شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے‘ یو این او سی ایچ اے

    ایشیا میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی ہمدردی کے امور (یو این او سی ایچ اے) نے پاکستان میں مون سون اور سیلاب کی صورتحال پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق:

    • متاثرہ اضلاع کی تعداد 116 ہے جن میں 66 اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے اور بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے سے آفت زدہ اضلاع کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
    • 14 جون سے اب تک کم از کم 1033 افراد ہلاک اور 1527 زخمی ہوئے ہیں
    • گذشتہ 30 سالوں کی اوسط کے مقابلے میں حالیہ بارشیں 2.87 گنا زیادہ ہوئی ہیں۔ کچھ صوبوں میں 30 سالہ اوسط کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ بارش ہوئی ہے۔
    • حکومت پاکستان نے دیگر امداد کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے 35 ارب (173 ملین ڈالر) مختص کیے ہیں۔
    • موسم اور زمینی حالات امداد پہنچانے میں مشکلات کا سبب بن رہے ہیں تاہم کئی تنظمیں انسانی ہمدردی کے تحت سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے امداد فراہم کر رہی ہیں

    ادارے نے آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے ’کیونکہ کئی علاقوں میں کیے گئے انتظامات اور انفراسٹرکچر ان شدید بارشوں کا مقابلہ کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو رہے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. کوئٹہ میں ٹیلی نار، زونگ، یوفون اور دیگر انٹرنیٹ سروسز بحال

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق کوئٹہ شہر میں ٹیلی نار، زونگ، یوفون اور دیگر تمام انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہیں۔

    اس کے علاوہ دیگر متاثرہ علاقوں میں سروسز کی بحالی کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔

  3. ڈی سی نوشہرہ کی لوگوں سے گھر خالی کرکے ریلیف کیمپوں میں منتقل ہونے کی اپیل

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نوشہرہ قرۃ العین وزیر کے مطابق دریاٸے کابل میں اس وقت پانی کا بہاٶ تین لاکھ سات ہزار کیوسک ہے اور سوات کی جانب سے نوشہرہ آنے والا ریلہ جو 120000سے 1300000 کیوسک ہے، اگلے چار سے چھ گھنٹوں تک نوشہرہ سے گزرے گا جس سے مندرجہ ذیل علاقے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے:

    گڑھی مومنت جبہ داٶد زٸی، کیمپ کورونہ، زخٸ جٹ، بانڈہ شیخ اسماعیل، بانڈہ ملاخان، چوکی درب، کڑوٸی، چوکی ممریز، پشتون گڑھی، نوشہرہ کلاں (ماناخیل، چوکی ٹاٶن، شہلاخیل، ہوتی خیل، نوشہرہ سٹی، الہ یار خیل، ڈاگی خیل، اباخیل، تحصیل روڈ، ڈاگونہ، ہسپتال روڈ، ڈھیری خیل، دھوبی گھاٹ وغیرہ) پیر سباق، امانگڑھ اوردریاٸے کابل سے دیگر ملحقہ علاقہ جات۔

    انھوں نے ان علاقوں کے لوگوں کو خبردارکیا ہے کہ وہ فوری طورپر گھر خالی کریں اور انتظامیہ کی زیرنگرانی ریلیف کیمپوں میں پناہ لیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلہ آنے کی صورت میں ریلیف آپریشن میں مشکلات اور نقصان کا اندیشہ ہے۔

  4. ’پانی میں گھر گھر جا کر لوگوں کو نکالنا اس لیے مشکل تھا کیونکہ لوگ سمجھتے نہیں کہ کیا ہو سکتا ہے‘

  5. کاغان میں سیلاب: پل ٹوٹنے سے رابطے منقطع، ہزاروں شہری امداد کے منتظر

    تین روز قبل کاغان کی وادی مانور میں سیلاب نے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی۔ پندرہ افراد ہلاک اور کئی دکانیں، پولیس اسٹیشن، مدرسہ اور ہوٹل سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے۔

    جبکہ مانور وادی سمیت متعدد گاؤں پل ٹوٹنے کی وجہ سے تاحال دیگر علاقوں سے منقطع ہیں اور ہزاروں شہری امداد کے منتظر ہیں۔

    مزید جانیے فرحت جاوید اور نعمان خان کی اس ویڈیو میں۔

  6. لیہ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا، آئی ایس پی آر

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فوج کی ٹیموں نے لیہ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین اور بچوں سمیت پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ضلع راجن پور میں فضائی امدادی آپریشن کے دوران متاثرین کو راشن بیگز اور ٹینٹوں کی شکل میں امداد فراہم کی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ریلیف کیمپوں میں رہنے والے لوگوں کو پکا ہوا کھانا اور خشک راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فوج سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے جس میں فوج کی جانب سے لگائے گئے میڈیکل کیمپوں میں فوری طبی امداد بھی شامل ہے۔

  7. نوشہرہ میں سیلاب: شہری اپنے مویشیوں کو جی ٹی روڈ پر لے آئے

    ْْBBC

    نوشہرہ میں سیلاب کی وجہ سے شہری اپنے مویشی جی ٹی روڈ ہر لے آئے ہیں۔

    ان افراد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی لہذا وہ اپنے مویشیوں سمیت جی ٹی روڈ پر آ گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے علاقے میں ہر شخص کے تین چار جانور کم ہو گئے ہیں اور اب یہاں ان جانوروں کے لیے چارہ بھی نہیں ہے۔

  8. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چودہ سالہ بچی عارضی پل سے نالے میں جا گری, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع نیلم میں ضلعی ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کے آفیسر اختر ایوب کے مطابق کیل کی وادی شونٹھر سمیت ملحقہ علاقوں میں پھنسے سیاحوں اور مقامی افراد کو نکالنے کے لیے نریل نالے پر لکڑی کے عارضی پل کو عبور کرتے ہوئے ایک پندرہ سالہ بچی مسرت بی بی اور اس کے خالو نالے میں بہہ گئے۔

    ان کے مطابق مقامی لوگوں نے بچی کے خالو کو بچا لیا مگر بچی نالے کے پانی میں بہہ گئی جس کی تلاش جاری ہے۔

    اس واقعہ کی ویڈیو بنانے والے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کے رضاکار علی زمان کے مطابق حالیہ بارشوں سے اس نالے پر نصب پل سیلابی پانی کی نظر ہوگیا تھا جس کے بعد مقامی افراد نے اپنی مدد اپ کے تحت پیدل گزرنے کے لیے عارضی بنیادوں پر لکڑی کا پل نصب کیا تھا۔

    مسرت بی بی ایک طالبہ تھیں اور اگلے روز انھیں سکول پہچنا تھا ۔علی زمان کا کہنا ہے مسرت بی بی نے پل پر پیدل گزرتے وقت اپنے خالو کا ہاتھ پکڑا رکھا تھا جبکہ ان کے خالو نے رسی پکڑ رکھی تھی۔

    پل کے ایک بڑے حصے سے گزرنے کے بعد مسرت بی بی اور ان کے خالو پھسل کر نالے میں گرے۔

  9. کوئٹہ کے قریب تفریحی مقام ہنہ اوڑک میں سڑکیں مکمل تباہ، گاؤں سیلاب میں بہہ گئے, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    DGPR

    ،تصویر کا ذریعہDGPR

    طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے کوئٹہ کے قریب واقع تفریحی مقام ہنہ اوڑک میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔

    علاقے میں سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور گاؤں سیلاب سے بہہ گئے ہیں۔

    سیلاب سے ہنہ اوڑک میں باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے ہنہ اوڑک میں متاثرین کو ہرممکن ریلیف کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کی ہدایت کی ہے۔

    DGPR

    ،تصویر کا ذریعہDGPR

    DGPR

    ،تصویر کا ذریعہDGPR

  10. قومی شاہراہوں کی صورتحال

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق:

    • شمالی اور جنوبی پنجاب کی تمام قومی شاہراہیں بحال ہیں
    • سندھ کی تمام قومی شاہراہوں پر ٹریفک رواں دواں ہے
    • بلوچستان کی قومی شاہراہ ایم 8 اور این 65 سیلاب کے باعث بند ہے
    • ایم 8 خضدار، قبول سعید خان سیکشن سے قومی شاہراہ بند ہے
    • کوئٹہ، سبی، ڈیرہ اللہ یار ہائی وے این 65 ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے
    • گلگت بلتستان کی قومی شاہراہ این 35 اور ایس 1 ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلی ہے
    • قومی شاہراہ این 140 گلگت شندور کو پانچ مقامات سے ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے
    • قومی شاہراہ این 140 گلگت شندور تین مختلف مقامات سے ٹریفک کے لیے بند ہے
  11. بلوچستان: ضلع نوشکی کے علاقے ڈاک میں کئی دیہات زیر آب، متعدد افراد پھنس گئے, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    Zahid Mengal

    ،تصویر کا ذریعہZahid Mengal

    بلوچستان کے شمالی علاقوں میں تباہی مچانے کے بعد طوفانی بارشوں کے ریلے ضلع نوشکی کے علاقے ڈاک میں داخل ہوگئےہیں۔

    غیرسرکاری تنظیم آزاد فائونڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر زاہد مینگل نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاک میں متعدد دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ڈاک کے مختلف علاقوں میں لوگ سیلابی ریلوں میں پھنس گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاک کے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو ریلیف کی ضرورت ہے۔

    Zahid Mengal

    ،تصویر کا ذریعہZahid Mengal

    Zahid Mengal

    ،تصویر کا ذریعہZahid Mengal

  12. بریکنگ, دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ: وزیر اعلیٰ پنجاب کا میانوالی کی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم

    وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے سیلاب کے خدشے کے پیش نظر میانوالی کی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم جاری کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل رکھی جائیں۔

    چودھری پرویز الٰہی نے لوگوں کے بروقت انخلاء کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے کا حکم جاری کیا ہے۔

    وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ حفاظتی انتظامات ہر لحاظ سے موثر اور جامع ہونے چاہئیں اور ادویات، پینے کے صاف پانی، مویشیوں کے لیے چارہ اور ضروری ساز و سامان کا وافر سٹاک رکھا جائے۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ کو 24 گھنٹے مانیٹر کیا جائے۔ انھوں نے متعلقہ افسران کو دریا کے بند اور حفاظتی پشتوں کا موقع پر جا کر خود جائزہ لینے کا کہنا ہے۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ کشتیاں، ڈی واٹرنگ سیٹ اور دیگر آلات سوفیصد فنکشنل ہونے چاہئیں۔

  13. عمران خان کل رات 9:30 سے 12 بجے تک سیلاب زدگان کے لیے ٹیلی تھون کریں گے

    عمران خان کل رات 930 سے 12 بجے تک سیلاب زدگان کے لیے ٹیلی تھون کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کے مطابق اس موقع پر پنجاب اور پختونخواہ کے وزرائے اعلی ان کے ساتھ ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت نے پابندی ختم کی تو سیلاب زدگان کے لیے یہ ٹیلی تھون تمام ٹیلی ویژن پر لائیو ہو گی اور 500 سے زیادہ ڈیجیٹل پلیٹ فورمز اس نشریات کے لیے استعمال ہوں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی) نے اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی پیش گوئی کی ہے۔

    اس کے علاوہ ایف ایف ڈی نے 24-48 گھنٹوں کے دوران دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر بہت اونچے درجے کے سیلاب کی بھی پیش گوئی کی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے رواں ہفتے کے دوران سیلاب کے پیش نظر صوبائی اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بر وقت اور پیشگی اقدامات کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔

  15. پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

    پشاور میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کے احکامات کے مطابق ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    ترجمان کے ٹی ایچ پشاور کے مطابق خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ڈائیریکٹر کے زیر نگرانی منیجمنٹ سٹاف کا ایمرجنسی اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کی گئی جو ہفتہ اور اتور کو بھی معمول کی طرح ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔

    ہسپتال کے تمام عملے کو ہائی الٹرٹ کیا گیا ہے۔

    خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی جانب سے میڈیکل ٹیمیں تشکیل دی گئیں جس میں ڈاکٹر، نرسسز، پیرامیڈیکل اور دیگر سپورٹ سٹاف شامل ہے۔

    نوشہرہ اور چارسدہ میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں اور ہسپتال میں سیلاب زدگان کے لیے 20 بستروں پر مشتمل وارڈ مختص کر دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ ہسپتال میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی نگرانی ہسپتال ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ظفر آفریدی خود کریں گے۔

  16. آٹھ گھنٹے میں جو 1500 کماتے تھے، خراب سڑک کی وجہ سے وہ بھی نہیں کما پا رہے‘

  17. خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کے سیلاب زدگان کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. وزیر اعظم آج بلوچستان میں جعفر آباد کے سیلاب سے متاثرہ گاؤں کا دورہ کریں گے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف آج صوبہ بلوچستان میں ضلع جعفر آباد کے سیلاب سے متاثرہ گاؤں حاجی اللہ دینو کا دورہ کریں گے۔

    چیف سیکرٹری بلوچستان اور ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے وزیر اعظم کو سیلاب متاثرین کی مدد اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے جاری کاوشوں پر بریفنگ دیں گے۔

    بعد ازاں وزیر اعظم حفیظ آباد، گابی خان، قادر پور اور شکارپور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کریں گے۔

  19. گلگت بلتستان کو ملک سے ملانے والا پل خطرے میں

    شاہراہِ قراقرم پر گلگت بلتستان کو اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر زیریں علاقوں سے ملانے والا پل اس وقت خطرے کی زد میں ہے۔

    اس کا نام کیہال پل ہے اور یہ ضلع کوہستان کے علاقے میں واقع ہے۔

    حکام کے مطابق اس پل کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے فوری مرمت کی ضرورت ہے جس کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو لکھ دیا گیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. فرانس پاکستانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے، صدر میکخواں

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے کہا ہے کہ وہ اس بدترین سیلاب کا سامنا کر رہے پاکستانی عوام، ان میں لاپتہ ہونے والے لاتعداد افراد کے خاندانوں، اور متاثرین کے ساتھ ہیں۔

    اُنھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ فرانس مدد کے لیے تیار ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام