شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. مریم نواز راجن پور اور جنوبی پنجاب کے گرد و نواح میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گی

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز آج راجن پور اورجنوبی پنجاب کے گرد و نواح میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گی-

    مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اپنے دورے کے دوران مریم نواز سیلاب سے شدید متاثرہ علاقے جام پور، فاضل پور، حاجی پور اور ڈی جی خان میں متاثرین سے ملاقات بھی کریں گی-

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. کیا انڈین پیاز اور ٹماٹر ہی پاکستان میں سیلاب کے بعد قیمتیں کم کرنے کا واحد حل ہے؟

  3. پاکستان میں سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1162 ہو گئی

    این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان میں سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1162 ہو گئی ہے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم کی جانب سے جاری تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 506 مرد، 231 خواتین اور 384 بچے شامل ہیں۔

    چوبیس گھنٹوں کے دوران سیلاب کے نتیجے میں مزید 36 ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

    سیلاب کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 3554 بتائی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب کے نتیجے میں 1591.1 کلومیٹر شاہراہیں اور 81 پل تباہ ہوئے۔

  4. وزیر اعظم شہباز شریف آج سوات اور لوئر کوہستان کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم شہباز شریف آج صوبہ خیبرپختونخواہ کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع، سوات اور لوئر کوہستان کا دورہ کریں گے۔

    وزیر اعظم ضلع سوات میں کالام اور کانجو جبکہ ضلع لوئر کوہستان میں پتن جاینگے۔

    وزیر اعظم کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی جائے گی-

  5. مصنوعی بارش اور جرمانے سمیت توانائی بحران سے نمٹنے کے سات انوکھے طریقے

  6. کاغان میں سیلاب: ’تیز ریلا آیا اور میری بیٹی کو بہا لے گیا‘

  7. سیلاب ڈائری: ’چاول کی ایک تھیلی کے لیے لڑنا پڑتا ہے‘

  8. خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی مکمل بحالی کے لیے 16 ارب روپے کا ابتدائی تخمینہ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

    خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق حالیہ سیلاب اور بارشوں کے بعد سڑکوں کی مکمل بحالی کے لیے 16 ارب روپے درکار ہوں گے۔

    وزیر اعلی کے مشیر برائے مواصلات و تعمیرات ریاض خان کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں 867 سڑکوں کو سیلاب نے متاثر کیا جن میں سے 564 سڑکوں کو فوری مرمت کے بعد ٹریفک کے لیے قابل استعمال بنا دیا گیا۔

    پشاور میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ 7132 کلومیٹر سڑکوں میں سے 1455 کلومیٹر حصہ مکمل طور پر تباہ ہوا ہے جبکہ صوبے بھر میں 73 پلوں کو نقصان پہنچا۔

    ان میں سے سوات میں سب زیادہ 29، دیر بالا میں 16 پلوں کو نقصان پہنچا۔

    اجلاس کے مطابق سڑکوں اور پلوں کو فوری استعمال کے قابل بنانے کیلئے تقریبا ساڑھے 3 ارب روپے کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مکمل بحالی کے لیے 16 ارب روپے سے زائد کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔

  9. بلوچستان میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 254 ہو گئی، ضلع کچھی میں تین سو افراد ریسکیو, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہPDMA BALOCHISTAN

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالیہ سیلاب سے مذید چار افراد کی ہلاکت کے بعد مجموعی طور پر اموات کی تعداد 254 ہو گئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے بلوچستان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق طوفانی بارشوں اور سیلاب سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 254 جبکہ مجموعی طور پر 164 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے ضلع کچھی میں سیلابی ریلوں کے باعث مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے 300 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔

    پی ڈی ایم اے بلوچستان کے مطابق ریسکیو کی کارروائی پی ڈی ایم اے کے ڈی جی نصیر احمد ناصر کی نگرانی میں کی گئی جس میں ضلع کچھی میں درہ بولان کی تحصیل مچھ کے علاقوں بی بی نانی اور گوکڑت میں پھنسے ہوئے افراد کو بچایا گیا اور ان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد کھانا فراہم کیا گیا۔

  10. بریکنگ, سیلاب اور معیشت کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عمران خان کو بات چیت کی پیشکش کی ہے: شہباز شریف, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کو سیلاب اور معیشت کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بات چیت کی پیشکش کی ہے۔

    وہ اسلام آباد میں بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔ انھوں نے عمران خان سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کو مشکل صورتحال سے نکالنے کے لیے مل بیٹھیں۔

    ’میں نے پارلیمان میں تقریر کے دوران چارٹر آف ڈیموکریسی کا ایک مخلص پروپروزل دیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ ہمیں بیٹھ کر بات کرنی چاہیے کیونکہ حکومت تو آنی جانی ہے، مگر یہ قدم یہیں رہے گا۔ مگر یہ ایک کڑوا تجربہ تھا کہ ان کی یہ پیشکش غیرسنجیدگی سے لیا گیا۔‘

    تاہم انھوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر وہ اپنی ساکھ کو داو پر لگاتے ہوئے یہی پیشکش کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج بھی میں پیشکش کرتا ہوں کہ آئیں بیٹھیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک قومی انٹیگریٹی سے کام کریں۔ اورپھر دیکھیں کہ پاکستان کو اس مشکل سے متحد ہو کر نکالیں۔ آگے بڑھنے کا یہی راستہ ہے۔‘

    خیال رہے کہ حکومت اس وقت سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر مرکزی کمیٹی بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اس ضمن میں گذشتہ روز اسلام آباد میں اجلاس بھی ہوا تاہم اس میں بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے وزرائے اعلی نے شرکت نہیں کی تھی۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایک اہم وفاقی وزیر نے نام نہ لکھنے کی شرط پر کہا کہ ’گذشتہ روز اجلاس کے لیے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کو دعوت دی گئی تھی تاہم بلوچستان اور کے پی کے وزرائے اعلی نہیں آئے۔‘

  11. بریکنگ, امدادی رقم کی ایک ایک پائی شفافیت سے خرچ ہوگی: شہباز شریف, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے ملنے والی امداد کی ایک ایک پائی میں شفافیت کا خیال رکھا جائے گا۔

    وہ اسلام آباد میں بین الاقوامی میڈیا کے صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو بھی امداد آئے گی اسے ضرورت مند افراد تک پہنچایا جائے گا اور وہ شفافیت کو یقینی بنانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

    ’میں یہ عہد کرنا چاہتا ہوں کہ امداد کے لیے ملنے والی ہر پائی شفافیت کے ساتھ خرچ کی جائے گی۔ ہر پائی ضرورت مند تک پہنچے گی، کچھ بھی ضائع نہیں ہو گا۔ نہ کوئی سفارش نہ کوئی سیاسی اثر و رسوخ کام کرے گا۔ یہ میری پاکستان کی قوم، خدا، ہمارے ڈونرز ار بین الاقوامی کمیونٹی سے کمٹمنٹ ہے۔‘

    خیال رہے کہ آج اقوام متحدہ اور پاکستانی حکومت نے ملک میں تباہ کن سیلاب سے نمٹنے میں مدد کے لیے 16 کروڑ ڈالر کی ہنگامی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک جیسا کہ ترکی، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، آسٹریلیا اور چین سمیت دیگر ممالک سے امدادی سامان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ملنے والے سولہ کروڑ ڈالرز ملٹی پلائی ہونے چاہیئں کیونکہ پاکستان کو ایک بہت بڑی آفت اور نقصان کا سامنا ہے۔

    ان کے مطابق پاکستان پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار تھا، یہ بوجھ اب بڑھ گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ابھی ہم ریسکیو کے مرحلے میں ہیں جبکہ بحالی کا مرحلہ کئی گنا زیادہ مشکل ہو گا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ ہمیں خوراک کی بعض اشیا کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ جیسا کہ پیاز اور ٹماٹر۔ ان کی قیمتیں آسمان کو پہنچ چکی ہیں۔

    ’میں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے کہ وہ جائزہ لیں کہ کہاں سے یہ چیزیں درآمد کی جائیں۔ فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور ہمیں اب گندم کی فصل کا بیچ بونے میں مسئلہ ہو گا کیونکہ زمین نم ہو گئی ہے۔ اب ہمیں گندم بھی درآمد کرنے پڑے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ مگر ہم یہ سب لوگوں کے لیے کریں گے۔‘

  12. امریکہ کی پاکستان میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے تین کروڑ ڈالر کی امداد

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ امداد امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے ذریعے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے جان بچانے والی انسانی امداد کے لیے فراہم کی جائے گی۔

    پاکستان کی حکومت نے سیلاب کو قومی ایمرجنسی قرار دے دیا ہے، جس میں 66 اضلاع کو ’آفت زدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

    امریکہ نے پاکستان میں جانی نقصان اور گھروں کے تباہی پر دکھ کا اظہار کیا۔

    امریکہ مقامی شراکت داروں اور پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی تعاون اور بحران کی نگرانی جاری رکھے گا۔

    یو ای ایڈ کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک ماہر سیلاب کے اثرات کا جائزہ لینے اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے تعاون فراہم کرنے 29 اگست کو پاکستان آئے ہیں۔

    یو ایس ایڈ کے مطابق امدای منصوبوں میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان متاثرین تک براہ راست امداد پہنچے جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

    امریکہ امدادی منصوبوں میں مستقبل میں آنے والے سیلاب کے اثرات کو کم کرنے اور ان کی روک تھام بھی شامل ہے۔

  13. سیلاب سے 1500 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں سے ایک تہائی بچے ہیں: بلاول بھٹو

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. بریکنگ, آئندہ چوبیس گھنٹوں میں دریائے کابل اور دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان: این ڈی ایم اے

    پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادادرے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کی جانب سے جاری کی جانے والی تازہ رپورٹ کے مطابق آئندہ چوبیس گھٹنوں کے دوران دریائے کابل میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ میں بھی تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔

    ادارے کی جانب سے جاری تنبیہ میں اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے اور پیشگی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    سیلاب سے متعلق اس تنبیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیلاب کی پیش گوئی کے اوقات میں تمام اداروں بشمول ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، ایمبولینس سروس اور سول ڈیفنس کو الرٹ رہنے اور عملے کو حاضر رہنے کو کہا گیا ہے۔

    نشیبی علوقوں کے لوگوں کی بروقت محفوظ مقامات پر منتقلی کی ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔

    سیاحوں اور مسافروں کو سیلاب کے خدشات کا شکار علاقوں کے بارے میں متنبہ کر دیا گیا ہے۔

    محکمہِ موسمیات کے مطابق اگرچہ ملک بھی میں مجموعی طور پر موسم خشک رہنے کا امکان ہے تاہم ملک کے کچھ حصوں میں شمالی بلوچستان، جنوبی سندھ، ڈی جی خان، راولپنڈی، گجرنوالہ، اور لاہور ڈویژن کے بڑے دریاؤں کے قریب کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔

  15. ملک بھر میں سیلاب سے پیدا ہونے والی تازہ صورتحال

    پاکستان کے لیے اقوام متحدہ نے ممبر ممالک سے 16 کروڑ ڈالرز امداد کی اپیل کی ہے۔ آج ملک بھر میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال جانیے بی بی سی اردو کے فیس بک لائیو میں۔رپورٹنگ: نادیہ سلیمان، سعد سہیل ویڈیو: موسیٰ یاوری، نیّر عباس

  16. پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقے

    سیلاب سے متاثرہ علاقے
  17. آخر دریا کے اندر یا دریا کے کنارے ہی ہوٹل کیوں؟

  18. وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی این ڈی ایم اے کو حالیہ سیلاب کے پیش نظر ایس او پیز تیار کرنے کی ہدایت, تنویر ملک ، صحافی

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملک میں حالیہ سیلاب کے پیش نظر مزید ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لیے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے منگل کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو صوبائی ڈیزاسٹر کے ساتھ مل کر ایک جامع ایس او پیز تیار کرنے کی ہدایت کی تاکہ مزید جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

    وزیر نے یہ ہدایات فلڈ ریلیف کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں این ڈی ایم اے کے حکام نے وفاقی وزیر کو ملک میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔

    بریفنگ کے دوران این ڈی ایم اے نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ اوکاڑہ, ساہیوال اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گہی۔

    اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب سے مجموعی طور پر 75 افراد ہلاک ہوئے جن میں سندھ میں 53، کے پی میں 16، جی بی میں 5 اور بلوچستان میں دو افراد شامل ہیں۔

    وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ہر متاثرہ ضلع کے نقشے تیار کریں تاکہ متاثرین جو کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں ان کی تعداد کا اندازہ لگایا جا سکے اور انکی مدد میں آسانی ہوسکے۔

    بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر نے سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ علاقوں میں صحت کی تازہ ترین صورتحال پر صوبوں کے ساتھ فوری طور پہ آج ہی اجلاس کریں اور پھر بدھ کو ہونے والی کمیٹی کے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ بھی دیں۔

    مزید بران, صحت کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر یہ معلوم کریں کہ متاثرہ لوگوں کو طبی امداد اور صحت کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں، خاص طور پر سیلاب کے پانی سے ہونے والی بیماریوں جن سے خواتین اور بچے متاثرہ ہوئے۔

  19. پاکستان کے نشیبی علاقوں میں نکاسی آب میں مہینوں لگ سکتے ہیں: بلاول بھٹو زرداری

    bilawal

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جس بڑی تعداد میں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ان متاثرین کی تعداد آسٹریلیا اور سری لنکا کی مجموعی آبادی سے بھی سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اتنی بڑی تعداد میں بے گھر ہو جانے والے لوگوں کے لیے ہمارے پاس خیمے نہیں ہیں اسی لیے ہم نے آج اقوامِ متحدہ سے مدد کی اپیل کی ہے۔‘

    اقوامِ متحدہ کے اہلکار جولیاں ہارنس ساتھ نیوز کانفرنس انھوں نے کہا کہ یقیناً پاکستان میں اتنی بڑی پریشانی سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے اور جوں جوں امداد ملتی جائے گی یہ صلاحیت بڑھتی جائے گی۔

    وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگرچہ دوست ممالک کی جانب سے امداد بھیجی جا رہی ہے لیکن اس وقت ’طلب رسد سے کہیں زیادہ ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت ملک کی جو صورتحال ہے اس میں ہماری پہلی ترجیح ریلیف اور ریسکیو ہے۔‘

    میں انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے بالائی علاقوں میں سیلاب اگرچہ تباہی مچاتا ہے تاہم یہ گزر جاتا ہے اور بحالی کا عمل جلدی شروع ہو جاتا ہے تاہم نشیبی علاقوں پانی بہت دیر تک کھڑا ہوتا ہے۔ ہمیں اس کی نکاسی میں بھی مہینوں لگ جائیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ کہنا کہ پانی اب تک کیوں نہیں نکالا جاسکا ایک غیر منطقی سوال ہے۔‘

    اس موقعے پر اقوام متحدہ کے اہلکار جولیاں ہارنس کا کہنا تھا کہ ’ابھی ریسکیو کے بعد ہم متاثرین کی بحالی کے مرحلے میں بھی تعاون کریں گے۔ وہ بھی ایک بڑا چیلنج ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا ایک بڑے امداد جہازوں پر جلد ہی پاکستان کے شہر کراچی لینڈ کرنے والی ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’ہم کام کر رہے ہیں بس رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ‘

  20. ڈیرہ غازی خان میں سیلاب: ’ہمارے سارے جانور بہہ گئے، کچھ نہیں بچا‘