شہباز شریف کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے 10 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان

وزیر اعظم شہباز شریف نے سوات کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ کے لیے 15 ارب روپے گرانٹ، بلوچستان کے لیے 10 ارب روپے اور اب کے پی کے لیے بھی 10 ارب روپے گرانٹ کا اعلان کیا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان می سیلاب سے 1162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کوئٹہ: ولی تنگی ڈیم ٹوٹنے کی خبروں میں صداقت نہیں، شہر محفوظ ہے، انتظامیہ

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    ،تصویر کا کیپشنڈپٹی کمشنر کوئٹہ شے حق بلوچ عوام سے گھروں کو واپس لوٹنے کی اپیل کرتے ہوئے

    ڈی سی کوئٹہ شے حق بلوچ نے کہا ہے کہ افواہ پھیلائی گئی کہ ولی تنگی ڈیم ٹوٹ چکا ہے جو کہ جھوٹ ہے۔

    عوام کے نام اپنی اپیل میں اُنھوں نے کہا کہ ولی تنگی ڈیم سمیت کوئٹہ کے گرد و نواح میں کوئی ڈیم نہیں ٹوٹا ہے، تمام ڈیموں پر انجینیئرز اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار موجود ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا تو انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آئے گی، کوئٹہ محفوظ ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔

    واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل یہ افواہیں پھیل گئی تھیں کہ کوئٹہ کے نواح میں واقع ولی تنگی ڈیم ٹوٹ چکا ہے چنانچہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر انخلا شروع کر دیا تھا۔

    تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔

  2. بالاکوٹ اور ملحقہ علاقوں میں سیاحوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا

    ڈی ایس پی بالاکوٹ سراج خان کے مطابق سیلابی ریلے کے بعد پولیس، مقامی لوگوں اور ریسیکو اہلکاروں نے پھنسے ہوئے تمام سیاحوں کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا ہے۔

    اُن کے مطابق پہلے دن مہانڈری کے مقام پر ایک ہوٹل میں 18 سیاح پھنسے ہوئے تھے جن کو پولیس نے آپریشن کر کے محفوظ مقام پر پہنچایا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ مہانڈری پل جس پر سے پانی گزر رہا تھا اس کو بحال کر دیا گیا اور وہاں سے اب ہلکی ٹریفک گزر سکتی ہے جبکہ بھاری ٹریفک ون وے ہے۔

    سراج خان کے مطابق اس وقت اس علاقے میں ٹریفک کی آمد و رفت جاری ہے اور کاغان روڈ پر بھی ٹریفک جاری ہے۔

    سراج خان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے بالاکوٹ کے علاقے میں منور ویلی شدید متاثر ہوئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو منور ویلی کے دور دراز علاقوں میں بھجا گیا ہے جہاں پر وہ سروے کرنے کے علاوہ متاثرین کو مدد فراہم کریں گے۔

    اُنھوں نے بتایا کہ اس وقت کاغان ویلی اور بالاکوٹ میں حالات بحالی کی طرف جا رہے ہیں۔

  3. بریکنگ, ’کالاباغ اور چشمہ کے مقامات پر اونچے سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آسکتا ہے‘

    این ڈی ایم اے نے متنبہ کیا ہے کہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقامات پر ’اونچے سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آسکتا ہے جو ساڑھے پانچ لاکھ سے سات لاکھ کیوسکس کے درمیان ہوگا۔‘

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران دریائے کابل اور سندھ میں سیلابی ریلا اونچے درجے کا رہے گا جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر سیلاب انتہائی اونچے ہوسکتا ہے۔

    فی الحال دریائے سندھ میں تونسہ اور سکھر میں اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ چشمہ، گڈو اور کوٹری میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے تاہم تربیلہ اور کالاغ پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

  4. تین کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ آبادی متاثر ہونے کا تخمینہ: این ڈی ایم اے

    این ڈی ایم اے

    ،تصویر کا ذریعہNDMA

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 57 لاکھ سے زیادہ کی آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے جبکہ تین کروڑ تیس لاکھ کی آبادی متاثر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    اس کے مطابق اب تک 110 ضلع متاثر ہوئے ہیں جس میں بلوچستان کے 34، سندھ کے 16 اور خیبرپختونخوا کے 33 ضلع شامل ہیں۔

    اب تک 51 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ریسکیو کیا جاچکا ہے جبکہ قریب پانچ لاکھ افراد ریلیف کیمپس میں ہیں۔

  5. قریب ساڑھے نو لاکھ گھر و عمارتیں تباہ، سات لاکھ سے زیادہ مویشی متاثر: این ڈی ایم اے

    این ڈی ایم اے

    ،تصویر کا ذریعہNDMA

    این ڈی ایم اے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب سے 290 کلومیٹر طویل شاہراہیں متاثر ہوئی ہیں اور 48 دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔ مجموعی طور پر 14 جون سے اب تک سیلاب سے 3451 کلومیٹر طویل سڑکیں، 149 پُل اور 170 دکانیں تباہ ہوئی ہیں۔

    قریب ساڑھے نو لاکھ گھر اور عمارتیں جبکہ سات لاکھ سے زیادہ مویشی بہہ گئے ہیں۔

  6. بریکنگ, سیلاب سے پاکستان میں 1033 ہلاکتوں کی تصدیق: این ڈی ایم اے

    این ڈی ایم اے

    ،تصویر کا ذریعہNDMA

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے نے 14 جون سے اب تک سیلاب اور بارشوں سے 1033 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان میں 348 بچے، 207 خواتین اور 456 مرد شامل ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ اموات سندھ میں ہوئی ہیں جہاں 137 بچوں سمیت 347 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ بلوچستان میں 238، خیبرپختونخوا میں 226 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پنجاب میں 168، کشمیر میں 38، گلگت بلتستان میں 15 اور اسلام آباد میں ایک فرد ہلاک ہوا ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 1527 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

  7. دریاوں اور براجز میں پانی کے ان اور آوٹ فلو کی تازہ ترین رپورٹ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    حکام کے مطابق نوشہرہ میں انتہائی اونچے درجے جبکہ سکھر اور تونسہ میں پانی کا بہاؤ اونچے درجے کا ہے۔

  8. وزیر اعظم شہباز شریف کی ترک اور ایرانی صدور سے فون پر گفتگو

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے ہفتے کو وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام شعبوں میں مدد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے سیلاب کی صورتحال پر صدر رئیسی کی ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ’پاکستان جون 2022 کے وسط سے مون سون کے شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے، بہت سے علاقوں میں 4 سے 5 گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ شدید بارشوں سے بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے انسانی جانوں، ذریعہ معاش، مویشیوں، املاک اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘

    ’سڑکوں اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے پر شدید اثرات سے انسانی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے جس سے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور امداد کی ترسیل دونوں میں رکاوٹ ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے ایران کے صدر کو بتایا کہ پاکستان نے’اقوام متحدہ کے ذریعے فوری مدد کی اپیل‘ تیار کی ہے جو 30 اگست2022 کو شروع کی جائے گی۔‘

    دوسری طرف ترک طیب اردوغان نے ہفتے کو وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ ان کا ملک ہمیشہ پاکستان کی مدد کرے گا۔

    وزیراعظم نے انسانی بنیادوں پر امداد پر صدر رجب طیب اردوغان کا شکریہ ادا کیا۔ دو طرفہ تناظر میں وزیراعظم نے تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  9. اتوار کے روز موسم کیسا ہوگا؟

    سیلاب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کو ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ تاہم شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، شمالی بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    خیبرپختونخوا: صوبہ کے بیشتر اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا۔ تاہم چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، کوہستان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، مردان، چارسدہ اور کرم میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    کشمیر/گلگت بلتستان: کشمیراور گلگت بلتستان میں مطلع ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    اسلام آباد: اسلام آباد میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    پنجاب: صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران خطہ پوٹھوہار، مری، گلیات، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور نارووال میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔

    بلوچستان: صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ تاہم بارکھان، ژوب، موسیٰ خیل اور قلعہ سیف اللہ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔

    سندھ: صوبے کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

  10. ’سیلاب متاثرین کے لیے سیاحتی مقامات پر ہوٹلز و ریسٹ ہاؤسز مختص‘

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی ہدایت پر کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی نے سیلاب متاثرین کے لیے سیاحتی مقامات پر ہوٹلز و ریسٹ ہاؤسز مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ڈی جی ٹورازم اتھارٹی عابد وزیر کے ایک بیان کے مطابق پی ٹی ڈی سی موٹلز اور ریسٹ ہائوسز متاثرین و سیاحوں کے لیے ریلیف کیمپ کے طور پر مختص کیے جا رہے ہیں۔

    ’کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی مشکل کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔ سیاحتی مقامات پر پھنسے سیاحوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ سیاحتی ہیلپ لائن 1422 کے ذریعے متاثرین کی مدد کررہے ہیں۔‘

    دوسری طرف سوات ایکسپریس وے ایم 16 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے اور پلائی کے قریب ٹریفک کو ڈائیورٹ کیا گیا ہے۔ ناران-کاغان روڈ اور بابوسر ٹاپ بھی لائٹ ٹریفک کے لیے کھلے ہیں۔

  11. ترکی کا امدادی سامان کے ساتھ طیارہ پاکستان روانہ کرنے کا اعلان

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ترکی نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے امدادی سامان پر مشتمل طیارہ پاکستان روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے ہفتہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی پاکستان میں بارشوں اورسیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد اورمعاونت کی تیاری کر رہا ہے اور امدادی سامان کے ساتھ طیارہ پاکستان روانہ کیا جا رہا ہے۔ بیان میں پاکستان میں بارشوں اورسیلاب سے ہونے والے جانی اورمالی نقصان پرافسوس کااظہارکیاگیاہے۔

    واضح رہے کہ ہفتہ کو ترکی کے وزیرخارجہ مولودکوسووگلو نے وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری سے ٹیلی فون پررابطہ بھی کیا اورپاکستان میں سیلاب سے ہونے والے جانی اورمالی نقصان پرپاکستان کی حکومت اورعوام کے ساتھ تعزیت ، افسوس اورہمدردی کا اظہار کیا۔

  12. بلوچستان کے کئی علاقوں میں بجلی، گیس کی فراہمی تاحال معطل، ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سیلاب کے باعث بولان میں دو پائپ لائنز کو نقصان پہنچنے کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں گیس کی فراہمی بند ہوئی ہے اور ایندھن کا بحران پیدا ہوگیا ہے۔

    بولان کے علاقے میں پہلے 19 اگست کو ایک گیس پائپ لائن کو نقصان پہنچا تھا جبکہ چار روز قبل دوسری پائپ لائن بھی متاثر ہوئی۔ پائپ لائنز کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے کوئٹہ، پشین، زیارت، قلات اور مستونگ کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی تھی۔

    سیلاب کے باعث ٹاورز کو نقصان پہنچا اور متعدد اضلاع میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے جس کے بعد ایندھن کی ضرورت پوری کرنے کے لیے انحصار ایل پی جی پر بڑھ گیا ہے۔

    کوئٹہ شہر میں ایل پی جی کی دکانوں پر لوگوں کی طویل قطاریں ہیں۔ دوسری جانب ایل پی جی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا گیا ہے۔

    ‎وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے شہر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ایل پی جی مقررہ نرخوں سے زائد پر فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی ہدایت کی ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلی نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کہ کہ ایل پی جی کی دستیابی اور مقرر کردہ نرخ پر اس کی فروخت کو یقینی بنائیں۔

  13. ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے: شیری رحمان

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ زخمی افراد یا وہ لوگ جن کے گھر جزوی طور پر تباہ ہوئے انھیں ڈھائی لاکھ روپے جبکہ ان لوگوں کو پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے جن کے گھر مکمل تباہ ہوگئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ضرورت مند افراد کو 25 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں اور اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد کیش سکیم سے یہ رقم حاصل کر چکے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. ملک میں غیر فعال موبائل ٹاورز، متاثرہ سڑکوں کی بحالی کی ہدایت, تنویر ملک، صحافی

    این ڈی ایم اے کی جانب سے وفاقی فلڈ ریلیف کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ امدادی کاروائیوں میں 34384 ٹینٹس، 29400 فوڈ پیکٹس، 18860 ابتدائی طبی امداد کی کٹس، 106 جنریٹر، 350 لائف سیونگ جیکٹس، 1000 سلیپنگ بیگز، 9944 کچن سیٹ اور 17650 کمبل ملک گیر متاثرہ علاقوں میں فراہم کیے گئے ہیں۔

    وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور چئیرمین وفاقی فلڈ ریلیف کمیٹی احسن اقبال زیر صدارت نئی سیلابی حالات کے پیش نظر فلڈ ریلیف کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیریں رحمان نے بھی شرکت کی۔

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور وزیر اعظم کے مشیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان قمر الزمان کائرہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

    احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی اے سپیشل ٹیمز تشکیل دے اور تمام ٹیلی کیمیونیکشن کمپنیوں کے ساتھ مل کر غیر فعال ٹاورز کو بحال کرے۔

    انھوں نے کہا کہ صوبوں کے ساتھ مل کر سیلاب کے پیش نظر صحت کے لیے مربوط قومی ایمرجنسی پلان تشکیل دیا جائے اور این ایچ اے کو ہنگامی طور پر متاثرہ سڑکیں بحال کرنے کی ہدایت دی جائے۔

  15. ’مدین پُل کو 2010 کے سیلاب کے بعد پانچ میٹر اونچا بنایا گیا تھا‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ وزارت مواصلات نے انھیں بتایا کہ 2010 کے سیلاب میں خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کا مدین پُل گِرنے کے بعد اسے دوبارہ پانچ میٹر اونچا بنایا گیا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اب موجودہ سیلابی ریلے میں پانی کا بہاؤ اس سے اوپر ہے۔ ’انھیں لگا تھا کہ وہ اسے اونچا بنا کر بہتر کام کر رہے ہیں۔‘

  16. شاہراہیں سیلابی پانی میں بہہ جانے سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا: پی ڈی ایم اے

    پی ڈی ایم اے

    ،تصویر کا ذریعہPDMA

    پی ڈی ایم اے بلوچستان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے حکام کولپور، مچھ اور بی بی نانی میں پھنسے سینکڑوں مسافروں تک پہنچ گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں پھنسے مسافروں کو قریبی علاقوں میں موجود محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مسافروں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہے۔ ’مسافر سیلابی صورتحال کے باعث مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے تھے۔ وزیراعلی اور مشیر داخلہ کی ہدایت پر ریسکیو ٹیمیں امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ مزید آگے جاکر مسافروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہے۔ پھنسے افراد میں خوراک سمیت دیگر امداد سامان تقسیم کردیا گیا ہے۔

    ’شاہراہیں سیلابی پانی میں بہہ جانے سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انتہائی دشوار گزار راستوں کو عبور کر کے ریلوں میں پھنسے مسافروں تک پہنچے۔ این ایچ اے حکام کی جانب سے بھرپور تعاون کیا جارہا ہے۔‘

  17. کمراٹ میں پھنسے 22 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرلیا گیا: آئی ایس پی آر

    کمراٹ میں پھنسے 22 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرلیا گیا: آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ کمراٹ میں سیلاب کی وجہ سے پھنسے 22 لوگوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’بعض خاندان تاحال پہاڑوں پر پھنسے ہوئے ہیں اور خراب موسم کی وجہ سے ان کا انخلا نہیں ہوسکا۔ تاہم ان سے رابطہ قائم رکھا گیا ہے اور موسم بہتر ہونے پر ان کا انخلا کیا جائے گا۔ جبکہ دوسروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق اسی طرح خوازہ خیلا میں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ لوگوں سے دراخواست ہے کہ سیلاب کے دوران سوات یا دیگر سیاحتی علاقوں کا رُخ نہ کریں۔

  18. بلوچستان میں ’ذرائع مواصلات متاثر ہونے سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات‘

    وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت متاثرین تک فوری امداد کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے مگر ذرائع مواصلات متاثر ہونے سے امدادی سرگرمیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔

    وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا عبدالواسع کے ساتھ ملاقات کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’متاثرہ پلوں، شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

    ’مواصلاتی رابطوں کی بحالی سے امدادی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ نقصانات کے سروے کا عمل جلد مکمل کر کے متاثرین کو مالی معاونت کی فراہمی شروع کی جائے۔‘

    مولانا عبدالواسع کا کہنا تھا کہ ’وفاقی حکومت متاثرین کی بحالی میں صوبائی حکومت کی بھرپور معاونت کرے گی۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. بلوچستان میں سیلاب سے مزید چار اموات

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    بلوچستان میں سیلاب کے باعث جانی اور مالی نقصانات میں اضافے کا سسلسلہ جاری ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق مختلف علاقوں میں مزید چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر ہلاک افراد کی تعداد 238 ہوگئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بلوچستان بھر میں سیلاب سے مزید 33 ہزار سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور مجموعی طور پر مختلف اضلاع میں 61 ہزار 4 سو 88 گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

    اسی طرح مزید 38 ہزار سے زائد مال مویشی کی ہلاکت کے بعد مجموعی طور پر ہلاک ہونے والے مال مویشی کی تعداد ایک لاکھ 45 ہزار 9 سو 36 ہوگئی ہے جبکہ سیلابی ریلوں سے دو لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    سیلابی ریلوں سے 1000 کلو میٹر پر مشتمل سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ بارش اور سیلابی ریلوں سے 18 رابطہ پل ٹوٹ چکے ہیں۔

  20. مہوڈنڈ جھیل کے علاقے میں ’مقامی افراد سمیت 200 سیاح پھنسے ہوئے ہیں‘, منزہ انوار، بی بی سی اردو

    خیبر پختونخوا میں سیاحتی علاقے کالام سے قریب 35 کلومیٹر دور مہوڈنڈ جھیل کے علاقے میں گذشتہ تین روز سے مقامی افراد سمیت تقریباً 200 سیاح پھنسے ہوئے ہیں جن کے پاس خوراک اور ادویات سب ختم ہو چکی ہیں۔

    ناظم اوشو مٹلتان انور سرفراز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’سیلاب آنے کے باعث جھیل کا علاقہ بالکل کٹ کر رہ گیا ہے اور ہمارا وہاں پھنسے افراد سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔‘

    ’نہ ہم وہاں جا کر ان کی مدد کر سکتے ہیں نہ وہ وہاں سے نکلنے کے قابل ہیں۔‘

    انھوں نے حکومت سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان میں شامل مقامی افراد کے والدین بہت پریشان ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تقریباً 20 ہزار آبادی پر مشتمل علاقہ ہے اور یہاں بھی کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی قلت ہے مگر ’کوئی اس طرف ہماری مدد کو نہیں آ رہا۔‘