دنیا کے غریب ترین افراد کو عارضی آمدنی کی فراہمی کورونا کا پھیلاؤ کم کر سکتی ہے، اقوامِ متحدہ

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے کہا ہے کہ دنیا کے 132 ممالک میں موجود 2.7 ارب غریب ترین لوگوں کے لیے عارضی طور پر ایک بنیادی رقم کی فراہم کورونا وائرس کا پھیلاؤ سست کر سکتی ہے کیونکہ اس سے انھیں گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت کم محسوس ہوگی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات کو جاری کی گئی اس رپورٹ میں تین آپشن دیے گئے ہیں: یا تو موجودہ اوسط آمدنی میں اضافہ، ملک بھر میں معیارِ زندگی کے فرق کو مدِنظر رکھتے ہوئے یکمشت مگر مختلف رقوم کی ادائیگی، یا ملک بھر میں ہر جگہ یکساں رقم کی یکمشت ادائیگی۔
یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر آخیم سٹائنر نے کہا 'غیر معمولی سماجی اور اقتصادی اقدامات غیر معمولی حالات کا تقاضہ ہیں۔ دنیا کے غریب ترین لوگوں کے لیے عارضی طور پر بنیادی آمدنی کی فراہمی ایک آپشن ہے۔ بیل آؤٹ اور بحالی کے منصوبے صرف بڑے کاروبار اور منڈیوں پر مرتکز نہیں رہ سکتے۔‘
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ایک کروڑ 52 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ چھ لاکھ 23 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ وبا اور اس سے منسلک عالمی کساد بازاری سے 1990 کے بعد سے پہلی مرتبہ عالمی طور پر غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ 26 کروڑ 50 لاکھ لوگوں پر فاقوں کی نوبت آ سکتی ہے۔
دنیا کی 20 بڑی معیشتوں نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ دنیا کے غریب ترین ممالک سے قرضوں کی وصولی رواں سال کے اختتام تک کے لیے مؤخر کی جائے گی تاہم اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ترقی پذیر اور اوسط آمدن والے ممالک کو قرضوں میں ریلیف فراہم کیا جائے۔
جی 20 ممالک کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے پر عملدرآمد مشکل ہے کیونکہ اب تک اس کے لیے اہل 73 میں سے صرف 42 ممالک نے آمادگی ظاہر کی ہے جس سے 12 ارب ڈالر کی بچت کے وعدے کے بجائے صرف 5.3 ارب ڈالر ہی بچ سکے ہیں۔



















