کورونا وائرس: سری لنکا کی مسلمان لاشوں کو جلانے کی مذمت، سپریم کورٹ میں پٹیشن درج

،تصویر کا ذریعہEPA
سری لنکا میں حکام کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں جلانے کی پالیسی پر عمل درآمد کر رہے ہیں تاہم وہاں رہنے والی مسلم برادری کا کہنا ہے کہ اس وبا کو بہانہ بناتے ہوئے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
اسلام میں لاش کو جلانے کی ممانعت ہے اور سری لنکا میں مقیم مسلم برادری کا کہنا ہے کہ حکام ان کے حقوق سلب کرتے ہوئے لاشوں کو جلانے پر زور دے رہے ہیں حالانکہ کورونا وائرس سے وفات پانے والے افراد کی لاشوں کو دفنایا جا سکتا ہے۔
مسلم برادری کا الزام ہے کہ حکام کی جانب سے یہ اقدام اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں ان کے خلاف فرق روا رکھا جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے انھوں نے ملک کی سپریم کورٹ میں پٹیشن بھی جمع کرا دی ہے اور اس کی سماعت 13 جولائی سے شروع ہوگی۔
سری لنکا میں رہنے والے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال اپریل میں ایسٹر کے موقع پر ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد سے انھیں منفی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری طرف سری لنکا میں صحت کے سب سے اہم عہدے دار ڈاکٹر سگاتھ سماراویرا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حکومت کی پالیسی ہے کہ کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے تمام افراد کی لاشوں کو جلایا جائے گا کیونکہ ڈر ہے کہ دفنانے سے زیر زمین پانی میں وائرس مل سکتا ہے۔
ڈاکٹر سماراویرا کا کہنا ہے کہ حکومت صحت کے ماہرین کی تجاویز کے مطابق فیصلے لے رہی ہے اور ان میں کسی مذہب کی مخالفت کا عنصر نہیں ہے۔
’عالمی ادارہ صحت پوری دنیا کے لیے تجاویز دیتا ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ انھیں اپنے مقامی حالات کی پیش نظر ڈھالیں۔‘
















