قازقستان میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ، پنجاب میں 646 نئے متاثرین، 13 ہلاکتیں
دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 14 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 31 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ قازقستان میں کورونا کے متاثرین میں اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن کے میئر نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے دو ہفتوں میں ہسپتالوں میں بستر کم پڑ سکتے ہیں۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس کے دنوں میں ورچوئل شادی
کورونا وائرس کے باعث شادی کی بڑی تقاریب اور اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس وجہ سے کئی جوڑوں کے شادی کرنے کے منصوبے اب ملتوی ہو گئے ہیں۔ لیکن حسان غزالی اور ان کی منگیتر لورنا رسل نے ایک منفرد انداز میں اپنی شادی کا اہتمام کیا۔ انھوں نے اپنی شادی میں مہمانوں کو ورچوئل دعوت دی اور شادی کی پوری تقریب فیس بک پر نشر کی۔ ان کی کہانی مزید جانیے وقاص انور کی اس ویڈیو میں
کورونا وائرس: کووڈ 19 کی بیماری دماغ پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟
جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس مختلف نوعیت کی دماغی بیماریوں کا موجب ہے۔ تفصیلات پڑھیں اس کہانی میں۔۔۔
بریکنگ, فرانس: عدالت حکومت کے کورونا سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفتیش کرے گی, وزیراعظم ایڈوارڈ پلیپ کے استعفیٰ دینے کے چند گھنٹے بعد ہی عدالت نے ان کے خلاف انکوائری کھول دی
،تصویر کا ذریعہAFP
فرانس میں حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا کے حکومتی اقدامات کی عدالتی تفتیش کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس تفتیش کا مرکز تین اعلیٰ ترین اہلکار ہیں جن میں حال ہی میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے وزیراعظم ایڈوارڈ پلیپ بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ ایڈوارڈ پلیپ نے جمعے کے روز اپنی کابینہ میں ردوبدل کے دوران اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
ایڈوارڈ پلیپ کے استعفیٰ دینے کے چند گھنٹے بعد ہی وزارتی بدعملی کی جانچ کرنے والی عدالت لا کورٹ آف دی ریپبلک ایک انکوائری کرے گی جس میں ان کی حکومت کے کووڈ19 ریسپانس کی تفتیش کی جائے گی۔
سابق وزیراعظم کے علاوہ ان تحقیقات میں دو سابق وزرائے صحت کی بھی تفتیش کی جانی ہے۔ فرانس کی حکومت کو کورونا وائڑس کی وبا کے دوران طبی آلات کی عدم دستیابی کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
کورونا وائرس آپ کے دماغ پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟
امریکہ کے سرجن جنرل: ’4 جولائی کو ماسک پہنیں‘
چار جولائی یا آزادی کا دن، امریکہ میں ایک اہم چھٹی کا دن ہے، لیکن اس سال وہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک بھر میں کورونا وائرس کی انفیکشنز بڑھ رہی ہیں۔
امریکہ کے سرجن جنرل نے امریکیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تقریبات کے دوران ماسک ضرور پہنے رہیں۔
انھوں نے ٹوئٹر پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا: ’اس 4 جولائی کی چھٹی کے اختتام ہفتہ پر ایک اہم یاد دہانی: میں اپنا ماسک آپ کی حفاظت کے لیے پہنوں گا۔ آپ اپنا ماسک میری حفاظت کے لیے پہنیں۔‘
لیکن ہر کوئی ان کی نصیحت پر عمل نہیں کر رہا ہو گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماؤنٹ رشمور نینشل میموریل کی طرف جانے والے ہیں جہاں تقریباً 7 ہزار 500 افراد جمع ہوں گے۔ جنوبی ڈاکوٹا کے گورنر نے کہا ہے کہ تقریب پر سماجی دوری کا اطلاق نہیں ہو گا، اور آپ کی مرضی ہے کہ ماسک پہنیں یا نہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید 54 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں میرپور کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق میرپور میں بڑھتے کیسز کے باعث انتظامیہ نے چار سیکٹرز میں مختلف محلوں کو سیل کر دیا ہے جبکہ اس کے علاوہ کورونا وائرس کے پھیلاو کو مزید روکنے کے لیے ایک نجی فیکٹری، اسپتال اور ایک لیبارٹری کو مکمل سیل کر دیا ہے۔
دوسری جانب اس خطے کے وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 15 خواتین سمیت 54 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 1214 ہوگی ہے۔
ان کے مطابق خطے میں ایک دن میں آنے والے متاثرین کی تعداد گزشتہ ماہ کے دوران کسی بھی دن سے زیادہ ہے۔. ان کے مطابق کورونا وائرس سے میرپور میں کوٹلی میں ایک مریض ہلاک ہوا ہے جس کے بعد کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 34 ہوگی ہے۔
ان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں تین پیرامیڈکس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔
صحافی ایم اے جرال کے مطابق وزیر صحت نجیب نقی نے بتایا کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والی 7 خواتین سمیت 16 افراد کا میرپور 2 خواتین سمیت 12 افراد کا کوٹلی، 3 خواتین سمیت 6 افراد کا بھمبر ،5 افراد کا باغ، ایک خاتون سمیت 2 افراد کا ہٹیاں، ایک خاتون سمیت 9 افراد کا مظفرآباد جبکہ ایک خاتون سمیت 3 افراد کا نیلم اور ایک کا راولاکوٹ سے تعلق ہے۔
حکام کے مطابق اب تک اس خطے میں 16934 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
گذشتہ رات مطالبات کے حق میں دھرنا دینے والے23 گرفتار ڈاکٹروں کو اس خطے کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کے احکامات پر رہا کر دیا گیا ہے۔
بریکنگ, کورونا وائرس: گلگت بلتستان میں 12 نئے مریض اور دو ہلاکتیں
محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق گلگت بلستان میں بارہ نئے مریضوں کے ساتھ کل کورونا متاثرین کی تعداد 1536 ہوگئی ہے۔
دو مزید ہلاکتوں کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد 28 تک پہنچ چکی ہے۔
مزید تیرہ افراد صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب افراد کی تعداد 1185 ہوگئی ہے۔
صحت یاب مریضوں کی کل تعداد 1128 ہیں جبکہ زیر علاج مریضوں کی تعداد 335 ہے۔ جس میں 229 مرد اور 106 خواتین شامل ہیں۔
تفریحی کرکٹ کو چار جولائی سے ’اننگز‘ شروع کرنے کی اجازت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ تفریحی کرکٹ کو 11 جولائی سے دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
یہ اعلان انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ اس سے قبل وہ ایل بی سی ریڈیو کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہہ چکے تھے کہ ’گراس روٹ‘ کی سطح پر کرکٹ شروع کرنا محفوط نہیں ہے کیونکہ کہ ’چائے اور ڈریسنگ رومز‘ کے مسائل ہیں۔
تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ کھیل کی واپسی سے پہلے حکومت کھلاڑیوں اور کلبز کی مدد کے لیے ہدایات شائع کرے گی۔
بورس جانسن کے اس بیان پر سابق کرکٹرز نے بہت تقید کی ہے۔
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے کہا کہ بورس جانسن کی وضاحت ’بالکل کچرا‘ ہے، جبکہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ کھیل سے کورونا وائرس لگنے کا رسک بہت کم ہے۔
انگلینڈ کی مردوں کی ٹیم 8 جولائی سے ویسٹ انڈیز کے ساتھ ایک محفوظ ماحول میں تین ٹیسٹوں کی سیریز شروع کر رہی ہے۔
کن ممالک کی انگلینڈ کے ساتھ ’سفری راہداری‘ ہے؟
،تصویر کا ذریعہAFP
جن ممالک کو برطانوی حکومت سفر کے لیے محفوظ سمجھتی ہے ان میں سے کئی تو وہ ہیں جن کے متعلق پتہ تھا کہ وہیں ہوں گے، جیسا کہ ان میں فرانس، اٹلی، سپین اور جرمنی۔
دوسرے وہ ممالک ہیں جن کی کورونا وائرس سے نمٹنے کی صلاحیت کی بڑی تعریف کی گئی تھی۔ ان میں جنوبی کوریا اور ویتنام شامل ہیں۔
لیکن کئی ایسے بھی ہیں جن کے متعلق سن کر ذرا حیرانی ہوتی ہے کہ وہ کیسے شامل ہیں اور ایسے بھی جن کو اس فہرست میں نہیں رکھا گیا۔
ترکی کو یورپی یونین کی محفوظ ممالک کی فہرست میں نہیں رکھا گیا، اور وہاں کی حکومت نے اس پر مایوسی کا اظہار بھی کیا ہے۔ لیکن یہ 10 جولائی سے اس فہرست میں شامل ہے جن کو انگلینڈ میں قرنطینہ سے استثنیٰ حاصل ہے۔
اگرچہ یونان میں کم انفیکشنز دیکھی گئی ہیں لیکن اس بات پہ شک تھا کہ یہ فہرست میں ہو گا کیونکہ اس نے وسط جولائی تک برطانیہ سے براہ راست پروازوں کی منظوری نہیں دی تھی۔
پرتگال میں بھی دوسرے یورپی ممالک کی نسبت کم انفیکشنز رپورٹ ہوئی ہیں اور یہ برطانوی شہریوں کے لیے بغیر قرنطینہ کے کھلا ہے۔ لیکن اسے بڑھتی ہوئی انفیکشنز کی شرح کی وجہ سے ’سفری راہداری‘ نہیں دی گئی۔
دوسرا یورپی ملک جسے شامل نہیں کیا گیا وہ سویڈن ہے۔ اس کی کورونا وائرس کی پابندیوں کے بارے میں اس کا آرام دہ رویہ ہے اور اس کی انفیکشنز کی شرح برطانیہ سے زیادہ بھی ہے۔
امریکہ اور برازیل کے بارے میں پہلے ہی توقع تھی کہ ان کو شامل نہیں کیا جائے گا۔
لیکن چین کو بھی کوئی سفری راہداری نہیں دی گئی، جس میں وہان میں وبا پھوٹنے کے بعد بہت کم متاثرین دیکھے گئے ہیں۔ تاہم انگلینڈ سے مسافر بغیر کسی قرنطینہ کے ہانگ کانگ اورمیکاؤ سفر کر سکیں گے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنانگلینڈ سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد پرتگال جاتی ہے
بریکنگ, بلوچتسان میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 10717 ہو گئی
بلوچستان میں کورونا کے 51 نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد10717ہوگئی ہے۔
کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 122ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 3 جولائی 2020 کو کورونا کے 325 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 51 پازیٹو آئے۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر50478 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے39811 کے نتائج منفی آئے۔
بلوچستان میں مجموعی طوپر پر106797 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔
کورونا وائرس سے اب تک5331 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔
کورونا کے باعث بے روز گار ہونے والے چمن کے مزدوروں کے لیے فوری احساس پروگرام کا مالی پیکج
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا کے باعث بلوچستان کے سرحدی علاقے چمن سے افغان سرحد کی بندش سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں کوئٹہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔
سرحد سے مقامی تاجروں اور محنت مزدوری کرنے والے افراد روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آمد و رفت کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے گزشتہ 29 روز سے احتجاج پر ہیں اور انہوں نے ایک ہفتے سے زائد کے عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان شاہراہ کو بھی بند کیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔
وزیر اعلیٰ کی صدارت میں اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال بھی اس وقت سرحد کی بندش کی ایک بڑی وجہ ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق روزانہ بارہ سے پندرہ ہزار افراد دونوں اطراف سے سرحد عبور کرتے ہیں جن میں محنت مزدوری کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
،تصویر کا ذریعہBASIT ACHAKZAI
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت افغانستان جانے والی اشیا افغانستان میں اتاری جاتی ہیں جن میں سے بیشتر اشیا ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادئیگی کے بغیر واپس پاکستان لائی جاتی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسسے ملکی خزانے کو ٹیکس کی مد میں بھاری نقصان پہنچتا ہے جبکہ سمگلنگ اور غیرقانونی آمدورفت کی آڑ میں غیر ریاستی عناصر کو صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے جس سے کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں امن وامان اور دہشت گردی کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محنت مزدوری کرنے والے چمن کے مقامی افراد کو فوری طورپر حکومت بلوچستان کی جانب سے احساس پروگرام کے تحت مالی پیکج دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر فوری طور پر دوکمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت کی، ایک کمیٹی علاقے میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی جو مقامی تاجروں اور محنت مزدوری کرنے والے افراد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہیں سرحد کی بندش کے محرکات پر اعتماد میں لے گی۔
،تصویر کا ذریعہBASIT ACHAKZAI
،تصویر کا کیپشنمقامی تاجروں اور محنت مزدوری کرنے والے افراد افغانستان آمد و رفت کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے گزشتہ 29 روز سے احتجاج پر ہیں
جبکہ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ایک انتظامی ذیلی کمیٹی فوری طور پر تشکیل دی گئی جس میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں اور ایف سی حکام کے علاوہ چیمبر آف کامرس کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ ذیلی کمیٹی مسئلہ کے مستقل بنیادوں پر حل کے لئے متبادل معاشی سرگرمیوں، بارڈر ٹریڈ کے موثر طریقہ کار، بارڈر مارکیٹوں اور ویئر ہاوسز کے قیام، ایمیگریشن اور کسٹمز کی سہولیات اور دیگر سرحدی امور کی باضابطگی سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔
اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ متبادل معاشی سرگرمیوں کے اقدامات سے چمن اور تفتان میں باقاعدہ اور قانونی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ باقاعدہ اور قانونی تجارت کے فروغ سے نہ صرف ٹیکسز کی مد میں حکومت کو آمدنی ہوگی بلکہ مقامی تاجروں کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کو حاصل اختیارات کے تحت ملکی مفاد میں فیصلے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت سے متعلق امور پر وزیراعظم سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ اس مسئلہ کا فوری اور مستقل بنیادوں پر حل ممکن ہوسکے۔
بریکنگ, خیبر پختوخوا میں مزید 336 کیسز کی تصدیق
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں مزید کورونا وائرس کے 336 کیسز کی تصدیق کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 27506 ہوگئی ہے۔
صوبے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے کے دوران مزید 19 افراد وبا کے ہاتھوں لقمہ اجل بن گے۔
صوبے میں کل ہلاکتیں 1002 ہو چکی ہیں۔
اب تک خیبر پختونخوا میں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 15520 ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
یورپی یونین نے کووڈ۔19 کے لیے ریمڈیسیور کی منظوری دے دی
،تصویر کا ذریعہEPA
یورپی کمیشن نے کووڈ۔19 کے مریضوں کے لیے یورپی یونین میں ریمڈیسیور کی دوا کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔
اس اینٹی وائرل دوا کو پہلے ایبولا کے علاج کے تیار کیا گیا تھا لیکن اب تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہسپتال میں داخل مریضوں کی جلد صحتیابی میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔
ریمڈیسیور امریکہ سمیت کئی ممالک میں پہلے ہی علاج کے لیے منظور کی جا چکی ہے۔ تاہم اس کے متعلق اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا جب امریکہ نے اس ہفتے کے اوائل میں اعلان کیا کہ اس نے امریکی دوا بنانے والی کمپنی گیلیاڈ سے اگلے تین مہینوں تک دوا کی ساری سپلائی خرید لی ہے۔
امریکی صدر کا پاکستان کے لیے 200 وینٹیلیٹرز کا عطیہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکی صدر نے پاکستان کے لیے 200 وینٹیلیٹرز کا عطیہ دیا ہے۔
امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد ایم خان نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ وہ صدر ٹرمپ کا پاکستان کے لیے 200 وینٹیلیٹرز کا عطیہ دیا ہے۔ اور وہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے عوام کا ساتھ دینے پر ان کے پر شکر گزار ہیں۔
ان میں سے اب تک صرف 100 وینٹیلیٹرز پاکستان نے وصول کیے ہیں۔
پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 ایک عالمی وبا ہے جس کا مقابلہ تمام ممالک کو مل کر کرنا ہے۔
چین کا شہر ووہان لاک ڈاؤن سے کیسے نکلا؟
جرمنی: قحبہ خانوں کو کھولنے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہget
،تصویر کا کیپشنجرمنی میں سیکس ورکرز نے قحبہ خانوں کو دوبارہ کھولنے کے حق میں مظاہرہ کیا
برلن میں درجنوں سیکس ورکز نے ایک مظاہرہ کیا جس مں مطالبہ کیا گیا کہ قحبہ خانوں کو بھی دوبارہ کھلنے کی اجازت دی جائے۔
ماسک پہنے اور ہاتھوں میں سیکس ڈولز (سیکس والی گڑیاں) اٹھائے ہوئے گروہ میں شامل اراکین نے جرمنی کی وفاقی کونسل ’بنڈیزریٹ‘ کے سامنے مظاہرہ کیا۔ انھوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی اٹھائے ہوئے تھے۔
ایک پلے کارڈ پر لکھا تھا ’سیکس ورکرز احترام کے مستحق ہیں، چاہے آپ کو ان کا کام اچھا لگے یا نہ، جبکہ ایک اور پر خبردار کیا گیا تھا کہ اگر پابندیاں جاری رہیں تو یہ صنعت غیر قانونی طور پر کام کرنے کے لیے مجبور ہو جائے گی۔
اگرچہ جرمنی کے زیادہ تر لاک ڈاؤن اقدامات کو اٹھا لیا گیا ہے، لیکن جسم فروشی پر، جسے 2002 میں جائز قرار دیا گیا تھا، وائرس میں پھیلاؤ کے ڈر سے مارچ سے پابندی لگی ہوئی ہے۔
لیکن متعدد ہمسایہ ممالک نے جن میں سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور نیدرلینڈز شامل ہیں، پہلے ہی قحبہ خانوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
بیجنگ: ایپ میں مسئلے کی وجہ سے لوگ اپنے دفاتر میں داخل ہو سکے, کیری ایلن، بی بی سی مانیٹرنگ
،تصویر کا ذریعہget
،تصویر کا کیپشنکئی لوگ ایپ میں مسئلے کی وجہ سے اپنے دفاتر کی عمارتوں میں داخل نہ ہو سکے
بیجنگ کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں آج صبح مسائل پیدا ہو گئے جس کی وجہ سے کئی مسافر’رش ہاؤر‘ میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ پکڑ سکے اور نہ ہی دفاتر اور دیگر عمارتوں میں داخل ہو سکے۔
سرکاری چینی براڈکاسٹر سی سی ٹی وی کا کہنا ہے کہ مقامی وقت کے صبح 8:15 اور 10:09 کے درمیان ’بیجنگ ہیلتھ کٹ ایپ‘ جو یوزرز کو، اگر انھیں کووڈ۔19 نہیں ہے تو سبز کوڈ دیتی ہے، موبائل میسینجر وی چیٹ پر کام کرنا بند کر گئی۔
شہر کے آئی ٹی بیورو نے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ وہ اسے اپ گریڈ کریں گے۔
کچھ لوگ ایک متبادل ایپ سروس علی پے کے ذریعے سبز کوڈ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ لیکن دیگر کئی افراد نے سوشل میڈیا سائٹ سینا ویبو پہ پوسٹ کیا کہ عمارتوں کے باہر ان لوگوں کا ہجوم لگا ہوا ہے جو دوکانوں اور دفاتر میں داخل نہیں ہو سکے۔
کئی شہر، بشمول بیجنگ، ان کوڈز کے متعلق بہت سخت ہیں اور یہ عمارتوں میں داخل ہونے کی لازمی شرط ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کورونا سے متاثر
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔
جمعے کی شام ایک ٹویٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا انہیں ہلکا سا بخار محسوس ہوا تو انھوں نے خود کو الگ کر لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے لیکن اللہ کے کرم سے میں خود کو طاقت ور اور توانا محسوس کر رہا ہوں۔ میں اپنے فرائض گھر سے جاری رکھوں گا۔ مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بلغراد میں ایمرجنسی کا اعلان، لیکن پارٹیاں جاری, گئے ڈیلانے، بی بی سی نیوز، بلغراد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہنگامی حالت کا اعلان تو پریشان کن بات ہے، لیکن بلغراد میں تو ابھی مکمل لاک ڈاؤن بھی نہیں لگایا گیا۔
تاہم شہر کے مشہور تیرتے ہوئے نائٹ کلب ’سپلاو‘ کے اوپن ایئر ڈیکس پہ 500 افراد کے لیے پارٹی جاری رہ سکتی ہے۔ دوسری طرف رات 11 بجے کا کرفیو پرانے شہر کے ان رہائیشیوں کے لیے تو اچھی خبر ہے جن کی نیند گرمیوں میں نائٹ لائف کا شور و غل تباہ کر دیتا ہے۔
چھتوں کے نیچے ماسک پہننا لازمی ہے اور اسی طرح ہی سماجی دوری بھی۔ لیکن پھر بھی 100 کے قریب افراد بند جگہوں پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔
بلغراد کے میئر نے کہا ہے کہ شہر کو قرنطینہ کرنا ضروری نہیں۔ لیکن سربیا کے صدر الیگزانڈر ووچچ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلہ ان کے بس میں ہوتا تو وہ دارالحکومت کو ایک ہفتے کے لیے بند کر دیتے۔ انھوں نے کہا کہ نئے متاثرین میں سے بلغراد کے رہائیشیوں کی تعداد تقریباً پانچ میں سے چار ہے۔
حالیہ ہفتوں میں سربیا نے نئی انفیکشنز میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ صرف جمعرات کو 350 نئے متاثرین رپورٹ کیے گئے ہیں۔
خیبر پِختونخوا: 24 جون سے یکم جولائی تک ساڑھے چار ہزار سے افراد بیرون ملک سے لوٹے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ بہتر حکمت عملی اور صحت سہولیات میں اضافے کے باعث کورونا سے شرح اموات بہت حد تک کنٹرول ہوئی ہے۔ جبکہ کورونا سے مریضوں کے صحتیاب ہونے کی شرح بھی 54 فیصد ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی پشاور ایئرپورٹ پر وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ 24 جون سے یکم جولائی تک مختلف ائیر لائنز کی 29 پروازوں کے ذریعے 4 ہزار 822 مسافر باچا خان انٹرنیشنل ائرپورٹ پہنچے ہیں۔
مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ مختلف پروازوں کے ذریعے 20 پاکستانیوں کے میتیں بھی لائی گئیں۔
انھوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر آنے اور جانے والے تمام مسافروں کو تھرمل سکینرز کے ذریعے چیک کیا جاتا ہے۔