں وہ گر گیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ان کی رائے یہ ہے کہ جب لوگ مشکل صورتحال میں ہوں تو اس وقت وی آئی پی موومنٹ کو کم ہونا چاہیے کیونکہ وی آئی پی موومنٹ کی صورت میں انتظامیہ کی ساری توجہ متاثرین کی جانب ہونے کے بجائے وی آئی پی موومنٹ کی جانب ہوتی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں لوگوں کو خیموں کو زیادہ سے زیادہ ضرورت ہے لیکن ملک کی مارکیٹوں میں اتنے ٹینٹ دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے خیموں کی فراہمی میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
نوشہرہ سے دو لاکھ 30 ہزار لوگ محفوظ مقامات پر منتقل: پی ڈی ایم اے

،تصویر کا ذریعہNowshera Police
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے نوشہرہ میں 55 ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں اور مجموعی طور پر ضلع نوشہرہ سے 230000 لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 25000 افراد کیمپس میں موجود ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نوشہرہ کے مطابق ’تحصیل ببی کے ریلیف کیمپس میں 6500، جہانگیرہ میں 2500 اور دوسرے کیمپس میں 16000 افراد موجود ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’کیمپس میں علاج معالجے کے لیے ڈاکٹرز اور ادویات بھی میسر ہے۔ کیمپس میں متاثرین کی خوراک و بنیادی ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔‘
بابوزئی اور چارسدہ میں 1860 افراد کو ریسکیو کیا گیا: پی ڈی ایم اے

،تصویر کا ذریعہReuters
خیبر پختونخوا میں پی ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 12 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور سیلاب سے چارسدہ میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق چارسدہ میں 21 مکانات کو مکمل نقصان پہنچا۔ بابوزئی اور چارسدہ میں 1860 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
اس کے مطابق 60 افراد کو اپر دیر سے بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو کیا گیا۔ چار اضلاع میں 36 کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن میں 23 چارسدہ میں، دو ٹانک، چار بابوزئی جبکہ 27 اپر دیر میں قائم کیے گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ چار اضلاع میں 745 ٹینٹس تقسیم کیے گئے ہیں جن میں ٹانک میں 215، بابوزئی میں 120، چارسدہ میں تین سو اور اپر دیر میں 110 تقسیم کیے گئے۔
520 تارپولین شیٹس چارسدہ اور بابوزئی میں تقسیم کیے گئے۔ اسی طرح 165 ہاجین کیٹس، 310 کمبل، 160 میٹرس، 120 این ایف آئی کٹس تقسیم کیے گئے۔ جبکہ 24875 فوڈ پیکجز بھیجے گئے ہیں۔
بلوچستان کے تمام تعلیمی ادارے تین ستمبر تک بند رہیں گے
صوبہ بلوچستان کے تمام سرکاری تعلیمی ادارے پیر سے جمعے تک بند رہیں گے۔
وزیر تعلیم نصیب اللہ مری نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سیلاب و بارشوں سے ہونے والی حالیہ تباہی کے باعث کیا گیا۔ ’سرکاری اسکولوں میں سیلاب متاثرین کو پناہ دی گئی ہے۔‘
بلوچستان میں سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث تمام نجی و سرکاری سکول تین ستمبر تک بند رہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan
اس سے قبل طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث بلوچستان بھر میں سکولوں کو 22 اگست سے ایک ہفتے کے لیے بند کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے متعدد علاقوں میں سیلابی پانی کھڑا ہونے کے باعث راستے بند ہیں جبکہ بعض علاقوں میں سیلاب متاثرین کو سکولوں کی عمارتوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
’آئندہ 24 گھنٹوں میں نوشہرہ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری رہنے کا امکان‘

،تصویر کا ذریعہReuters
این ڈی ایم اے کے مطابق اس وقت دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
اس کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق:
- دریائے سندھ میں چشمہ، تونسہ اور سکھر میں اونچے درجے کا سیلاب ہے
- دریائے سندھ می کالاباغ، گڈو اور کوٹری میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا میں نچلی سطح کا سیلاب ہے
- آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب جاری رہنے کا امکان ہے۔ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ پر اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے۔
’ملک میں سیلاب کی وجہ سے 72 اضلاع آفت زدہ قرار، تین کروڑ 30 لاکھ کی آبادی متاثر‘

،تصویر کا ذریعہNDMA
این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں 72 اضلاع کو سیلاب کی وجہ سے آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔ ملک میں تین کروڑ 30 لاکھ کی آبادی کو متاثرین میں شمار کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے 31، سندھ کے 23، خیبرپختونخوا کے نو، گلگت بلتستان کے چھ اور پنجاب کے تین اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔
سندھ میں 84 ہزار، خیبرپختونخوا میں 43 ہزار سے زیادہ گھر و عمارتیں تباہ: این ڈی ایم اے

،تصویر کا ذریعہNDMA
این ڈی ایم اے کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے 3457.5 کلومیٹر طویل سڑکیں، 157 پُل، 170 دکانیں اور 992871 گھر و عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔
جبکہ سیلاب کے پانی میں 727,144 مویشی بہہ گئے ہیں اور دیہی علاقوں میں لوگوں کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا میں 9931 گھر و عمارتیں تباہ ہوئی ہیں اور 7505 مویشی بہہ گئے ہیں۔ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 33075 مکان و عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔ ادھر گلگت بلتستان میں آٹھ پُل ٹوٹ گئے ہیں۔
