خیبر پختونخوا کی ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں آج پھر کورونا وائرس او پی ڈی میں عملے پر حملہ ہوا۔
ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق یہ چوتھا واقع ہے لیکن سی سی پی او پشاور اور مقامی پولیس سٹیشن کی طرف سے کوئی سکیورٹی نہیں فراہم کی جا رہی۔
ان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اور ہسپتال سیکیورٹی، عملہ کی حفاظت کی بجائے خاموش تماشائی بنی رہتی ہے یا پھر موقع سے فرار ہو جاتی ہے جس کے بعد ان کے اپنے نمائندوں کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے وہاں آنا پڑتا ہے۔
ادھر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہسپتال میں ڈاکٹروں پر مریضوں کی جانب سے تشدد کے واقعات کی اس بڑھتی ہوئی صورتحال کا بہت سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹروں، نرسوں، سمیت صحت کی دیکھ بھال کی خدمت کے لئے پیرامیڈکس اور دیگر معاون عملہ کےلئے پالیسی اپنائی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی ہو۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی ہسپتال کے کورونا وارڈ میں ڈاکٹروں اور طبی عملے پر حملہ کیا گیا ہو، اس سے قبل پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے متعدد ہسپتالوں میں اس طرح کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز اسسوسی ایشن پشاور کے مطابق حکومت کو بار بار اس مسئلے کو حل کرنے اور ’سیکیورٹی اینڈ ہراسمنٹ ایکٹ‘ کی شکل میں سخت قانون سازی کرنے کی درخواست کی لیکن کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز سخت اقدامات اٹھانے اور قلم چھوڑ احتجاج کی طرف جا سکتی ہے۔
’ہم پر ڈاکٹرز کی طرف سے کافی دباؤ ہے۔ کسی بھی وقت احتجاجآ کام چھوڑ سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو تمام تر ذمہ داری سی سی پی او پشاور کی نا اہلی، مقامی پولیس سٹیشن اور حکومت پر عائد ہو گی۔