آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سندھ کے وزیر برائے کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 62 لاکھ سے زائد ہے جبکہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد اس بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر کچی آبادی مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بچوں کی سکول میں واپسی والدین اور اساتذہ کے لیے کڑا امتحان, ڈین جانسن، بی بی سی نیوز

    بچوں کو واپس سکول بھیجنا ایسا ہے جیسے یہ کہنا کہ ’انتظار کر کے دیکھتے‘ ہیں۔ والدین نہیں چاہتے کہ ان حالات میں بچوں کو سکول واپس بھیجا جائے۔

    برطانیہ میں ایسے سکول لاک ڈاؤن کے باوجود کھلے رہے ہیں جن میں ملازمین کے بچے پڑھتے ہیں یا وہ طبقے جو وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ آج کا مقصد سب سے چھوٹی اور سب سے بڑی عمر کے بچوں کو سکول واپس بھیجنا ہے۔

    تمام سکول اس حالت میں نہیں کہ بچوں کے لیے اپنے دروازے کھول سکیں۔ انگلینڈ میں کئی کونسلز کا کہنا ہے کہ ان کے بچے ابھی سکول جانے کے لیے تیار نہیں۔

    یہ فیصلہ ہیڈ ماسٹر کو کرنا ہے کہ آیا وہ سکول کھولنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ یونینز کے اندازوں کے مطابق اہلیت رکھنے والے صرف نصف طلبہ سکول واپس جائیں گے کیونکہ والدین پریشان ہیں۔

    بچوں کی سکولوں میں واپسی ایک مشکل کام ہے۔

    سکولوں کے لیے نئے انتظامات کیے جانے ہیں، جیسے کلاس رومز کی کمی اور ون وے نظام۔ سماجی فاصلے کی تدابیر پر بھی عمل لازم ہے۔

    اس سلسلے میں بچوں کو سنبھالنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

  2. جنوبی افریقہ: معیشت کی بحالی کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی

    جنوبی افریقہ نے معیشیت کی بحالی کے لیے دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن میں پیر سے نرمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    لوگوں کو کام پر جانے، عبادت، ورزش اور شاپنگ کرنے کی اجازت ہوگی۔ معیشت کی بحالی کے لیے کان کن اور فیکٹری ملازمین اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر سکیں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملک کے صدر کو اس وقت سراہا گیا جب انھوں نے مارچ کے اواخر میں سب سے سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے حکم دیا تھا کہ لوگ اپنے گھروں میں رہیں، کان کن کام پر نہ جائیں اور صنعتیں اپنی پیداوار نصف پر لے جائیں۔ انھوں نے شراب اور سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کی تھی۔

    لیکن اس سے پہلے سے بحران کا شکار ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے اور قومی ادارے کو بجلی کی مسلسل فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    ملک میں اب تک کورونا سے 700 سے کم اموات ہوئی ہیں۔ لیکن اس وائرس کی وجہ سے بے شمار افراد غربت سے متاثر ہوئے ہیں۔

  3. مراد علی شاہ: لوگ ٹیسٹ کروانے میں تعاون نہیں کر رہے, سندھ میں اب روزانہ ’چھ ہزار ٹیسٹ‘ کرنے کی گنجائش

    سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے عالمی ادارہ صحت کے حکام سے ملاقات کی ہے۔

    اس حوالے سے حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کورونا کے روزانہ کی بنیاد پر 6600 ٹیسٹ کی گنجائش کردی ہے۔‘

    انھوں نے بتایا ہے کہ لوگ ٹیسٹ کروانے میں اتنا تعاون نہیں کر رہے ہیں جتنا ہونا چاہیے۔ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملہ محفوظ رہے۔‘

    ’ہمارے ڈاکٹرز ٹھیک رہیں گے تو دوسروں کی زندگی بچا سکیں گے۔ کراچی میں 2 ہسپتالوں میں تشدد ہوا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے انتظامیہ کو واضح ہدایت دی ہے کہ ہسپتالوں میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا ڈاکٹروں کو ہراس کرنا ’براداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

    مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے آج وزیراعظم اجلاس کر رہے ہیں، جس میں اہم فیصلے ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’سندھ حکومت کی کورونا وائرس کے خلاف پالیسی کی ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے تعریف کی ہے۔‘

    ’سندھ بلکہ پورے ملک میں مقامی منتقلی کو روکنا ضروری ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے کراچی میں دو اور دیگر ڈی ایچ کیوز میں ایک ایک ہسپتال قائم کرنے کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں کو آگاہ کیا ہے۔

  4. کووِڈ 19 کا بحران چوہوں کو ’جارحانہ‘ ہونے پر مجبور کر رہا ہے؟

    کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں ریستوران بند ہیں اور لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے اس عمل کے بہت سے نتائج سامنے آ رہے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چوہے کھانے کے نئے ذرائع کی تلاش اور اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے امریکہ کے ایک ادارے ’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول‘ نے متنبہ کیا تھا کہ خوراک کی تلاش میں سرگرم چوہوں کے رویوں میں غیر معمولی جارحانہ رویہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

    اس انتباہ میں بتایا گیا ہے کہ ریستوران بند ہونے کی وجہ سے چوہوں کو دستیاب خوارک میں کمی واقع ہوئی ہے، خاص کر ان علاقوں میں جہاں تجارتی سرگرمیاں زیادہ ہوتی تھیں۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عموماً چوہوں کا دارومدار اس ضائع ہونے والی خوراک اور کچرے پر ہوتا ہے جو تجارتی مراکز سے نکلتا ہے۔

  5. چین نے عالمی ادارہ صحت کی حمایت کی اپیل کردی، ’امریکہ کو پیچھے ہٹنے کی عادت ہے‘

    چین کی وزارت خارجہ نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے پر امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایجنسی کے ساتھ تعاون بڑھانے کی اپیل کی ہے۔

    وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ نے ’اقتدار کی سیاست اور یکطرفہ پن کو ظاہر کر دیا ہے۔‘

    وزارتِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’امریکہ کو پیچھے ہٹنے کی عادت ہے۔‘

    صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ امریکہ، عالمی ادارہ صحت سے تعلقات منقطع کر رہا ہے۔

    انھوں نے عالمی ادارہ صحت پر الزام لگایا کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سلسلے میں بیجنگ کا محاسبہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    صدر کا کہنا تھا کہ ’عالمی ادارہ صحت پر چین کا مکمل کنٹرول ہے۔‘

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروسآدنوم نے وبائی مرض کے متعلق اپنے ردعمل پر نظرثانی کا وعدہ کرتے ہوئے ادارے کی آزادی کا دفاع کیا ہے۔

    یوروپی یونین نے ٹرمپ انتظامیہ سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اور متنبہ کیا ہے کہ اس سے کووڈ 19 کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

  6. اسلام آباد: ’مریض تشویشناک حالت میں دیر سے ہسپتال داخل ہو رہے ہیں‘

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ڈی سی حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ شہر کے پمز ہسپتال میں پہلے صرف چار وینٹیلیٹر تھے لیکن اب اس کی صلاحیت بڑھ گئی ہے اور یہاں 12 وینٹیلیٹر موجود ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ کووڈ 19 سے مقابلے کے لیے 12 بیڈز کو بڑھا کر 24 تک لے جایا گیا ہے جو مکمل طور پر فعال ہیں۔

    یہ صلاحیت قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم ای کی مدد سے بڑھائی گئی ہے۔

    حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ بعض افراد ہسپتال دیر سے داخل ہو رہے ہیں اور تشوتشناک حالت میں انھیں بچانا مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ تب بچنے کی شرح کم ہوتی ہے۔

  7. امریکہ میں مظاہروں کی وجہ سے متاثرین بڑھنے کا خدشہ

    سیاہ فام شخص جارج فلوئیڈ کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد امریکہ بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہے ہے کہ مظاہروں کی وجہ سے کووڈ 19 کے نئے متاثرین بڑھ سکتے ہیں۔

    امریکہ میں کورونا وائرس سے ایک لاکھ چار ہزار افراد کی ہلاکت ہوچکی ہے۔

    لاس اینجلس کے میئر ایرک گارسیٹی نے متنبہ کیا ہے کہ یہ مظاہرے وائرس کا ’سپر سپریڈر‘ بن سکتے ہیں۔ جبکہ ایٹلانٹا کی میئر کیشا لانس نے تجویز پیش کی ہے کہ جو لوگ مظاہروں میں شریک ہو رہے ہیں وہ رواں ہفتے ٹیسٹ کروائیں۔

    نیو یارک کی کونٹیکٹ ٹریسنگ کی حکمت عملی کے سربراہ ڈاکٹر تھیوڈور لانگ نے بھی یہ تجویز پیش کی ہے کہ مظاہرین اپنے ٹیسٹ کروائیں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ جس حد تک ممکن ہو مظاہرے میں شریک افراد ماسک پہنیں، صاف ستھرے ماحول میں رہیں اور ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ رکھیں۔

    نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ویلیمز کا کہنا تھا کہ مظاہرے چونکہ باہر ہو رہے ہیں اس لیے وائرس ہوا میں کم پھیلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی مظاہرین نوجوان ہیں جس کا مطلب ہے کہ وائرس ہونے پر وہ صحتیاب ہوسکتے ہیں۔

    ’وہاں کافی بھاگ دوڑ ہو رہی ہے۔ وہ سانس باہر نکال رہے ہیں اور ایک دوسرے کے قریب سے جلدی جلدی گزر رہے ہیں۔‘

  8. بریکنگ, آرمینیا کے وزیر اعظم میں کووڈ 19 کی تشخیص

    آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پشنیان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    فیس بک پر اپنی ایک ویڈیو میں ان کا کہنا ہے کہ ’مجھ میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ میں نے اس لیے ٹیسٹ کروایا کیونکہ میں صف اول کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔‘

    گذشتہ ہفتے کے دوران جمعے کو آرمینیا میں کووڈ 19 کے نئے متاثرین میں بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ 460 نئے متاثرین کے باوجود وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ملک گیر لاک ڈاؤن کے بارے میں نہیں سوچ رہی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت سماجی دوری اور صفائی کو فروغ دے رہی ہے اور اس حوالے سے صحت کے حکام نے نئے اصول بھی وضح کیے ہیں۔

    ملک میں اب تک کورونا سے متاثرہ نو ہزار افراد کی تشخیص ہوچکی ہے جبکہ 131 اموات پیش آئی ہیں۔

    اس ملک کی آبادی لگ بھگ تین لاکھ ہے۔

  9. تھائی لینڈ: کورونا وائرس کا صرف ایک نیا مریض، مزید کوئی اموات نہیں ہوئیں

    تھائی لینڈ میں پیر کو کورونا وائرس سے متاثرہ صرف ایک نیا مریض رپورٹ ہوا اور کوئی نئی اموات نہیں ہوئیں ہیں۔

    تھائی لینڈ میں اب تک متاثرین کی کل تعداد 3082 جبکہ 57 اموات ہوئی ہیں۔

    حکومت کے کوڈ ایڈمنسٹریشن سنٹر کے ترجمان ، تویسین وسانیوتین نے بتایا کہ یہ نیا انفیکشن قرنطینہ سنٹر سے رپورٹ ہوا۔ مریض نے تقریباً دو ہفتے قبل روس سے تھائی لینڈ کا سفر کیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ پچھلے سات دنوں میں مقامی طور پر منتقلی کا کوئی مریض سامنے نہیں آیا۔

  10. کورونا وائرس: مرغیوں کا فضلہ کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں کیسے استعمال ہو رہا ہے؟

    سویڈین کے ایک قصبے میں مرغیوں کے فضلے کو کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ غیرمعمولی طریقہ کتنا مؤثر ثابت ہو رہا ہے؟دیکھیے ہماری اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔۔۔

  11. شمالی کوریا میں سکول جون سے کھل جائیں گے

    شمالی کوریا کے مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک میں جون کے اوائل سے سکول دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔

    ملک میں سکول اپریل کے اوائل سے کھلنا تھے لیکن چھٹیوں میں مسلسل توسیع کی گئی۔ گنے چنے کالجز اور ہائی سکولز کو اپریل کے وسط میں کھول دیا گیا تھا۔

    شمالی کوریا کے سرکاری ریڈیو کے مطابق سکولوں میں نیا سمسٹر شروع ہونے سے قبل حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ جون کے اوائل سے سکول کھولے جا سکیں۔

    کلاس رومز میں ہینڈ سینیٹائزرز اور تھرما میٹر رکھے جائیں گے۔

    تاہم حکام کا دعویٰ ہے کہ اب تک ملک میں کوئی کورونا کا متاثرہ فرد سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا ہونے کے امکانات کم ہیں۔

  12. پشاور: ’تاجر سرکاری ہدایت پر عمل کریں‘

    ڈپٹی کمشنر پشاور نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے تاجروں اور دکانداروں سے سرکاری ہدایات پر عمل درآمد کی اپیل کی ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی نقل و حرکت کو محدود رکھیں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں تعاون کریں۔

    دوسری جانب ضلعی انتظامیہ پشاور نے شہر میں زیادہ منافع کمانے اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے الزام میں 41 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر دفتر کے مطابق، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کاشف جان نے ہشت نگری، سیٹھی ٹاؤن، پہاڑی پورہ اور دیگر علاقوں میں بازاروں کا معائنہ کیا۔

    انھوں نے مسافروں سے زیادہ کرایہ وصول کرنے پر کوہاٹ روڈ پر آٹھ ڈرائیوروں پر نقد جرمانے بھی عائد کیے۔

  13. 100 سالہ خاتون وائرس سے صحت یاب ہوگئیں

    انڈونیشیا کی ایک 100 سالہ خاتون کووڈ 19 سے صحت یاب ہوگئی ہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق کامتیم نامی خاتون کو رواں ہفتے ملک کے دوسرے بڑے شہر سورابایا میں ایک ماہ تک علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا۔

    مشرقی جاوا کے گورنر خفیفہ اندار پارواانسا کا کہنا تھا ’میں امید کرتا ہوں کہ ان کی صحت یابی سے اس وبا سے لڑنے والے دوسرے بزرگ افراد کی حوصلہ افزائی ہو گی‘

    خاتون کی بہو ستی امینہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کی صحت یابی کی وجہ ان کا ’نظم و ضبط اور استقامت‘ ہے۔

    ستی امینہ کا کہنا تھا ’میں ہر روز نرسوں کے ساتھ ان کی حالت کا جائزہ لیتی رہی اور وہ نرسیں مجھے بتاتیں کہ وہ اپنی دوا لینے کے بارے میں بہت بہادری اور استقامت کا مظاہرہ کرتیں ہیں۔‘

    ’وہ ہر حال میں بہتر ہونا چاہتی تھیں۔‘

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق، انڈونیشیا میں اب تک 26،000 سے زیادہ تصدیق شدہ متاثرین اور 1613 اموات ہوئی ہیں۔

  14. جنوبی کوریا میں کورونا ’گرجا گھروں سے بھی پھیل رہا ہے‘

    اتوار کے روز جنوبی کوریا میں کورونا کے ایسے 30 متاثرین کی تشخیص ہوئی جن میں وائرس مقامی سطح پر منتقل ہوا تھا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے 24 افراد میں کورونا ایک گرجا گھر میں جانے سے منتقل ہوا ہے۔

    ملک میں اب بھی کورونا کے متاثرین میں اضافہ ہورہا ہے۔ دارالحکومت سیول کے قریب ایک لاجسٹکس سینٹر سے مزید افراد میں کورونا منتقل ہوا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس سینٹر سے کم از کم 112 افراد میں کورونا منتقل ہوا۔

    خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گرجا گھروں سے کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے نئے متاثرین کا ایک جھرمٹ بن سکتا ہے۔

    فروری کے دوران بھی جنوبی کوریا میں ایک مسیحی فرقے کے گرجا گھر کی وجہ سے کورونا پھیلا تھا۔ اس گرجہ گھر کی ایک برانچ کی وجہ سے ہزاروں افراد میں وائرس منتقل ہوا تھا۔

    اس کے بعد ملک میں گرجا گھر بند کر دیے گئے تھے لیکن انھیں گذشتہ ماہ دوبارہ کھولا گیا تھا کیونکہ حکام کے مطابق انھوں نے ملک میں کافی حد تک وائرس پر قابو پا لیا تھا۔

  15. وزیر اعظم عمران خان آج صورتحال کا جائزہ لیں گے

    پاکستان میں اس کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے مستقبل کی حکومت عملی کے حوالے سے آج دو اہم اجلاس اسلام آباد میں ہو رہے ہیں۔

    پاکستان کے وفاقی وزیر اسد عمر آج نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر کے اجلاس کی سربراہی کر رہے ہیں۔

    حکومتی بیان کے مطابق اس اجلاس کے دوران کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافہ، کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے کم مدتی حکمت عملی اور ٹڈی دل کے خطرات کے پیش نظر چاول کی برآمد پر پابندی سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ آج ملک میں قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بھی ہوگا جس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان خود کریں گے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس میں کورونا وائرس کی وجہ سے جاری ملکی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

  16. کورونا وائرس کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟

    کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  17. اسد عمر: ہمارے جیسا غریب ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا

    منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ ہمارے جیسا غریب ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

    ایک نجی ٹیلیویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کاروباری سرگرمیاں بحال کرنا چاہتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے رمضان کے آخری ہفتے میں عوام کے عدم تعاون کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد مارکیٹوں میں عوام کی طرف سے احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے کے سبب بڑھ رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے بھر پور کوششیں کر رہی ہے اور مارکیٹوں میں قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

  18. نئے معمول کی پیشگوئی ان فن پاروں نے کر دی تھی

    پریا کریئن کے نئے فن پاروں میں انڈیا کا نیا معمول دیکھا جاسکتا ہے۔ ان تصاویر میں ہم اپنے آپ کو دیکھ سکتے ہیں لیکن یہ 25 مارچ سے بھی پہلے بنائے گئے تھے جب لاک ڈاؤن ابھی نافذ نہیں ہوا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فن پارے اپنے ہمسائیوں کو دیکھ کر بنائے تھے۔

    انھوں نے ایئر پورٹ سے لے کر بنگلور اور کلکتہ میں بعض لوگوں کو اسی حال میں ماسک لگائے اور ہر حد تک کر احتیاط کرتے دیکھا تھا۔

    یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے کہ جب ماسک پہنا لازم ہوا تھا یا پروازیں منسوخ ہوئی تھیں۔

    کووڈ 19 کے پھیلاؤ سے قبل بھی کچھ لوگوں نے محفوظ رہنے کے لیے ماسک پہننا شروع کر دیے تھے۔

    وہ کہتے ہیں کہ اس وقت کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ آنے والے مہینوں میں ان کی زندگی ایسی ہوجائے گی۔

  19. میکسیکو میں کورونا وائرس سے تقریباً 10 ہزار ہلاکتیں

    میکسیکو میں یکم جون سے لاک ڈاؤن پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں اور متعدد صنعتوں کو دوبارہ کھلنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    جن صنعتوں کو کھلنے کی اجازت دی گئی ہے ان میں کاروں کے پرزے بنانے والے مینوفیکچرنگ پلانٹس اور تعمیرات کے ساتھ ساتھ شراب بنانے والی فیکٹریاں اور موٹر سائیکل کی دکانیں شامل ہیں۔

    تاہم کچھ سائنس دانوں نے اس ’جلد بازی‘ کے فیصلے پر تنقید کی ہے ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا میکسیکو میں ابھی بھی شدت سے پھیل رہی ہے۔

    میکسیکو میں کووڈ 19 سے تقریباً 10 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    میکسیکو کی بحران کا شکار معیشت کے لیے صنعتوں کا دوبارہ کھلنا ایک خوش آئند خبر ہے۔

    کووڈ 19 کے باعث یہاں 10 لاکھ نوکریاں ختم ہوگئیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اس سال معیشت میں 9 فیصد تک مزید کمی آئے گی۔

  20. آسٹریلیا کے ہسپتال میں صرف 21 متاثرین زیرعلاج

    آسٹریلیا میں کورونا کے کل 7200 متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 92 فیصد اب صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    صحت کے اس بحران پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے اور آج ملک میں سختیوں میں مزید نرمی لائی جا رہی ہے۔

    یہ اصول مختلف جگہوں پر مختلف ہیں۔ لیکن آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے نیو ساؤتھ ویلز میں عوامی مقامات کھولے جا رہے ہیں جن میں بیوٹی سیلون، عجائب گھر، لائبریریز اور سوئمنگ پول شامل ہیں۔

    سیاحت کے لیے نقل و حرکت کی اجازت ہے جبکہ پبز اور ریستوران میں 50 افراد جمع ہو سکتے ہیں۔ تاہم سماجی فاصلے کے اقدامات کا نفاذ اب بھی ہوتا ہے۔

    وکٹوریا میں 20 افراد جمع ہوسکتے ہیں۔ جبکہ رواں ہفتے کے اواخر میں کچھ جگہوں پر اس سے بھی زیادہ اجتماعات منعقد کیے جاسکیں گے۔