قازقستان میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ، پنجاب میں 646 نئے متاثرین، 13 ہلاکتیں

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 14 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 31 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ قازقستان میں کورونا کے متاثرین میں اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن کے میئر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے دو ہفتوں میں ہسپتالوں میں بستر کم پڑ سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. سندھ پولیس کے 1670 اہلکار کورونا سے متاثر

    police

    ،تصویر کا ذریعہSindh Police

    سندھ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے محکمے کے 1670 اہلکار کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں افسران و جوان دونوں شامل ہیں۔

    ترجمان کے مطابق گذشتہ دو روز کے دوران پولیس فورس میں کورونا کے 325 نئے کیسز سامنے آئے۔

    ان کا ززید کہنا تھا کہ 16 پولیس اہلکار اب تک وبا کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جن میں سے 14 کا تعلق کراچی جبکہ 2 کا حیدر آباد سے تعلق تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ زیر علاج اہلکاروں کی تعداد 1219 ہے جبکہ 435 صحت یاب ہو کر گھر جاچکے ہیں۔

  2. ’اپنی من پسند ادویات بازار سے خود خرید کر نہ کھائیں!‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ہر ایک کی نظر طبی تحقیق کی جانب ہے کہ کب اس بیماری کا علاج دریافت ہوگا۔ لیکن جب بھی مثبت نتائج کے بعد کسی نئی دوائی کا نام سامنے آتا ہے تو پاکستان میں اس کی قلت یا پھر قیمت میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔ خود سے اپنی من پسند کی ادویات کو بازار سے لے کر کھانے کے کیا نقصانات ہیں، یہ بتا رہی ہیں ڈاکٹر تمکنت منصور اس وی لاگ میں۔۔۔

  3. انگلینڈ میں بال کٹوانے کے لیے لوگوں کی قطاریں، ایک تہائی بار اور ریستوران تاحال بند

    انگلینڈ میں بال کٹوانے کے لیے لوگوں کی قطاریں، ایک تہائی بار اور ریستوران تاحال بند

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    انگلینڈ میں آج سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے احکامات کا اطلاق شروع ہوگیا ہے۔

    بال کٹوانے کے لیے ہیئر سیلونز کے باہر لوگوں کی قطاریں دیکھی گئی ہیں جبکہ پبز، ریستوران اور بار ایسے کاروبار ہیں جنھیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    تاہم حکام نے لوگوں سے احتیاط برتنے اور سماجی فاصلے کی ہدایات پر عمل کرنے کا کہنا ہے۔

    وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ لوگ ’ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔‘

    انگلینڈ میں تفریح سے متعلق ایک تنظیم کے مطابق ملک میں تاحال ایک تہائی بار، پبز اور ریستوران بند ہیں جبکہ پریشانی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔

    لیسٹر میں کورونا کے نئے متاثرین کے پیش نظر سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ’نئے سال کی رات سے زیادہ‘ نفری تعینات کی گئی ہے۔

  4. پنجاب میں کورونا وائرس: 100 دن میں 1000 طبی کارکنوں کی بھرتی، 18 لیبارٹریز قائم اور 5 لاکھ ٹیسٹ

    corona

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Govt

    حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد صوبے میں گذشتہ 100 دن کے دوران حکومت نے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی صلاحیت میں اضافے کے لیے سرکاری شعبہ میں 18 BSL3 لیبز کا قیام عمل میں لایا گیا۔

    اسی اثنا میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومت نے نہ صرف فوری ضروری میڈیکل سامان کی فراہمی یقینی بنائی بلکہ 1000 سے زائد ڈاکٹرز، کنسلٹنٹس، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی بھرتی بھی کی گئی۔

    لیبارٹریز کی تعداد میں اضافے کے ذریعے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی صلاحیت 190 روزانہ سے بڑھا کر 8000 سے زائد ٹیسٹ روزانہ تک پہنچائی گئی اور صوبے بھر میں اب تک 5 لاکھ سے زائد ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

    حکومت کے مطابق اس عرصے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ترین نظام کے ذریعے کورونا وائرس کے 2 لاکھ سے زائد مشتبہ مریضوں تک رسائی، زائرین تبلیغی جماعت اور بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کی سکریننگ کی گئی۔

    حکومت کے مطابق کورونا کی روک تھام مریضوں کے علاج اور عوام کو ٹیکس ریلیف دینے کے لیے اب تک 44.8 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم مختص کی جا چکی ہے۔

    corona

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Govt

  5. کیٹالونیا میں 210,000 افراد دوبارہ لاک ڈاؤن میں

    کیٹالونیا میں 210,000 افراد دوبارہ لاک ڈاؤن میں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپین کے علاقے کیٹالونیا کی حکومت نے ایک مرتبہ پھر بعض علاقوں میں کورونا وائرس کے بڑھتے متاثرین کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ اس لاک ڈاؤن میں دو لاکھ 10 ہزار افراد موجود ہوں گے۔

    صدر کوئم تورا نے کہا ہے کہ بارسیلونا کے مغرب میں واقع ایک زرعی علاقے میں کسی شخص کو آنے یا جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس میں شہر لائیڈا بھی شامل ہے۔

    یہ مقامی لاک ڈاون سنیچر کی شب سے شروع ہوگا۔ یہاں سے تعلق نہ رکھنے والے افراد کو نکلنے کی اجازت دی گئی تھی۔

    کیٹالونیا ان علاقوں میں سے ہے جو سپین میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جمعے تک خطے میں کورونا وائرس کے 72,860 مصدقہ متاثرین اور 12,586 اموات کی تصدیق ہوئی تھی۔

    سپین بھر میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ متاثرین اور 28,385 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ ملک نے سیاحت کی بحالی کے پیش نظر یورپی یونین کے ممالک اور برطانیہ کے لیے سرحدیں کھول دی ہیں۔

  6. کورونا: سائسندان کیا نہیں جانتے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کے بارے میں تحقیق کے با وجود ابھی بھی بہت کچھ ہے جو سائنسدان نہیں جانتے۔ اس وڈیو میں ہم آپ کو بتایَں گے کہ وہ ایسے کون سے سوالات ہیں جن کا ابھی تک جواب نہیں مل سکا۔

  7. ایران: ’ہدایات کی خلاف ورزی پر دفاتر ایک ہفتے کے لیے بند کر دیے جائیں گے‘

    ایران: ’ہدایات کی خلاف ورزی پر دفاتر ایک ہفتے کے لیے بند کر دیے جائیں گے‘

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے صدر حسن روحانی نے سنیچر کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے شہری جو چہرے پر ماسک نہیں پہنیں گے انھیں حکومتی اداروں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جبکہ صحت کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے دفاتر ایک ہفتے کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے فراہم کردہ سنیچر کے اعداد و شمار کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 237,878 ہوگئی ہے۔ جبکہ اب تک ملک میں 11,408 اموات ہوئی ہیں اور کووڈ 19 سے ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    حسن روحانی نے کہا ہے کہ اتوار سے سب کے لیے عوامی مقامات میں ماسک پہننا لازم ہوگا۔ بعض شہروں اور صوبوں میں اپریل کے وسط سے سخت اقدامات نافذ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جو ملازمین ماسک نہیں پہنتے انھیں گھر بھیج دیا گیا اور غیر حاضر تصور کیا جائے۔۔۔ ایسے لوگ جو اپنی بیماری کو چھپاتے ہیں وہ دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘

  8. سوئٹزر لینڈ: ’کورونا کی وجہ سے لیے گئے قرضے ادا کرنے میں 15 سال لگ سکتے ہیں‘

    سوئٹزر لینڈ: کورونا کی وجہ سے لیے گئے قرضے ’15 برسوں میں ادا ہوسکیں گے‘

    سوئٹزر لینڈ کے وزیر خزانہ اولی مورر نے سرکاری ریڈیو کو دیے ایک اٹرویو میں کہا ہے کہ ان کا ملک کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران لیے گئے قرضوں کا بوجھ آئندہ دو سے تین سال تک کم کر لے گا اور 15 سال میں ان قرضوں کی ادائیگی مکمل ہو سکے گی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے اتوار کو کہا کہ سوئٹرر لینڈ کی حکومت نے کاروبار کی بحالی اور ملازمین کی فلاح کے لیے بنی سیکمز کے لیے 21.15 ارب ڈالر کا قرضہ لیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر سب ٹھیک رہا تو یہ قرضہ 21.15 ارب ڈالر کا رہے گا ورنہ یہ 35 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔‘

    ملک کے وزیر خزانہ نے متنبہ کیا ہے کہ اب بھی اعداد و شمار کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے اور آئندہ بجٹ میں خسارہ بڑھ سکتا ہے۔

    تاہم انھوں نے کہا ہے کہ عام شہریوں پر ٹیکس بڑھایا نہیں جائے گا۔

  9. دماغ پر کووڈ 19 سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

    دماغ پر کووڈ 19 سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

    فالج، ہذیانی کیفیت، اضطراب، پریشانی، تھکن، اور اس جیسی ایک طویل فہرست۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کووڈ 19 نظام تنفس کی بیماری ہے تو دوبارہ سوچیے۔۔۔

    جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس مختلف نوعیت کی دماغی بیماریوں کا موجب ہے۔

    ایسے کئی لوگ جو اس بیماری سے متاثر ہوئے انھوں نے مجھ سے بعد میں رابطہ کیا اور بتایا کہ انھیں شدید نوعیت کا مرض نہیں ہوا تھا مگر اس کے باوجود کئی دن گزر جانے کے باوجود انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی یادداشت متاثر ہوئی ہے، وہ ہر وقت تھکن محسوس کرتے ہیں اور توجہ ایک جگہ مرکوز کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

    لیکن وہ جو اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ان کے ساتھ ہونے والے واقعات زیادہ باعث پریشانی ہیں۔

  10. آسٹریلیا: میلبورن کی نو رہائشی عمارتوں میں ’سخت لاک ڈاؤن‘

    آسٹریلیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں حکام نے کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تشخیص کے بعد ایک ایسے علاقے میں لوگوں کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے جہاں نو رہائشی عمارتیں موجود ہیں۔ یہاں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔

    ان تین ہزار رہائشیوں کو شختی سے کہا گیا ہے کہ کم از کم پانچ دن تک اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    گذشتہ دنوں میں کم از کم 23 متاثرین کی نشاندہی یہاں دو رہائشی عمارتوں میں ہوئی تھی۔

    ریاست وکٹوریہ میں سنیچر کے روز 108 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ یہاں دوسرا سب سے بڑا یومیہ اضافہ تھا۔

    اب تک آسٹریلیا میں کووڈ 19 سے 104 اموات ہوئی ہیں۔ ملک بھر میں 8362 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔

  11. کاتالونیا، سپین: دو لاکھ کی آبادی پر دوبارہ سے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا

    گد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپین کے شمال مشرقی علاقے کاتالونیا میں علاقائی حکام نے کورونا وائرس متاثرین میں اضافے کی بعد تقریباً دو لاکھ کی آبادی پر دوبارہ سے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔

    شہریوں کو اجازت کے بغیر بارسلونا کے مغرب میں سیجریا کاؤنٹی میں داخل ہونے یا وہاں سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس علاقے میں لیلیڈا شہر بھی شامل ہے۔

    اس اقدام کے نفاذ کے لیے پولیس چوکیوں کا استعمال کیا جائے گا۔ گھروں کے اندر اور باہر 10 سے زیادہ افراد کی ملاقات پر پابندی ہو گی۔

    سپین میں کاتالونیا کا علاقہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر علاقوں میں شامل ہے۔

    sfs

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  12. پرتگال: برطانیہ کی قرنطینہ سے مستثنیٰ ممالک کی فہرست ’مضحکہ خیز‘ ہے

    گشد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پرتگال کے وزیر برائے امور خارجہ کا کہنا ہے کہ پرتگال کو ان ممالک کی فہرست سے خارج کرنا جن کے لیے انگلینڈ واپس آنے پر قرنطینہ کا اطلاق نہیں ہو گا ’مضحکہ خیز‘ ہے۔

    آگسٹو سانٹوس سلوا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پرتگال کو شامل نہ کرنا ’بے وقوفی اور غیر منصفانہ‘ ہے۔

    قرنطینہ سے مستثنیٰ ممالک کی فہرست جمعے کو شائع کی گئی تھی۔

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ چودہ روزہ قرنطینہ کی شرط ان ممالک کے لیے رہے گی جہاں وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

    دیگر ممالک جنھیں اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ان میں امریکہ، چین، مالدیپ اور سویڈن شامل ہیں۔

  13. لاک ڈاؤن میں پاکستانی نوجوانوں کے فلمسازی کے تجربے

    کورونا کی وبا نے جہاں دنیا کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو نشانہ بنایا ہے وہیں تخلیقی ذہن رکھنے والے افراد بھی اِس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔

    یہی وجہ ہے کہ کراچی کے چند نوجوان فلمسازوں نے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران اپنے تجربات کو مختصر دورانیے کہ فلموں کی شکل دے کر آن لائن ریلیز کیا ہے۔ مزید تفصیلات اس ویڈیو میں۔۔

  14. برطانیہ: تین مہینوں کی بندش کے بعد حجام کی دکانیں اگلے تین مہینوں کے لیے ’فلی بُکڈ‘

    گد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشننیو کیسل میں ’کونسیپٹ فار ہئیر‘ کی مالک جوانا برچ اپنی بیٹی کے ہمراہ سیلون کھولنے کا انتظار کر رہیں ہیں

    اینجی منرو نے صبح 5 بجے مغربی مڈلینڈ کے قصبے سٹورپورٹ میں اپنے ہیئر ڈریسنگ سیلون کو دوبارہ کھول لیا ہے۔

    ان کی پہلی گاہگ لیزا کو اپنے بالوں پر خود کیے گئے بہت سارے تجربات کے بعد کسی پروفیشنل کی مدد کی اشد ضرورت تھی۔

    منرو کہتی ہیں کہ پچھلے کچھ مہینے انھوں نے ذہنی اضطراب میں گزارے ہیں۔

    ’یہ بہت مشکل وقت رہا ہے۔۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ ہم دوبارہ کب سیلون کھول سکتے ہیں۔ میں نے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لیے سیلون میں کافی سامان کو اِدھر اُدھر منتقل کردیا ہے۔‘

    منرو کا کہنا تھا کہ ’اگلے تین مہینے وہ فلی بکڈ ہیں یعنی ان کے پاس کوئی اپائنمنٹ نہیں بچی‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’میں ملازمت پیشہ افراد کے بال مفت کاٹوں گی۔‘

    انگلینڈ کے دیگر علاقوں میں بھی حجام بہت مصروف ہیں اور ان کی دکانوں کے باہر لوگوں کی مبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    آئیے آپ کو انگلینڈ میں حجام اور سیلون کھلنے کی کچھ تصاویر دکھاتے ہیں:

    ss

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    fs

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    dg

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  15. پنجاب میں عید الاضحی کے حوالے سے ایس او پیز جاری, مویشی منڈی شہر سے کم از کم دو کلو میٹر دور ہو گی اور ایک گاڑی میں دو افراد سے زائد کو آنے کو اجازت نہیں ہو گی

    punjab

    ،تصویر کا ذریعہCattle market administration

    پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر نے عید الاضحی پر مویشی منڈیاں لگانے کے حوالے سے تفصیلی ایس او پیز جاری کر دیے ہیں۔

    محکمے کے مطابق مویشی منڈیاں شہر سے کم از کم دو کلو میٹر دور ایسے مقامات پر لگائی جائیں گی جہاں سماجی فاصلہ ممکن ہو۔

    محکمے کے سیکریٹری کیپٹن (ر) محمد عثمان نے کہا کہ مویشی باڑے، انتظامی دفاتر اور میڈیکل کیمپ کھلے اور ہوا دار ہوں گے اور داخلی اور خارجی راستے الگ الگ بنائے جائیں گے جہاں صرف محدود داخلے کی اجازت ہو گی۔

    اس کے علاوہ ایس او پیز کے مطابق پارکنگ کھلی جگہ، اور ایک گاڑی میں دو افراد سے زائد کو آنے کو اجازت نہیں ہو گی اور نہ ہی بچے، بزرگوں اوربیمار افراد کو داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

    کیپٹن (ر) محمد عثمان نے مزید کہا کہ ماسک کے بغیر مویشی منڈی میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ جانوروں سے کورونا وائرس پھیلنے کی تصدیق نہیں ہوئی تاہم بیمار جانوروں کو فوراً الگ کر دیا جائے گا۔

    انھوں نے درخواست کی کہ گاہک حضرات ہلکے رنگ کے کپڑے پہن کر منڈی جائیں تاکہ جوئیں فوراً نظر آ سکیں۔

    سیکریٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر نے کہا کہ عوامی آگاہی کے پیغامات جگہ جگہ نصب کیے جائیں گے۔

  16. انگلینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی، لیکن باقی برطانیہ کا کیا ہو گا؟

    گدش

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    اگرچہ آج سے انگلینڈ کے شہری ایک پب میں بیٹھ کر پنٹ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، لیکن برطانیہ کے دیگر مقامات پر لاک ڈاؤن کی صورتحال کچھ مختلف ہے۔

    شمالی آئرلینڈ میں پب اور ریستوراں جمعے کو دوبارہ کھل گئے تھے۔

    سکاٹ لینڈ میں بیئر گارڈنز اور آؤٹ ڈور ریستورانوں کو 6 جولائی سے دوبارہ کھولنے کی اجازت ہوگی اور ریستوران کے اندرونی حصوں کو 15 جولائی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ویلش کی حکومت نے مہمان نوازی کے شعبے کومرحلہ وار کھولنے کے بارے میں بات چیت کا وعدہ کیا ہے لیکن ابھی تک کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔

  17. بلوچستان: ایران سے ملحقہ سرحد کو چار مقامات پر کھولنے کی اجازت, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    دد

    پاکستان میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لگائی گئی پابندیوں کو نرم کرنے کے اقدامات کے تحت وفاقی حکومت نے ایرانی سرحد کو مزید چار مقامات سے گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھولنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    جن مقامات سے سرحد کو کھولنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں ان میں گبد، مند، کٹا گر اور چیدگی شامل ہیں۔

    وفاقی وزارت داخلہ کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ان مقامات پر سرحد کو پانچ جولائی سے کھول دیا جائے گا۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق ان چاروں مقامات سے سرحد صرف ایکسپورٹ اور امپورٹ کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے لیے صبح سے شام تک کھلی رہے گی تاہم یہ اجازت کورونا سے متعلق ایس او پیز پر سختی کے ساتھ عملدرآمد سے مشروط ہے۔

    واضح رہے کہ ضلع قلعہ عبداللہ میں چمن اور ضلع چاغی میں تفتان کو امپورٹ اور ایکسپورٹ کی گاڑیوں کو پہلے ہی کھول دیا گیا تھا۔

    بلوچستان کی افغانستان کے ساتھ 11سوکلومیٹر جبکہ ایران کے ساتھ 9 سو کلومیٹر سے زائد طویل سرحدیں ملحق ہیں۔

    افغانستان کے ساتھ بلوچستان کے چھ جبکہ ایران کے ساتھ پانچ اضلاع کی سرحدیں ملحق ہیں اور ان میں چاغی واحد ضلع ہے جس کی سرحدیں دونوں ممالک سے متصل ہیں۔

    ان اضلاع میں لوگوں کی معاش اور روزگار کا انحصار زراعت اور لائیو اسٹاک یا سرحدی تجارت پر ہے۔

    افغانستان کے برعکس ایران سے متصل علاقوں میں رہنے والوں کا کھانے پینے کی بہت ساری اشیا کے لیے انحصار بھی ایران پر ہے اور سرحدوں کی بندش کے بعد انھیں شدید مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اگرچہ ان ممالک سے ملحقہ سرحدوں کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے تو کھول دیا گیا ہے لیکن تاجر اور محنت مزدوری کرنے والے افراد جو روزانہ کی بنیاد پر جاتے اور واپس آتے تھے، ان کی آمد و رفت پر تاحال پابندی ہے۔

    ان پابندیوں کے خلاف افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں مقامی تاجر اور محنت مزدوری کرنے والے افراد نہ صرف ایک ماہ سے احتجاج پر ہیں بلکہ انھوں نے ایک ہفتے سے دونوں ممالک کے درمیان شاہراہ کو بھی بند کر رکھا ہے۔

    چمن کے مقامی تاجر رہنما صادق اچکزئی کے مطابق سرحدی اضلاع میں حکومت نے اب تک روزگار اور معاش کے دیگر ذرائع فراہم نہیں کیے جس کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار سرحدی تجارت پر ہے۔

    ءدکگءد

    ،تصویر کا ذریعہGovt. of Balochistan

    جبکہ سرکاری حکام چمن سے روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کی آمد ورفت پر پابندی کے حوالے سے کورونا کے علاوہ دیگر کئی جواز پیش کرتے ہیں۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بریفنگ کے دوران کسٹمز اور سیکورٹی سے متعلق اداروں کے حکام نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق چمن سرحد سے روزانہ بارہ سے پندرہ ہزار افراد دونوں اطراف سے سرحد عبور کرتے ہیں جن میں محنت مزدوری کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

    اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان جانے والی اشیا افغانستان میں اتاری جاتی ہیں جن میں سے بیشتر اشیا ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر واپس پاکستان لائی جاتی ہیں۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سے ملکی خزانے کو ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان پہنچتا ہے جبکہ سمگلنگ اور غیرقانونی آمدورفت کی آڑ میں غیر ریاستی عناصر کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے جس سے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں امن وامان اور دہشت گردی کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

    داد
    xvx
  18. کورونا وائرس: برازیل میں صحت کے نگراں ادارے نے چینی ویکسین کے ٹرائل کی اجازت دے دی

    brazil

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برازیل میں صحت کے نگراں ادارے انویسا نے ملک میں چین میں بنائی گئی کووڈ 19 کی ویکسین کے ٹرائل کی اجازت دے دی ہے۔

    برازیل اور چینی دوا ساز کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق نہ صرف ٹرائل کے لیے ویکسین دی جائے گی بلکہ کامیابی کی صورت میں ٹیکنالوجی کا تبادلہ بھی کیا جائے گا تاکہ مقامی طور پر ویکسین تیار کی جا سکے۔

    جون 29 کو برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو کے گورنر جواؤو ڈوریا نے بتایا کہ نو ہزار سے زیادہ رضا کار اس دوا کے ٹرائل کے لیے خود کو نامزد کر چکے ہیں۔

    برازیل کی چھ ریاستوں میں یہ ٹرائل کیے جائیں گے۔

  19. برطانیہ میں تین مہینوں بعد شراب خانے، ریستوران اور حجام کی دکانیں کھل گئیں

    تعتع

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سنیچر کے روز برطانیہ نے معمول کی زندگی کی بحالی کی طرف سب سے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے آخرکار تین مہینوں بعد شہریوں کو پب میں شراب پینے، بال کٹوانے اور ریستوران میں کھانا کھانے کی اجازت دے دی ہے۔

    وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور کاروباری اداروں کی مدد کے لیے معاشرتی دوری کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ کورونا وائرس کی دوسری لہر سے بچا جا سکے۔

    اپنے پیغام میں جانسن کا کہنا تھا کہ ’موسمِ گرما سے محفوظ طریقے سے لطف اندوز ہوں‘ اور ایسا کچھ نہ کریں جس سے کورونا وائرس پر قابو پانے والی پیشرفت کو نقصان پہنچے۔

    fsfs

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  20. کورونا وائرس: کیا کووڈ 19 کی دوسری لہر آ سکتی ہے؟

    جہاں دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عائد پابندیوں میں نرمی ہو رہی ہے وہیں اس امر پر بھی توجہ مرکوز ہے کہ اس وبا کی دوسری لہر سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔