آج کے اخباروں کی شہ سرخیاں کیا ہیں؟




انتخابات کے اگلے روز چند پاکستانی اخبارات کی جانب سے لگائی گئیں شہ سرخیاں۔
پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلی مرتبہ متعارف کروائے جانے والے نظام میں تکنیکی خرابی نتائج میں تاخیر کی وجہ بنی ہے۔ الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
ذیشان حیدر، حسن زیدی، رضا ہمدانی ذیشان علی، حمیرا کنول




انتخابات کے اگلے روز چند پاکستانی اخبارات کی جانب سے لگائی گئیں شہ سرخیاں۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/SHAFQAT MAHMOOD
لاہور کے حلقے این اے 130 سے پی ٹی آئی کے شفقت محمود نے 127405 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس حلقے میں دوسرے نمبر پر مسلم لیگ نون کے خواجہ احمد حسن رہے جنھوں نے 104625 ووٹ حاصل کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کے حلقے ملیر-1 این اے 236 کی نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے امیدوار جام عبدالکریم بجر نے 66623 ووٹ لے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار مسرور علی کو 26456 ووٹ پڑے۔
اب تک موصول ہونے والے غیرحتمی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کے نتائج حسبِ ذیل ہیں:
خیبر پختونخوا
تحریکِ انصاف:15
عوامی نیشنل پارٹی: 2
آزاد: 1
پنجاب
مسلم لیگ ن: 9
تحریکِ انصاف: 7
سندھ
پیپلز پارٹی: 7
بلوچستان
بلوچستان عوامی پارٹی: 2
بلوچستان نیشنل پارٹی: 1

جمعرات کی صبح دس بجے تک الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق اب تک قومی اسمبلی کی 12 سیٹوں کے نتائج سامنے آ چکے ہیں اور ان میں پی ٹی آئی کی واضح برتری ہے۔
قومی اسمبلی میں اب تک کی پارٹی پوزیشن ذیل میں ہے۔
PTI -8PML(N) - 2PPPP - 1MMA - 1

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 124 میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق حمزہ شہباز نے کل 146294 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار محمد نعمان قیصر 80981 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خوشاب میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 93 سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عمر اسلم خان نے کامیابی حاصل کی ہے۔
انھوں نے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی امیدوار سمیرا ملک کے 70401 ووٹوں کے مقابلے میں 100448 ووٹ حاصل کیے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے کے حلقہ این اے 40 سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے والے امیدوار سردار خان کو شکست دے دی ہے۔
پی ٹی آئی کے امیدوار گل داد خان نے 34616 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مد مقابل سردار خان کو 17850 ووٹ پڑے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 28 سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ارباب عامر ایوب جیت گئے ہیں۔
انھوں نے 74 ہزار 414 ووٹ حاصل کیے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار متحدہ مجلسِ عمل کے صابر حسین اعوان نے 27 ہزار 292 ووٹ لیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پشاور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 30 میں پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار شیر علی ارباب کامیاب ہوئے ہیں۔ وہ 73 ہزار 781 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار متحدہ مجلسِ عمل کے ارباب نجیب اللہ خان ہیں۔
ارباب نجیب اللہ خان نے 18 ہزار 111 ووٹ لیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کے اگلے دن جمعرات کی صبح نو بجے تک الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے سات حلقوں کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے۔
اب تک کی صورتحال کے مطابق ان سات حلقوں میں سے پاکستان تحریک انصاف نے چار جبکہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلسِ عمل نے ایک، ایک نشست لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 231 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سید ایاز علی شاہ شیرازی نے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولوی محمد صالح کو ایک بڑے مارجن سے شکست دے دی ہے۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق سید ایاز علی شیرازی نے 129980 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار مولوی محمد صالح کو صرف 11177 ووٹ ملے۔
پاکستان تحریک انصاف کے جنید اکبر نے 81 ہزار 310 ووٹ لیے ہیں جبکہ اُن کے مدمقابل متحدہ مجلسِ عمل کے گل نصیب خان نے 31 ہزار 729 ووٹ حاصل کیے ہیں۔
اس حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی امیدوار تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہAFP
لاہور کے حلقہ این اے 123 پر مسلم لیگ نون نے فتح حاصل کی ہے۔ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی اس نشست پر مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد ریاض نے پاکستان تحریک انصاف کے واجد عظیم کو شکست دی۔
مسلم لیگ ن کے محمد ریاض نے 97193 ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو 72535 ووٹ ملے۔
لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 135 سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک کرامت علی نے مسلم لیگ ن کے سیف الملوک کھوکھر کو نو ہزار 334 ووٹوں سے شکست دے دی ہے۔
جیتنے والے امیدوار نے 64 ہزار 765 ووٹ لیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان تحریک انصاف کے اسد عمر نے اپنے مدمقابل پاکستان مسلم نون کے انجم عقیل خان کو شکست دے کر اسلام آباد کے حلقے این اے 54 سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔
غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون کے انجم عقیل خان نے 32991 ووٹ حاصل کیے جبکہ پی ٹی آئی کے اسدم عمر کو کل 56945 ووٹ پڑے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سوات کے حلقہ این اے 3 پر ہونے والے انتخابات میں غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سلیم رحمان نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد شہباز شریف کو شکست دی ہے۔
میاں محمد شہباز شریف کو کل 22756 ووٹ ملے جبکہ ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے سلیم رحمان نے 68162 ووٹ حاصل کیے۔
پاکستان میں عام انتخابات کے لیے 25 جولائی کو ہونے والی پولنگ کے بعد غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
چترال کے حلقہ این اے 1 سے قومی اسبملی کی نشست پر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولانا عبدالاکبر چترالی نے پاکستان تحریک انصاف کے عبداالطیف کو شکست دے دی ہے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے 26133 ووٹ حاصل کیے جبکہ عبدالطیف کو 17644 ووٹ پڑے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں 2018 کے عام انتخابات کے سرکاری طور پر پہلے سرکاری نتیجے کا اعلان سیکریٹری الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے کے 10 گھنٹے کے بعد صبح چار بجے کیا۔ لیکن اس وقت تک پاکستان تحریکِ انصاف کے ووٹر اور کارکنان اپنے کپتان عمران خان کی جیت پر جشن منانا شروع کر چکے تھے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگانا شروع کر دیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے تو یہاں تک کہا کہ وہ نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔
عمران خان کی جماعت انتخابات میں جیت پر پر امید تو ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اسے قومی اسمبلی میں واضح برتری حاصل نہیں ہو گی اور اس طرح اگر یہی ٹرینڈ رہا تو اسے مخلوط حکومت کے لیے دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانا پڑ سکتا ہے۔ لیکن اس کے متعلق حتمی طور پر صرف سرکاری اور حتمی نتائج آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔
صوبائی انتخابات کے حوالے سے اگرچہ غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف نے پہلے سے کافی زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں لیکن پھر بھی صوبوں میں برتری تقریباً انہی جماعتوں کی نظر آ رہی ہے جن کی پہلے بھی وہاں اکثریت تھی۔
نتائج کے آنے میں تاخیر کی وجہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اپنے آر ٹی ایس سسٹم میں خرابی بتائی لیکن اس خرابی نے سیاسی جماعتوں کے دلوں میں شکوک پیدا کر دیے۔
اب سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن دوسری جماعتوں کے الزامات اور شکایتوں کا ازالہ کس طرح کرے گا اور اگر ہارنے والی دیگر بڑی جماعتوں نے مل کر دھاندلی اور غیر منصفانہ پولنگ کا الزام لگایا تو پھر کیا لائحہ عمل ہوگا۔
پاکستان کا الیکشن 2018 جو پہلے ہی متنازع تھا اب مزید متنازع ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان میں پولنگ کے خاتمے کے دس گھنٹے بعد سرکاری لیکن غیر حتمی نتائج کے اعلان کا آغاز ہو گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے پہلے غیر حتمی سرکاری نتیجے کا اعلان کیا۔ پی پی 11 راولپنڈی 6 سے پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری محمد عدنان 43079 ووٹ لے کر کامیاب رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے انتخابات کے کامیاب انعقاد پر عملے کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ متعارف کروائے جانے والے نظام میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے نتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی۔