پولنگ سٹیشنز کے ابتدائی نتائج آنا شروع

پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد اب ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور کئی پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ تاہم تاحال کسی حلقے کا مکمل نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔
پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلی مرتبہ متعارف کروائے جانے والے نظام میں تکنیکی خرابی نتائج میں تاخیر کی وجہ بنی ہے۔ الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
ذیشان حیدر، حسن زیدی، رضا ہمدانی ذیشان علی، حمیرا کنول

پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد اب ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور کئی پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ تاہم تاحال کسی حلقے کا مکمل نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔
راولپنڈی کے ایک پولنگ سٹیشن کے پریزائیڈنگ افسر محمد وقاص نے بی بی سی کے نامہ نگار شجاع ملک کو بتایا کہ انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ نتائج پہلے الیکشن کمیشن کو بھیجے جائیں اور اس کے بعد پولنگ ایجنٹس کو دیے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ اس کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے کہ کیونکہ پولنگ ایجنٹس کو پہلے نتائج کے بارے میں آگاہ کرنے کی صورت میں پولنگ سٹیشن کے باہر لڑائی جھگڑے کا خدشہ ہوتا ہے۔
محمد وقاص نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو موبائل فون کے ذریعے خصوصی ایپ پر نتائج دینے ہیں لیکن اس وقت ایک مسئلہ یہ بھی درپش ہے کہ موبائل فونز کی بیٹریاں کم ہو چکی ہیں اور ان کے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ انھوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے سکیورٹی اہلکاروں سے درخواست کی ہے کہ جب تک ووٹوں کے باکس پولنگ سٹیشن سے چلے نہیں جاتے اس وقت تک وہ اپنی سکیورٹی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں۔





،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان میں 2018 کے انتخابات میں تشدد کے مختلف واقعات پیش آئے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
سب سے بڑا واقعہ کوئٹہ میں پیش آیا جہاں مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ایک پولنگ سٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے میں 31 افراد ہلاک ہوئے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ کے مطابق یہ ایک خودکش حملہ تھا اور حملے کے وقت ڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ قریبی پولنگ سٹیشن کے دورے پر تھے۔
عبد الرزاق چیمہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ اس خودکش دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔ انھوں نے اپنی نیوز ایجنسی اعماق پر بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
دوسری جانب صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ کی یو سی 13 میں واقع سرھیا پدھر کے علاقے شاہ محمد پولنگ سٹیشن کے باہر قائم پیپلز پارٹی کے کیمپ میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے تین کارکنان اسداللہ شیخ، اشفاق علی، مرتضی زخمی ہو ئے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق چمن کے علاقے قلعہ عبداللہ میں نامعلوم افراد نے مسری اڈہ کے پولنگ سٹیشن کے پریذائڈنگ آفیسر کو اغوا کر لیا۔
بلوچستان ہی میں ایک اور واقعے میں چمن کے علاقے کلی گوہر میں نامعلوم افراد الیکشن کا سامان لے کر فرار ہوگئے۔
الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا احمد خان سات بجے پہلے نتیجے کا اعلان کریں گے۔
اس سے پہلے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے پولنگ کے دورانیے میں مزید ایک گھنٹہ کا اضافہ کرتے ہوئے اسے سات بجے کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے ہی ایک گھنٹے اضافی وقت دیا گیا۔

پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ان پولنگ سٹیشنز میں ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے جن کے اندر اس وقت ووٹرز موجود نہیں ہیں۔ ماضی میں ووٹنگ کا وقت ختم ہوتے ہی پولنگ سٹینشز کے غیر سرکاری ابتدائی نتائج مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونا شروع ہو جاتے تھے لیکن بار الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی نتیجہ مقامی وقت کے مطابق سات بجے سے پہلے نشر نہ کیا جائے۔
لاہور سے نامہ نگار فرقان الہی کے مطابق پولنگ کا وقت ختم ہوتے ہی پولیس اہلکاروں نے قناتوں اور خار دار تاروں کی مدد سے پولنگ سٹیشن جانے والے راستے بند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔


پاکستان میں بدھ کو ہونے والے عام انتخابات میں پولنگ کا مقررہ وقت ختم ہو گیا ہے۔ تاہم اب بھی پولنگ سٹیشن کی حدود میں موجود افراد کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو گی۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جانب سے وقت میں ایک گھنٹے اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا جسےالیکشن کمیشن نے رد کر دیا تھا

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو ووٹنگ کے عمل میں رازداری نہ برتنے پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے عمران خان کو 30 جولائی دن ایک بجے طلب کیا ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان نے بنی گالہ کے قریب ہی واقع حلقہ این اے 53 جہاں وہ امیدوار بھی ہیں میں پولنگ سٹیشن ڈھوک جیلانی بوائز سکول میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

،تصویر کا ذریعہECP
بی بی سی کے نامہ نگار ذیشان علی کے مطابق راولپنڈی میں و اقع خواتین کے ایک پولنگ سٹیشن کے باہر مردوں کی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق صوبائی اسمبلی پی بی 09 جو کہ کوہلو اور مری کے علاقوں میں آتا ہے سے نواب جنگیز مری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ہم نے الیکشن کا بائکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف سی کمانڈنٹ بے ہمارے نو مرکزی پولنگ سٹیشنز کو راتوں رات شفٹ کیا ہے۔ ہزاروں مردو خواتین اور بچوں کو چیک پوسٹ پر 1ہ گھنٹے سے زیادہ دیر تک روکا گیا۔ اھنیں ہراساں کیا گیا وہ بھوکے اور پیاسے تھے۔ ہمارے ووٹرز کو معلوم نہیں تھا کہ کہاں جانا ہے۔ کیونکہ پولنگ سٹیشنز 60 کلومیٹر دور تھے۔۔۔ ایف سی ہمارے لوگوں کو پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ سٹیشن سے باہر نکال دیا گیا۔۔۔۔ اور وہ دن دہاڑے ہر ووٹ ڈالنے والے شخص کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ نام کے الیکشن ہیں۔۔۔۔۔ وہ پہلے ہی انتخاب کر چکے ہیں۔‘





،تصویر کا ذریعہPARWANA KALASH

،تصویر کا ذریعہPARWANA KALASH

،تصویر کا ذریعہPARWANA KALASH

،تصویر کا ذریعہPARWANA KALASH

،تصویر کا ذریعہPARWANA KALASH

،تصویر کا ذریعہPARWANA KALASH

،تصویر کا ذریعہPARWANA KALASH

تصاویر: فرقان الٰہی




سابق رکن پارلیمان اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سابق رکن ڈاکٹر راحیل قاضی نے بی بی سی کے نامہ نگار اظہار اللہ کو بتایا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 25 نوشہرہ میں مشترکہ پولنگ سٹیشن کی وجہ سے خواتین کا ٹرن آؤٹ کم ہونے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 1255 ووٹوں میں سے صرف 300 ووٹ ہی پول ہوئے ہیں جس کی بنیادی وجہ مشترکہ پولنگ سٹیشن ہے۔

