انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے احمد آباد سول ہسپتال میں اتوار کے روز ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ جہاں ایک مریض کے خاندان کو پہلے بتایا گیا کہ ان کے مریض کی کووڈ۔19 کے سبب موت ہو گئی ہے جبکہ اگلے دن اہلخانہ کو ہسپتال سے فون آیا کہ مریض کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے اور ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے، لہذا انھیں گھر لے جایا جا سکتا ہے۔
نیکول کے علاقے میں رہنے والے دیورام کو سانس کی تکلیف کے سبب 28 مئی کو احمد آباد سول ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ دیورام ذیابیطس کے مریض بھی تھے۔
ہسپتال انتظامیہ نے دیورام کے داماد نلیش نکیبے سے ’رضامندی‘ والے دستاویز پر دستخط کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر علاج کے دوران مریض کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو یہ ہسپتال کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔
نیلیش نے بی بی سی گجراتی کو بتایا: ’میرے سسر کو سول ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں آج کل کووڈ-19 کے مریض زیر علاج ہیں۔ اس وقت ان کی شوگر لیول 575 تھی جو بہت زیادہ ہے۔ جب ہسپتال انتظامیہ نے مجھ سے رضامندی کے فارم پر دستخط کرنے کو کہا تو میں نے اپنے سسر کو دیکھنے پر اصرار کیا۔ اس کے بعد ہسپتال کے عملے نے ان سے ویڈیو کال کی۔ اس وقت وہ ٹھیک لگ رہے تھے۔ میں نے انھیں دیکھنے کے بعد ہی اس پر دستخط کیے۔‘
دیورام کو 28 مئی کو سول ہسپتال لایا گیا تھا اور ان کی علامات کو دیکھ کر انھیں کووڈ-19 وارڈ میں داخل کرایا گیا جہاں جانچ کے لیے نمونے لیے گئے۔
دوسرے دن 29 مئی کی دوپہر کو دیوارام کی موت ہو گئی اور ان کی لاش کو اہلخانہ کے حوالے کردیا گیا۔
جب کووڈ-19 کا مشتبہ مریض دم توڑ جاتا ہے تو حفاظتی بنیاد پر اسے پی پی ای کٹ میں لپیٹ دیا جاتا ہ چنانچہ دیورام کی میت بھی اسی طرح گھر والوں کے حوالے کردی گئی۔
دوسرے فون کال کے بارے میں ڈاکٹر پانڈیا نے کہا کہ دیورام کی کووڈ-19 رپورٹ ان کی موت تک نہیں آئی تھی۔ جب ان کی موت کے بعد ان کی رپورٹ آئی تو ان میں کورونا وائرس منفی پایا گیا۔
اس رپورٹ کے بعد ہسپتال کے عملے نے دیوراج کے اہلخانہ کو فون کیا اور کہا کہ انھیں جنرل وارڈ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹروں کو دیورام کی موت کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔
ڈاکٹر پانڈیا نے لاشوں کے تبادلے کی تردید کی ہے اور اسے بدقسمتی سے غلط فہمی کا معاملہ قرار دیا ہے۔
انھوں نے نیلیش اور دیورام کے کنبے کے دیگر افراد سے بھی معذرت کرلی ہے۔
نیلیش ہسپتال انتظامیہ کی معذرت سے مطمئن ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’انھوں نے ہم سے معافی مانگی ہے اور ہم اس معاملے کو طول نہیں دینا چاہتے ہیں لیکن اس غلط فہمی کی وجہ سے میرے کنبے کو دوہرے ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑا۔ ہماری دعا ہے کہ کسی کے ساتھ ایسا کبھی نہ ہو۔‘
لیکن یہاں ایک سوال حل طلب یہ ہے کہ آخر انھیں جو لاش دی گئی وہ کس کی تھی؟ اس کے بارے میں کوئی کچھ بولنے کے لیے تیار نہیں۔