کورونا: امریکہ میں کیلیفورنیا کے بعد فلوریڈا سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے. فلوریڈا میں مزید 9300 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیلیفورنیا کے بعد یہ امریکہ کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا کا آئی سی یو وارڈ، جہاں سانس لینی مشکل لیکن ٹوٹنی آسان ہے

  2. بریکنگ, انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں چھ روزہ لاک ڈاؤن نافذ

    kashmir

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج (بدھ) شام 6 بجے سے 27 جولائی کی صبح تک انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تمام اضلاع (بانڈی پورہ کے علاوہ) سے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اس عرصے کے دوران، محکمہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اینڈ بحالی کی ہدایت کے تحت کاشتکاری، باغبانی اور تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

    ایل پی جی، آئل ٹینکروں اور سامان لے جانے والے سامان کی نقل و حرکت بھی جاری رہے گی۔

    کشمیر میں اب تک 15000 کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جبکہ 260 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  3. کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے پشاور کے دو علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن

    صوبائی دارالحکومت پشاور میں کورونا وائرس پھیلاؤ خدشات مزید دو علاقوں میں کل 23 جولائی سہ پہر چاربجے سے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کے مطابق پشاور میں سمارٹ لاک ڈاؤن ٹکرخیل بالا متنی اور کنال روڈ ناصر باغ میں کل سے لگایا گیا ہے۔

    سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ان علاقوں سے داخلہ اور باہر جانے پر پابندی رہے گی۔ ان علاقوں میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کیسز کی وجہ سے سمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا۔

    ان علاقوں میں صرف ضروری اشیاء خوردنوش، میڈیسن، جنرل سٹور، تندور اور ایمرجنسی سروس کی دکانیں کھلی رہیں گی۔

    ان علاقوں کی مساجد میں صرف پانچ افراد کو باجماعت نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی۔ علاقہ مجسٹریٹ اور پولیس کو سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کے حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئیں۔ خلاف ورزی کر نے والوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہDC Office Peshawar

  4. بلوچستان: چمن میں بغیر اجازت کھلنے والے نجی سکول سیل کر دیے گئے

    بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں اجازت کے بغیر کھولے جانے والے متعدد نجی سکولوں کو سیل کردیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ بشیر بڑیچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ انتظامیہ کو یہ اطلاع ملی تھی کہ چمن میں بعض نجی سکولوں کو خفیہ طریقے سے کھول دیا گیا ہے اور ان میں بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس اطلاع پر انتظامیہ نے شہر میں کارروائی کی اور ان نجی سکولوں کو سیل کردیا جو کہ کھلے ہوئے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ان سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو مراسلہ بھیجا جائے گا۔

  5. پشاور: حیات آباد کے علاقے سے سمارٹ لاک ڈاؤن اٹھا لیا گیا

    پشاور کے علاقے حیات آباد فیز تھری میں سمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    اس علاقے سے لاک ڈاؤن فوری طور پر اٹھا لیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور کے مطابق سمارٹ لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں تاہم انھوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ حکومتی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہDC Office Peshawar

  6. سنگاپور: ’آنے والے مہینوں میں مزید نوکریاں ختم ہونا ناگزیر ہے‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سنگاپور اُن ممالک میں سے ہے جن کی آمدنی کا بڑا ذریعہ سیاحت ہے مگر کورونا وائرس کے باعث جو سفری پابندیاں اور لاک ڈاؤن نافذ کیے گئے ہیں، ان کے باعث اس ملک کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو ٹورازم بورڈ کے سربراہ کیتھ ٹین نے کہا کہ اُن کا ادارہ مقامی طور پر طلب میں اضافے کے لیے ساڑھے چار کروڑ ڈالر خرچ کرے گا جس کے ذریعے شہریوں میں ملک کے سیاحتی مواقع کی تشہیر کی جائے گی۔

    سنگاپور کو امید ہے کہ سنہ 2018 میں غیر ملکی سفر پر 34 ارب ڈالر خرچ کر دینے والے سنگاپوری شہری مقامی ہوٹلوں میں ٹھہریں گے اور سیاحتی مقامات پر جائیں گے۔

    سنگاپور میں 2019 میں ایک کروڑ 91 لاکھ غیر ملکی افراد سیاحت کے لیے آئے تھے۔

    ٹورازم بورڈ کو خدشہ ہے کہ اس کے باوجود 27.1 ارب ڈالر کا خسارہ رہ جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’کووڈ 19 کی وجہ سے بین الاقوامی سفر پر جو اثرات پڑے ہیں اس سے آنے والے مہینوں میں مزید نوکریوں کا ختم ہونا ناگزیر ہے۔‘

  7. روس میں کورونا سے ایک دن میں تقریباً چھ ہزار لوگ متاثر

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روس میں بدھ کو کورونا وائرس کے پانچ ہزار 862 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد سات لاکھ 89 ہزار 190 ہوگئی ہے۔

    یہ دنیا بھر میں متاثرین کی چوتھی بڑی تعداد ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے سبب گذشتہ 24 گھنٹوں میں 165 افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد یہاں سرکاری طور پر اموات کی تعداد 12 ہزار 745 ہوگئی ہے۔

  8. تھائی لینڈ: مرض کی مقامی منتقلی نہ ہونے کے باوجود ہنگامی حالت میں توسیع

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تھائی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ کی گئی ہنگامی حالت اگست کے اختتام تک جاری رہے گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چونکہ تھائی لینڈ میں گذشتہ دو ماہ سے مرض مقامی طور پر منتقل نہیں ہوا ہے اس لیے ملک میں کئی لوگ اس فیصلے کی ضرورت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

    ہنگامی حالت سب سے پہلے مارچ میں نافذ کی گئی تھی اور اب اسے اگلے ہفتے کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے رکھا جائے گا۔ تھائی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل سومساک رونگسیٹا نے کہا کہ یہ ہنگامی حالت اس لیے ضروری ہے کیونکہ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے کاروبار اور سیاحتی شعبہ کھولا جا رہا ہے۔

    تھائی لینڈ میں بتدریج لاؤس، میانمار اور کمبوڈیا سے ایک لاکھ 10 ہزار تارکِ وطن مزدوروں کو ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے گی تاہم ان کا آمد پر لازمی کورونا ٹیسٹ ہوگا۔

    اس کے علاوہ غیر ملکی فلم سازوں اور کاروباری شخصیات کو سفر سے زیادہ سے زیادہ تین دن پہلے حاصل کی گئی سند دکھانی ہوگی کہ ان میں وائرس نہیں ہے۔

  9. کورونا وائرس: متحدہ عرب امارات میں تارکِ وطن مزدور کس حال میں ہیں؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنتارکِ وطن افراد دبئی میں مفت کھانے کے حصول کے لیے قطار بنائے کھڑے ہیں۔

    ذوالفقار دبئی میں رہنے والے ایک پاکستانی ہیں جو گذشتہ 12 سال سے وہاں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنے گھر والوں کو وبا کے آغاز میں ہی واپس پاکستان بھیج دیا تھا تاہم وہ خود وہیں رکے رہے۔

    اب وہ ایک درجن دیگر بے روزگار لوگوں کے ساتھ ایک کمرے میں رہائش پذیر ہیں اور کام تلاش کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں اس وقت ان کے جیسے کئی غیر ملکی لوگ کورونا وائرس کے باعث ملازمتیں ختم ہوجانے کی وجہ سے پریشانی کے شکار ہیں۔

    کورونا وائرس کی وجہ سے تیل کی دولت سے مالامال خلیجی ممالک کی معیشتوں پر کافی دباؤ پڑا ہے جن کا انحصار کم اجرتوں پر کام کرنے والے غیر ملکی مزدوروں پر ہوتا ہے۔

    یہی مزدور خلیجی معیشتوں کی ریڑھ ہیں، اور تعمیرات، خدمات، نقل و حمل جیسی صنعتوں میں کام کرتے ہیں اور اب ان کے سامنے اس وبا کی حقیقت کا سامنا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے دبئی، ابو ظہبی اور شارجہ میں 30 سے زیادہ تارکِ وطن مزدوروں سے بات کی اور ان تمام کا کہنا تھا کہ وہ کورونا وائرس کے باعث مالی مشکلات کے شکار ہیں۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نیپال سے تعلق رکھنے والے کپل نے جب اپنا گاؤں چھوڑ کر متحدہ عرب امارات کے ایک ایئرپورٹ پر سامان پیک کرنے کی ملازمت اختیار کی تھی تو ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کا مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں۔

    مگر اب 29 سالہ کپل کہتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر ناامید ہیں کیونکہ انھیں بتایا گیا ہے کہ اس ماہ انھیں کام نہیں ملے گا۔

    کپل نے ایک آجر کو اس ملازمت کے لیے ایک لاکھ 75 ہزار نیپالی روپے (1450 ڈالر) ادا کیے تھے تاہم انھیں اب اندازہ نہیں کہ وہ دوبارہ کب کام کریں گے۔

    وہ نیپال میں ٹیچر تھے اور یہاں کام کر کے وہ ماہانہ 600 ڈالر تک کما لیتے جو ان کی نیپال میں ملازمت سے کہیں زیادہ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ یہاں کچھ پیسے بچائیں گے اور پھر کسی اچھی ملازمت کے حصول کے لیے کوشش کریں گے۔

    مگر اب وہ صرف اپنے قرض اتارنے کے لیے فکر مند ہیں۔

    اس حوالے سے اعداد و شمار موجود نہیں کہ کتنے لوگ متحدہ عرب امارات چھوڑ کر واپس جا چکے ہیں مگر انڈیا، پاکستان، فلپائن اور نیپال سے تقریباً دو لاکھ لوگ ان کے سفارتی مشنز کے مطابق اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تعمیرات اور پرچون جیسے شعبے اس بحران سے پہلے بھی مشکلات کے شکار تھے جس کی وجہ سے کئی لوگ پہلے سے ہی تنخواہوں میں تاخیر کا سامنا کر رہے تھے۔

    دبئی کے ایک تھیم پارک میں سیکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والے محمد مبارک کو 11 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔

    گھانا سے تعلق رکھنے والے مبارک کہتے ہیں: ’کمپنی کو نہیں معلوم کہ وہ ہمیں کب ادائیگی کر سکیں گے، اور ہم اس کی وجہ سے مشکلات میں ہیں۔‘

  10. گلگت بلتستان حکومت کیوں اس خطے کو سیاحت کے لیے نہیں کھول رہی؟

    پاکستان کے شمالی خطے گلگت بلتستان میں الیکشن سے پہلے اِس وقت ایک عبوری حکومت قائم ہے جس پر قدرتی حسن سے مالامال اِس خوبصور ت پہاڑی علاقے کو مقامی سیاحت کے لیے کھولنے کا مشکل فیصلہ آن پڑا ہے۔

    تحلیل ہوجانے والی حکومت نے دوردراز پہاڑی علاقوں میں بری طرح کووڈ 19 پھیل جانے کے خدشے کے پیش نظر وفاقی حکومت اور سیاحتی صنعت سے وابستہ حلقوں کے زبردست دباؤ کے باوجود گلگت بلتستان کو سیاحت کے لیے کھولنے سے انکار کردیا تھا۔

    دیکھیے بی بی سی کے علی کاظمی کی خصوصی رپورٹ

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  11. کورونا: آپ کا پھینکا گیا ماسک کسی وہیل کی جان لے سکتا ہے

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن اس دوران ہر گزرتے دن کے ساتھ حفاظتی سامان سمندروں میں آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔

    بعض اعداد و شمار کے مطابق ہم 129 ارب ماسک اور 65 ارب پلاسٹک کے دستانے ہر ماہ استعمال کرتے ہیں۔

    ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ طبی سامان سمندروں میں تیرتا دیکھا جا سکتا ہے اور اس کے باعث سمندری حیات کو خطرہ ہے۔

    مزید اس ویڈیو میں دیکھیے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  12. آسٹریلیا: سخت لاک ڈاؤن کے باوجود ریاست وکٹوریا میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آسٹریلیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 501 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ مارچ میں یہاں وبا کے آنے کے بعد سے لے کر اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہاں دو مزید افراد ہلاک بھی ہوئے جس کے بعد ہلاک شدگان کی کُل تعداد 128 ہوگئی ہے۔ ریاست وکٹوریا میں سب سے زیادہ یعنی 484 نئے متاثرین سامنے آئے۔

    ریاست کے وزیر اعظم ڈینیئل اینڈریوز نے کہا کہ پریشان کُن بات یہ ہے کہ 2000 سے زیادہ لوگ جو وکٹوریا میں سات سے 21 جولائی کے درمیان متاثر ہوئے، انھوں نے خود ساختہ تنہائی اختیار نہیں کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ اگر لوگ متاثر ہونے کے بعد خود کو تنہا نہیں کریں گے تو متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہی رہے گا۔ اب ریاست کے دارالحکومت میلبرن میں گھر سے باہر نکلنے والے لوگوں پر ماسک پہننے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    میلبرن میں حالیہ سالوں میں کورونا وائرس متاثرین میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مجموعی طور پر ریاست وکٹوریا میں کورونا کے 6700 سے زائد متاثرین سامنے آ چکے ہیں جو کہ پورے آسٹریلیا کا نصف ہے۔

    اسی باعث ریاست نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریا کے درمیان سرحد کو 100 سال میں پہلی مرتبہ بند کر دیا گیا ہے۔

  13. کورونا وائرس کے خلاف ردِ عمل: کیا صدر ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی آ رہی ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز امریکیوں پر زور دیا کہ کورونا وائرس کے باعث صورتحال بہتر ہونے سے پہلے ابھی مزید خراب ہوگی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے عوام سے کہا کہ اگر وہ سماجی دوری اختیار نہیں کر سکتے تو کم از کم ماسک ضرور پہنیں۔

    یہ کئی ماہ میں ان کی پہلی پریس بریفنگ تھی اور اس میں انھوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ پرہجوم شراب خانوں میں جانے سے گریز کریں، اور اصرار کیا کہ وائرس کسی نہ کسی موقعے پر ختم ہوجائے گا۔

    صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی میں تبدیلی ان بیانات سے واضح ہے۔ چند دن قبل تک ہی وہ وائرس کے باعث معیشت کی ایک طویل عرصے سے جاری بندش کو ختم کرنے کے لیے زور دے رہے تھے مگر اب لگتا ہے ان کا لب و لہجہ تبدیل ہو رہا ہے۔

    ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ وائرس کے ابتدائی دور میں ایسے بیانات دیتے رہے جس سے معلوم ہوتا کہ وہ اسے زیادہ بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے۔

    انھوں نے ایک مرتبہ ماسک پہننے کو ’سماجی قبولیت کے لیے ضروری‘ عمل کہا اور وہ خود بھی ماسک پہننے سے کتراتے رہے ہیں۔ انھوں نے عوام کے سامنے پہلی مرتبہ ماسک ایک فوجی ہسپتال کے حالیہ دورے کے موقعے پر پہنا تھا، تاہم وہ پریس کے سامنے ماسک پہننے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

    امریکہ میں اب ماسک پہننا بھی تقسیم کا باعث بن چکا ہے اور صدر ٹرمپ کے چند حامیوں کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے کے ضوابط ان کی شخصی آزادی پر حملہ ہیں۔

    جب انھوں نے چند ہفتوں قبل اوکلاہوما میں اپنے انتخابی جلسے سے خطاب کیا تھا تو وہاں چند ہی لوگوں نے ماسک پہن رکھے تھے۔

    تاہم منگل کو انھوں نے اس حوالے سے ایک نیا مؤقف اپنایا۔

    ’ہم ہر کسی سے کہیں گے، کہ اگر آپ سماجی دوری اختیار نہیں کر سکتے، تو ماسک پہنیں، ماسک حاصل کریں۔ آپ کو ماسک پسند ہو یا نہ ہو، اس سے فرق پڑتا ہے۔ اس سے فرق پڑے گا۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ماسک کے عادی ہو رہے ہیں اور لفٹ وغیرہ جیسی جگہوں پر ماسک پہنیں گے۔

  14. کورونا وائرس: جاپان نے ڈیکسامیتھازون کی بطور علاج منظوری دے دی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جاپان کی وزارت صحت نے برطانیہ میں ڈیکسامیتھازون کے آزمائشی استعمال سے کورونا کے باعث ہسپتال داخلوں کی شرح میں کمی کے بعد اسی کی کورونا کے دوسرے علاج کے طور پر منظوری دے دی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت نے ریمیڈیسیور نامی دوا کے ساتھ اس دوا کو بھی علاج کے آپشن کے طور پر منظور کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ڈیکسامیتھازون کورونا کے مریضوں کی جان بچانے والی پہلی دوا بنی۔

    اس تحقیق کے نتائج نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں گذشتہ جمعے کو شائع ہوئے اور اس میں معتدل سے لے کر سخت بیمار افراد تک کے لیے اسے فائدہ مند پایا گیا۔

    ڈاکٹروں کے مطابق ڈیکسامیتھازون بنیادی طور پر ایک ایسا سٹیرائیڈ ہے جو انسانی جسم میں قدرتی طور پر پیدا ہونے والے ایک ہارمون سے مماثلت رکھتا ہے۔ یہ ہارمون گردے کے غدودوں یعنی ایڈرینل گلینڈ سے خارج ہوتا ہے۔

    یہ جسم میں سوجن کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے اس لیے جب جسم قدرتی طور پر یہ ہارمون کم بنا رہا ہو یا نہ بنا رہا ہو تو ڈیکسامیتھازون سٹیرائیڈ دیا جاتا ہے۔ ڈیکسامیتھازون جوڑوں کے درد، دمے، جلد اور آنکھوں کی بیماریوں، الرجی اور چند اقسام کے کینسر کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہے۔

    ڈاکٹر ظفر اقبال لاہور کے شیخ زید ہسپتال کے سابق چیئرمین اور امراضِ باطنیہ کے ماہر ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یہ عام سی سستی دوا پاکستان میں بھی کئی دہائیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔

    تاہم اس کی جو خصوصیت اسے کورونا کے مریضوں کے علاج میں مددگار بناتی ہیں وہ سوجن کو کم کرنا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کے ضرورت سے زیادہ متحرک ہونے کے وجہ سے ہو جاتی ہے۔

    ہمارے نمائندے عمر دراز ننگیانہ کی رپورٹ پڑھیے کہ کیا جان بچانے والی پہلی دوا ڈیکسامیتھازون پاکستان میں فوری استعمال ہو سکتی ہے؟

  15. ماسک کی کون سی قسم وائرس کو کتنا روک سکتی ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کپڑے اور کاغذ کے ماسک عوام میں کووِڈ-19 پھیلنے سے تو روک سکتے ہیں لیکن یہ کسی بھی طرح انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں استعمال کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔

    یہاں انفیکشن کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور طبی عملے کو بلند ترین معیار کا حفاظتی سامان چاہیے ہوتا ہے تاکہ وہ خود کو وائرس سے مکمل طور پر محفوظ کر سکیں۔

    ماسک کی سادہ ترین مثال سرجیکل ماسک ہے جو عام طور پر کپڑے یا کاغذ کی تین تہوں سے بنایا جاتا ہے۔ یہ چھینکوں یا کھانسی سے نکلنے والے قطروں کو تو روک لیتا ہے لیکن وائرس کے ذرات سے نہیں بچا پاتا جو صرف 100 نینو میٹر کے لگ بھگ ہوتے ہیں (ایک نینومیٹر ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوتا ہے۔)

    اس حوالے سے مزید اس تفصیلی رپورٹ میں پڑھیے کہ کون سا ماسک کتنا سازگار ہو سکتا ہے۔

  16. ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک پاکستان کو 25 کروڑ ڈالر قرض دے گا

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ پاکستان کو کورونا وائرس کی وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 25 کروڑ ڈالر کا قرض دے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی حمایت یافتہ بینک پاکستان کو یہ رقم ورلڈ بینک کے اشتراک سے فراہم کرے گا۔ بینک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس سے پاکستانی حکومت کو اپنا طبی انفراسٹرکچر بہتر بنانے، سماجی تحفظ کا دائرہ وسیع کرنے، افرادی تربیت میں اضافہ کرنے اور اقتصادی ترقی کے حصول میں مدد ملے گی۔

    اس سے قبل اے آئی آئی بی پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے چکا ہے۔

    دونوں قرض اس بینک کی جانب سے سرکاری و نجی شعبے کو اس وبا کے خلاف لڑنے کے لیے 10 ارب ڈالر کی فنڈنگ کا حصہ ہیں۔

  17. کورونا: پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 38 افراد دم توڑ گئے

    کورونا

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 38 افراد کورونا وائرس کے باعث دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد پاکستان میں وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 5677 ہو گئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعدادوشمار کے مطابق 38 میں سے 36 افراد کی موت ہسپتالوں میں ہوئی۔

    این سی او سی کے مطابق 21 جولائی کو ملک بھر میں کورونا کے 18331 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ 1332 افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

  18. اسلام آباد کے کورونا آئی سی یو کے اندر کا ماحول کیسا ہے؟

    پاکستان میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں اور ان کے اہلخانہ کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔

    طبی عملے کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کی علامات کو چھپایا جاتا ہے اور اسے بدنامی سمجھا جاتا ہے۔

    کئی لوگ اب بھی اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں، اور کچھ کے خیال میں ڈاکٹر مریضوں کو مار رہے ہیں۔

    بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید اور موسیٰ یاوری کو اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پمز کے کورونا آئی سی یو میں خصوصی رسائی دی گئی۔

    انھوں نے وہاں تعینات ڈاکٹروں سے ملاقات کی جو وائرس کے ساتھ ساتھ افواہوں کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  19. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    آپ اس صفحے پر جان سکیں گے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی کیا صورتحال ہے، دواؤں اور علاج پر کیا پیش رفت جاری ہے، اور آپ خود کو اپنے پیاروں کو کیسے اس موذی مرض سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    ہماری گذشتہ روز کی کوریج پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  20. کورونا ٹیلی تھون: وزیر اعظم کی احساس ٹرانسمیشن میں مولانا طارق جمیل اور جاوید میانداد کے بیانات پر سوشل میڈیا پر بحث