بریکنگ, ووٹ ڈالنے کا صحیح طریقہ

،تصویر کا ذریعہECP

،تصویر کا ذریعہECP

،تصویر کا ذریعہECP
پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق پہلی مرتبہ متعارف کروائے جانے والے نظام میں تکنیکی خرابی نتائج میں تاخیر کی وجہ بنی ہے۔ الیکشن 2018 پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج۔
ذیشان حیدر، حسن زیدی، رضا ہمدانی ذیشان علی، حمیرا کنول

،تصویر کا ذریعہECP

،تصویر کا ذریعہECP

،تصویر کا ذریعہECP

،تصویر کا ذریعہGetty Images
الیکشن کمیشن نے عوام کی سہولت کے لیے ووٹنگ کے عمل میں کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا کرنے پر شکایات درج کروانے کے لیے مختلف شہروں میں سینٹرز قائم کیے ہیں۔ جہاں فون نمبر اور ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بدھ کو قومی اسمبلی کے 272 میں سے 270 حلقوں پر انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد 11676 ہے۔ ان میں قومی اسمبلی سے 1805 امیدوار مختلف جماعتوں کے امیدوار ہیں جبکہ 1623 آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے میدان میں موجود کل امیدواروں کی تعداد 3856 ہےجبکہ 4389 افراد صوبائی اسمبلیوں کے لیے آزاد امیدوار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے الیکشن کمیشن کے مطابق ادارے میں رجسٹرڈ پارٹیوں کی تعداد 120 ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق حالیہ انتخابات میں ان 120 میں سے95 جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود دستاویز کے مطابق رجسٹرڈ جماعتوں کی فہرست میں 121اور 122 کے خانے میں کچھ جماعتوں کے گرینڈ الائینس یعنی انتخابی اتحاد کو ظاہر کیا گیاہے جنھیں گرینڈ ڈیموکریٹک الائینس اور متحدہ مجلس عمل پاکستان کا نام دیا گیا ہے۔
گرینڈ ڈیموکریٹک الائینس میں مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی، پیپلز مسلم لیگ(پاکستان) اور پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز شامل ہیں۔ متحدہ مجلس عمل پاکستان میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ، مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اور اسلامی تحریک پاکستان شامل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انتہائی حساس پولنگ سٹیشنز ملک میں انتہائی حساس قرار دیے جانے والے پولنگ سٹیشنز کی کل تعداد 17007 ہے ۔ ان میں سب سے زیادہ سندھ میں واقع ہیں جن کی تعداد 5878 ہے۔ جبکہ پنجاب اور دارالحکومت اسلام آباد میں 5487 ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں 3874 جبکہ بلوچستان میں 1768 پولنگ سٹیشنز کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن سکیورٹی کے لیے بھی کم ازکم آٹھ لاکھ اہلکار موجود ہوں گے جن میں سے ساڑھے تین سے پونے چار لاکھ پاکستان فوج کے جوان تعینات ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولنگ سٹیشنز ملک میں کل پولنگ سٹیشنز کی تعداد 85058 ہے۔ ان میں دو لاکھ 44 ہزار 687 پولنگ بوتھ ہوں گے۔ پولنگ سٹیشنز پر عملے کی تعداد آٹھ لاکھ انیس ہزار ایک سو انیس ہے۔
پولنگ سٹیشنز میں سے خواتین کے لیے 21618 مردوں کے لیے 23287 بنائے گئے ہیں جبکہ 40231 ایسے پولنگ سٹیشنز ہیں جو کہ مشترکہ ہیں۔
پنجاب میں کل پولنگ سٹیشنز کی تعداد 47813 ہے۔
اسلام آباد میں پولنگ سٹیشنز کی تعداد 797 ہے۔ سندھ میں پولنگ سٹیشنز کی تعداد 17627 ہے۔
خیبرپختونخوا میں پولنگ سٹیشنز کی تعداد 12632 ہے۔
فاٹا میں پولنگ سٹیشنز کی تعداد 1890 ہیں۔
بلوچستان میں پولنگ سٹیشنز کی تعداد 4377 ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل نو حلقوں میں بدھ کو الیکشن نہیں ہو رہا۔ ان میں قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلیوں کے سات حلقے شامل ہیں۔ انتخابات کے اس التوا کی مختلف وجوہات ہیں۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 103 فیصل آباد اور این اے 60 راولپنڈی میں عام انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں۔
این اے 103 فیصل آباد میں الیکشن ایک امیدوار مرزا محمد احمد مغل کی وفات کے نتیجے میں ملتوی کر دیا گیا ہے۔ وہ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے تھے۔
این اے 60 راولپنڈی میں الیکشن انتخابات کی تاریخ سے چار دن پہلے ہی ملتوی کیا گیا اور یہاں وجہ کسی امیدوار کا انتقال نہیں بلکہ نا اہلی بنی۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کیس میں عمر قید سنائے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے یہ کہتے ہوئے انتخاب ملتوی کرنے کا اعلان کیا کہ اس حلقے میں امیدواروں کے لیے یکساں ماحول موجود نہیں۔
صوبائی اسمبلیوں کے جن حلقوں میں انتخاب ملتوی ہوا ہے۔ ان میں سے سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے دو، دو جبکہ بلوچستان کا ایک حلقہ شامل ہے۔ پنجاب میں پی پی 87 میانوالی اور پی پی 103 فیصل آباد ،خیبرپختونخوا میں پی کے 78 پشاور، اور پی کے 99 ڈیرہ اسماعیل خان، سندھ میں پی ایس 06 کشمور، پی ایس ملیر87، جبکہ بلوچستان میں پی بی 35 مستونگ پر انتخابی عمل ملتوی کر دیا گیا۔
ان تمام حلقوں میں انتخابات ملتوی ہونے کی وجہ امیدواروں کی موت بنی جن میں سے تین ہارون بلور، اکرام اللہ خان گنڈا پور اور سراج رئیسانی دہشت گردوں کے حملوں میں ہلاک ہوئے۔
پاکستان میں غیر مسلم رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد تقریباً 28 لاکھ سے بڑھ کر36 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اس میں اکثریت ہندو برادری کے ووٹرز کی ہے جبکہ سب سے کم تعداد بودھ برادری کے ووٹرز ہیں۔


یہ انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے تحت ہو رہے ہیں جن کے بعد قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں کی تعداد تو 272 ہی ہے تاہم صوبوں اور اسلام آباد کی کل نشستوں کی تعداد میں کمی پیشی ہوئی ہے۔

پاکستان کےالیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 ووٹرز کی تعداد۔
جس میں مرد ووٹرز تقریباً چھ کروڑ جبکہ خواتین ووٹرز 4 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images