سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 1439 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 23 مریض دم توڑ گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ
کے مطابق اس وقت صوبے میں 358 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 64 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 5454 ٹیسٹ کیے گئے جس میں 1439 متاثرین سامنے آئے ہیں۔ اب تک کل 192546 ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جس میں 31086 مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔
سندھ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 526 ہو گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق اس وقت 15022 مریض زیرعلاج ہیں،جن میں سے 13813 مریض گھروں اور 111 آئسولیشن مراکز پر زیرعلاج ہیں جبکہ اس وقت 1098 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔
سید مراد علی شاہ
کا کہنا ہے تھا کہ آج 953 مزید مریض صحت یاب ہو گئے ہیں جبکہ سندھ میں اب تک کل 15538 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
صوبے بھر کے 1439 مریضوں میں سے کراچی میں 1035 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ کورنگی میں 263، ضلع شرقی میں 242 اور ضلع وسطی 166مزید مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔
کراچی کے ضلع جنوبی میں 167، ملیر میں 139 اور غربی میں 58 نئے متاثرین کا پتا چلا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ
کے مطابق اس وقت اس وائرس سے لاڑکانہ میں 50، حیدرآباد میں 47 اور سکھر میں 40 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
خیرپور میں 33، گھوٹکی میں 27 اور شہید بینظیرآباد میں 17 مزید متاثریں ظاہر ہوئےہیں۔
بدین میں 15، سانگھڑ میں 13 اورجامشورو میں 9 نئے مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ قمبر میں چھ جبکہ سجاول اور شکارپور میں پانچ پانچ مزید متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جیکب آباد اور دادو میں تین تین جبکہ کشمور میں دو نئے افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
مٹیاری، ٹنڈومحمد خان اور عمر کوٹ میں ایک ایک کورونا مریض رپورٹ ہوا۔
وزیراعلیٰ سندھ
نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ لاک ڈاؤن میں دی گئی سہولیات کا غیرضروری فائدہ نہ اٹھائیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق عوام کی صحت حکومت کی ترجیح ہے۔ ان کہنا ہے کہ ایس او پیز پر سہی طور پر عمل نہ کرنے سے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔