قازقستان میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ، پنجاب میں 646 نئے متاثرین، 13 ہلاکتیں
دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 14 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 31 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ قازقستان میں کورونا کے متاثرین میں اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن کے میئر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے دو ہفتوں میں ہسپتالوں میں بستر کم پڑ سکتے ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, سندھ میں کورونا کے متاثرین 90721 ہو گئے اور ہلاکتیں 1459
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس گذشتہ 24 گھنٹوں مزید 1496 نئے کیسز سامنے آئے۔
سندھ میں ابتک 481050 کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے ہیںصوبہ بھر میں 90721 کورونا وائرس کے کیسز سامنے آچکے ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 22 مریض ہلاک ہوئے اور صوبے میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد 1459 ہوگئی ہے۔
اس وقت 38354 مریض زیرعلاج ہیں 36452 گھروں اور 298 آئسولیشن سینٹرز پر ہیں۔ اس وقت 1604 مریض مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں جبکہ 653 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ آج کورونا متاثرہ 104 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔
آج 982 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو چلے گئےجس کے بعد اب تک مجموعی طور پر 50908 مریض صحت یاب ہوچکے ہیںۓ۔
وزیراعلیٰ سندھ نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
اسرائیل اور غربِ اردن میں کووڈ۔19 کے متاثرین میں اچانک اضافہ, ٹام بیٹمین، بی بی سی کے مشرقے وسطیٰ کے نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہEPA
اسرائیل میں اپریل کے بعد سے متاثرین کی تعداد بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، جبکہ فلسطینی حکام نے غربِ اردن میں دوبارہ مکمل لاک ڈاؤن لگا دیا ہے۔
غربِ اردن میں شہروں کے درمیان نقل و حرکت پر بہت زیادہ پابندیاں لگائی گئی ہیں، جبکہ زیادہ تر دوکانیں پانچ دن تک بند رہیں گی۔ جمعرات کو کورونا وائرس کے تقریباً 70 نئے متاثرین رپورٹ ہوئے۔ 11 افراد کا علاج انتہائی نگہداشت کے یونٹوں میں ہو رہا ہے اور خدشہ ہے کہ پہلے سے کمزور صحت کے نظام کے لیے اسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
دریں اثنا اسرائیل میں کورونا وائرس کے مریضوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھا گیا اور 24 گھنٹوں میں مزید 1100 متاثرین سامنے آئے ہیں۔ گھروں کے اندر لوگوں کے ملنے پر نئی پابندیوں کے علاوہ لود اور اشدود شہروں کے کچھ حصوں میں مقامی طور پر لاک ڈاؤن بھی لگائے گئے ہیں۔
پشاور میں کورونا کے مریضوں کے لیے ہستال قائم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ کورونا کے مریضوں کے لیے نشتر آباد میں بنائے گیے ہسپتال میں تمام جدید سہولیات میسر ہیں۔
ان کے بقول اس سٹیٹ آف آرٹ ہسپتال کا افتتاح وزیراعلیٰ محمود خان عنقریب کرین گے۔
ابتدائی مرحلے میں یہ ہسپتال 58 بیڈز پر مشتمل ہے جس میں 17ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ بیڈز اور 5 آئی سی یو بیڈز ہیں۔ تمام بیڈز کے ساتھ آکسیجن کی سہولت فراہم ہے۔
اگلے مرحلے میں بستروں کی تعداد 110تک بڑھائی جائے گی۔ ہسپتال میں ماہر پلمونالوجسٹ, پتھالوجسٹ,میڈیکل سپیشلسٹ, سائیکولوجسٹ سمیت 105 افراد پر مشتمل عملہ تعینات ہو گا۔
اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ یہاں جدید سہولیات سے آراستہ تشخیصی لیبارٹری بھی ہسپتال میں موجود ہوگی جہاں صوبائی حکومت 15000ٹسٹنگ کٹس فراہم کرے گی۔
نشتر آباد میں موجود اس ہسپتال کو محکمہ صحت نے انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی, یورپئین سول پروٹیکشن اینڈ ہیومنیٹیرین ایڈ اور (MERF) نامی اداروں کے تعاون سے تیار کیا ہے۔
صوبئی مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صوبے کے ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے ساڑھے 5 ہزار بستر مخصوص کیے گئے ہیں۔ 1375 بیڈز کے ساتھ آکسیجن کی سہولت موجود ہے۔ ایچ ڈی یو اور آئی سی یو بیڈز کی تعداد اس ماہ کے اختتام تک مزید بڑھائی جائے گی۔
کورونا وائرس سے جڑی اصطلاحات کے معنی کیا ہیں؟
کورونا وائرس کی عالمی وبا نے ہماری روزمرہ کی زندگی میں کئی نئے الفاظ اور اصطلاحات متعارف کرائی ہیں، چاہے بات قرنطینہ، وائرس، مدافعت یا سماجی فاصلے کی ہو۔ لیکن آخر ان سب اصطلاحات کا مطلب کیا ہے؟
دہلی میں کورونا کے مریضوں کے لیے پہلا پلازمہ بینک قائم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں کورونا کے مریضوں کے علاج کے
لیے پہلا پلازمہ بینک قائم کیا گیا ہے۔ دہلی کی حکومت کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے پلازمہ
تھراپی پر بہت انحصار کر رہی ہے اور اس کے لیے جمعرات کو پہلے پلازمہ بینک کا
افتتاح کیا گیا۔
اس بینک کے قیام سے مریضوں کو کورونا سے صحت یاب ہونے
والے افراد کے خون کا پلازمہ آسانی سے دستیاب ہونے کی امید ہے۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند اگروال نے مقامی میڈیا سے بات
کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام کو اس سنگین صورتحال میں صحت مند افراد کا پلازمہ تلاش
کرنے میں بہت مشکل کا سامنا تھا۔ لہذا پلازمہ کے حصول کو آسان بنانے کے لیے اس
بینک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔‘
اس موقع پر انھوں نے عوام سے اپیل بھی کی کہ جو کوئی
بھی اس مرض سے صحت یاب ہو چکا ہے اس بینک میں اپنے خون کے پلازمے کا عطیہ ضرور
کرے۔
تاہم پلازمہ سے کورونا کے مریضوں کا علاج اب بھی انڈیا میں
تجرباتی مراحل میں ہے اور محض چند ہسپتالوں کو اس طریقہ علاج کی اجازت دی گئی ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہلی میں 2000 کورونا متاثرین کی
تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد شہر میں کل تعداد 90 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ جبکہ انڈیا میں کل 625000 افراد
اس وائرس سے متاثر ہیں جبکہ ملک بھر میں کورونا کے باعث کل ہلاکتیں 18213 ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں آن لائن قربانی کو فروغ دینے کا منصوبہ
،تصویر کا ذریعہCattle Market Administration
ڈپٹی کمشنراسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس
کے پیش نظر اسلام آباد میں عید الاضحیٰ پراس بار آن لائن قربانی کو فروغ دے رہے ہیں۔
بی بی سی سے کی نامہ نگار آسیہ انصرسے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مختلف
آن لائن کمپنیوں سے رابطے کیے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ وہ شہریوں سے قربانی کے جانور
کے لیے آرڈرز لیں اور اجتماعی قربانی کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی سوشل میڈیا پر ضلعی انتظامیہ آن لائن
قربانی کو فروغ دینے کے لیے آگاہی مہم چلانے جا رہی ہے تاکہ ہم کورونا کے وبا کے دوران زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہ کر کام انجام
دے سکیں۔
ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق دوسرے شہروں کے برعکس
اسلام آباد میں ابھی تک اجتماعی قربانی کے لیے جگہ تو نہیں ہے مگر ایک عارضی سلاٹر ہاؤس
بنایا جائے گا جہاں شہری وبا کے دوران فون پر آن لائن جانور کا آ رڈر کریں گے اور اجتماعی
قربانی کے بعد وہی سے گوشت وصول کر سکیں
گے۔
حمزہ شفقات کے مطابق اجتماعی قربانی کا ہرگز یہ مطلب نہ سمجھا
جائے کہ لوگ اس دوران مجمع کی صورت میں اکھٹا ہو کر قربانی کریں بلکہ اجتماعی قربانی
کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اکھٹا ہونے سے روکا جائے۔
حمزہ شفقات نے مزید بتایا کہ انتظامیہ کا یہ پلان بھی ہے کہ یونین کونسلز کی سطح پر بھی جو چھوٹی چھوٹی مویشی
منڈیاں لگانا چاہیں وہ بھی ایس او پیز کے ساتھ اجتماعی چھوٹی منڈی لگا سکتے ہیں۔
حمزہ شفقات کے مطابق اسلام آباد میں عید الاضحیٰ پرقربانی اور
مویشی منڈی سے متعلق پورا پلان تیار کر لیا گیا ہے جس کے مطابق عید سے پندرہ دن پہلے
مویشی منڈی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
شہر کی مرکزی مویشی منڈی اسلام آباد شہرسے باہر سیکٹر آئی 12 کے قریب لگائی جائے گی۔ اس مرکزی مویشی منڈی میں ویٹرنری ڈاکٹر تعینات کیا جائے گا۔
اسلام آباد انتظامیہ سی ڈی اے اورمیٹروپولیٹن
کارپوریشن مل کر یہ سارا انتظام دیکھیں گے۔
عید کی نماز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نماز کے لیے عید
الفطر کی طرز کا ہی پلان ہے کہ زیادہ سے زیادہ کھلی جگہ پر انتظامات ہوں اور وقفہ کے
ساتھ ہوں تاکہ لوگ کچھ وقفے سے دوسری جماعت میں شامل ہو کر نماز ادا کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ عید کی نماز پر نہیں بلکہ عید کے
بعد عوام کی جانب سے میل ملاقاتوں کا ہے۔ اس سے روکنے کے لیے آگاہی کی ضرورت ہے کیونکہ
انتظامیہ یا پولیس لوگوں کو گھروں پر جا کر ملاقات سے روکنے سے قاصر ہے اس کے لیے لوگوں
کو خود ذمہ دار شہری کا ثبوت دینا ہوگا۔
بریکنگ, ایران میں 2566 نئے متاثرین، 154 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران میں تین جولائی کو کورونا کے 2566 نئے متاثرین
سامنے آئے ہیں جبکہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 154 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
ایران کی وزارت
صحت کی ترجمان سیما سعادت لاری نے ملک میں 2566 نئے متاثرین کی تصدیق کی جس کے بعد
ملک میں کورونا کے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 235429 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کی
ترجمان نے ٹی وی پر براہ راست پریس کانفرنس کرتے ہوئے گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید
154 افراد کی ہلاکت کا بتاتے ہوئے ملک میں کل 11260 اموات کی تصدیق بھی کی۔
انھوں نے بتایا
کہ ملک میں کورونا کے مرض سے صحت یاب ہونے والوں کی کل تعداد 196446 ہے جبکہ 3123
افراد اب بھی تشویشناک حالت میں زیرعلاج ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج کے باعث مریضوں کو مشکلات, ایم اے جرال، صحافی
،تصویر کا ذریعہYDA AJK
،تصویر کا کیپشنوادی نیلم میں ضلعی ہیڈ کواٹر ہسپتال کے باہر ینگ ڈاکٹرز احتجاج کر رہے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیرمیں پولیس کی جانب سے ینگ ڈاکٹرز کی گرفتاریوں کے خلاف ریاست بھرمیں
نوجوان ڈاکٹرز کا میڈیکل سروسز چھوڑ کر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عثمان محبوب نے
بی بی سی کو بتایا کہ ’رات گئے پولیس نے مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی کے سامنے جاری
ہمارے پرامن دھرنے پر دھاوا بولا اور ڈاکٹرز کو تشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کر لیا
جس کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے ریاست بھر کے تمام ہسپتالوں کی او پی ڈیز، آئسولیشن وارڈز
و ہسپتالوں سمیت قرنطینہ سنٹرز میں احتجاجاً میڈیکل سروسز دینا بند کر دی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت
نے مذاکرات کے بجائے جبر و تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے جس بنا پر موجودہ صورتحال
میں مریضوں کی مشکلات کا ذمہ دار بھی وہ خود ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اس وقت تک اپنا یہ احتجاج جاری رکھیں گے
جب تک ہمارے گرفتار ڈاکٹرز پر درج جھوٹے مقدمات ختم کر کے انھیں رہا نہیں کیا جاتا۔‘
،تصویر کا ذریعہYDA AJK
دوسری جانب اے ایس پی مظفرآباد خاورعلی شوکت نے بی بی سی کو بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز نے قانون ساز اسمبلی کے سامنے مرکزی شاہراہ کو بند کر رکھا تھا جو دو اضلاع کو دارالحکومت مظفرآباد سے ملانے کے علاوہ راولپنڈی سے ملانے والی واحد شاہراہ ہے اور اس کے بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا جس بنا پراسے کلیر کرنا ضروری تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ گرفتاریوں سے قبل ینگ ڈاکٹرزسے متعدد بار مذاکرات بھی کیے گئے جو ناکام ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز کی مرکزی قیادت سمیت 23 ڈاکٹرز کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ہیلتھ ایمرجنسی کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ تاہم انھوں نے کسی بھی ڈاکٹر یا طبی عملے پر تشدد کرنے کی تردید کی ہے۔
آسٹریا میں کورونا کے کیسز میں دوبارہ اضافہ
،تصویر کا ذریعہAFP
آسٹریا میں جون کے ماہ کے دوران کورونا متاثرین کی تعداد
میں کمی کے بعد ایک مرتبہ دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ملک میں اس وقت کورونا کے مریضوں کی تعداد 787 ہے جو ہفتہ
کے اختتام سے قبل 470
تھی۔
آسٹریا کے بالائی اضلاع میں متعدد سکول بند ہیں اور وبا کے
دوبارہ زور پکڑنے اور ایک کلیسا میں چند کیسز سامنے آنے کے بعد سے تقریباً 1400
افراد قرنطینہ میں ہیں۔ بالائی آسٹریا کے صوبے میں اس وقت 229 کورونا کے
مریض ہیں جن میں سے 99 افراد کا تعلق گرجا گھر سے ہے۔
بلوچستان حکومت نے مویشی منڈیوں کے متعلق ضابطہ کار جاری کر دیا
پاکستان
کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے عیدالضحیٰ کے پیش نظر مویشی منڈیوں کے ضابطہ کار کا
اعلان کر دیا ہے۔
ریڈیو
پاکستان کے مطابق صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے
کہ کوئٹہ میں لگنے والی تمام مویشی منڈیوں کو شہر کے مشرقی اور مغربی بائی پاس پر
قائم کیا جائے گا۔
مویشی
منڈیوں میں بچوں اور بزرگوں کے داخلے پر پابندی ہو گی جبکہ صوبائی محکمہ قدرتی آفات
کا عملہ منڈیوں میں آنے والے بیوپاریوں اور گاہکوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے
خلاف حفاظتی سامان مہیا کرے گا۔
مویشی
منڈیوں میں داخلے کے لیے ماسک اور دستانوں کا استعمال لازمی ہو گا اور خلاف ورزی
کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
جنوبی کوریا: دو ہفتوں کے دوران متاثرین کی یومیہ تعداد میں سب سے بڑا اضافہ
،تصویر کا ذریعہAFP
جنوبی کوریا میں گذشتہ
دو ہفتوں کے دوران کووڈ 19 متاثرین کی یومیہ تعداد میں سب بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 63
افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی جن میں سے 52 متاثرین مقامی منتقلی کے تھے۔
ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد
تقریباً 13000 ہو گئی ہے۔
دارالحکومت سیول کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی کورونا وائرس کے متاثرین میں
مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس کے بعد ملک میں وبا کے بڑھنے کے رحجان کے
متعلق خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
چین میں وبا کے پھیلاؤ کے بعد سے جنوبی کوریا اس وبا کا
پہلا بڑا مرکز بنا تھا تاہم گذشتہ چند ماہ کے دوران حکام نے وبا پر قابو پا لیا تھا اور مئی کے آخر سے ملک میں کم تعداد میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔
البتہ اب ایک بار پھر متاثرین کی بڑھتی تعداد پر ماہرین کا
کہنا ہے کہ ملک وبا کی دوسری لہر کی جانب بڑھ رہا ہے۔
منیلا کی رنگی برنگی جیپنی بسیں دوبارہ سڑکوں پر رواں دواں
،تصویر کا ذریعہEPA
فلپائن کی رنگ برنگی چھوٹی جیپنی بسیں واپس سڑکوں پر آ گئی
ہیں اور انھیں منیلا شہر کے گرد چکر لگاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
ان چھوٹی بسوں میں سماجی دوری کے حفاظتی اقدامات کے لیے پلاسٹک شیٹس بھی لگائی گئی ہیں۔
حکومت کے قوانین کے مطابق
ابھی صرف رجسٹرڈ بسوں کو ہی سڑکوں پر آنے کی اجازت دی گئی ہے اور وہ محدود روٹس
پر ہی چل سکیں گی۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہEPA
روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 6718 متاثرین، 176 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہEPA
روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے
دوران 6718 نئے متاثرین میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ ملک میں 176
افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
دارالحکومت ماسکو
میں کورونا سے متعلق قائم حکومتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق
مسلسل آٹھویں روز ملک میں سات ہزار سے کم متاثرین میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ماسکو شہر اور
ماسکو ریجن میں بالترتیب 659 اور 298 متاثرین میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے قائم کردہ
کورونا کے صدر دفتر کے مطابق ملک میں متاثرین کی کل تعداد 667883 ہے جبکہ مجموعی طور پر 9859 اموات ہو چکی ہیں۔
ملک میں 437893 افراد کورونا سے صحت یاب ہوئے ہیں۔
پشاور میں ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر لنڈے سڑک بازار سِیل
پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے کورونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر مرتب
کردہ ضابطہ اخلاق کی بار بار خلاف ورزی اور ماسک استعمال نہ کرنے سمیت بازاروں میں رش لگانے
کے باعث پشاور کی لنڈے سڑک بازار کو سیل کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور کے مطابق لنڈے سڑک بازار چارسدہ روڈ کے تاجروں
کو متعدد بار ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ضابطہ اخلاق پر عمل کریں لیکن ان کی جانب سے
اس کی خلاف ورزی کے باعث یہ اقدام کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری احکامات میں تاجروں اور عوام سے
بازاروں میں حکومتی ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرنے کے لیے کہا گیا ہے بصورت دیگر خلاف ورزی
پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
بریکنگ, انگلینڈ نے 50 ممالک کے شہریوں کو قرنطینہ کی شرط سے مستثنیٰ قرار دے دیا
،تصویر کا ذریعہReu
برطانیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ گرانٹ شیپس کا کہنا ہے کہ فرانس،
جرمنی، اٹلی اور سپین سمیت 50 ممالک کے شہری 10 جولائی سے انگلینڈ کی 14 روزہ
قرنطینہ کی شرط سے مستثنیٰ ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک کی مکمل فہرست آج جاری کی جائے
گی۔
بی بی سی بریک فاسٹ
سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان ممالک سے انگلینڈ کا سفر کرنے والے سیاحوں
کو 14 دن کے لیے قرنطینہ نہیں کرنا ہوگا۔
تاہم یہ اعلان اس
بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ یہ ممالک بھی انگلینڈ کو اس شرط سے مستثنیٰ قرار دیں لیکن اس فہرست میں بیشتر ممالک کی
جانب سے انگلینڈ کے سیاحوں کو ان ممالک میں داخلے کے وقت 14 دن قرنطینہ میں رہنے
کی شرط کا سامنا نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا
کہ نیوزی لینڈ اور ایسے ممالک جہاں کورونا کے بہت کم متاثرین موجود ہیں
انگلینڈ پر قرنطینہ کی پابندی لگا سکتے
ہیں۔
ان کے اس اعلان
کے بعد سیاحت کی صنعت نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حالیہ
صورتحال میں ’بہت بڑا ریلیف‘ ہے اور اب وہ موسم گرما کے دوران سیاحوں کی چھٹیاں
گزارنے کے متعلق بہتر منصوبہ بندی اور بکنگ کر سکیں گے۔
بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس کے باعث پہلے ڈاکٹر کی ہلاکت, ایم اے جرال، صحافی
،تصویر کا ذریعہM A JARRAL
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے
والے ڈاکٹر محمد اخلاق ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے۔
اس خطے میں کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر کام کرنے والے پہلے ڈاکٹر کی موت پر وزیراعظم راجہ فاروق نے افسوس
کا اظہار کیا۔
میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق کوٹلی کے ضلعی
ہیڈکواٹر ہسپتال میں بطور میڈیکل سپیشلسٹ فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹر محمد اخلاق
14 جون کو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جن کو طبعیت بگڑنے پر پمز ہسپتال اسلام آباد
منقتل کیا گیا جہاں وہ ایک ہفتے سے زیر علاج تھے۔
ان کے مطابق اس خطے کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے ڈاکٹر
محمداخلاق کے بیٹے کو فون کر کے ان سے تعزیت کی اور کورونا کے خلاف جنگ میں
ان کی خدمات کو سراہا ہے۔
محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم کے مطابق اب تک اس خطے میں
کل 92 ہیلتھ کیئر پروفیشنل کورونا وائرس سے
متاثر ہوئے ہیں جن میں 49 ڈاکٹرز شامل ہیں اور ان میں سے 28 لیڈی ڈاکٹر ہیں۔
ان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی سات سٹاف نرسز
اور 36 پیرا میڈیکس اہلکار بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر ندیم کے مطابق اب تک وائرس سے متاثرہ 57 ہیلتھ کیئر پروفشنل
صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جن میں 32 ڈاکٹرز تین سٹاف نرسز اور 22 پیرا میڈیکس شامل ہیں۔
برطانیہ میں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز کی تصویری جھلکیاں
،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانیہ میں کورونا وائرس سے متعلق
پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں تاکہ ملک میں مزید کاروبار دوبارہ کھولے جا سکیں۔
شمالی آئرلینڈ میں ہاسپٹیلٹی انڈسٹری اور سیاحتی مقامات آج
سے اپنے دروازے کھول رہے ہیں جبکہ سنیچر کو
انگلینڈ میں ریستوران ، شراب خانے، ہیئر ڈریسرز اور سنیما گھر دوبارہ کھلیں گے۔
،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ کے وزیر اعظم نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن ختم
ہونے کے بعد ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ مگر ان کاروبار سے منسلک افراد اپنے کاروبار
دوبارہ کھولنے کے لیے کیا تیاری کر رہے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہPA Media
،تصویر کا ذریعہPA Media
،تصویر کا ذریعہPA Media
بریکنگ, کراچی سے ضلع جنوبی کے پانچ بڑے علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن
صوبہ سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ضلع جنوبی کے پانچ بڑے علاقوں میں تین جولائی کی رات 12 بجے سے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کراچی ساؤتھ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان علاقوں میں سول لائنز، آرام باغ، گارڈن، لیاری اور صدر کے علاقے شامل ہیں۔
یہاں تین جولائی کی رات 12 بجے سے 16 جولائی تک لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔
اس کے تحت ان بڑے علاقوں میں ذیلی علاقوں میں رہائشی و تجارت مراکز بھی لاک ڈاؤن کے باعث سیل کیے جائیں گے۔
،تصویر کا ذریعہDC Office
ٹوکیو میں دوبارہ سو سے زائد متاثرین کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہReuters
جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں مسلسل دوسرے روز سو سے زائد
افراد میں کورونا وائرس کے تصدیق کی گئی ہے۔
کورونا کے متاثرین میں ایک مرتبہ پھر اضافے نے ملک کے محکمہ
صحت کے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
جمعے کو ٹوکیو میں 124 افراد میں
کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی جو کہ مئی میں ہنگامی حالت کے خاتمے کے بعد سے یومیہ سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
گورنر کا کہنا ہے کہ آبادیوں، دفاتر اور بزرگ افراد کے مراکز
سمیت وائرس کے متاثرین ہر جگہ رپورٹ ہوئے ہیں۔
جاپان ٹائمز کے
مطابق حالیہ متاثرین میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے جنھوں نے حال ہی میں نائٹ
کلب اور بارز کا دورہ کیا۔
کورونا وائرس: 90 فیصد افراد میں سونگھنے اور ذائقے کے حس واپس آجاتی ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے
متاثر ہونے والے 90 فیصد ایسے افراد میں جن کی
بیماری کے دوران سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہو جاتی ہے وہ ایک ماہ کے دوران مکمل
طور پر بحال ہو جاتی ہے یا اس میں بہتری آتی ہے۔
اس تحقیق کے مطابق اٹلی میں 49 فیصد مریضوں
میں سونگھنے اور ذائقے کی حس مکمل طور پر
واپس آ گئی جبکہ 40 فیصد نے اس میں بہتری کے بارے میں بتایا۔
جبکہ دس فیصد
افراد کا کہنا تھا کہ ان کی علامات ویسی ہی ہیں یا بگڑ گئی ہیں۔
اس وبا کے پھیلاؤ
کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہزاروں افراد میں طویل المدت طبی
مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
انسان کی سونگھنے
یا ذائقے کی حس میں تبدیلی یا ختم ہو جانے کو کورونا وائرس کی بنیادی علامات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے قومی
ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ علامات محسوس کرے تو فوری طور پر اپنے
اہلخانہ کے ساتھ قرنطینہ اختیار کریں اور ٹیسٹ کروائے۔
بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم
نے 187 اطالوی شہریوں کو اس تحقیق میں شامل کیا جو وائرس سے متاثرہ تھے تاہم ان
میں معمولی علامات تھیں۔