’ہمارے سارے جانور بہہ گئے، کچھ نہیں بچا‘
ڈیرہ غازی خان میں حکومت کی طرف سے لگائے گئے امدادی کیمپ میں موجود لوگوں کی کیا صورتحال ہے، جاننے کے لیے یہ ویڈیو دیکھیے۔رپورٹنگ: ترہب اصغر ویڈیو: وقاص انور
وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
ڈیرہ غازی خان میں حکومت کی طرف سے لگائے گئے امدادی کیمپ میں موجود لوگوں کی کیا صورتحال ہے، جاننے کے لیے یہ ویڈیو دیکھیے۔رپورٹنگ: ترہب اصغر ویڈیو: وقاص انور

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے 16 کروڑ ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے۔
اقوامِ متحدہ نے منگل کو جاری اپیل میں کہا ہے کہ پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے اب تک 1100 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ملک میں فصلیں اور انفراسٹکچر تباہ ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ نے اس صورتحال میں پاکستان کی امداد کے لیے ہنگامی 16 کروڑ ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ’پاکستان مشکلات میں گھر چکا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا تھا قدرتی آفت کے نتیجے میں بے گھر ہو جانے والے لاکھوں افراد، سکولز، صحت کی سہولیات اور روز گار کے تباہ ہو جانے باعث پاکستان کو دنیا کی ترجیحی اور مشترکہ توجہ کی ضرورت ہے۔
انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ 16کروڑ ڈالر کی امداد سے 52 لاکھ افراد کے لیے خوراک، پانی، صفائی اور ہنگامی صحت اور تعلیم کی سہولیات کی بندوبست کیا جا سکے گا۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں حالیہ سیلاب سے تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جو اس کی کل آبادی کا 12 فیصد ہیں۔
گوتریس نے اپیل کی کہ پاکستان کی جانب سے امداد کی درخواست پر بین الاقوامی برادری جلد رد عمل دے۔
ان کا کہنا تھا ’آئیں ہم ضرورت کی اس گھڑی میں پاکستان کے عوام کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے قدم بڑھائیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں ماحولیاتی تبدیلی کے تناظر میں اب اپنے سیارے کی تباہی کی جانب آنکھیں بند کر کے بڑھے قدم روکنے ہوں گے۔‘
پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق پاکستان کے دفتر خارجہ میں ایک تقریب جاری ہے، جس سے پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر نے بھی خطاب کیا۔ اس تقریب میں دیگر ممالک کے سفارتکار اور نمائندے بھی شریک ہیں۔
اس تقریب میں پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو اور وفاقی کابینہ کے دیگروزرا بھی شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین جنرل اختر نواز رکن ممالک کو بریفنگ دے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہا وہ تکنیکی نوعیت کی بریفنگ دیں گے۔
انھوں نے حاضرین کو سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے متعلق ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائیں اور کہا کہ ملک کے کئی حصوں میں گذشتہ 30 برس کی بارشوں کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے 72 اضلاع اس سیلاب میں شدید متاثر ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو حالیہ سیلاب کی وجہ سے دس ارب ڈالر تک کا نقصان ہوا ہے۔
احسن اقبال نے اس سے قبل امریکی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مون سون کی بارشوں سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی مرمت اور تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ خاص طور پر ٹیلی کمیونیکیشن، سڑکوں، زراعت اور معاش کے شعبے میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
تقریباً 10 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تعمیر نو اور بحالی میں 5 برس لگ سکتے ہیں جبکہ مستقبل قریب میں قوم کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ انھیں امید ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جیسے مالیاتی ادارے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے درکار معاشی اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے امداد فراہم کریں گے۔
پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر امداد کی اپیل کی ہے اور چند ممالک پہلے ہی امداد اور رسیکیو ٹیمیں بھیج چکے ہیں۔
اقوام متحدہ پاکستان کو ضروری اشیائے خورونوش اور نقد امداد فراہم کرنے کے لیے آج 16 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی 'فوری اپیل' کرے گا۔
یو این ایچ سی آر کے وفد نے فلڈ کنٹرول روم پشاور کا دورہ کیا۔ یو این ایچ سی آر کنٹری ریپریزنٹیٹو نورنکو کی قیادت میں وفد کو سیلاب اور سیلاب زدگان کے تازہ ترین معلومات پر ریفنگ دی گئی۔
خیال رہے کہ یو این ایچ سی آر نے اب تک 1500 ٹینٹ فراہم کیے ہیں۔ یو این ایچ سی آر نے مزید مدد فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی۔




،تصویر کا ذریعہKPK Tourism Department
ترجمان ٹورازم پولیس سعد بن اویس نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا ٹورازم پولیس کے جوان سیلاب زدگان اور سیاحوں کی مدد میں متحرک ہیں۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ٹورازم پولیس ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹورازم پولیس کے جوان بحرین، کالام، مدین، مرغزار سمیت دیر اور چترال میں سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد فراہم کررہے ہیں۔
ترجمان ٹورازم پولیس کے مطابق خیبرپختونخوا میں سیاحتی مقامات پر پھنسے سیاحوں کو ٹورازم ہیلپ لائن 1422 کے ذریعے مدد کی فراہمی کی جاری ہے۔
سیاحوں کے ساتھ ساتھ ٹورازم پولیس مقامی آبادی کو بھی حفاظتی مقامات تک منتقلی میں مدد فراہم کررہی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے آٹھ افراد ہلاک جبکہ تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پراونشل ڈیزاسٹرمینجمیٹ اتھارٹی، پی ڈی ایم اے، خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے بھر میں سیلاب متاثرین کے لیے 99 ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔
ضلع نوشہرہ میں77 کیمپس قائم ہیں جس میں 25000 ہزار افراد موجود ہے ان افراد کو خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کی جارہی ہیں۔
ڈی آئی خان میں 11 کیمپس قائم ییں جس میں 25000 افراد کو بنیادی ضروریات مہیا کی جارہی ہیں جبکہ دیر اپر میں سات، ملاکنڈ اور مانسہرہ میں دو دو کیمپس قائم ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے شریف حسین کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور صوبائی حکومت متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی کے لیے تمام سہولیات بروئے کار لا رہی ہیں۔
پی ڈی ایم اے میں قائم پراونشل فلڈ کنٹرول روم کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق ضلع ایبٹ آباد میں فلڈ ایمرجنسی و ریسپانس سنٹر قائم کر دیا گیا ہے، جس میں سیلاب زدگان کو ریلیف پہنچانے کے لیے تمام سرکاری ادارے ہمہ وقت موجود ہوں گے۔
مانسہرہ میں پانچ مختلف مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں، جس میں سیلاب زدگان کو ادویات سمیت کھانے پینے کی اشیا اور ضروری ساز وسامان مہیا کیا جا رہا ہے۔
اپر کوہستان میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ریسکیو آپریشن میں دو بلغاریہ کی خواتین سمیت تین لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔
لوئرکوہستان میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے مختلف دیہاتوں میں 600 پیکجز متاثرہ خاندانوں تک پہنچا دیے گئے ہیں۔ 178 افراد کو دیر اپر سے بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو کیا گیا جبکہ چترال اپر میں 14اوردیر اپر میں 210 افراد کو بھی ریسکیو کر لیا گیا اور کل 6149 افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔
سیلاب متاثرین میں سے 10660 کو فوڈ پیکجز مہیا کئے گئے ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دس خاندانوں میں این ایف آئی کٹس تقسیم کی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے لیے پی ڈی ایم اے نے چار اضلاع کو مزید 22 کروڑ روپے جاری کردیے ہیں۔
شریف حسین کے مطابق کوہستان لوئر اورٹانک کے لیے تین تین کروڑ، نوشہرہ اورچترال کے لیے دو دوکروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں جبکہ ضلع شانگلہ کے لیے ایک کروڑ پچاس لاکھ، ضلع بونیر کے لیے ایک کروڑ، ضلع اپر دیر کے لیے دو کروڑ، ملاکنڈ ایک کروڑ، ضلع سوات کے لیے دو کروڑ، لکی مروت کے لیے دو کروڑ پچاس لاکھ اور دیر لوئر کے دو کروڑ روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے جولائی سے اب تک مختلف اضلاع کی انتظامیہ کوہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلیے 85 کروڑ روپے جاری کئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کو امداد فراہمی کے لیے تمام سہولیات بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔
حککومتی اتحادی جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر قائم کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت حکومت کی اتحادی جماعتوں کا اجلاس پیر کو وزیراعظم ہاﺅس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان، وزیر اعلیٰ بلوچستان، تمام صوبائی چیف سیکریٹریز، وفاقی وزرا اور دیگر حکام شریک ہوئے۔
این ڈی ایم اے کے چئیرمن نے اجلاس کو ملک میں سیلاب کی صورتحال، ریسکیو اور ریلیف سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں ملک میں تباہ کن سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں باہمی مشاورت کے بعد ملک میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے اور متاثرین کی بحالی کے لیے ’نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس نے قرار دیا کہ 60 سال میں ایسی تباہی نہیں ہوئی جو حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ملک بھر بالخصوص صوبہ سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان میں ہوئی ہے۔
وفاق کی جانب سے فوری طور پر سیلاب زدگان کی مدد کے لیے این ڈی ایم اے کو 5 ارب روپے جاری کیے گئے جبکہ صوبہ سندھ کے لیے 15 ارب، صوبہ بلوچستان کے لیے دس ارب کی خصوصی گرانٹ بھی جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔
سیلاب میں ہلاک ہونے والے فرد کے اہل خانہ کو دس لاکھ روپے دینے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ کا صدر عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف کے لیے خصوصی پیغام بھیجا ہے۔
چینی قیادت کا پاکستان میں سیلاب سے جانی ومالی نقصانات پر پاکستان کی قیادت اور عوام سے افسوس اور بھرپور یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔
چین کے صدر اور وزیراعظم کا پیغام پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے پاکستانی قیادت تک پہنچایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح چین کی قیادت اور عوام نے پاکستان دوستی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کی چیانگ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف چین کی طرف سے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 100 ملین یوآن (آر ایم بی) امداد کا اعلان چین کی طرف سے 25000 خیموں اور دیگر امدادی اشیا کا عطیہ چین کی فضائیہ کی پروازیں 300 خیموں کی پہلی کھیپ لے کر آج اور کل کراچی پہنچیں گی۔
پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ کراچی میں امدادی سامان پاکستانی حکام کے حوالے کریں گے۔
چین کی طرف سے سیلاب متاثرین کے لئے امداد کی فراہمی سے متعلق اقتصادی امور ڈویژن کو چین کے سفیر کی کراچی سے واپسی پر باضابطہ آگاہ کیا جائے گا۔
عالمی سطح پر سیلاب ریلیف امداد میں ترکی سے سات فوجی طیارے امدادی سامان لے کر کراچی پہنچ گئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات سے تین فوجی طیارے نورخان ایئر بیس راولپنڈی پہنچ گئے ہیں۔ ان طیاروں کے ذریعے لائے جانے والے امدادی سامان میں خیمہ، ادویات اور کھانے پینے کی اشیا شامل ہیں۔
واضح ہے کہ چین سے دو طیارے 3000 خیمے لے کر آج کراچی پہنچیں گے جبکہ جاپان سے ترپالیں اور پناہ گاہیں آج کراچی پہنچیں گی۔
پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے کینیڈا نے پانچ ملین امریکی ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
برطانیہ نے 1.5 ملین پاؤنڈ دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ آذربائیجان نے دو ملین امریکی ڈالر کا اعلان کیا ہے۔

دادو ضلع کو آفت ده قرار دينے کے بعد میھڑ اور خیرپور ناتھن شاھ میں گذشتہ شب سے افراتفری مچ گئی۔
انتظامیہ کی جانب سے ٹرانسپورٹ کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ مسافر دوگنا کرایہ ادا کر کے اپنے خاندانوں کے ساتھ محفوظ مقامات کی طرف نکلے جبکہ جن کو سواری نہیں مل سکی وہ پیدل روانہ ہوئے۔
صرف میھڑ شہر کی آبادی دو لاکھ سے زائد ہے۔
مقامی صحافی آزاد کاندھڑو کے مطابق لاڑکانہ کے سپر عرف سپڑیو بند سے آنے ولا پانی ابھی شہر کے قریب نہیں پہنچا۔ امکان ہے کے شام تک اس کے اثرات شروع ہوں گے۔
یاد رہے کہ آگے جا کر یہ پانی جوہی برانچ اور ایم این وی ڈرین میں جائے گا، جہاں سے اس کو منچھر میں چھوڑا جائے گا۔
منچھر جھیل بلوچستان کے پہاڑوں سے آنے والی برساتی پانی کی وجہ سے پہلے ہی بھری ہوئی ہے۔
منچھر کا پانی سیہون کے قریب دریائے سندھ میں چھوڑا جاتا ہے، جس میں اس وقت سیلابی صورتحال اور اس میں منچھر کا ڈس چارج نہیں ہورہا۔

شہدادکوٹ کے داخلی راستے سے لے کر بائی پاس تک ہر طرف متاثرین ہی متاثرین ہیں۔ اس تعداد نمبرز کے بجائے کلومیٹروں میں ہے۔
اس میں بلوچستان سے آنے والے متاثرین بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ جب سنہ 2010 میں دریائے سندھ کو ٹوڑھی بند کے مقام پر شگاف لگا تھا تو پانی کا رخ اسی طرف تھا لیکن شہر کے لوگوں نے رنگ بند باندھ کر شہر کو محفوظ بنایا تھا۔

اس بار گنداخہ کی طرف جانے والی سڑک اور مین قمر شہدادکوٹ روڈ کو کاٹ کر پانی کو راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ گذشتہ سیلاب میں یہ بحث رہی ہے کہ سڑکوں سے پانی کی گزر گاہیں ہوں کیونکہ دونوں اطراف میں ایک دیوار بند جاتی ہے۔
پانی آگے نہیں جاتا نتیجے میں سڑک کو توڑ کر پانی کا راستہ نکالا جاتا ہے۔
پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں اگلے 24 گھنٹوں تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔ البتہ کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ جن علاقوں میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ان میں اپر کیچمنٹ کے علاقے ہیں جن میں تمام بڑے دریا شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق جہاں بارش کی توقع ہے ان علاقوں میں شمال مشرقی بلوچستان، جنوب مشرقی سندھ، ڈی جی خان، ڈی آئی خان، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور لاہور ڈویژن شامل ہے۔
چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم اس مشکل کی گھڑی میں پاکستان کے دکھ میں شریک ہیں۔ یہ ایک بہت بے رحم تباہی ہے اور چین پاکستان کو اس مشکل کی گھڑی میں مزید مدد بھیج رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بلوچستان میں حالیہ سیلاب کے دوران مزید 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد مجموعی طور پر 250 اموات ہو چکی ہیں۔
پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق بلوچستان سیلاب سے مزید چھ افراد کی ہلاکت کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 250 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب سیلاب سے مزید 3 سو سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ مزید نقصانات کے باعث مجموعی طور پر سیلاب سے متاثرہ مکانات کی تعداد 61 ہزار 7 سو 18 ہو گئی ہے۔