عمران خان کی وکٹری سپیچ: دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات میں تعاون کریں گے

پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلی مرتبہ متعارف کروائے جانے والے نظام میں تکنیکی خرابی نتائج میں تاخیر کی وجہ بنی ہے۔ الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔

لائیو کوریج

ذیشان حیدر، حسن زیدی، رضا ہمدانی ذیشان علی، حمیرا کنول

  1. موسم خوشگوار، سکیورٹی، لمبی لائنیں اور ووٹرز کا جوش

    لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے 132 میں سکیورٹی، لمبی لائنیں اور ووٹرز کا جوش

    لاہور
    لاہور
    لاہور
    لاہور
  2. بریکنگ, پولنگ کا وقت نہیں بڑھایا جا سکتا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پولنگ کے سے مقررہ وقت میں مزید اضافے کا مطالبہ رد کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جانب سے سامنے آیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ شام چھے بجے کے بعد مزید پولنگ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے ہی ایک گھنٹہ اضافی دے رکھا ہے اب چھے بجے کے بعد قطار میں مزید کسی ووٹر کو کھڑے ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    election comission

    ،تصویر کا ذریعہelection commission

  3. پشاور: خواتین کے درمیان تلخ کلامی، فوج طلب

    پشاور میں خواتین کے ایک پولنگ سٹیشن میں دو جماعتوں کے ورکرز کے درمیان تلخ کلامی کے بعد فوج اس پولنگ سٹیشن پہنچ گئی۔

    پشاور
    پشاور
  4. , ’پولنگ سٹیشنز میں فوج کی تعیناتی انتخابات میں دھاندلی ہے‘

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہپولنگ فوجی

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پولنگ سٹیشن کے اندر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کو انتخابات میں دھاندلی قرار دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔

  5. آصفہ اور بختاور بھٹو کی آصف زرداری کے ساتھ سیلفی

  6. بادلوں کے درمیان پولنگ کا عمل

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں تو حبس اور قدرے گرمی میں ووٹرز کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں لیکن مری کا منظر بہت مختلف تھا۔ اگرچہ وہاں بڑے بڑے پولنگ سٹیشنز تو موجود نہیں لیکن موسم نہایت ہی خوشگوار تھا۔ ایسے پولنگ سٹیشنز بھی تھے جہاں ووٹرز بادلوں میں گھرے گھرے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ مری کے علاقے لوئر ٹوپہ سے ملحقہ ایک پولنگ سٹیشن کا منظر ہے جو ایک سکول میں بنایا گیا ہے اور جہاں ووٹرز کی ایک بڑی تعداد تھی۔

    مری
  7. میں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا اور مجھے پاکستانی ہونے پرفخر ہے: وسیم اکرم

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. ’پولنگ میں سست روی‘، سیاسی جماعتوں کا وقت بڑھانے کا مطالبہ

    ووٹر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے پولنگ کا وقت ایک گھنٹے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور میں مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہد حسین سید نے پریس کانفرنس نے کہا کہ پولنگ کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

    انھوں نے پولنگ کا وقت مزید ایک گھنٹہ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ سٹیشن کے اندر موجود افراد کو وقت کے بعد ووٹ ڈالنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ نون کے علاوہ پیپلز پارٹی نے بھی پولنگ کا وقت مزید ایک گھنٹہ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

  9. این اے 124: کوئنز میری سکول کے باہر لمبی قطار

    لاہور

    لاہور سے نامہ نگار عمر ننگیانہ نے بتایا ہے کہ ووٹنگ کا عمل آخری مراحل میں ہے مگر قومی اسمبلی کے حلقے 124 میں کوئنز میری سکول کے باہر ووٹرز کی لمبی قطار اب بھی موجود ہے۔

    لاہور
  10. بریکنگ, ووٹنگ آخری مرحلے میں، نامہ نگار کیا کہتے ہیں

    lahore

    لاہور

    نامہ نگار عمر دراز کا کہنا ہے کہ شہر میں الیکشن کا جوش و خروش دیدنی ہے۔ مسلم لیگ نون کے کارکن انتخابی کیمپوں میں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن سڑکوں پر جمع ہو کر اپنی جماعت کے حق میں نعرے بازی کرتے دکھائی دیے۔

    شہر میں ابتدائی اوقات میں ووٹ ڈالنے کی شرح درمیانی رہی تاہم دوپہرکے بعد جب ہلکی بارش نے موسم خوشگوار کردیا تو اس کا اثر ووٹروں پر بھی پڑا اور پولنگ سٹیشن کے باہر لمبی قطاریں کو دیکھنے کو ملی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے ووٹروں کو پولنگ سٹیشنز تک لانے کے لیے فری ٹرانسپورٹ کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔

    karachi

    کراچی

    بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق ماضی کے مقابلے میں ان انتخابات میں کراچی میں ووٹنگ کی شرح میں کمی آئی ہے۔ شہر کے متعدد حلقوں میں دن کے آغاز میں پولنگ سٹیشن خالی تھے تاہم دوپہر کے بعد وہاں لوگ آنا شروع ہوئے۔

    بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق تحریک لبیک پاکستان، راہ حق اور جماعت اسلامی کے کارکن ووٹرز کو باہر نکالنے میں کامیاب دکھائی دیے ہیں جبکہ ماضی کے مقابلے میں متحدہ قومی موومنٹ کا انتخابی انتظام کچھ زیادہ بہتر دکھائی نہیں دیا ہے، جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں پر بھی فرق پڑا ہے۔

    Peshawar

    پشاور

    نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ شہر میں ووٹنگ کا عمل پرامن رہا اور پولنگ سٹیشنز پر اچھی سکیورٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔ ووٹرز کو پولنگ سٹیشنز میں داخل ہونے سے پہلے جامہ تلاشی کے مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا اور حتی کہ صحافیوں کو ای سی پی کی جانب سے دیے گئے اجازت نامے کے باوجود پولنگ سٹیشنز میں موبائل اور دیگر سامان لے جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    نامہ نگار نے بتایا کہ ایک واقعے میں این اے 31 ایک فوجی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ سامان لے جانے کے لیے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے اجازت لینا ہوگی۔

    سیاسی اعتبار سے ووٹنگ کی شرح گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں قدرے کم رہی لیکن پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی ہے اور شہر کے تمام حلقوں میں اسی کا زور نظر آیا۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی نے ایک بار پھر قومی دھارے میں واپسی کا عندیہ دیا ہے اور ایک عرصے کے بعد ان کی جھنڈے پشاور شہر میں نظر آئے ہیں۔

    اے این پی کے کارکنان کا کہنا تھا کہ 2013 میں دہشت گردی اور ان کے امیدواروں کو نشانہ بنانے کے باعث ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے لیکن اس دفعہ ان کو برابری پر مقابلہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ ہارون بلور کی قاتلانہ حملے میں موت نے ان کی تیاریوں کو دھچکہ دیا لیکن ماضی کے مقابلے میں حالات ان کی جماعت کے لیے پر امن رہے۔ اے این پی کے علاوہ متحدہ مجلس عمل اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اپنے ووٹروں کو نکالا اور گہما گہمی کا ماحول بنایا۔

    quetta

    کوئٹہ

    کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق شہر میں دن کے آغاز پر پولنگ کی شرح پہلے ہی کم تھی جس میں ناردرن بائی پاس پر ہونے والے مہلک دھماکے بعد کچھ دیر کے لیےمزید کمی آئی۔ تاہم کچھ دیر بعد شہر کے مرکزی علاقوں میں انتخابی گہما گہمی میں دوبارہ اضافہ ہو گیا اور لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکل آئے، تاہم زریاب روڈ کے علاقے میں اب بھی سڑکیں خالی ہیں اور سیاسی کارکن تو موجود ہیں لیکن ووٹرز کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

    islamabad

    اسلام آباد

    وفاقی دارالحکومت میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ اسلام آباد کے شہری علاقوں میں ووٹنگ کا تناسب دہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ رہا۔ قومی اسبمبلی کے حلقے این اے 53 میں ووٹرز کا جوش وخروش زیادہ تھا اور اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمان عمران خان اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی حصہ لے رہے ہیں۔ اسی حلقے سے ملی مسلم لیگ کا امیدوار بھی حصہ لے رہا ہے تاہم ان کے امیدوار کی طرف سے لگائے گئے اکثر کیمپوں میں صرف ان کی جماعت کے لوگ ہی بیٹھے تھے اور کوئی ووٹر ان کے پاس بیٹھا ہوا نظر نہیں آیا۔

    پولنگ سٹیشن کے اندر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی پر متعدد ووٹرز نے بھی اعتراض اُٹھایا اور ان کا اعتراض یہ تھا کہ فوجی اہلکار پولنگ بوتھ کے اندر تک ووٹرز کا پیچھا کرتے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ووٹر کس امیدوار کوووٹ ڈال رہا ہے۔

    اسلام آباد کے سیکٹرز ایف ایٹ، جی ایٹ اور جی سکس میں اس قسسم کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

  11. ’اگر پارٹی ہار گئی تو پھر اعلان کر دیں گے ٹی وی پر۔۔۔‘

  12. کراچی: عزیز آباد میں کیا ماحول ہے؟

    نامہ نگار ریاض سہیل بتا رہے ہیں کہ کراچی کے علاقے عزیز آباد میں اب تک کیا سرگرمیاں رہیں۔

  13. کراچی: جبران ناصر کے حلقے میں کیا چل رہا ہے؟

    کراچی سے نامہ نگار سحر بلوچ نے آزاد امیدوار جبران ناصر کے حلقے این اے 247 میں جا کر دیکھا کہ وہاں کیا سرگرمیاں چل رہی ہیں۔

    ،ویڈیو کیپشنجبران ناصر کے حلقے کی سرگرمیاں
  14. لاہور: بہتر موسم کے ساتھ بہتر ٹرن آؤٹ کی امید

    لاہور سے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ نے بتایا ہے کہ لاہور کا موسم ابر آلود ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ان ووٹروں کے بھی گھر سے نکلنے کی امید ہے جو اب تک گرمی کے ڈر سے گھروں میں بند تھے۔

    تاہم انھیں جلدی کرنا ہو گی کیوںکہ ووٹنگ کا مقررہ وقت ختم ہونے میں صرف دو گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔

    لاہور کا موسم
  15. پاکستان الیکشن 2018: ’انتخابی مہم میں غالب رنگ بےیقینی اور تقسیم کا رہا‘

    طلعت حسین کے مطابق ’چاہے آپ شہری علاقوں میں ہوں یا مضافات میں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں ٹنڈو اللہ یار میں۔ آپ کو ووٹر کی زبان سے وہ واقعات سنائی دیتے ہیں جو اسلام آباد میں ہو رہے ہیں۔ چاہے وہ جیپ کے نشان الاٹ کیے جانا ہو، چاہے وہ سندھ میں گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس کا بننے کا عمل ہو، چاہے امیدواروں کا ٹوٹ کر ادھر ادھر ہونا ہو۔ اس وجہ سے بہت سے لوگوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ ووٹ ڈالیں گے تو صحیح لیکن انھیں معلوم ہے کہ شاید نتائج ایسے نہ ہوں جیسے ووٹ کے ذریعے ہونے چاہییں۔

  16. ٹرانسجینڈر مبصرین

    نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق اسلام آباد کے حلقہ این اے 53 سے ٹرانسجینڈر مبصرین نے کہا ہے کہ فی الحال انھیں کوئی خلافِ معمول بات نظر نہیں آئی۔

    مبصر
    مبصر
  17. 25 جولائی کا اڑتا تیر

    جہاں تک اسٹیبلشمنٹ کا معاملہ ہے تو حسبِ منشا مثبت نتائج اور ایک غیر مستحکم ربڑ سٹیمپ پارلیمینٹ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے تمام مطلوبہ وسائل، حربے اور گھوڑے استعمال کرنے کا تاثر اب ملکی حدود سے اوپر بین الاقوامی سطح تک پھیل گیا ہے۔ اس کے پیچھے سوچ یہی ہے کہ ملک کا طویل المیعاد سیاسی، علاقائی، بین الاقوامی اور اقتصادی مفاد تو کل بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلے 25 جولائی تو سیدھا کر لیں۔

  18. ’کبھی نہ کبھی تو عوام کی سنی جائے گی‘

    islamabad

    مسز امین نے اسلام آباد میں بی بی سی کے ذیشان ظفر کو بتایا: ’50 سال سے امید کر رہے ہیں کہ عوام کا بھلا ہو گا لیکن نہیں ہوا، پھر بھی ہر بار نئی امید سے ووٹ ڈالنے آتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی عوام کی سنی جائے گی۔‘

  19. لاہور میں ہلکی بارش شروع ہوگئی

    نامہ نگار فرقان الٰہی نے لاہور سے بتایا کہ اگرچے شہر میں پولنگ جاری ہے مگر کچھ علاقوں میں ہلکی بارش بھی شروع ہو رہی ہے۔ بارش اور موسم خوشگوار ہونے سے ٹرن آؤٹ پر کیا اثر پڑے گا؟اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کرنے کے لیے ہمارے فیس بک پیچ BBCUrdu پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔

    Pakistan