کورونا: امریکہ میں کیلیفورنیا کے بعد فلوریڈا سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی
کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے. فلوریڈا میں مزید 9300 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیلیفورنیا کے بعد یہ امریکہ کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی ہے۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس: انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 48 ہزار نئے متاثرین کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 48،916 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔
ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران، 757 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انڈیا میں اب تک کورونا متاثرین کی تعداد 13،36،861 ہو گئی ہے جن میں سے 4،56،071 افراد اب بھی فعال متاثرین کے زمرے میں ہیں۔
اب تک انڈیا میں اس وائرس سے 31،358 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
کورونا وائرس: امریکہ میں مسلسل چوتھے روز 1000 اموات، متاثرین 40 لاکھ سے زیادہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ میں جمعہ کو مسلسل چوتھے روز بھی کورونا وائرس سے ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں جبکہ کم از کم 68،800 نئے مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
دوسری جانب وبائی امراض سے متعلق وائٹ ہاؤس کی ایک اعلی مشیر نے کہا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ جنوبی اور مغربی ریاستوں میں برا وقت گزر چکا ہے۔
جمعہ کو ملک بھر میں کم سے کم 1،019 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، اس سے پہلے جمعرات کو 1،140 ، بدھ کو 1،135 اور منگل کو 1،141 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
جمعہ کے روز امریکہ میں 68،800 نئے متاثرین کے اضافے کے ساتھ، کووڈ 19 متاثرین کی مجموعی تعاد 40 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1487 نئے متاثرین، 24 ہلاکتیں
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1487 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 24 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان کے کورونا کے حوالے سے حکومتی ویب سائٹ کووڈ 19 کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 271,887 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں مجموعی ہلاکتیں 5,787 ہیں۔
ملک میں 236,596 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں جس کے بعد پاکستان میں کورونا کے زیر علاج مریضوں کی تعداد 29,504 ہے۔
’لاک ڈاؤن کے بعد بھی انڈین مسلمان مزدوروں کے لیے زندگی آسان نہیں ہو گی‘
،تصویر کا ذریعہEPA
ندیم خان انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں رہتے ہیں اور گذشتہ پندرہ، بیس سال سے سکرین پرنٹنگ کے شعبے میں کام کر رہے تھے۔
رواں برس مارچ کے مہینے میں انڈیا میں کووِڈ 19 لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد وہ یہ کام چھوڑ کر گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔
اب وہ کبھی کبھار رکشہ ٹھیلا چلا کر گزر اوقات کے لیے کچھ پیسے کما لیتے ہیں، البتہ یہ کام کرتے ہوئے وہ ایسے علاقوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں جہاں انھیں اُن کی مذہبی شناخت کی وجہ سے کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہو۔
35 سالہ ندیم خان نے مجھے بتایا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ گذشتہ دنوں ان کے ایک جاننے والے، جو ٹھیلے پر پھل بیچنے کا کام کرتے ہیں، کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک علاقے سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔
ندیم خان کے مطابق اُس علاقے کے رہائشیوں نے اُن کے جاننے والے پھل فروش سے کہا کہ وہ دوبارہ اس علاقے میں نہ آئیں ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔
انڈین تحقیقی ادارے سینٹر فار ایکوٹی سٹڈیز کے مطابق مسلمان مزدوروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے بعد اُن کو دوبارہ کام پر لوٹنے میں ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بارے میں مزید پڑھیے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میکسیکو میں کورونا وائرس کے 7573 نئے متاثرین، مزید 737 اموات
،تصویر کا ذریعہReuters
میکسیکو کی وزارت صحت نے جمعہ کے روز کورونا وائرس کے 7،573 نئے تصدیق شدہ متاثرین اور 737 اموات کی اطلاع دی ہے۔
نئے اعدادوشمار کے بعد ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 378،285 اور 42،645 اموات ہوئیں ہیں۔
حکومت نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کی اصل تعداد تصدیق شدہ متاثرین سے کہیں زیادہ ہے۔
چین میں کورونا وائرس کے 34 نئے مریضوں کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہReuters
چین کے ہیلتھ کمیشن کے مطابق گذشتہ روز ملک میں کورونا وائرس کے 34 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی۔ جبکہ ایک دن پہلے یہ تعداد 21 تھی۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ایک بیان کے مطابق، نئے متاثرین میں سے 20 سنکیانگ کے انتہائی مغربی علاقے میں اور نو افراد شمال مشرقی صوبے لیاؤننگ میں تھے، جبکہ باقی پانچ متاثرین بیرونِ ملک سے آئے تھے۔
چین میں ایسے مریض جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں ان کی تعداد 43 سے بڑھ کر 74 ہو گئی ہے۔
ہیلتھ اتھارٹی نے بتایا کہ جمعہ کے روز تک چین میں کورونا وائرس کے 83،784 متاثرین کی تصدیق ہوئی۔ جبکہ کووڈ 19 سے ہلاکتوں کی تعداد 4،634 پر برقرار رہی۔
’سمارٹ ہیلمٹ‘ سے کورونا وائرس کے متاثرین کی شناخت
انڈیا کے شہر ممبئی کے حکام کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی سکریننگ کے لیے ’سمارٹ ہیلمٹ‘ کا سہارا لے رہے ہیں۔ انڈیا میں ممبئی کورونا وائرس سے سب سے متاثرہ شہر ہے اوروہاں کورونا کے نئے کیسز کا جلد سے جلد پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس ہیلمٹ کو بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ اس کی مدد سے طبی عملہ تین گھنٹوں کے اندراندر تقریبا چھ ہزار افراد کا بالکل درست درجہ حرارت چیک کرسکتا ہے۔ لیکن یہ سستا نہیں ہے۔ اس ایک ہیلمٹ کی قیمت تقریبا آٹھ ہزار ڈالر ہے۔ تفصیل دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔
میکڈونلڈز کا امریکہ بھر میں ’ماسک پالیسی‘ کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میکڈونلڈز نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی یکم اگست سے اس کے امریکہ میں قائم 14 ہزار ریستورانوں میں سے کسی ایک میں بھی داخل ہو گا، اس پر لازم ہو گا کہ وہ ماسک پہنے۔
اس فاسٹ فوڈ چین نے بھی وال مارٹ اور سٹاربکس جیسے دوسرے کاروباروں کی طرح ضروری طور پر ماسک پہننے کے قوانین کا اعلان کیا ہے۔
ایک بیان میں میکڈونلڈز نے کہا ہے کہ تقریباً اس کے 82 فیصد ریستوران ان علاقوں میں آتے ہیں جہاں ماسک پہننے کی ضرورت ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ماسک پہننے سے کووڈ۔19 کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔
میکڈونلڈز نے کہا کہ وہ ان گاہکوں کی مدد کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے جو ماسک پہننے سے انکار کرتے ہیں یا ماسک پہن ہی نہیں سکتے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسی صورتِحال میں جہاں گاہک منہ ڈھانپنے سے انکار کرتا ہے، وہاں ہم اضافی طریقۂ کار اپنائیں گے تاکہ ان کی خدمت دوستانہ اور تیز طریقے سے ہو سکیں۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید 23 افراد میں کورونا کی تشخیص, ایم اے جرال، صحافی
،تصویر کا ذریعہMA JARRAL
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ صحت کے فوکل پرسن برائے کووڈ 19 ڈاکٹر ندیم الرحمن کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 380 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں آٹھ خواتین سمیت 23 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2012 ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ اب تک یہاں کل 49 اموات بھی ہوئی ہیں۔
ان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ایک ڈاکٹر اور ایک طبی عملے کی نرس بھی شامل ہے۔
ڈاکٹر ندیم الرحمن نے بتایا ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے والی تین خواتین سمیت آٹھ افراد کا تعلق مظفرآباد، دو افراد کا وادی نیلم، ایک خاتون سمیت تین افراد کا رولاکوٹ، ایک سدھنوتی، چار خواتین سمیت آٹھ کا میرپور اور ایک شخص کا تعلق کوٹلی سے ہے۔
ان کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 48 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہو کر صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 1409 ہوگئی ہے۔
ڈاکٹر ندیم الرحمن نے بتایا کہ اس خطے میں 24120 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ ہوئے ہیں۔
بریکنگ, بلوچستان میں 187 یومیہ ٹیسٹ، 27 نئے متاثرین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان میں کورونا کے 27 نئے متاثرین کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 11550 ہوگئی ہے۔
حکام کے مطابق کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 136 ہے اور اس میں لگاتار یومیہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 24 جولائی 2020 کو کورونا کے صرف 187 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 27 مثبت آئے۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 56402 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 44852 کے نتائج منفی آئے۔
بلوچستان میں مجموعی طو پر 130580 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔
کورونا وائرس سے اب تک 9899 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔
بورس جانسن: ہم چیزیں مختلف طریقے سے کر سکتے تھے
برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ حکومت کو پہلے کچھ ہفتوں اور مہینوں میں کورونا وائرس کی سمجھ نہیں آئی تھی۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ حکومت کچھ مختلف طریقے سے بھی وائرس سے نمٹ سکتی تھی۔
بی بی سی کی سیاسی مدیر لائرا کویئنسبرگ کو ایک انٹرویو میں برطانوی وزیرِ اعظم نے بتایا کہ اس سے کچھ سبق سیکھنے چاہیئں کہ ابتدائی مراحل میں وائرس سے کیسے نمٹا گیا۔
’ہم پہلے کچھ ہفتوں اور مہینوں میں (وائرس) کو اس طرح نہیں سمجھے جس طرح ہمیں سمجھنا چاہیئے تھا۔‘
’ایک چیز جو ہم نے شروع میں نہیں دیکھی وہ یہ تھی کہ کس طرح وائرس ایک فرد سے دوسرے فرد میں بغیر کسی علامات کے منتقل ہو رہا ہے۔‘
’میرے خیال میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس سے ابتدائی مراحل میں کیسے نمٹنا ہے۔‘
وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ ایسے کھلے سوال بھی ہیں کہ کیا لاک ڈاؤن کافی دیر سے لگایا گیا۔ یہ وزرا کے اس اصرار سے بہت مختلف ہے جس میں وہ کہا کرتے تھے کہ صحیح وقت پر صحیح فیصلے کیے گئے تھے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا لاک ڈاؤن لگانے میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے بالآخر جانیں ضائع ہوئیں، تو انھوں نے کہا: ’ہو سکتا ہے کہ ایسی چیزیں ہوں جو ہم مختلف کر سکتے تھے اور یقیناً ان کو سمجھنے کے لیے وقت آئے گا کہ ہمیں اصل میں کیا کرنا چاہیئے تھا یا مختلف کیا کر سکتے تھے۔‘
نتھیاگلی میں حکام کی کارروائی، سیاحوں کو واپس بھیج دیا گیا
،تصویر کا ذریعہDC Abbottabad
نتھیاگلی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کی ہے اور سیاحوں کو واپس بھیج دیا ہے۔ یاد رہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے باوجود سیاحت پر پابندی قائم ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد، جی ڈی اے اور پولیس نے گلیات میں آپریشن کیا۔
ترجمان ڈپٹی کمشنر کے مطابق نتھیاگلی میں موجود سیاحوں کو واپس بھیج دیا گیا۔ کھلے ہوٹلز اور ریسٹ ہاوسز کو وارننگ دی گئی اور ان پر جرمانے عائد کر دیے گئے۔
اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ’صوبائی حکومت کے احکامات کو ہر صورت نافذ کیا جائے گا۔‘
بریکنگ, خیبر پختونخوا میں مارچ کے بعد کورونا سے سب سے کم یومیہ اموات
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ روز کورونا وائرس کے 173 نئے متاثرین اور ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 33071 ہوگئی ہے۔ اب تک یہاں کووڈ 19 سے 1170 اموات ہوئی ہیں۔
گذشتہ روز کورونا سے صرف ایک ہلاکت ہوئی جو کہ مارچ کے بعد یومیہ اموات کی سب سے کم تعداد ہے۔
مزید 262 افراد صحتیاب ہوئے ہیں جس سے کل تعداد 26869 ہوگئی ہے۔
اب تک خیبر پختونخوا میں کورونا کے 200390 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
بریکنگ, برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں 123 کا اضافہ
کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار بتانے والی سرکاری ویب سائٹ coronavirus.data.gov.uk کے مطابق برطانیہ کے ہسپتالوں، کیئر ہومز اور مختلف برادریوں میں کووڈ۔19 کے مریضوں میں سے مزید 123 ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس طرح اب تک کووڈ۔19 کی مثبت تصدیق ہونے والوں میں ہلاکتوں کی کل تعداد 45 ہزار 677 ہو گئی ہے۔
ٹیسٹنگ کے بعد مزید 770 افراد میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
یومیہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار پبلک ہیلتھ انگلینڈ اپنے ڈیش بورڈ پر شائع کرتا رہتا ہے، لیکن حکومت نے کہا ہے کہ وہ ان کا از سرِ نو جائزہ لے گی۔
’جب میں کہتی ہوں کہ ماسک پہنیں تو گاہک میری بات نہیں سنتے‘, ہیزل شیئرنگ، بی بی سی نیوز
ایک خاتون جنوبی لندن کے علاقے کیمبرویل میں ایک دوکان کے باہر اپنے دوست کو کہتی ہے کہ اپنا ماسک پہن لو، لیکن وہ اس کی بات نظر انداز کرتا ہے اور دوکان کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔
اس دوکان میں بہت سے لوگ ماسک پہنے ہوئے ہیں کیونکہ آج سے انگلینڈ میں دوکانوں اور سٹورز میں ماسک ضروری ہو گیا ہے، لیکن اوپر دی گئی گفتگو سے ایک بات واضح ہو گئی ہے اور وہ یہ ہے اس سے دوکانداروں کی مشکل مزید بڑھ گئی ہے۔
راگنی پٹیل ایک دوکاندار ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی سٹیشنری کی دوکان میں گاہکوں سے کہتی ہیں کہ وہ ماسک پہنیں لیکن اکثر گاہک، خصوصاً پرانے گاہک، بات نہیں مانتے۔
’کسی کو کچھ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں، آپ اپنے لیے مشکل کھڑی نہیں کرنا چاہتے۔‘
خیراتی ادارے سکوپ کی ایک دوکان میں ڈان سرلیمین کہتی ہیں کہ آج صرف ایک گاہک بغیر ماسک کے آیا تھا اور جب میں نے دوکان میں موجود ایک اضافی ماسک اسے دیا تو اس نے بہت شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے کہا: ’میں کسی سے یہ نہیں کہوں گی کہ آپ آ نہیں سکتے کیونکہ آپ نے ماسک نہیں پہنا۔ میں انھیں سمجھاؤں گی کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کو جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ کے پاس ماسک نہیں ہے تو میں خوشی سے آپ کو ایک دے سکتی ہوں۔‘
کیا لاک ڈاؤن کے دوران آپ نے بھی چائے بسکٹ پر اضافی خرچہ کیا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا لاک ڈاؤن میں آپ بھی زیادہ مقدار میں چائے اور بسکٹ نوش کر رہے ہیں؟ کورونا وائرس کی وبا کے دوران گھروں میں محدود ہو جانے پر دن میں پی جانے والی چائے کی پیالیوں میں پاکستان اور انڈیا ہی نہیں دنیا بھر میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں وبا کے دوران اور کون سی چیزوں میں لوگوں کا رجحان بڑھا اور کم ہوا ہے؟
وبا کے دوران گھروں سے کام کرنے والے افراد میں چائے، کافی اور اس کے ساتھ بسکٹ کھانے اور کتابیں پڑھنے میں دلچسپی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
برطانیہ میں مارکیٹ ریسرچ کمپنی کینٹر کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران برطانیہ میں چائے اور کافی پر اضافی 2.4 کروڑ پاؤنڈ اور بسکٹ پر اضافی 1.9 کروڑ پاؤنڈ خرچ ہوئے ہیں۔
میکسیکو اور وینیزویلا میں یومیہ انفیکشنز کا ریکارڈ
،تصویر کا ذریعہAFP
لاطینی امریکہ سے آنے والی کچھ خبروں کا خلاصہ:
میکسیکو اور وینیزویلا دونوں نے یومیہ انفیکشنز میں نیا اضافہ ریکارڈ کیا ہے جو بالاترتیب 8 ہزار 438 اور 449 ہے۔ میکسیکو میں مزید 718 افراد کی موت کے بعد یہ ملک اموات کے حساب سے دنیا میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔
تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ میکسیکو میں گھریلو تشدد کے شیلٹرز کے نیٹ ورک کے مطابق ملک میں لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات کے بعد عورتوں اور بچوں کے شیلٹر ڈھونڈنے کے واقعات میں 80 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چلی کے صدر سبیسٹیئن پِنیرا ملک میں وبا کے معیشت پر منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک قانون پر دستخط کر رہے ہیں جس کے تحت عوام اپنے 10 فیصد پینشن فنڈز کو نکال سکیں گے۔
ویتنام نے وبا کے خطرے کے باعث جنگلی جانوروں کی تجارت بند کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویتنام نے نئی وباؤں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ملک میں جنگلی جانوروں اور جنگلی جانوروں سے متعلق اشیا کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔
خیال ہے کہ کووڈ۔19 کی وبا کا آغاز جنگلی جانوروں کی تجارت سے شروع ہوا تھا، اور چمگاڈروں سے شروع ہونے والی بیماری کسی دوسری نامعلوم سپیشیز جیسا کہ چوہے، مشک بلاؤاور پینگولین وغیرہ سے انسانوں میں آ گئی تھی۔
اس اقدام کی وجہ سے آن لائن پر بھی جنگلی جانوروں سے جڑی اشیا کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
پولینڈ میں ایک ماہ میں سب سے زیادہ متاثرین ریکارڈ, ایڈم ایسٹن، بی بی سی نامہ نگار، وارسا
،تصویر کا ذریعہAFP
پولینڈ کی وزارتِ صحت نےجمعہ کو کہا ہے ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ۔19 کے 458 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
اس ہفتے نئے متاثرین میں یومیہ اضافے کی بنیادی وجہ جنوبی پولینڈ کے اپر سلیسیا علاقے میں تین کوئلے کی کانوں میں وبا کا پھیلنا ہے۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر تشویش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
تازہ اعداد و شمار کی اشاعت سے پہلے نائب وزیرِ اعظم جدویگا ایملیوچ نے کہا کہ حکومت لاک ڈاؤن دوبارہ لگانے کی بات نہیں کر رہی اور جب بھی ضرورت پڑی مقامی طور پر وبا سے نمٹنے کی کوشش کرے گی۔
جمعہ کو رپورٹ ہونے والے متاثرین میں سے 184 یا 40 فیصد کا تعلق اپر سلیسیا سے تھا۔
پولینڈ میں کل کووڈ۔19 کے متاثرین میں سے تقریباً 16 فیصد کان کن ہیں، لیکن ان میں سے اکثر میں اس بیماری کو کوئی علامات نظر نہیں نظر آئی ہیں۔ وزارتِ صحت کے مطابق 97 فیصد سے زیادہ علامات کے بغیر ہیں۔ کل 6900 کان کن جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے 94 فیصد ابھی تک صحت یاب ہو چکے ہیں۔
بریکنگ, سندھ میں کورونا کے 917 نئے متاثرین، 14 اموات
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کورونا وائرس کے 917 نئے متاثرین اور 14 اموات کا اضافہ ہوا ہے۔
اس وقت سندھ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 116800 ہوگئی ہے۔ جبکہ اب تک اس عالمی وبا سے 2110 اموات ہوئی ہیں۔
سندھ پاکستان بھر میں کل متاثرین کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ تاہم یہاں اب تک 103491 افراد کووڈ 19 سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’10445 افراد گھروں میں اور 59 مراکز پر زیرِ علاج ہیں۔ 695 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ 428 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ 67 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں۔ آج 4089 مریض صحتیاب ہوئے۔‘