شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. ڈیرہ غازی خان: تونسہ بارتھی روڈ پر سٹیل کا پل نصب، ٹریفک بحال

    ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ تونسہ بارتھی روڈ پر سٹیل پل نصب کرکے ٹریفک بحال کردی گئی ہے۔

    ڈی سی ڈی جی خان کے مطابق زندہ پیر اور دیگر علاقوں میں بھاری مشینری راستوں کی بحالی میں مصروف ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. تاجروں و صنعتکاروں کی فلڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کا قیام, تنویر ملک ، صحافی

    فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور موجودہ بحرانی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے امدادی کوششوں کو فوری طور پر شروع کرنے کے لیے فلڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

    صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پانچ کروڑ روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا لیکن ابتدائی ردعمل کے بعد امید ہے کہ ایف پی سی سی آئی اس ہدف سے بھی زیادہ فنڈ اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

    ان کے مطابق یہ کمیٹی کم از کم 2000 خیمے فراہم کرنے کی کوشش کرے گی، مختلف فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی طرف سے پہلے ہی سے اعلان کردہ دوائیوں و میڈیکل سپلائیز کی تقسیم اور ترسیل کو ایک مربوط انداز میں آگے لے کر بڑھے گی اور پاکستان بھر میں فلڈ ریلیف میں مصروف عمل معتبر سرکاری اور غیر سرکاری امدادی تنظیموں کو عطیات دے گی۔

  3. بحرین بازار کا پکنک پوائنٹ بھی سیلاب میں بہہ گیا، کالام سے زمینی رابطہ منقطع, بلال احمد، بحرین

    bbc

    یہ تصاویر بحرین بازار کی ہیں جہاں دریا کنارے سیاحوں میں مقبول پکنک پوائنٹ اور کھانے پینے کے ریستوران موجود تھے۔

    حالیہ سیلاب اس مقام پر موجود دکانوں، ریستورانوں اور پکنک پوائنٹ کو بہا کر لے گیا ہے اور یہاں سے آگے مشہور سیاحتی مقام کالام کا راستہ بھی کٹ گیا ہے۔

    bbc
  4. کوئٹہ میں انٹرنیٹ آٹھ گھنٹے بعد بحال

    پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں فلیش فلڈز کی وجہ سے پی ٹی سی ایل کی فائبر آپٹک کیبل کو پہنچنے والے نقصان سے پیر کی صبح کوئٹہ میں انٹرنیٹ کی فراہمی کا عمل متاثر ہوا تھا جو اب بحال کر دیا گیا ہے۔

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق آٹھ گھنٹے سے زیادہ دیر بند رہنے کے بعد پیر کی دوپہر انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوئی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں کو گیس کی فراہمی بحال نہ ہو سکی, محمد کاظم، کوئٹہ

    Sui Sadran Gas

    ،تصویر کا ذریعہSui Sadran Gas

    درہ بولان میں دو پائپ لائنوں کو پہنچنے والے نقصان کے باعث کوئٹہ، مستونگ، قلات، پشین اور زیارت کو گیس کی فراہمی معطل ہوئی تھی۔

    ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود متاثرہ گیس پائپ لائنوں سے گیس کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی ہے۔

    سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق درہ بولان میں پانی کا بہاﺅ اب بھی زیادہ ہے اور پانی کا بہاﺅ کم ہونے تک متاثرہ مقام تک مشینری لے جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب گیس کی بندش سے ایل پی جی کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

    گیس نہ ہونے کی وجہ سے کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں لوگوں کو گھروں میں کھانا پکانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    Sui Sadran Gas

    ،تصویر کا ذریعہSui Sadran Gas

  6. چاہ کبیر والا، ڈیرہ غازی خان: ’لوگ اب بھی اپنے پانی سے بھرے ٹوٹے گھروں میں رہ رہے ہیں‘, ترہب اصغر، چاہ کبیر والا

    bbc

    یہ مناظر ڈیرہ عازی خان میں چاہ کبیر والا علاقے کی چند بستیوں کے ہیں۔

    ہماری نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق ان بستیوں میں لوگ ابھی تک اپنے ٹوٹے مگر پانی سے بھرے ہوئے گھروں میں ہی مقیم ہیں کیونکہ ان کے پاس خیموں جیسا کوئی متبادل نہیں ہے جہاں وہ جا کر رہ سکیں۔

    bbc

    حالیہ سیلاب سے اس علاقے میں بستیوں کے بیچ ایک بڑا شگاف پڑ گیا ہے جس نے جام پور کی دوسری جانب موجود افراد تک زمینی رسائی منقطع کر دی ہے۔

    مقامی افراد دوسری جانب پھنسے افراد کو خوراک اور امدادی سامان کپڑوں میں باندھ کر پھنک رہے ہیں۔

  7. لاڑکانہ میں تین ہفتے سے کھڑا پانی نکالا نہیں جا سکا, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    سندھ کے شہر لاڑکانہ میں تین ہفتے گزرنے کے باوجود بارش کا پانی نکالا نہیں جا سکا۔ سرکاری دفاتر سے لے کر کچی آبادیوں تک کی کیا صورتحال ہے اور اس پر شہریوں کا کیا کہنا ہے، دیکھیے اس ویڈیو میں۔۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  8. بریکنگ, دریائے سندھ میں تونسہ، چشمہ، گڈو اور سکھر کے مقام پر پانی کی سطح بلند

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع ہو چکا ہے جبکہ سیلابی علاقوں سے پانی کا اخراج جاری ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت دریائے سندھ میں تونسہ، چشمہ، گڈو اور سکھر کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہے اور دریا سے منسلک تمام اضلاع کو الرٹ رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

  9. جوہی شہر میں ’افراتفری‘, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    جوہی برانچ کو کٹ لگانے کے بعد ایم این وی ڈرین میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔

    سوشل ایکٹوسٹ معشوق برہمانی کے مطابق کٹ لگانے کے فیصلے کے بعد جوہی شہر میں افراتفری مچ گئی اور آدھا شہر خالی ہو گیا۔

  10. سیلاب سے متاثرہ آخری گھر کی مدد تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: مریم نواز

    Maryam Nawaz

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقے تونسہ میں متاثرین سے ملنے پہنچی ہیں۔

    متاثرین سے ملاقات کے بعد مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب سے بہت تباہی ہوئی ہے اور ’ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک سیلاب سے متاثرہ آخری گھر کی مدد نہیں کر لیتے‘۔

    مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ’یہ وقت سیاست کا نہیں سیلاب متاثرین کی مدد کا ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے نقصان کا ازالہ جلد از جلد کیا جانا چاہیے۔

    Maryam Nawaz

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

  11. سیلاب سے فصلوں کی تباہی: فروٹ و سبزیوں کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافہ, تنویر ملک ، صحافی

    Vegetable Prices

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملک میں تباہ کُن بارشوں اور سیلاب کے باعث فصلوں کی تباہی اور راستوں کی بندش کی وجہ سے سبزیوں اور پھلوں کی قیمت میں سو سے دو سو فیصد اضافہ ہو گیا۔

    ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کی وجہ سے قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم اس کے ساتھ ریٹیلرز کی جانب سے ناجائز منافع خوری بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی۔

    کراچی ، لاہور اور کوئٹہ سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اس وقت صارفین مہنگی سبزیاں خریدنے پر مجبور ہیں اور اس وقت کوئی سبزی دو سو روپے فی کلو سے کم نہیں مل رہی ۔

    کچھ ہفتے پہلے 60 سے 80 روپے والا پیاز 200 سے 300 روپےفی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ جبکہ ٹماٹر 240، پالک 300، توری 300، ٹینڈے/بھنڈی 350، لوکی/ کدو/ بینگن/کریلا 200 روپےفی کلو مل رہے ہیں۔

    کراچی سبزی منڈی میں ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین زاہد اعوان نے اس سلسلے میں بی بی سی کو بتایا سبزی اور فروٹ کی قیمت میں بڑے اضافے کی اصل وجہ تو سیلاب کی وجہ سے فصلوں کی تباہی ہے ۔

    جن علاقوں میں سبزیاں اور فصلیں بچ بھی گئیں وہاں سے ان کی ترسیل میں اس وقت بڑی مشکلات حائل ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ سبزیوں اور فروٹ کی قیمت میں کم از کم اضافہ سو فیصد ہے۔ انھوں نے کہا ریٹیلرز کی جانب سے بھی ناجائز منافع کمایا جا رہا ہے تاہم بلیک مارکیٹ کا کام سبزی اور فروٹ میں بہت کم ہو سکتا ہے۔ آلو اور سیب کے علاوہ، سبزی اور فروٹ کو زیادہ عرصہ گوداموں میں نہیں رکھا جا سکتا۔

    لاہور میں مقیم صحافی محمد مظہر اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور میں بھی اس وقت قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

    انھوں نے لاہور میں سبزی کی سپلائی جنوبی پنجاب اور سندھ سے ہوتی ہے اور وہاں سیلاب کی وجہ سے سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اسی طرح پھل سوات اور کوئٹہ کے راستے آتا ہے جو اس وقت سیلاب کی زد میں ہیں

    کوئٹہ میں سبزی و پھل کے بیوپاری سلمان نے شہر میں سبزی اور پھل کی قیمت میں اضافے کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔

  12. کوہ سلیمان میں متاثرین سیلاب: ’یہاں پر کسی کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں‘

  13. بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں فضائی ریلیف آپریشن جاری

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فضائی ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعہ 2000 کلو گرام سے زائد امدادی اشیا نوشکی بھجوائی گئی ہیں۔

    اس امدادی سامان میں خیمے، راشن، پیکٹ خوراک، پانی کی بوتلیں شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ فضائی ریلیف آپریشن سے متاثرین تک رسائی اور امدادی سامان کی ترسیل ممکن ہو رہی ہے۔

  14. سوات کے علاقے بحرین میں سیلاب سے سڑکیں بری طرح متاثر

    Flood

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقام سوات کے علاقے بحرین میں سیلاب سے مرکزی و رابطہ سڑکیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

    سیلابی ریلے کے باعث سوات بحرین مرکزی شاہراہ بری طرح تباہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق بحرین کی سڑک سیلاب کی زد میں آ کر مکمل طور پر ٹوٹ گئی ہے۔ اس کی مرمت اور بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہے۔

    Flood

    انھوں نے بتایا کہ لینڈ سلائڈنگ کے باعث سڑک متعدد مقامات سے ختم ہو چکی ہے اور انتظامیہ سڑک کا ایک حصہ بند کر کے ٹریفک کو گزار رہے ہیں۔

    Flood
  15. سوات میں سوگ کا ماحول، سیلابی ریلے کے بعد بحالی کا کام شروع

    Swat

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے سیاحتی ضلعے سوات میں سیلاب کے بعد بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق سوات میں بجلی کے کھمبے اور تاروں کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

    Swat

    سوات شہر کی داخلی شاہراؤں پر ٹریفک معمول سے کم دیکھنے میں آئی ہے اور علاقے میں سوگ کا ماحول ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق سیلاب کے باعث سیاحتی سرگرمیاں معطل ہونے کے باعث ٹریفک معمول سے کافی کم ہے۔

    Swat
  16. کالام جانے کے خواہشمند ہیلی کاپٹر کے انتظار میں سوات ایئرپورٹ پر جمع, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    سوات اور کالام کا زمینی رابطہ منقطع ہونے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کالام منتقلی کی آس لیے سوات کے ہوائی اڈے پر جمع ہو گئی ہے۔

    ایئرپورٹ پر موجود ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات اور کالام کے درمیان صوبائی حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹر سروس شروع کی گئی ہے اور روزانہ دو ہیلی کاپٹر کالام سے تعلق رکھنے والے افراد کو شنختی کارڈ دیکھ کر کالام لے جاتے ہیں جبکہ کالام میں پھنسے سیاحوں کا واہس لایا جاتا ہے۔

    ایئرپورٹ کے باہر جمع کالام کے مقامی لوگوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ادھر کالام سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ بڑی تعداد میں سیاح وہاں پھنسے ہوئے ہیں جنھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سوات پہنچایا جا رہا ہے۔

  17. وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے سیلاب سے متاثرہ چار اضلاع کے لیے مزید فنڈز جاری کر دیے

    Flood

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے مزید فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے وزیر اعلٰی کی ہدایت پر صوبے کے چاراضلاع کے لیے مزید 10 کروڑ روپے جاری کردیے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابقضلع کوہستان لوئر کے لیے تین کروڑ، ضلع ٹانک کے لیے تین کروڑ، نوشہرہ کے لیے دو کروڑ اور ضلع چترال اپر کے لیے دو کروڑ جاری کیے گئے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبائی ادارے نے جولائی سے اب تک مختلف اضلاع کی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 73 کروڑ جاری کیے ہیں۔

    ان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کاروائیاں جاری ہے

  18. لاڑکانہ میں رہائشی اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے میں مصروف, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    لاڑکانہ

    سندھ کا ضلع لاڑکانہ سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہے تاہم یہاں بھی متاثرین کے لیے کوئی ٹینٹ سٹی قائم نہیں ہو سکا ہے اور لوگ سرکاری تعلیمی اداروں یا پھر ریلوے سٹیشن پر موجود ہیں۔

    شہر میں اس وقت بھی پانی موجود ہے۔ صرف ایس پی آفس کے پاس ایک سے ڈیڑھ فٹ پانی موجود تھا۔

    لاڑکانہ

    شہر کی کچی آبادیوں میں بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے اور بعض کالونیوں کے رہائشی چندہ کرکے پانی کی نکاسی کا پمپ لائے ہیں جس سے پانی نکالا جا رہا ہے۔

    صرف بیت المال کالونی ، میلاد کالونی، میرو خان چوک کے آس پاس کا ذکر کیا جائے تو لوگ یا باہر سڑک پر بیٹھے ہیں یا اندر گھروں میں سے سامان نکالنے میں مصروف ہیں۔

  19. سیلاب متاثرین نے چارسدہ کے قریب موٹروے کنارے خیمہ بستی بنا لی

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین نے پشاور اسلام آباد موٹروے کے کنارے پر چارسدہ کے قریب خیمہ بستی بنا لی ہے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق چارسدہ کے قریب موٹروے کنارے اتنی زیادہ تعداد میں سیلاب متاثرین نے خیمے لگا دیے ہیں جیسے ایک خیمہ بستی بن گئی ہو۔

    موٹروے کنارے کے ساتھ ساتھ موٹروے کے درمیان میں موجود گرین بیلٹ پر بھی بڑی تعداد میں خیمے نصب کیے گئے ہیں۔

    ان خیموں میں قریبی علاقوں میں سیلاب سے متاثر ہونے والے خاندان بڑی تعداد میں پہنچے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    مختلف امدادی ادارے اور انفرادی سطح پر امداد کرنے والے افراد ان سیلاب متاثرین کی مدد کو پہنچ رہے ہیں لیکن امداد کے مقابلے میں متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

    یہاں خیمے لگانے والے سیلاب متاثرین میں سے چند افراد اپنے ساتھ مویشی بھی لائے ہیں۔

  20. جامشورو میں کشتی الٹنے سے دس ہلاک, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ ضلع جامشورو کے علاقے ٹلٹی میں ایک کشتی الٹنے سے دس افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق کشتی پر 20 کے قریب لوگ سوار تھے اور سات لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ بلاول گوٹھ کے رہائشی سیلابی پانی میں گھر جانے کے بعد آمدورفت کے لیے کشتی استعمال کر رہے تھے۔