شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سیلاب سے اب تک 1061 ہلاکتوں، 1575 زخمی افراد کی تصدیق: این ڈی ایم اے

    این ڈی ایم اے

    ،تصویر کا ذریعہNDMA

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے 28 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 14 جون سے مون سون کی بارشوں اور سیلاب سے اب تک 1061 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ کم از کم 1575 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 28 اموات کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے بڑی تعداد 16 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

    مجموعی طور پر 16 جون سے اب تک سندھ میں 349، خیبرپختونخوا میں 242، بلوچستان میں 242 اور پنجاب میں 168 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید چار اموات کی تصدیق کے بعد مجموعی تعداد 42 ہوگئی ہے۔

  2. ’ترکی سے سیلاب متاثرین کی امداد شروع‘

    ترکی، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہPIA

    ادھر ترکی کی ایئر فورس کا خصوصی جہاز سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان لے کر کراچی ایئر پورٹ پہنچ گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ دوسرا جہاز کچھ دیر بعد ترکی سے آئے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے پاکستان کی امداد شروع ہوگئی ہے۔

    کراچی ایئرپورٹ پر وفاقی وزیر خرم دستگیر خان اور صوبائی وزیر سعید غنی نے ترکی حکام سے سامان وصول کیا ہے۔

  3. متحدہ عرب امارات سے امدادی سامان کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

    متحدہ عرب امارات سے امدادی سامان کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

    ،تصویر کا ذریعہNDMA

    متحدہ عرب امارات سے امدادی سامان کی پہلی کھیپ نور خان ایئر بیس پہنچی جہاں اسے وزارت منصوبہ بندی، خارجہ اور این ڈی ایم اے کے حکام نے وصول کیا۔

    اس موقع پر پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفیر بھی موجود تھے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ان پروازوں سے سیلاب زدگان کی بحالی کے آپریشن کے لیے فضائی پُل بن سکے گا۔

  4. سیلاب میں پہلی بار بحریہ کو تعینات کرنا پڑا، اکثر علاقہ چھوٹے سمندر کا منظر پیش کر رہا ہے: شیری رحمان

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا ہے کہ مسلسل آٹھویں ہفتے سے ملک کے جنوبی حصے میں مون سون کی بارشیں جاری ہیں جس سے کئی اضلاع سمندر کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

    جرمن چینل ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’افسوس کی بات یہ ہے کہ بارش رُکنے کا نام نہیں لے رہی اور آسمان سے پانی برستا جا رہا ہے۔‘

    ’ہیلی کاپٹروں کو راشن اور ضروری سامان پھینکنے کے لیے خشک زمین نہیں مل رہی۔ لوگ اونچی سطحوں تک محدود ہو کر رہے گئے ہیں۔ (سیلاب کی وجہ سے) پاکستان میں پہلی بار بحریہ کو تعینات کرنا پڑا کیونکہ اکثر جگہ چھوٹے سمندر جیسی نظر آ رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ خراب موسم اور ماحولیاتی تبدیلی کی تباہی کا نتیجہ ہے۔ ’پورے سال خراب موسم کا ایک کے بعد دوسرا واقعہ سامنے آتا رہا۔

    ’فروری کے اواخر اور مارچ کے اوائل میں یہ سلسلہ شروع ہوا جب ہم موسم سرما سے بہار میں داخل ہوئے اور پاکستان زمین پر سب سے گرم علاقوں میں شامل ہوگیا جہاں جنوب میں درجہ حرارت 53 ڈگری سیلسیئس تک جا پہنچا۔‘

    شیری رحمان نے کہا کہ اس سے لوگوں پر دباؤ بڑھا اور پورے سیزن جنگلات میں لگنے والی آگ سے نمٹا گیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. پانی کی نکاسی اور امداد کی عدم فراہمی پر نصیرآباد کے مظاہرین نے انڈس ہائیوے بلاک کر دی

    انڈس ہائیوے

    ضلع لاڑکانہ کے شہر نصیرآباد کے رہائشیوں نے انڈس ہائی وے پر ٹائروں کو آگ لگا کر سڑک کو بلاک کر دیا ہے جس کے باعث مسافر بسوں اور دیگر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں۔

    مظاہرین کا کہنا ہے کہ دیگر علاقوں کا پانی شہر کی طرف کردیا گیا ہے اور نصف شہر ڈوبا ہوا ہے لیکن نکاسی کا کوئی انتظام نہیں کیا جا رہا۔

    پانی کی نکاسی اور امداد نہ ملنے پر لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔

    یاد رہے کہ نیشنل ہائی وے بارشوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی اور جگہ جگہ گڑھے پڑ چکے ہیں۔ این ایچ اے نے لوگوں کو اس پر سفر سے متنبہ کیا ہے۔ شمالی سندھ، پنجاب اور بلوچستان جانے کے لیے صرف انڈس ہائی وے ہے جو بھی میھڑ سے آگے زیر آب ہے۔

    سیوہن میں متاثرین نے ایک گودام پر حملہ آور ہو کر خیمے لے لیے تھے۔ دو روز قبل بدین کے علاقے شادی لاری میں اسی طرح مچھر دانیاں لے لی گئی تھیں۔

    میرپور خاص کے شہر جھڈو میں بھی مقامی انتظامیہ اور مظاہرین میں ٹکراؤ ہوا اور پاکستانی فوج کے جوانوں نے مداخلت کی۔ خیرپور میں صوبائی مشیر منظور وسان کی موجودگی میں مظاہرین اور ان کے گارڈز میں تلخی ہوئی جس کے بعد گارڈز نے ہوائی فائرنگ کی تھی۔

    پانی کی نکاسی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں کرنے پر نوشہرو فیروز میں بھی فریقین میں ہوائی فائرنگ ہوچکی ہے۔

  6. مستونگ میں دشت کا زیادہ تر علاقہ زیرِ آب, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    دشت

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ میں دشت کا علاقہ بھی سیلابی ریلے سے بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے۔

    کوئٹہ سے جنوب مشرق میں اندازاً چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دشت کا زیادہ تر علاقہ زیر آب آگیا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق سیلابی پانی کے باعث سینکڑوں گھر متاثر ہوئے ہیں جس کے باعث لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    دشت کے بعض علاقوں سے لوگوں نے کوئٹہ اور سبی کے درمیان مین شاہراہ پر پناہ لی ہے اور ادھر تک آنے کے لیے انھوں نے ڈرموں کے ذریعے خواتین اور بچوں کو نکالنے کے علاوہ دیگر ضروری سامان کو نکالا۔

    بعض علاقوں سے تعلق رکھنے والوں نے یہ شکایت کی کہ ان کے ریلیف اور ریسکیو کے لیے کوئی نہیں آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں پانی کی گہرائی بہت زیادہ ہے، اس لیے وہاں سے ضروری اشیا کو نکالنے کے لیے بوٹس فراہم کرنے کے علاوہ متاثرین کو خیمے اور خوراک فراہم کی جائے۔

  7. سیلاب بہت سوں کا روزگار ہے: وسعت اللہ خان کا کالم

  8. بریکنگ, مشکل میں گھرے بہن، بھائیوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے: نواز شریف

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے سب دل کھول کر امداد دیں اور مشکل میں گھرے بہن بھائیوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

    انھوں نے خصوصی ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’مسلم لیگ ن کے تمام صاحب حیثیت لوگ، ایم این اے، ایم پی اے، کارکنان اور تمام پارٹیوں کو کہوں گا کہ اپنی تمام سیاسی مصروفیات ایک طرف رکھیں اور تمام توانائی سیلاب متاثرین کے لیے وقف کریں۔‘

    ’یہ وقت کوئی اور کام کرنے کا نہیں۔ ہر طرف پھیلے سیلاب اور کھلے آسمان تلے بیٹھے لوگوں کی دل کھول کر امداد کریں، زخموں پر مرہم رکھیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پریشان حال آنکھیں آپ کی طرف دیکھ رہی ہیں، آپ کی امداد کی منتظر ہیں۔ ان لوگوں کے لیے کیمپ، میڈیکل کیمپ لگائیں۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام کریں۔ دوائیوں اور کپڑوں کا انتظام کریں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’شہباز شریف کو شاباش دیتا ہوں کہ سب مصروفیات منسوخ کر کے سیلاب متاثرین کے لیے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ مریم نواز شریف بھی سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں اور وہاں انتظامات کا جائزہ لیں گی۔‘

    ’شہباز شریف، مریم نواز دُکھی انسانیت کا ہاتھ تھامیں گے۔ آپ بھی مصیبت کی گھڑی میں لوگوں کی ہر ممکن امداد کریں۔ مشکل میں گھرے بہن، بھائیوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔‘

  9. سفری ہدایات پر مشتمل ایس ایم ایس سروس کا آغاز

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کا کہنا ہے کہ اس نے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے تعاون سے موبائل فون صارفین کے لیے سفری ہدایات پر مشتمل ایس ایم ایس سروس کا آغاز کر دیا ہے تاکہ عوام سیلاب زدہ علاقوں میں ہائی ویز اور موٹر ویز پر سفر کرتے ہوئے احتیاط کریں۔

    ’اس سروس کا مقصد عوام کو آگاہی دینا ہے کہ ایسے علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے جہاں سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہو۔‘

  10. وزیر اعظم شہباز شریف کا بلوچستان کے لیے دس ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیر اعظم شہباز شریف کو بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بریف کیا گیا جس کے بعد انھوں نے صوبے کے لیے 10 ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

    بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ اس رقم کے ذریعے وزیر اعلیٰ اور این ڈی ایم اے بلوچستان متاثرین کی بحالی کے لیے کام کریں گے۔ ’مجھے امید ہے کہ یہ رقم ایمانداری کے ساتھ مستحق افراد تک پہنچائی جائے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی زندگی میں ایسا تباہ کن سیلاب نہیں دیکھا جس نے چاروں اطراف تباہی مچادی ہے۔ کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، ہزار سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے۔‘

    بریفنگ کے دوران وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ قلعہ عبداللہ اور قلعہ سیف اللہ میں سیلاب سے نو لاکھ ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین کو نقصان پہنچا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’آج مجھے بتایا گیا کہ نصیر آباد میں چاول کی تیار فصل تباہ ہوگئی۔‘

  11. سیلاب متاثرین کے احتجاج کے خلاف ایف آئی آر ’نامناسب اور ناقابل قبول‘: وزیر اعلیٰ سندھ

    سندھ، سیلاب، مراد

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    وزیراعظم شہباز شریف کے سکھر دورے کے دوران سیلاب متاثرین کے احتجاج پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اب وزیر اعلیٰ سندھ کے دفتر کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے پولیس کو فوری ایف آئی آر واپس لینے کی ہدایت کی ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ’سیلاب متاثرین تکلیف میں ہیں۔ اُن سے محبت اور احترام سے پیش آیا جائے۔

    ’اس قسم کے کیسز کا درج ہونا نامناسب اور ناقابل قبول ہے۔‘

    اخبار ڈان نیوز کی خبر کے مطابق پولیس نے 100 سے زیادہ نامعلوم افراد کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ان افراد پر الزام تھا کہ انھوں نے پولیس افسران پر حملہ کیا، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور وزیر اعظم و وزیر خارجہ کے دورے کے دوران سیلاب متاثرین کو ’تشدد پر اُکسایا۔‘

    ادھر بعض علاقہ مکینوں کا دعویٰ تھا کہ پولیس نے ان مظاہرین کے خلاف جعلی ایف آئی آر درج کی جو خوراک، ٹینٹ، مچھر دانیوں، بستروں اور دیگر سامان کی عدم دستیابی کے حوالے سے وفاقی وزرا کی توجہ دلانا چاہتے تھے۔

  12. ’خاندان کے پانچ افراد کھونے کے بعد اب گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں‘

  13. تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ اپنی کل گنجائش کی حد کو پہنچ گیا

    بہاؤ

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB PDMA

    ،تصویر کا کیپشندریاوں اور براجز میں پانی کے اِن اور آوٹ فلو کے حوالے سے پی ڈی ایم اے کی رپورٹ
  14. نوشہرہ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، چشمہ اور اٹک خیرآباد میں اونچے درجے کا سیلاب

    فلڈ رپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGovt of KP

    حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے آج دپہر دو بجے جاری ہونے والی یومیہ فلڈ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر تاحال انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ یہاں پانی کا بہاؤ اب بھی تین لاکھ کیوسکس سے زیادہ ہے۔

    دریائے سندھ میں چشمہ اور اٹک خیرآباد کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ کیوسکس سے زیادہ ہے۔

    دریائے کابل میں ورسک کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

  15. مہوڈنڈ اور سیف اللہ جھیل کے علاقے میں پھنسے 200 افراد کو چوتھے روز بھی ریسکیو نہ کیا جا سکا

    Akmal Khan

    ،تصویر کا ذریعہAkmal Khan

    خیبر پختونخوا میں سیاحتی علاقے کالام سے قریب 35 کلومیٹر دور مہوڈنڈ اور سیف اللہ جھیل کے علاقے میں گذشتہ چار روز سے سیاحوں اور مقامی افراد سمیت تقریباً 200 لوگ پھنسے ہوئے ہیں جن کے پاس خوراک اور ادویات سب ختم ہو چکی ہیں۔

    مقامی افراد کے مطابق ’سیلاب آنے کے باعث جھیل کا علاقہ بالکل کٹ کر رہ گیا ہے اور زمینی راستے سے ان تک مدد پہنچانا ناممکن ہے کیوں کہ مٹلتان سے آگے گاڑی کا راستہ ختم ہو گیا ہے۔‘

    مٹلتان سے مہوڈنڈ جھیل کا فاصلہ 22 کلو میٹر سے زائد ہے۔ مٹلتان سے پلوگاہ اور ایش گل گاؤں کا فاصلہ تقریباً چھ کلو میٹر ہے جہاں پر سیلابی پانی سڑک بہا لے گیا ہے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ’نہ ہم وہاں جا کر ان کی مدد کر سکتے ہیں نہ وہ وہاں سے نکلنے کے قابل ہیں۔‘

    انھوں نے حکومت سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان میں شامل مقامی افراد کے والدین بہت پریشان ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تقریباً 20 ہزار آبادی پر مشتمل علاقہ ہے اور یہاں بھی کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی قلت ہے مگر ’کوئی اس طرف ہماری مدد کو نہیں آ رہا۔‘

    پلوگاہ اور ایش گل کی آبادی پندرہ سو افراد سے زائد ہے۔ اسی علاقے میں 85 میگا واٹ کا ڈیم پراجیکٹ بھی بن رہا ہے جہاں کی کیمپ ساِئٹ اور بھاری مشینری بھی پانی ساتھ بہا لے گیا ہے۔

    Akmal Khan

    ،تصویر کا ذریعہAkmal Khan

  16. کاغان میں سیلاب: پل ٹوٹنے سے رابطے منقطع، ہزاروں شہری امداد کے منتظر

  17. ’کالام اور بحرین کا پاکستان کے دیگرعلاقوں سے چار روز سے زمینی رابطہ منقطع ہے‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    کالام اور بحرین کا پاکستان کے دیگر علاقوں سے چار روز سے زمینی راستہ منقطع ہے اور وہاں خوراک، ادویات، پیٹرول اور دیگر بنیادی اشیا کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ موبائل فون سروس مکمل طور پر کام نہیں کر رہی ہیں جبکہ انٹر نیٹ بھی نہیں ہے۔

    ان کا کہنا ہے اس وقت بڑی تعداد میں لوگ کالام میں پھنسے ہوئے ہیں جنھیں مقامی لوگوں اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔

  18. متحدہ عرب امارات سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی پہلی کھیپ آج متوقع

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان کی پہلی کھیپ آج سہہ پہر پہنچنے کی توقع ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر یو اے ای سے امدادی سامان کی پہلی کھیپ لے کر طیارہ آج نور خان ائیربیس پہنچے گا۔

    امدادی سامان میں خیمے، خوراک، ادویات اور دیگر اشیاء ضرویہ شامل ہیں۔

    یو اے ای کی طرف سے امدادی سامان لے کر مزید 15 طیارے آئندہ چند روز میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔

  19. پاکستان بمقابلہ انڈیا: سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستانی کھلاڑی سیاہ پٹیاں باندھیں گے

    پاکستان کی کرکٹ ٹیم آج ایشیا کپ کے پہلے میچ میں سیاہ پٹیاں باندھ کر میدان میں اترے گی جس کا مقصد پاکستان میں سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں سیلاب متاثرین کی امداد کا اعلان کیا تھا۔

    بابر اعظم نے دنیا بھر کے لوگوں سے متاثرین کی مدد کی اپیل بھی کی تھی۔ ایشیا کپ کے پہلے میچ میں کھلاڑیوں اور منیجمنٹ کا سیاہ پٹیاں باندھنا بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔

  20. وزیرِاعظم شہباز شریف کا بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    pmoffice

    ،تصویر کا ذریعہpmoffice

    وزیراعظم محمد شہباز شریف بلوچستان کے ضلع جعفر آباد کے گاؤں حاجی اللہ دینو میں سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے لیے قائم ریلیف اور میڈیکل کیمپ کا دورہ کر رہے ہیں۔

    چیف سیکرٹری بلوچستان وزیر اعظم کو سیلاب متاثرین کی مدد اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے جاری کاوشوں پر بریفنگ دے رہے ہیں۔

    وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، قائم مقام گورنر میر جان محمد جمالی بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

    pmoffice

    ،تصویر کا ذریعہpmoffice