شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سیلابی ریلوں سے متاثر ہونے والے سوات اور مینگورہ کی تازہ ترین صورتحال

    rescue

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    مینگورہ میں ریسکیو 1122 کے انچارج شیر دل خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ روز مینگورہ شہر میں سیلابی ریلوں کی وجہ مرغزار، اسلام پور اور بحرین سے گزرنے والے نالوں میں طغیانی تھی جس سے ہونے والے مالی نقصان کا اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس وقت ہلکی بارش ہو رہی ہے اور بحرین میں نالوں میں طغیانی دیکھی جا رہی ہے لیکن فی الحال یہ خطرناک نہیں ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ روز ہونے والی شدید بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث ایک بچی ہلاک ہوئی تھی، جسے ریسکیو کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن اسے بچایا نہیں جا سکا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    سوات میں بھی گذشتہ روز سے ایسی ویڈیوز سامنے آئی تھیں جن میں شہر کی مرکزی شاہراہوں پر سیلابی ریلے دیکھے جا سکتے تھے۔

    سوات کے ڈپٹی کمشنر جنید خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دراصل اربن فلیش فلڈنگ تھی تاہم شہر میں انفراسٹرکچر کا بڑا نقصان نہیں ہوا اور صرف گلیوں اور سڑکوں پر صفائی کا کام جاری ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    انھوں نے بتایا کہ ’گذشتہ رات گرڈ سٹیشن کے کچھ فیڈر بند کیے گئے تھے جن کی بحالی واپڈا کے قواعد و ضوابط کے مطابق اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی جائے گی کہ کہیں کسی کو الیکٹروکیوشن سے نقصان نہ ہو۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جن علاقوں میں پانی آلودہ ہوا ہے وہاں پانی کی بوتلیں فراہم کی جا رہی ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت کالام اور اپر سوات میں بارش تیز ہے لیکن سوات شہر میں ہلکی بارش ہو رہی ہے۔‘

  2. سیلاب سے سندھ میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ گھر تباہ، بلوچستان کے پانچ لاکھ مویشی متاثر

    این ڈی ایم اے

    ،تصویر کا ذریعہNDMA

    این ڈی ایم اے کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے مجموعی طور پر قریب پانچ لاکھ گھر اور عمارتیں جزوی یا مکمل تباہ ہوئی ہیں جبکہ سات لاکھ سے زیادہ مویشی متاثر ہوئے ہیں۔

    سندھ میں 2281 کلو میٹر جبکہ بلوچستان میں 720 کلومیٹر طویل شاہراہیں متاثر ہوئی ہیں۔

    14 جون سے ہونے والے نقصانات میں بلوچستان کے پانچ لاکھ مویشی، سندھ میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ عمارتیں اور پنجاب میں 60 دکانیں شامل ہیں۔

  3. آج تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان: محکمہ موسمیات

    بارش، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    محکمہ موسمیات نے جمعرات کو بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، بالائی پنجاب، راولپنڈی، اسلام آباد، کشمیر اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بھی کہیں کہیں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

  4. پنجاب میں پانی کے اِن اور آؤٹ فلو کی یومیہ رپورٹ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پنجاب میں حکام نے دریاؤں میں پانی کے اِن اور آؤٹ فلو کی یومیہ رپورٹ جاری کی ہے۔

  5. سندھ حکومت کا سیلاب زدگان کے لیے امدادی فنڈ شروع کرنے کا اعلان

    umerkot

    ،تصویر کا ذریعہRano Sand

    صوبہ سندھ کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے میں سیلاب زدگان کی مدد کے لیے امدادی فنڈ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ سیلابی ریلوں اور شدید بارشوں سے بلوچستان کے بعد صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے اور متعدد اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔

    umerkot

    ،تصویر کا ذریعہRano Sand

  6. سیلابی ریلوں اور شدید بارش کے باعث سوات اور اپر دیر میں چھ بچے ہلاک

    آفات سے نمٹنے والے ادارے

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    صوبہ خیبرپختونخوا کے آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث سوات میں ایک بچی جبکہ اپر دیر میں ایک ہی سکول کے پانچ بچوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

    محکمے کی جانب سے گذشتہ روز جاری رپورٹ کے مطابق سیلابی ریلے مینگورہ میں بھی داخل ہوئے لیکن تاحال یہاں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ابتدائی طور پر کچھ گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    سوات

    ،تصویر کا ذریعہrescue 1122

  7. ضلع صحبت پور کا 90 فیصد حصہ زیر آب، کراچی اور کوئٹہ کا زمینی راستہ منقطع, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہAziz Marri

    بلوچستان کے نصیر آباد ڈویژن میں سیلابی پانی کے باعث صورتحال سنگین ہو گئی ہے اور اس کے ضلع صحبت پور کا 90 فیصد حصہ زیر آب آ گیا ہے۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں اور نہروں میں شگاف کے باعث نصیر آباد سے متصل جعفرآ بادکا ضلع بھی سیلاب سے بری طرح سے متاثر ہے۔

    سیلاب سے پورے ڈویژن میں نہ صرف مقامی لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں بلکہ اس علاقے سے سندھ اور بلوچستان کے درمیان شاہراہ زیرآب آنے سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں جبکہ ریلوے لائن کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ ویسے تو سیلاب سے پورا بلوچستان متاثر ہوا ہے لیکن اس وقت پانی کا رخ نصیرآباد کی طرف ہے اور اس کے متعدد علاقے زیر آب ہیں۔

    جعفر آباد سے صحافی عزیز مری نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے مقامی لوگوں نے اونچے مقامات کے علاوہ سڑکوں کے کنارے پناہ لی ہے لیکن بارش کے باعث ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اکثر کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں ہے۔

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہAziz Marri

    ان کا کہنا تھا کہ ربی کے علاقے میں سندھ اور پنجاب کے درمیان شاہراہ بھی زیر آب آ گئی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں جس کے باعث مسافروں بالخصوص خواتین کو کھانے پینے اور دیگر ضروریات کے حوالے سے سخت پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ریلوے کے ٹریک کو بھی نقصان پہنچنے کے باعث بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے درمیان ریل سروس بھی معطل ہے۔

    نصیر آباد کے علاقے جھل مگسی سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ سعدیہ بلوچ نے بتایا کہ پورے نصیرآباد ڈویژن میں لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے وہ خوراک اور دیگر امدادی اشیا نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھے لیکن اب وہ ڈوب رہے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر صحبت پور عظیم دمڑ نے بتایا کہ اس وقت ضلع صحبت پور میں پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے اور ریلیف کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع کی تین یونین کونسلوں تک رسائی میں مشکلات کے باعث لوگوں کو ریلیف پہنچانے میں بھی مشکل کا سامنا ہے اور موسم کی خرابی کے باعث تاحال اس علاقے میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریلیف کی فراہمی شروع نہیں کی جا سکی ہے۔

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہAziz Marri

    پی ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق صوبے کے جن اضلاع میں سیلابی پانی کھڑا ہے ان میں نصیر آباد ڈویژن کے چار اضلاع صحبت پور ، جعفرآباد ، نصیر آباد اور جھل مگسی کے علاوہ کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ شامل ہیں۔

    ضلع لسبیلہ میں جہاں سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات برقرار ہے وہاں اس ضلع میں شاہراہوں اور پلوں کو نقصان پہنچنے کے باعث بلوچستان اور کراچی کے درمیان رابطہ ایک بار پھر منقطع ہو گیا ہے۔ یہاں متبادل راستوں کے ذریعے شاہراہ پر ٹریفک کو دو روز پہلے بحال کیا گیا تھا لیکن منگل کی شام متبادل راستے سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے راستے شاہراہ ایک بار پھر بند ہو گئی۔

    ادھر بلوچستان اور خیبر پشتونخوا کے درمیان ژوب دانہ سر روڈ تاحال بند ہے اور ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس شاہراہ پر ٹریفک بحال نہیں ہو سکی تاہم فورٹ منرو سے بلوچستان اور پنجاب کے درمیان شاہراہ بحال کرنے کے علاوہ دو روز سے بند کوئٹہ اور ایران کے درمیان شاہراہ پر بھی ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہAziz Marri

  8. بریکنگ, ٹانک ضلع میں ایمرجنسی نافذ، گرڈ سٹیشن بند کرنے کے احکامات, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    سیلاب

    خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں بارش کا سیلابی پانی گرڈ میں داخل ہونے کے بعد پورا گرڈ پانی سے بھر گیا ہے۔

    اس صورتحال کی وجہ سے جہاں سارے ضلعے کی بجلی بند کر دی گئی ہے وہیں ڈپٹی کمیشنر ٹانک نے ضلعے میں ایمرجنسی نافذ کرکے گرڈ سٹیشن بند کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

    سیلاب متاثرین کیلئے ڈگری کالج ٹانک کو پناہ گاہ بنا لیا گیا ہے۔

    ٹانک سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق کئی دیہات مکمل دریا کا منظر پیش کررہے ہیں اورنشیبی علاقے ڈوب گئے ہیں جبکہ وانا روڈ پر سینکڑوں گاڑیاں پانی میں پھنس گئی ہیں۔

    ٹانک اور درازندہ میں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی ریلے تیزی سے ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف بڑھ رہے ہیں جس سے تمام ڈرینوں کے آس پاس کے لوگوں کو بروقت الرٹ کیا جارہا ھے۔

    انتظامیہ کے مطابق نے بدھ کی رات اور جمعرات کے دن کو شدید خطرہ ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ملازئی اور گل امام سے آنے والا پانی یارک ڈرین سے گزرے گا اور گرہ بلوچ اور رنوال سے آنے والا پانی بڈھ سے ہو کے مندھراں کلاں ڈیرین سے گزرے گا۔

    گرہ بلوچ اور رنوال سے آنے والا آدھا پانی چشمہ شوگر مل سے اور کوٹ ظفر لونی اور کلاچی والا پانی نائیویلہ ڈرین سے گزرے گا۔

    درازندہ اور درابن سے آنے والا پانی تحصیل پاروا کی ڈرینوں سے گزرے گا جبکہ جھوک منگل سے آنے والا پانی میرن شاہ اور رمک کی ڈرینوں سے گزرے گا۔

  9. ’متاثرین کی مدد کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شراکت داروں اور ڈونرز کو متوجہ کرنا ہوگا‘

    وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا ہے کہ ملک میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے درکار وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر شراکت داروں اور ڈونرز کو متوجہ کرنا ہو گا۔

    ٹوئٹر پر اپنے سلسلہ وار پیغام میں انھوں نے سیلاب اور بارشوں سے اب تک 903 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں لوگ ریسکیو اور ریلیف کے منتظر ہیں اور ’یہ تقسیم کا نہیں متحد رہنے کا وقت ہے۔ہمیں الگ الگ نہیں بلکہ ایک قوم بن کراس انسانی بحران سے نمٹنا اور نکلنا ہے‘۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. چین کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا اعلان

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. پاکستان کے 116 اضلاع میں 31 لاکھ سے زیادہ افراد سیلاب اور بارشوں سے شدید متاثر

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر کے 116 اضلاع سیلاب اور بارشوں سے شدید متاثر ہیں جبکہ پاکستان بھر میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 31 لاکھ سے زائد ہے۔

    سب سے زیادہ بلوچستان کے 34 اضلاع متاثر ہوئے، اس کے بعد خیبرپختونخوا کے 33 اور سندھ کے 23 اضلاع متاثر ہوئے۔

    آبادی کے لحاظ سے سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ سندھ ہے جہاں 22 لاکھ 63 ہزار سے زائد افراد سیلاب کی باعث متاثر اور بے گھر ہوئے ہیں تاہم وفاقی اعدادوشمار کے برعکس سندھ کی صوبائی حکومت کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور ایک کروڑ سے بھی زیادہ شہری سیلاب متاثرین میں شامل ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق چار لاکھ 18 ہزار سے زائد افراد پنجاب میں متاثر ہوئے جبکہ بلوچستان میں تین لاکھ ساٹھ ہزار، خیبر پختونخوا میں 50 ہزار، گلگت بلتستان میں ساٹھ ہزار سے زائد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دو ہزار افراد سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

  12. سیلاب سے مویشی ہلاک، انفراسٹرکچر تباہ

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سیلاب بارشوں سے انسانوں کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کی بھی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک مجموعی طور پر سات لاکھ آٹھ ہزار سے زائد مویشی ان سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں۔

    سیلاب اور بارشوں سے انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 150 کلومیٹر سڑکیوں تباہ ہو گئیں۔

    حالیہ بارشوں اور سیلاب سے اب تک ملک بھر میں 3037 کلومیٹر سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اب تک ساڑھے 49 ہزار سے زائد مکانات بھی جزوی یا مکمل تباہ ہوئے ہیں۔

  13. بریکنگ, 24 گھنٹوں میں مزید 73 افراد ہلاک، کل ہلاکتیں 900 سے بڑھ گئیں

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی بدھ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصّوں میں مزید 73 افراد سیلابی ریلوں اور اس سے ہونے والے نقصانات کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

    حکام کے مطابق مرنے والوں میں 49 مرد، 11 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں۔

    این ڈی ایم سے کے مطابق یہ ہلاکتیں سیلابی ریلوں میں بہہ جانے اور عمارتوں کی چھتیں گرنے سے ہوئیں۔

    ان ہلاکتوں کے بعد اب تک سیلاب اور بارشوں سے مجموعی ہلاکتیں 903 ہو چکی ہیں جبکہ 1293 افراد زخمی ہیں۔

  14. ’سب مصیبت میں گھرے اہل وطن کی مدد کریں‘

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

    انھوں نے ملک میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالخصوص بلوچستان اور سندھ میں غیرمعمولی تباہی ہوئی ہے اور وہ پاکستان میں مقیم شہری ہوں یا بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سب کو مصیبت میں گھرے اہل وطن کی مدد کرنی چاہیے۔

    وفاقی وزیر کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سرکلر کے تحت تمام کمرشل بینک اور ان کی شاخیں وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 میں عطیات جمع کر سکتی ہیں جبکہ بیرون ملک پاکستانی وائر ٹرانسفر، منی سروس بیوروز، منی ٹرانسفر آپریٹرز اور ایکسچینج ہاؤسز کے ذریعے بھی عطیات بھجوا سکتے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے عطیات جمع کرانے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عطیات تمام کمرشل بینکوں میں نقد بھی جمع کروائے جا سکتے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. سندھ کا علاقہ ’کاچھو‘ جہاں ہر دوسرا گاؤں پانی میں گھرا ہے

    ’ہم زمین پر برباد بیٹھے ہیں اور مراد علی شاہ آسمانوں میں اُڑ کر چلے گئے، زمین پر اترے ہی نہیں۔‘

    رقت بھری آواز میں یہ شکوہ تھا ایک بزرگ کا، جن کا گاﺅں کیچی شاہانی چاروں جانب سے چار فٹ پانی میں گھرا ہوا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک مہینے سے ہمارے گوٹھ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کہیں بھی جانے کے لیے کشتی چاہیے، جس کا کرایہ بھی ہم غریبوں کے پاس نہیں۔‘

    ’اس سیلاب میں ہم تباہ ہو چکے ہیں، جو چھوٹی موٹی زراعت کرتے تھے وہ سب برباد ہو گئی۔ حکومت مدد نہیں کرے گی تو ہم مر جائیں گے۔‘

  16. بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشنگوئی

    محکمہ موسمیات نے 24 سے 26 اگست کے دوران سندھ، جنوبی پنجاب، جنوب، شمال مشرقی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کہیں کہیں موسلا دھار بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب (پی ڈی ایم اے) کے مطابق 24 سے 26 اگست کے دوران لاہور، راولپنڈی، ملتان اور گوجرانوالہ میں نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں اور موسلادھار بارش کے باعث راولپنڈی کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے راوی اور چناب میں پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے جبکہ موسلادھار بارشوں کے باعث 26 اگست تک ڈی جی خان کے پہاڑی علاقوں سے مزید پانی آنے کا خطرہ ہے جس سے دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق 26 اگست تک جنوبی پنجاب میں مزید بارشوں سے سیلاب کا خطرہ ہے جبکہ سرگودھا ڈویژن اور ملتان میں بھی مزید بارشوں کا امکان ہے۔

  17. سندھ کی 90 فیصد سے زائد فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی: مراد علی شاہ

    صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کی وجہ سے سندھ کی 90 فیصد سے زائد فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے جبکہ حکومت کے پاس اب متاثرین کے لیے خیمے نہیں ہیں۔

    کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 23 اضلاع، 101 تحصیلیں، اور 5181 دیہات اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ مویشیوں کے نقصان کا اس وقت اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔

    سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے پاس 46 ہزار خیمے موجود تھے جو متاثرین کو دے دیے گئے ہیں جبکہ اس وقت 10 لاکھ خیموں کی ضرورت ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ حالیہ ہنگامی صورتحال صوبہ سندھ میں 2010 کے سیلاب اور 2011 کی طوفانی بارشوں سے بھی زیادہ خراب ہے، اور اتنی بڑی ایمرجنسی پہلے اس صوبے میں نہیں ہوئی۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اُنھوں نے وفاق سے مدد کی اپیل کی ہے اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اُنھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ وفاق اس مشکل وقت میں سندھ کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔

  18. ’مکان گر گیا، اب سامان کی چوکیداری کریں یا راشن کا انتظار؟‘

    بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ازبک بازار میں کئی مکان اور دکانیں مکمل تباہ ہو چکی ہیں۔ متاثرین کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی روز سے راشن کے منتظر ہیں۔

    ،ویڈیو کیپشنبلوچستان میں سیلاب: ’مکان گِر گیا، اب سامان کی چوکیداری کریں یا راشن کا انتظار؟‘
  19. پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں

    پاکستان میں سیلابی صورتحال اور اس سے ہونے والی نقصانات پر بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    پاکستان میں 2022 کا مون سون غیر معمولی حد تک طویل اور تباہ کن رہا ہے جس نے ملک کے طول و عرض میں سیلابی کیفیت پیدا کی ہے۔ ملک کے شمال میں گلگت بلتستان سے لے کر جنوب میں کراچی تک ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ اب تک نہیں رکا ہے اور حکومت کو اس سے ہونے والے مالی نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے میں مشکلات ہیں۔