کورونا: امریکہ میں کیلیفورنیا کے بعد فلوریڈا سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی
کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے. فلوریڈا میں مزید 9300 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیلیفورنیا کے بعد یہ امریکہ کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاست بن گئی ہے۔
لائیو کوریج
لیڈی ریڈنگ ہسپتال: کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں کورونا وائرس سے متاثرہ زیرِ علاج مریضوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔
پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق 250 بیڈز پر مشتمل کورونا کمپلیکس میں اس وقت صرف 17 مریض داخل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان داخل مریضوں میں 10 تصدیق شدہ جبکہ باقی مشتبہ کیسسز شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کی صحتیابی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ہسپتال کے آئی سی یو میں کورونا کے صرف چھ مریض زیرِ علاج ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ عید کو مد نظر رکھتے ہوئے کورونا سے متعلق تمام سروسز ہائی الرٹ رہیں گی۔
ہسپتال انتظامیہ نے عوام سے منڈیوں کے اندر اور عید کے دوران تمام تر احتیاطی تدابیر اختیار کر نے کی اپیل کی ہے۔
کیا کورونا وائرس آپ کو دوبارہ بھی متاثر کر سکتا ہے؟
کیا آپ کورونا وائرس سے دوبارہ متاثر ہوسکتے ہیں؟ آپ کا نظام مدافعت کسی بھی وائرس سے بچاؤ میں کیا کردار ادا کرتا ہے اور اینٹی باڈیز کیسے متاثرہ جسم کو آئندہ اس بیماری سے بچا سکتی ہیں۔ جانیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔
کورونا وائرس: مالدار افراد محفوظ مقامات کا رخ کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر آپ انتہائی مالدار ہوں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ والے مرکز میں پھنس گئے ہوں تو آپ کیا کریں گے؟
اس کا جواب بہت آسان ہے۔ اپنے لیے کہیں اور محفوظ مقام خرید لیں۔
بلومبرگ کے مطابق امیر افراد ان ممالک میں سرمایہ کاری ویزوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کررہے ہیں جہاں کووڈ 19 انفیکشن کی کم شرح ہے۔
کچھ کیریبین کے دور دراز جزیروں کا رخ کر رہے ہیں جہاں وہ ساحلوں پر الگ تھلگ رہ سکتے ہیں ، جبکہ دیگر ایسے ممالک کا انتخاب کررہے ہیں جہاں وبائی مرض پر قابو پا لیا گیا ہے۔
اس کی ایک مثال نیوزی لینڈ ہے۔ بیشر افراد لاکھوں ڈالرز لگا کر نیوزی لینڈ کے ویزا خرید رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 1500سے زیادہ ہے جبکہ اب تک 22 اموات ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters
چین میں کورونا کے 46 نئے متاثرین، 22 کا تعلق سنکیانک سے ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
چین میں اتوار کو کوڈ 19 انفیکشن کے 46 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے چین کے ہیلتھ کمیشن کے حوالے سے بتایا کہ اس سے قبل سنیچر کے روز 34 متاثرین رپورٹ ہوئے تھے۔
چین کے قومی صحت کمیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ نئے 46 متاثرین میں سے 22 کا تعلق مغربی سنکیانگ صوبے سے ہے۔ دوسرے ممالک سے وائرس سے متاثرہ 11 افراد چین میں داخل ہوئے۔
یہ 74 دن کے بعد پہلا موقع ہے جب چین میں علامات کے بغیر والے دو مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
سنیچر تک، چین میں کورونا وائرس متاثرین کی مجموعی تعداد 83،830 اور 4،634 اموات کی تصدیق کی گئی۔
سواب ٹیسٹ کے بارے میں بے بنیاد دعوؤں کی حقیقت

،تصویر کا ذریعہReuters
دماغ کی حفاظت کرنے کے لیے کئی حفاظتی تہیں ہوتی ہیں۔ اس میں سب سے پہلے تو گردن ہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی دماغ کئی حفاظتی جھلیوں اور سیال میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔
خون کی وہ رگیں جو دماغ سے ملتی ہیں، وہ خلیوں کی تہوں میں گھری ہوتی ہیں جو خون میں شامل مالیکیولز کو دماغ تک پہنچنے سے روکتی ہیں جبکہ یہ آکسیجن اور غذائی اجزا کو دماغ تک جانے دیتے ہیں۔
ناک میں ڈالے جانے والے سویب کو دماغ کو خون سے محفوظ رکھنے والی تہہ تک پہنچنے کے لیے بافتوں کی متعدد تہوں کو توڑنا اور ایک ہڈی کو ڈرل کرنا ہوگا۔ مکمل تحریر پڑھیے۔
’انڈیا اپنے لاکھوں شہریوں کی جانیں بچانے میں کامیاب رہا ہے‘ وزیرِ اعظم مودی

،تصویر کا ذریعہ@PMOIndia
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز اپنے ریڈیو پروگرام 'من کی بات' میں کہا کہ گذشتہ چند مہینوں سے جس طرح سے پورا ملک متحد اور کورونا کے خلاف لڑ رہا ہے اس نے بہت سے خدشات کو غلط ثابت کردیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کورونا کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے لہذا سب کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا ’یقیناً ایک شخص کو بھی کھونا افسوسناک ہے لیکن انڈیا لاکھوں شہریوں کی جان بچانے میں بھی کامیاب رہا ہے۔ اب بھی کورونا کا خطرہ ٹل نہیں پایا ہے۔ یہ بہت سی جگہوں پر تیزی سے پھیل رہا ہے ، لہذا ہمیں بہت چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ ‘
X پوسٹ نظرانداز کریں, 1X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
X پوسٹ نظرانداز کریں, 2X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
کوسٹا ریکا میں کورونا وائرس کے 931 نئے متاثرین، 11 اموات

،تصویر کا ذریعہReuters
کوسٹا ریکا کی وزارت صحت کے مطابق سنیچر کے روز ملک میں کورونا وائرس کے 931 نئے متاثرین اور 11 اموات ہوئی ہیں۔
کوسٹکا ریکا میں اب تک یہ یومیہ متاثرین اور اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
کوسٹا ریکن کے حکام کے مطابق پانچ لاکھ آبادی والے اس ملک میں مجموعی طور پر 14،600 کووڈ 19 متاثرین موجود ہیں جبکہ وائرس سے 98 اموات ہو چکی ہیں۔
متاثرین میں اضافے کے باوجود ہوٹلوں پر کام جاری ہے اور حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست سے یورپی، برطانوی اور کینیڈا کے سیاحوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
گلگت بلتستان حکومت کیوں اس خطے کو سیاحت کے لیے نہیں کھول رہی؟
پاکستان کے شمالی خطے گلگت بلتستان میں الیکشن سے پہلے اِس وقت ایک عبوری حکومت قائم ہے جس پر قدرتی حسن سے مالامال اِس خوبصور ت پہاڑی علاقے کو مقامی سیاحت کے لیے کھولنے کا مشکل فیصلہ آن پڑا ہے۔
تحلیل ہوجانے والی حکومت نے دوردراز پہاڑی علاقوں میں بری طرح کووڈ 19 پھیل جانے کے خدشے کے پیش نظر وفاقی حکومت اور سیاحتی صنعت سے وابستہ حلقوں کے زبردست دباؤ کے باوجود گلگت بلتستان کو سیاحت کے لیے کھولنے سے انکار کردیا تھا۔
دیکھیے بی بی سی کے علی کاظمی کی خصوصی رپورٹ۔
انڈیا: گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 48،661 نئے متاثرین، ہلاکتوں کی تعداد 32 ہزار سے زیادہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 48661 نئے متاثرین اور 705 اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔
انڈیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 13،85،522 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 4،67،882 فعال متاثرین کے زمرے میں آتے ہیں اور 8،85،577 صحتیاب ہو چکے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انڈیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے مرنے والے افراد کی تعداد 32،063 ہوگئی ہے۔
آسٹریلیا: یومیہ متاثرین کی تعداد میں اضافہ، ریکارڈ اموات

،تصویر کا ذریعہReuters
آسٹریلیا کی دوسری سب سے زیادہ آبادی والی ریاست وکٹوریہ میں 459 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی، جو گذشتہ روز 357 متاثرین سے زیادہ ہیں۔
ریاست کے وزیرِ اعظم ڈینیئل اینڈریوز نے ایک پریس بریفنگ میں یہ بھی بتایا کہ وکٹوریہ میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 سے 10 ہلاکتیں ہوئی ہیں، جو آسٹریلیا میں یومیہ ہلاکتوں کی اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اینڈریوز نے بتایا کہ ریاست میں کووڈ 19 کی دوسری لہر کام کاج کی جگہوں پر انفیکشن کی وجہ سے پھیل رہی ہے، جن میں عمر رسیدہ افراد کی نگہداشت اور صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات، سامان تقسیم کرنے والے بڑے مراکز، ذبح خانے، کولڈ سٹوریج کی سہولیات اور گودام شامل ہیں۔
کیا کورونا وائرس کی وبا کے دوران سیکس کرنا محفوظ ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا سیکس کرنے سے مجھے کورونا وائرس ہو سکتا ہے؟ شاید یہ سوال آپ کے ذہن میں بھی آیا ہو لیکن آپ اس بارے میں کسی سے بات کرنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہوں۔
حقائق کو فرضی باتوں سے الگ کرتے ہوئے، ہم نے اس سے وابستہ چند سوال ماہرین صحت کے سامنے رکھے ہیں۔
شعبہ ایمرجنسی میں کام کرنے والے ڈاکٹر ایلکس جارج ریئلٹی شو ’لو آئی لینڈ‘ میں شرکت بھی کر چکے ہیں۔ ایلکس فاکس سیکس کے موضوع پر کام کرنے والی صحافی اور بی بی سی ریڈیو ون پر ایک پروگرام کی سابق میزبان اور پوڈ کاسٹ ’دا ماڈرن مین‘ کی شریک میزبان ہیں۔
کیا کورونا وائرس کی وبا کے دوران جنسی تعلق قائم کرنا محفوظ ہے؟جاننے کے لیے یہ تحریر پڑھیے۔
’ہر کوئی قرنطینہ سے گھبرا رہا ہے‘ سپین میں برطانوی سیاح حکومتی فیصلے سے نالاں

،تصویر کا ذریعہReuters
سپین میں تعطیلات کے بعد گھروں کو واپس آنے والے برطانوی سیاحوں نے اپنی حکومت کے اس اچانک فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کیا جس کے مطابق بحیرہ روم کے ممالک سے آنے والے ہر فرد کو قرنطینہ میں 14 دن گزارنا ہوں گے۔
میڈرڈ کے برجاس ہوائی اڈے کے مطابق برطانیہ نے سپین میں کورونا وائرس متاثرین میں اضافے کے بعد سنیچر کی آدھی رات کو سپین کو محفوظ ممالک کی فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ کیا، جس سے مسافروں کو اس سے بچنے کے لیے وقت نہیں ملا، اور واپسی کے بارے میں انھیں خدشات لاحق ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ایملی ہیریسن، جو ایسیکس سے تعلق رکھتی ہے اور لندن جانے والی فلائٹ پر سوار ہونے والی ہیں، انھیں دو ہفتے قرنطینہ میں گزارنا ہوں گے۔ ایملی کہتی ہیں ’یہ واقعی بہت برا فیصلہ ہے کیونکہ یہ ابھی اچانک آیا ہے، ہمیں تیاری کے لیے زیادہ وقت نہیں دیا گیا ہے لہذا اب سب گھبرا رہے ہیں۔
ہیریسن نے کہا ’اس سے ہر ایک کے منصوبے تباہ ہو گئے ہیں۔ ہمیں ایک شادی میں جانا تھا اور دوستوں اور کنبے سے ملنے کا منصوبہ تھا جنھیں ہم نے طویل وقت میں نہیں دیکھا اور اب ہمیں ان تمام منصوبوں کو منسوخ کرنا پڑے گا ، لہذا یہ واقعتاً پریشان کن ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی مرکزی وزارت صحت نے کہا ہے کہ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران، ملک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے 4،42،031 نمونے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
پہلی بار گورنمنٹ لیبارٹریوں نے 3،62،153 نمونوں کی ٹیسٹنگ کی ہے، اور ایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔
اسی دوران نجی لیبارٹریوں نے 79،878 نمونوں کی ٹیسٹنگ کی ہے۔
’سمارٹ ہیلمٹ‘ سے کورونا وائرس کے متاثرین کی شناخت
انڈیا کے شہر ممبئی کے حکام کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی سکریننگ کے لیے ’سمارٹ ہیلمٹ‘ کا سہارا لے رہے ہیں۔ انڈیا میں ممبئی کورونا وائرس سے سب سے متاثرہ شہر ہے اوروہاں کورونا کے نئے کیسز کا جلد سے جلد پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس ہیلمٹ کو بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ اس کی مدد سے طبی عملہ تین گھنٹوں کے اندراندر تقریبا چھ ہزار افراد کا بالکل درست درجہ حرارت چیک کرسکتا ہے۔ لیکن یہ سستا نہیں ہے۔ اس ایک ہیلمٹ کی قیمت تقریبا آٹھ ہزار ڈالر ہے۔ تفصیل دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔
شمالی کوریا: ’پہلے مشتبہ کورونا مریض کی موجودگی کا اعتراف‘ ملک بھر میں الرٹ جاری

،تصویر کا ذریعہReuters
شمالی کوریا نے ملک میں کورونا وائرس کے پہلے مشتبہ مریض کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے کہا ہے کہ ایک شخص جس نے تین سال قبل جنوبی کوریا کا رخ کیا تھا وہ گذشتہ ہفتے سرحد کے اس پار واپس آئے تھے، اور ان میں کووڈ 19 کی علامات تھیں۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اعلی عہدیداروں کے ساتھ ہنگامی ملاقات کی، جس کے بعد سرحدی شہر کیسانگ میں لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔
شمالی کوریا نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کے ملک میں کووڈ 19 کے متاثرین نہیں ہیں- لیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایسا ہونے کا امکان نہیں تھا۔
کے سی این اے نے کہا ’کیسونگ شہر میں ایک ہنگامی واقعہ پیش آیا جہاں ایک شخص جس کے وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہے وہ غیر قانونی طور پر حد بندی کی لائن عبور کرنے کے بعد 19 جولائی کو واپس آگیا۔‘
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1,226 نئے متاثرین، 35 ہلاکتیں

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1226 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ 35 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان کی کورونا کے حوالے سے حکومتی ویب سائٹ کووڈ 19 کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 273,113 ہو گئی ہے جبکہ ملک میں مجموعی ہلاکتیں 5,822 ہیں۔
ملک میں 237,434 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں جس کے بعد پاکستان میں کورونا کے زیر علاج مریضوں کی تعداد 29,857 ہے۔
کیا تھوک کی جانچ سے کورونا کی وبا کا خاتمہ ہو سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہEMMA RUSSELL
اگر ایک بار پھر کورونا سے پہلے والی زندگی میں واپس آنے کا کوئی طریقہ ہو تو کیا ہوگا؟ یعنی ایک بار پھر سے کوئی سماجی دوری نہیں، چہرے کو ڈھانپنے کی کوئی ضرورت نہیں اور کووڈ 19 کا خوف نہیں۔ یقینا یہ تمام پابندیاں وائرس سے بچنے اور اس کے پھیلاؤ کو کم سے کم کرنے کے لیے ہیں۔
ایسے میں ہمیں جس چيز کی ضرورت ہے وہ ایک تیز اور قابل اعتماد طریقہ کار ہے جس سے ہم اپنے آس پاس کے لوگوں میں انفیکشن کے بارے میں جان سکیں۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی جانچ میں مثبت پائے جانے والے ہر چار افراد میں سے کم سے کم ایک فرد میں جانچ والے دن وائرس کی علامات نہیں ہوتی ہیں۔
یہی بات اس خطرے کو اجاگر کرتی ہے کہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی زد میں آ چکے ہیں۔
دوسرا مسئلہ خود کورونا کی جانچ ہے۔ کورونا وائرس کا پتہ لگانے کا موجودہ معیاری طریقہ یہ ہے کہ گلے کے پچھلے حصے اور ناک کی اوپری نلی سے مادہ لیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں غیر ضروری طور پر حساس ہوں اور اپنے ٹانسل کے پاس روئی کے پھاہے لے جانا یا ناک کے نرم گوشے تک اسے لے جانا میرے لیے کلفت کا باعث ہو اور ابکائی کا باعث بنے۔
یہ سب بس چند سیکنڈ میں ختم ہو جاتا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں ہر ہفتے اس سے گزروں جیسا کہ برطانیہ کی این ایچ ایس کے فرنٹ لائن سٹاف کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔
’عید پر مروجہ قواعدِ و ضوابط کی دھجیاں مت اڑائیں‘
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں گزشتہ چند ہفتوں سے کورونا وائرس کے کیسز میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے لیکن اب بھی ماہرین کو اس بات کا ڈر ہے کہ اگر عید پر ایس او پی فالو نہ کیے گئے تو ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر آ سکتی ہے۔
اس سے پاکستان کے صحت کے نظام کو کیا نقصان ہو سکتا ہے، یہ بتا رہی ہیں ڈاکٹر تمکنت منصور اس وی لاگ میں
بریکنگ, پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید 11 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہM A Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ صحت کے فوکل پرسن برائے کووڈ 19 ڈاکٹر ندیم الرحمن کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 336 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 11 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ان کے مطابق خطے میں اب تک مجموعی طور پر 2023 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 26 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد اس خطے میں صحتیاب مریضوں کی تعداد 1435 ہو گئی ہے۔
