قازقستان میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ، پنجاب میں 646 نئے متاثرین، 13 ہلاکتیں

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 14 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 31 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ قازقستان میں کورونا کے متاثرین میں اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن کے میئر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے دو ہفتوں میں ہسپتالوں میں بستر کم پڑ سکتے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. کورونا وائرس: پنجاب میں 761 نئے مریض، 35 ہلاکتیں

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گذشتہ روز 761 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 35 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    اب تک صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 76262 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتیں1762 ہو چکی ہیں۔

    اب تک صوبے میں صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 27488 ہو چکی ہے۔

  2. مودی کے ایک ’ارب ڈالر‘ کا کووڈ۔19 فنڈ تنقید کی زد میں, گیتا پانڈے، بی بی سی نیوز، دلی

    modi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کے کووڈ۔19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنائے گئے فنڈ پر تنازع پیدا ہو گیا ہے اور اس کی شفافیت پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

    27 مارچ کو جب ملک بھر میں لگے ہوئے لاک ڈاؤن میں ابھی چند ہی روز ہوئے تھے، نریندر مودی نے پرائم منسٹر سیٹیزن ایسسٹنس اینڈ ریلیف ان ایمرجنسی سچویشنز فنڈ قائم کیا تھا، جسے دی پی ایم کیئرز فنڈ بھی کہا جاتا ہے۔

    اس کے ایک دن بعد نریندر مودی نے سبھی انڈینز سے اس فنڈ میں حصہ ڈالنے کو کہا، اور صنعت کاروں، مشہور شخصیات، کمپنیوں اور عام عوام نے اس میں دل کھول کے حصہ ڈالا۔ رپورٹس کے مطابق ایک ہفتے کے اندر ہی اس میں 858 ملین ڈالر (85 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) اکٹھے ہو گئے۔ خیال ہے کہ یہ فنڈ اب 100 ارب انڈین روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔

    لیکن جب سے یہ فنڈ قائم ہوا ہے، حکومت یہ بتانے سے قاصر رہی ہے کہ اصل میں اس میں کتنے پیسے اکٹھے ہوئے، اس کا انتظام کس طرح چلایا جاتا ہے اور اسے کس طرح استعال کیا جا رہا ہے۔ اب حزبِ اختلاف کے سیاستدان، آزاد کارکنان اور صحافی سوال کر رہے ہیں کہ کیا حکومت کچھ چھپا رہی ہے۔

  3. کورونا وائرس: بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے!

    کورونا وائرس سے متعلق بی بی سی اردو کے خصوصی لائیو پیج میں ایک بار پھر خوش آمدید۔

    یہاں آپ اس عالمی وبا سے متعلق پاکستان سمیت دنیا بھر سے آنے والی تمام خبریں اور تجزیے پڑھ سکتے ہیں۔

  4. کورونا ٹیلی تھون: وزیر اعظم کی احساس ٹرانسمیشن میں مولانا طارق جمیل اور جاوید میانداد کے بیانات پر سوشل میڈیا پر بحث