آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سندھ کے وزیر برائے کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 62 لاکھ سے زائد ہے جبکہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد اس بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر کچی آبادی مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. سنگاپور میں کورونا کے 544 نئے کیس، متاثرین کی تعداد 35836 ہو گئی

    سنگاپور میں منگل کے روز کورونا وائرس کے 544 نئے کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں جس کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 35836 ہو گئی ہے۔

    سنگاپور میں اب تک کووڈ 19 سے ہونے والی اموات کی تعداد 24 ہے۔

  2. نریندر مودی: ’کورونا سے لڑتے ہوئے ملک کی معیشت مضبوط بنانا اولین ترجیح ہے‘

    انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز کاروباری رہنماؤں کو بتایا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑتے ہوئے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانا اولین ترجیح ہے۔

    کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا: ’ہم لازمی طور پر اپنی ترقی واپس حاصل کریں گے۔ انڈیا اپنی ترقی واپس حاصل کرے گا۔‘

    واضح رہے کہ انڈیا میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے اور 8 جون سے ملک میں ریستوران، ہوٹل اور شاپنگ سینٹر دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔

    انڈیا میں اب تک کورونا سے 5598 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  3. کورونا: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک اور ہلاکت، کل اموات سات, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق میرپور آئیسولیشن ہسپتال میں زیر علاج کورونا کا ایک مریض دم توڑ گیا ہے، جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سات ہوگئی ہے۔

    کمشنر کے مطابق میرپور ڈویژن میں تین خواتین سمیت 6 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص بھی ہوئی ہے، جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 273 ہو گئی ہے۔

    کمشنر میرپور ڈویژن کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے چار افراد کا تعلق میرپور میں کورونا کے باعث ہلاک ہونے والے اس شخص کے خاندان سے ہے جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

    محمد رقیب خان کے مطابق ایس او پی کے تحت ہلاک ہونے والے شخص کو غسل دے کر اس کی میت کو اس کے آبائی علاقے مردان روانہ کر دیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق مذکورہ شخص میرپور میں ایک نجی فیکٹری میں ملازم تھا۔

    ان کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ایک شخص کا تعلق کوٹلی اور دوسرے کا تعلق بھمبر سے ہے۔

  4. ٹوکیو میں کورونا کے کیسز میں اضافہ

    جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں حکام کے مطابق گذشتہ روز کورونا وائرس کے 30 نئے کیس سامنے آئے ہیں، اور تین ہفتوں میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے۔

    جاپان نے چند روز پہلے ہی نئے کیسز میں کمی آنے کے بعد ملک میں نافذ ایمرجنسی صورتحال کا خاتمہ کیا ہے لیکن اس بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ پابندیوں میں نرمی سے اس وبا کی دوسری لہر آ سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ جاپان میں اب تک کورونا سے 16 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد ایک ہزار سے کم ہے۔

  5. سماجی دوری نافذ کرنے والا روبوٹ

    یہ روبوٹ کتا سنگاپور کے ایک پارک میں کورونا وائرس سے متعلق ایک تحقیق کا حصہ ہے۔

    امریکہ میں قائم بوسٹن ڈائنامکس کی تیار کردہ مشین میں ایک کیمرہ لگایا گیا ہے تاکہ اس بات کی نگرانی کی جاسکے کہ بشن انگ مو کیو پارک میں کتنا ہجوم ہوتا ہے۔

    اس میں سماجی دوری کو فروغ دینے والے پیغامات کو نشر کرنے کے لیے لاؤڈ سپیکر بھی لگایا گیا ہے۔

  6. دنیا بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کے مناظر

    دنیا بھر میں کئی ملک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر لگائے گئے لاک ڈاؤن میں آہستہ آہستہ نرمی کر رہے ہیں۔

    جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ساحل سمندر کو کھول دیا گیا ہے تاہم یہاں زیادہ رش نہیں۔

    انڈیا میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باوجود لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی ہے۔ بہت سے کاروبار دوبارہ کھول دیے گئے ہیں جبکہ مارکیٹس میں لوگوں کا رش ہے۔

    جلد ہی ریستوران، مالز، عبادت گھر، سکول اور کالج بھی دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔ مندرجہ بالا تصویر چنئی میں حجام کی ایک دکان کی ہے۔

    سنگاپور آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہا ہے۔ سکولوں نے گریجویشن کے طلبا کے لیے کلاسز دوبارہ شروع کیں ہیں لیکن طلبا کو کلاس میں اور سکول میں سماجی فاصلوں کے اصولوں کی سخت پابندی کرنا ہو گی۔

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ لاطینی امریکہ کے ممالک میں کورونا کی وبا ابھی بھی زور پکڑ رہی ہے۔

    میکسیکو میں اموات 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں جبکہ برازیل میں کورونا کے مریضوں کی تعداد پانج لاکھ سے زیادہ ہے۔

    وارننگ کے باوجود کئی ملک اپنی معیشتوں کو دوبارہ کھول رہے ہیں۔

  7. برطانیہ ’سفر کے بعد قرنطینہ کے قوانین میں نرمی کی تلاش میں‘

    بی بی سی نیوز نائٹ کو پتہ چلا ہے کہ برطانوی حکومت آنے والے مہینوں میں برطانیہ میں داخل ہونے والے لوگوں کے لیے 14 دن کے قرنطینہ کے قوائد میں نرمی کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔

    پیر سے ہوائی جہاز، فیری یا ٹرین کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے تمام افراد، جن میں برطانوی شہری بھی شامل ہیں، خود کو الگ تھلگ رکھیں گے۔

    لیکن کچھ ارکان پارلیمنٹ اور کاروباروں نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے سیاحت کو نقصان پہنچے گا۔

  8. پاکستان: صوبہ پنجاب کے وزیر توانائی کورونا وائرس سے صحت یاب

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اب کورونا وائرس سے مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    ان کے مطابق ابھی اس وائرس کے خلاف بطور قوم ہمیں ایک طویل جنگ لڑنی ہے۔

  9. امریکہ: مظاہروں سے کورونا کی وبا ’بڑھ سکتی ہے‘

    امریکہ میں جاری احتجاج پر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان مظاہروں سے کورونا وائرس کی وبا میں اضافہ ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ اگر زیادہ تر مظاہرین نے ماسک بھی پہن رکھے ہوں۔

    امریکی ریاستوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے لیکن ملک میں ابھی تک اس وبا پر قابو نہیں پایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں امریکہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

  10. انڈیا: جب آخری رسومات کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے کہا ’مریض زندہ ہے‘

    انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے احمد آباد سول ہسپتال میں اتوار کے روز ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ جہاں ایک مریض کے خاندان کو پہلے بتایا گیا کہ ان کے مریض کی کووڈ۔19 کے سبب موت ہو گئی ہے جبکہ اگلے دن اہلخانہ کو ہسپتال سے فون آیا کہ مریض کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے اور ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے، لہذا انھیں گھر لے جایا جا سکتا ہے۔

    نیکول کے علاقے میں رہنے والے دیورام کو سانس کی تکلیف کے سبب 28 مئی کو احمد آباد سول ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ دیورام ذیابیطس کے مریض بھی تھے۔

    ہسپتال انتظامیہ نے دیورام کے داماد نلیش نکیبے سے ’رضامندی‘ والے دستاویز پر دستخط کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر علاج کے دوران مریض کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو یہ ہسپتال کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔

    نیلیش نے بی بی سی گجراتی کو بتایا: ’میرے سسر کو سول ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں آج کل کووڈ-19 کے مریض زیر علاج ہیں۔ اس وقت ان کی شوگر لیول 575 تھی جو بہت زیادہ ہے۔ جب ہسپتال انتظامیہ نے مجھ سے رضامندی کے فارم پر دستخط کرنے کو کہا تو میں نے اپنے سسر کو دیکھنے پر اصرار کیا۔ اس کے بعد ہسپتال کے عملے نے ان سے ویڈیو کال کی۔ اس وقت وہ ٹھیک لگ رہے تھے۔ میں نے انھیں دیکھنے کے بعد ہی اس پر دستخط کیے۔‘

    دیورام کو 28 مئی کو سول ہسپتال لایا گیا تھا اور ان کی علامات کو دیکھ کر انھیں کووڈ-19 وارڈ میں داخل کرایا گیا جہاں جانچ کے لیے نمونے لیے گئے۔

    دوسرے دن 29 مئی کی دوپہر کو دیوارام کی موت ہو گئی اور ان کی لاش کو اہلخانہ کے حوالے کردیا گیا۔

    جب کووڈ-19 کا مشتبہ مریض دم توڑ جاتا ہے تو حفاظتی بنیاد پر اسے پی پی ای کٹ میں لپیٹ دیا جاتا ہ چنانچہ دیورام کی میت بھی اسی طرح گھر والوں کے حوالے کردی گئی۔

    دوسرے فون کال کے بارے میں ڈاکٹر پانڈیا نے کہا کہ دیورام کی کووڈ-19 رپورٹ ان کی موت تک نہیں آئی تھی۔ جب ان کی موت کے بعد ان کی رپورٹ آئی تو ان میں کورونا وائرس منفی پایا گیا۔

    اس رپورٹ کے بعد ہسپتال کے عملے نے دیوراج کے اہلخانہ کو فون کیا اور کہا کہ انھیں جنرل وارڈ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ڈاکٹروں کو دیورام کی موت کے بارے میں معلوم نہیں تھا۔ ڈاکٹر پانڈیا نے لاشوں کے تبادلے کی تردید کی ہے اور اسے بدقسمتی سے غلط فہمی کا معاملہ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے نیلیش اور دیورام کے کنبے کے دیگر افراد سے بھی معذرت کرلی ہے۔ نیلیش ہسپتال انتظامیہ کی معذرت سے مطمئن ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’انھوں نے ہم سے معافی مانگی ہے اور ہم اس معاملے کو طول نہیں دینا چاہتے ہیں لیکن اس غلط فہمی کی وجہ سے میرے کنبے کو دوہرے ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑا۔ ہماری دعا ہے کہ کسی کے ساتھ ایسا کبھی نہ ہو۔‘

    لیکن یہاں ایک سوال حل طلب یہ ہے کہ آخر انھیں جو لاش دی گئی وہ کس کی تھی؟ اس کے بارے میں کوئی کچھ بولنے کے لیے تیار نہیں۔

  11. اسلام آباد: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 304 نئے متاثرین، دو ہلاکتیں

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 304 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ مزید دو افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اسلام آباد میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 2893 جبکہ اموات کی تعداد 30 ہو چکی ہے۔

    ملک بھر میں شرحِ اموات 2.1 فیصد ہے جبکہ صحت یاب ہونے والے افراد کا تناسب 35.5 فیصد ہے۔

  12. آسٹریلیا کا ویکسین کی تحقیق کے لیے 44 ملین ڈالر کا وعدہ

    آسٹریلیا کے وزیر صحت گریک ہنٹ نے کہا ہے کہ یہ رقم ’ویکسین کی تحقیق، اینٹی وائرلز اور سانس کے طبی ٹرائلز کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کے نظام پر خرچ کی جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا ’یہ امداد جانیں بچانے اور اور ان کی حفاظت کے لیے ہے اور یہ وبا کو کنٹرول کرنے اور ہمارے صحت عامہ کے نظام میں رد عمل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ہے۔‘

    واضح رہے کہ آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد 7200 جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 102 ہے۔

  13. بریکنگ, پاکستان: گذشتہ 24 گھنٹوں میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ 3,938 افراد کا اضافہ

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 3938 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 78 افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

    حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب ملک میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 76398 جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1621 ہو گئی ہے۔

    ملک بھر میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 27110 ہو چکی ہے۔

    کورونا وائرس کی ابتدا سے اب تک پاکستان میں ایک دن میں مریضوں کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آیا ہے۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 29647 مصدقہ متاثرین کے ساتھ صوبہ سندھ ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جبکہ 540 مجموعی اموات کے ساتھ صوبہ پنجاب سرِفہرست ہے۔

  14. ماسک پہنتے ہوئے کن چیزوں کا خیال رکھیں؟

    جیسے جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی ہو رہی ہے، دنیا بھر میں پہلے سے زیادہ لوگ اپنی حکومت کے مشوروں کے تحت ماسک پہن رہے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ ماسک صرف اس صورت میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب مناسب طریقے سے پہننے کے ساتھ بار بار ہاتھوں کی صفائی اور سماجی فاصلے کا خیال رکھا جائے۔

    ماسک پہنتے ہوئے کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ یہ جاننے کے لیے دیکھیں یہ ویڈیو۔۔۔

  15. بریکنگ, انڈیا: ایک دن میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں ریکارڈ اضافہ

    انڈیا میں پیر کے روز ایک دن میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    انڈین وزارت صحت کے اعدادوشمار کے مطابق پیر کے روز ملک میں ریکارڈ 8392 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 190,000 جبکہ اس سے ہونے والی اموات کی تعداد 5394 ہو گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اتوار کو بھی انڈیا میں آٹھ ہزار سے زیادہ نئے کیس ریکارڈ کیے گئے تھے۔

  16. پنجاب: گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 43 ہلاکتیں، 1610 نئے متاثرین

    صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 1610 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ اسی دورانیے میں مزید 43 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق اب صوبے میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 27850 ہو چکی ہے جبکہ اموات کی کُل تعداد 540 ہو گئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق اب تک صوبے بھر میں 7116 افراد کورونا سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کُل 6371 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ صوبے میں مجموعی طور پر ہونے والے ٹیسٹوں کی تعداد دو لاکھ 45 ہزار سے زائد ہے۔

    صوبائی دارالحکومت لاہور کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے جہاں گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 812 افراد میں کورونا کی تشخیص ہونے کے بعد وہاں اب متاثرین کی مجموعی تعداد 13752 ہو گئی ہے۔

    لاہور میں سوموار کو کورونا کے مزید چھ مریض ہلاک ہوئے ہیں اور اب یہاں ہونے والی ہلاکتوں کی کُل تعداد 205 ہو چکی ہے۔

    اسی طرح راولپنڈی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 17 مریض ہلاک ہوئے ہیں اور اس شہر میں ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد اب 115 ہو چکی ہے۔ راولپنڈی میں متاثرین کی کُل تعداد 2255 ہو گئی ہے۔

    صوبے کے دیگر بڑے شہروں کی صورتحال کچھ اس طرح ہے:

    جہلم میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 223 ہے جبکہ قصور میں 283، خانیوال میں 57، خوشاب میں 149، لیہ میں 82، لودھراں میں 182، منڈی بہاؤالدین میں 200، میانوالی میں 51، ملتان میں 1803، مظفر گڑھ میں 259، ننکانہ صاحب میں 164، ناروال میں 122، اوکاڑہ 63، پاکپتن 59، راجن پور 61، رحیم یار خان 308، ساہیوال 142، اٹک 95، بہاولنگر 107، بہاولپور 258، بکھر 111، چکوال 35، چنیوٹ 52، ڈی جی خان 461، فیصل آباد 1704، گجرانوالہ 1505، گجرات 862، حافظ آباد 383، جھنگ 81، سرگودھا 456، شیخوپورہ 393، سیالکوٹ 898، ٹوبہ ٹیک سنگھ 65 اور وہاڑی 169۔

  17. کورونا وائرس: دنیا بھر میں صورتحال کیا ہے؟

    امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 6,266,192 جبکہ اموات کی تعداد 375,559 ہے۔

    کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1,811,360 جبکہ اموات کی تعداد 105,165 ہے۔

    امریکہ کے بعد سب سے زیادہ متاثرین برازیل میں ہیں، جہاں یہ تعداد 526,447 جبکہ 29,937 اموات ہو چکی ہیں۔

    برازیل کے بعد روس میں متاثرین کی تعداد 414,328 جبکہ اموات کی تعداد 4,849 ہے۔

  18. کورونا وائرس: میکسیکو میں اموات 10 ہزار سے تجاوز کر گئیں

    میکسیکو میں گذشتہ روز 237 اموات کے ساتھ کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10167 ہو گئی ہے جبکہ 2771 نئے کیسز کے ساتھ اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 93435 ہو گئی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے لاطینی امریکہ کے ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ خطے میں وبائی مرض ابھی عروج پر نہیں پہنچا ہے لہذا لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں کی جا سکتی۔

    یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب متعدد ممالک پابندیوں کو کم کرنے لگے ہیں۔ میکسیکو میں کاروں، تعمیر اور کان کنی کی صنعت میں مزدورواپس کام پر لوٹ رہے ہیں۔

  19. جاپان میں آتش بازی کے ساتھ وبا کے خاتمے کے لیے دعائیں

    جاپان کے مختلف حصوں میں کورونا وائرس کی وبا کے خاتمے کے لیے دعاؤں کے ساتھ آتش بازی کی گئی ہے۔

    ایک ہی وقت میں ہونے والی اس آتش بازی کے مقامات کو خفیہ رکھا گیا اور آسمان پر مختلف طرح کی آتش بازی دیکھ کر بہت سے لوگوں کو حیرت بھی ہوئی۔

    اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ انھیں اس طرح ڈیزائن گیا تھا کہ وہ دیر تک جلیں تاکہ لوگوں کے پاس اتنا وقت ہو کہ وہ باہر نکل کر انھیں دیکھ سکیں، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دھیان میں رکھا گیا تھا کہ انھیں اتنا وقت نہ ملے کہ وہ اکٹھے ہو جائیں اور کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی گئیں پابندیوں کی خلاف ورزی کریں۔

    آتش بازی کے ساتھ وائرس کے خاتمے کے لیے دعائیں بھی لکھ کر جوڑ دی گئی تھیں۔

    کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے جاپان میں گرمیوں میں ہونے والے کئی روایتی میلے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

  20. ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے کمزور پڑنے کے دعوے مسترد کر دیے

    عالمی ادارہ صحت نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا ہے کہ کورونا وائرس اپنی طاقت کھو رہا ہے۔

    اتوار کو اٹلی میں ایک سینیڑ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ وائرس اب کم جان لیوا ہو گیا ہے۔ پروفیسر البرٹو زنگریلو جو کہ سین رافائل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ کے سربراہ ہیں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ’اب کلینیکلی موجود نہیں ہے۔‘

    تاہم کئی سائنسدانوں جن میں ڈبلیو ایچ او کے ماہرین بھی شامل ہیں کا کہنا ہے کہ اس خیال کے کوئئ شواہد موجود نہیں ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او میں وبائی امراض کی ماہر ماریا وین کیرکوف کا کہنا تھا ’منتقل ہونے کی اہلیت کے اعتبار سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ شدت کے لحاظ سے بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘