جنوبی کوریا: متاثرین کی ایک ماہ میں سب سے بڑی تعداد سامنے آ گئی

،تصویر کا ذریعہEPA
جنوبی کوریا کے حکام نے بتایا ہے کہ پیر کو ملک میں کورونا وائرس متاثرین کی ایک ماہ کی سب سے بڑی تعداد سامنے آئی ہے۔
پیر کی صبح تک حکام نے 35 نئے متاثرین کی اطلاع دی تھی جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 10 ہزار 909 ہوگئی تھی، لیکن پیر کی دوپہر تک کُل 86 متاثرین کا تعلق نائٹ کلبز سے پھیلنے والی وبا کی لہر سے پایا جا چکا تھا۔
جنوبی کوریا کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے عالمی ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے لیکن اچانک کورونا وائرس متاثرین کی نئی لہر سامنے آنے کے بعد دارالحکومت سیئول اور قریبی شہر انچیون میں تمام کلبز اور شراب خانوں کی بندش کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے ہم جنس پرست افراد میں مقبول علاقے ایتیوون کے چند کلبز سے منسلک 80 متاثرین سامنے آئے ہیں۔ یہ کلبز حال ہی میں وبا کی ایک نئی لہر کا مرکز بنے ہیں اور یہاں جانے والے افراد اب اپنی شناخت محفوظ رکھتے ہوئے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کروا سکیں گے۔
گذشتہ ہفتے ان کلبز جانے والے 3000 افراد کا اب بھی حکام سے ٹیسٹ کے لیے رابطہ کرنا باقی ہے۔
جنوبی کوریا میں ہم جنس پرستوں کے خلاف تعصب عام ہے۔
دوسری جانب دنیا کے کئی طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جلدبازی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کی وجہ سے مرض پھیلنے کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

















