انڈیا: وزیر اعظم مودی کی جانب سے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 41 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور دو لاکھ 86 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان: ’سینیٹ کے ارکان بغیر ٹیسٹ کے اجلاس میں شرکت نہ کریں‘

    پاکستان: ’سینیٹ کے ارکان بغیر ٹیسٹ کے شرکت نہ کریں‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے ارکان سینیٹ کا بغیر کورونا وائرس ٹیسٹ کرائے ایوان کی کارروائی میں شرکت کرنے کا نوٹس لے لیا ہے۔

    سلیم مانڈوی والا نے تمام ارکان سینیٹ کو خط لکھا ہے اور ٹیسٹ نہ کروانے والے ارکان کو اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ارکان کی جانب سے ٹیسٹ نہ کروانے کا علم ہوا ہے اور اس کے علاوہ اجلاس میں ان ارکان نے بھی شرکت کی جن کو تاحال رپورٹ موصول نہیں ہوئی تھی۔

    انھوں نے ٹیسٹ نہ کروانے اور رپورٹ موصول نہ ہونے والے ارکان کو تاکید کی کہ اجلاس میں شرکت نہ کریں۔

  2. سینیٹر شیری رحمان: وزیر اعظم کی کورونا سے متعلق پالیسی لاپتہ ہے

    سینیٹر شیری رحمان: وزیر اعظم کی کورونا سے متعلق پالیسی لاپتہ ہے

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان میں منگل کے روز سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کی کورونا وائرس سے متعلق پالیسی پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے تنقید کی گئی۔

    اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق نے کہا کہ اس صورتحال میں حکومت کو خود ہی اجلاس بلا لینا چاہیے تھا لیکن حکومت الٹ پالیسی چلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر حل ڈھونڈنے کے بجائے ان سے رابطہ گوارا نہیں سمجھتی۔

    اسی بارے میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ وزیراعظم اور اُن کی کورونا وائرس سے متعلق ’پالیسی لاپتہ‘ ہے۔

    ’وزیراعظم کہاں ہیں؟ ملک کو کون چلا رہا ہے؟ ملک بھر میں آج لاک ڈاون بغیر ایس او پیز کے کھول دیا گیا ہے۔ لوگوں نے عید کی شاپنگ شروع کردی ہے، ایک دن لاک ڈاؤن کی مخالفت دوسرے دن حمایت کی جا رہی ہے جو حکومت کی کنفیوژن ثابت کرتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ دراصل اعداد و شمار زیادہ ہیں لیکن چھپائے جارہے ہیں۔ ’ہمیں وہ غلطیاں نہیں کرنی چاہیں جو امریکہ اور اٹلی نے کی ہیں۔ سات ہفتے پہلے ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگنے کے بعد وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان کورونا وائرس سے متعلق پالیسی کے نفاذ پر کئی بار چپکلش ہوئی ہے۔ جبکہ ملک بھر میں ہر صوبہ اپنی مرضی کے تحت پالیسی اور لاک ڈاؤن کا نفاذ کررہا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اسی دوران کئی بار ڈاکٹروں اور ماہرین نے ٹی وی چینل پر پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت کو متنبہ بھی کیا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے باعث ہسپتالوں پر خاصا بوجھ پڑے گا جسے اٹھانے کے لیے ہسپتال تیار نہیں ہیں۔

    پاکستان میں حکومت نے لاک ڈاؤن ایک ایسے وقت میں ختم کیا ہے جب ملک بھر سے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

    اس بارے میں وزیر اعظم عمران خان نے 7 مئی کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد قوم سے خطاب میں کہا کہ اگر لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد تیار کیے گئے ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو لاک ڈاؤن دوبارہ بحال کردیا جائے گا۔ لیکن آج سینیٹ کے اجلاس میں اس بارے میں بحث رہی کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کیوں کی گئی۔

    سینیٹرز کی جانب سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وائرس کا علاج لاک ڈاؤن کرنے سے نہیں بلکہ ویکسین سے آئے گا۔ ’ویکسین کی ایجاد میں اٹھارہ ماہ سے دو سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کوئی کنفیوژن نہیں ہے۔ حکومت کی حکمتِ عملی خاصی واضح ہے۔‘

    اس کے علاوہ پاکستان میں اپوزیشن اراکین نے کورونا وائرس سے متعلق چین پر لگنے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

    سینیٹ کا اجلاس جمعرات بارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

  3. بریکنگ, گذشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ میں اموات کا نیا ریکارڈ، کُل ہلاکتیں 218

    pak

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ 19 کے باعث ریکارڈ ہلاکتیں سامنے آئی ہیں اور 18 اموات کے ساتھ صوبے میں کُل تعداد 218 ہو گئی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ 593 نئے متاثرین کے سامنے آنے کے بعد اب سندھ میں کل تعداد 12610 تک پہنچ گئی ہے۔

  4. بریکنگ, سعید غنی: یکم جون سے سندھ کے سکول نہیں کھولیں گے

    سعید غنی: 1 جون سے سکول نہیں کھولیں گے

    سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے میں یکم جون سے سکول نہیں کھولے جائیں گے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ صوبائی سطح پر آرڈیننس کے ذریعے قانون میں تبدیلی لانا ہوگی تاکہ بچوں کی تعلیم کے لیے ایک مرتبہ کے لیے بعض اقدامات کیے جاسکیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’شاید ہم سکول بہت لمبے عرصے تک نہ کھول پائیں۔ ممکن ہے چھ سے آٹھ ماہ تک سکول نہ کھولے جاسکیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ نجی سکولوں نے تجویز دی ہے کہ آن لائن کلاسز یا گھر ہوم ورک پہنچا کر بچوں کی تعلیم جاری رکھی جا سکے۔

    ’ہر جگہ بچوں کو آن لائن نہیں پڑھا سکتے۔ بڑے شہروں میں یہ ہوسکتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں نہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں سندھ میں آن لائن کورسز کے حوالے سے اعلان کیا جائے گا۔

  5. فلپائن کے دارالحکومت میں جون تک لاک ڈاؤن میں توسیع

    فلپائن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فلپائن میں وزارت صحت نے منگل کو کہا کہ کورونا وائرس سے مزید 25 اموات ہوئی ہیں جبکہ 264 نئے متاثرین کا اضافہ ہوا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کل اموات 751 ہوگئی ہیں اور اب 11,350 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوچکی ہے۔

    گذشتہ روز 107 افراد کورونا کی تشخیص کے بعد اب صحتیاب ہوچکے ہیں۔ صحتیاب ہونے والوں کی کل تعداد 2106 ہوگئی ہے۔

    ملک کے صدر نے دارالحکومت میں جون تک لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔

    یہ دنیا میں وہ واحد ملک ہے جس نے کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سب سے لمبے عرصے تک لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا ارادہ کیا ہے۔

  6. بریکنگ, سندھ: ’جلد بازی میں طلبہ کے لیے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتے‘

    سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی نے منگل کو پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایک سے 8ویں جماعت کے بچوں کو پچھلے سال کے نتائج کی بنیاد پر اگلی جماعت میں پروموٹ کیا جائے گا۔

    ’فیل یا غیر حاضر رہنے والے بچوں کا مستقبل سکول طے کریں گے۔ مناسب وقت پر سکول امتحان لے کر ان بچوں کو پروموٹ کر سکتے ہیں۔

    ’9ویں، 10ویں، 11ویں اور 12ویں جماعت کے بچوں کو پروموٹ کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کی ضرورت ہوگی۔۔۔ تعلیم کے شعبے کے اعلیٰ سرکاری اہلکار آج بیٹھ کر فیصلے پر مشاورت کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں تعلیم سے متعلق تمام مسائل پر مشاورت ہوگی اور وفاقی حکومت کو سندھ کے فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ وفاق کے فیصلے سے کئی سوال پیدا ہوئے ہیں لیکن وہ جلد بازی میں طلبہ کے لیے مسائل پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

  7. لاہور کے بازار کھلنے سے لوگوں کا ہجوم

    لاہور کے بازار کھلنے کے بعد لوگوں کی آمد

    پاکستان میں گذشتہ ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی کے اقدامات کے تحت ملک کے بڑے شہروں میں مخصوص اوقات کے دوران بازار کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔

    سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ماہِ رمضان کے دوران لوگ عید کی شاپنگ کے لیے بازاروں کا رخ کر رہے ہیں۔

    لاہور کے بازار کھلنے کے بعد لوگوں کی آمد
    لاہور کے بازار کھلنے کے بعد لوگوں کی آمد

    خیال رہے کہ اس وقت لاہور میں 5,705 افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوچکی ہے جبکہ 78 اموات کے علاوہ افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق بازاروں میں نمایاں طور پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد دیکھی جاسکتی ہے۔

    ان تصاویر میں کچھ افراد کو احتیاطی تدایبر پر عمل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم سماجی فاصلے کے لیے دو میٹر کی شرط کی خلاف ورزی کے مناظر بھی موجود ہیں۔

    لاہور کے بازار کھلنے کے بعد لوگوں کی آمد

    صوبہ پنجاب میں 31 مئی تک جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عید کی چھٹیوں کے دوران بھی ہدایات پر عمل لازمی ہوگا۔

    جمعے، سنیچر اور اتوار کے روز بازار بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

  8. بریکنگ, پاکستان میں مئی کے مہینے میں کتنے ٹیسٹس کیے گئے؟

    pak

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مئی کے پہلے 11 دنوں میں کُل 120273 ٹیسٹس کیے گئے ہیں جس کی یومیہ اوسط 10934 ٹیسٹس فی دن بنتی ہے۔

    پاکستان میں پنجاب میں سب سے زیادہ 49 ہزار سے زیادہ ٹیسٹس کیے گئے ہیں جبکہ سندھ میں یہ تعداد 40 ہزار سے زیادہ ہے۔

    حکومتِ پاکستان نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ اپریل کے آخر تک یومیہ 20 سے 25 ہزار ٹیسٹس کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اب تک پاکستان نے ایک روز میں سب سے زیادہ ٹیسٹس نو مئی کو کیے تھے جن کی تعداد 13 ہزار سے زیادہ تھی

    pak

    ،تصویر کا ذریعہhttp://www.covid.gov.pk/stats/pakistan

  9. ’10 دن کے اندر‘ ووہان کی کل آبادی کی ٹیسٹنگ کا چینی منصوبہ

    ووہان، چین، کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق حکام ووہان شہر میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کی ٹیسٹنگ کے لیے منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    ابتدائی مراحل کے اس منصبوے کے مطابق ووہان کے تمام اضلاع سے معلومات طلب کی گئی ہیں کہ کس طرح تمام تر آبادی کی ٹیسٹنگ صرف 10 دنوں میں ہوسکتی ہے۔

    ووہان، جس کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ کورونا وائرس یہاں سے پوری دنیا میں پھیلا، میں گذشتہ ہفتے چھ نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس سے قبل 3 اپریل سے یہاں کسی نئے شخص میں کورونا کی تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

    ووہان میں 11 ہفتوں تک سختی سے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔ شہر میں 8 اپریل کے بعد اقدامات میں نرمی آئی تھی۔

    کچھ عرصے تک یہ لگ رہا تھا کہ معمولات زندگی بحال ہو رہی ہے، سکول کھل رہے ہیں اور کاروبار کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ واپس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

    لیکن اب نئے متاثرین کی تصدیق کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کووڈ 19 دوبارہ پھیل سکتا ہے جس کے لیے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔

    یہ تمام نئے متاثرین ایک رہائشی علاقے سے رونما ہوئے ہیں۔

  10. نہیں، آپ سانس روک کر یہ نہیں جان سکتے کہ آیا آپ کورونا سے متاثرہ ہیں

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کیا سانس روکنے سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے؟ ایسے سوال اور ان سے جڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے، جاننے کی لیے دیکھیے ہماری ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  11. ’روٹین تباہ ہوگئی‘: لاک ڈاؤن نے پاکستانی نوجوانوں کی زندگیاں کیسے بدلی ہیں

  12. پاکستان بھر میں کہاں کہاں قرنطینہ سینٹرز قائم ہیں؟, محمد زبیر خان، صحافی

    quarantine

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان ریلوے نے بھی اپنی ایک بوگی میں قرنطینہ مرکز قائم کیا ہے

    حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اس وقت 737 قرنطینہ سینٹرز قائم ہیں جہاں پر اس وقت 9771 لوگ موجود ہیں۔

    ان قرنطینہ سنٹرز میں زیادہ تربیرونی ممالک سے سفر کرکےپاکستان آنے والے افراد یا ایک صوبے سے دوسرے صوبےمیں سفر کرنے والوں کو رکھا جارہا ہے۔ جبکہ کچھ قرنطینہ سینٹرز میں مشتبہ مریضوں کو بھی رکھنے کا انتظام ہے۔

    اب تک ان قرنطینہ سینٹروں سے 56061 نمونے کورونا ٹیسٹ کے لیے بھجوائے گے ہیں جس میں سے 53383 کے نتائج وصول ہوچکے ہیں۔ ان نتائج مے مطابق 14 فیصد یعنی 7713 ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جبکہ باقی نیگیٹو ہیں۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر:

    • قرنطینہ مراکز: 61
    • مریضوں کی تعداد: 40
    • کل ٹیسٹس: 1635
    • پازیٹیو ٹیسٹس: 66

    بلوچستان:

    • قرنطینہ مراکز: 68
    • مریضوں کی تعداد: 988
    • کل ٹیسٹس: 15000
    • پازیٹیو ٹیسٹس: 2017

    خیبر پختون خوا:

    • قرنطینہ مراکز: 279
    • مریضوں کی تعداد: 1001
    • کل ٹیسٹس: 3925
    • پازیٹیو ٹیسٹس: 525

    پنجاب:

    • قرنطینہ مراکز: 233
    • مریضوں کی تعداد: 5208
    • کل ٹیسٹس: 17097
    • پازیٹیو ٹیسٹس: 3105

    سندھ:

    • قرنطینہ مراکز: 17
    • مریضوں کی تعداد: 1626
    • کل ٹیسٹس: 8696
    • پازیٹیو ٹیسٹس: 1524

    اسلام آباد:

    • قرنطینہ مراکز: 18
    • مریضوں کی تعداد: 455
    • کل ٹیسٹس: 3648
    • پازیٹیو ٹیسٹس: 34
  13. روس: کووڈ 19 کے کل متاثرین 230,000 سے تجاوز کر گئے

    روس، کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 10,899 متاثرین کا اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 232,243 ہوگئی ہے۔

    پیر کو ملک میں 11,656 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور یہ یہاں روزانہ کے نئے مریضوں کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

    روس میں گذشتہ 10 دنوں سے لگاتار روزانہ 10 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین کا اضافہ ہو رہا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تازہ اعداد و شمار کے مطابق روس کووڈ 19 کے تصدیق شدہ متاثرین کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے۔

    ماسکو میں کووڈ 19 کی معلومات کے لیے قائم دفتر کے مطابق ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 83 علاقوں میں کورونا وائرس کے 10,899 متاثرین کا اضافہ ہوا ہے۔ 43.1 فیصد متاثرین میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔‘

    ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 107 ایسے افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں وائرس کی تشخیص ہوچکی تھی۔ اموات کی کل تعداد 2116 ہے۔

    روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنسینٹ پیٹرزبرگ ہسپتال میں آتشزدگی سے کورونا کے پانچ مریض ہلاک

    ماسکو میں سب سے زیادہ 5392 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اب تک روس میں کورونا وائرس سے 43,512 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صحتیاب افراد کی تعاد 3711 تھی۔

  14. یونی ورسٹی ہیلتھ سائنسز میں مصنوعی اینٹی باڈی کی تیاری کے منصوبہ پر کام کا آغاز

    lhr

    ،تصویر کا ذریعہUHS

    لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے کورونا وائرس کے خلاف مصنوعی اینٹی باڈیز کی تیاری کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔

    اس منصوبے کا مقصد ہے کہ مصنوعی اینٹی باڈیز تیار کی جائیں جو کورونا وائرس کو انسانی پھیپھڑوں میں داخل ہونے سے روکیں گی۔

    اس پراجیکٹ کے پرنسپل انوسٹی گیٹر پروفیسر جاوید اکرم اور پروفیسر فریدون جواد احمد ہیں ور انھوں نے بتایا کہ اسی پراجیکٹ پر 1954 میں طب کا نوبیل پرائز دیا جا چکا ہے۔

    پروفیسر جاوید اکرم نے مزید بتایا کہ یو ایچ ایس پہلے ہی کورونا کے مریضوں کا بلڈ پلازما سے علاج شروع کرچکی ہے اور ساتھ ساتھ متاثرین کی شناخت کے لیے آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کا بھی آغاز کر دیا ہے۔

    مزید یہ بھی بتایا گا کہ یوایچ ایس کورونا وائرس کے علاج کیلیےسٹیم سیل تھراپیپر بھی کام شروع کریگی۔

  15. اٹلی: بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے 14 دن کا قرنطینہ لازم

    اٹلی، لاک ڈاؤن، قرنطینہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں کورونا کے متاثرین کی مجموعی تعداد 219,814 ہوچکی ہے۔ جبکہ 30,739 اموات پیش آئی ہیں۔

    اموات کے اعتبار سے اٹلی اس عالمی وبا سے امریکہ اور برطانیہ کے بعد تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

    ملک میں 15 مئی کے بعد بیرون ملک سے آنے والے تمام مسافروں کے لیے 14 دن قرنطینہ میں گزارنا لازم ہوگا۔

    دوسرے ملکوں سے آنے والے صرف طبی وجوہات یا ضروری سامان کی خریداری کے لیے باہر نکل سکیں گے۔ ان افراد کے لیے گھر سے باہر چہرے کے ماسک پہننا بھی لازم ہوگا۔

    حکومت نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے سے مختلف علاقوں کی حکومتیں لاک ڈاؤن اور حفاظتی تدابیر کے حوالے سے فیصلے کرنے کے لیے خودمختار ہوں گی۔

  16. دنیا بھر میں کووڈ 19 سے تقریباً 35 فیصد افراد صحتیاب

    کورونا وائرس، ٹیسٹنگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4,177,687 ہے۔

    اب تک 286,336 اموات پیش آئی ہیں جبکہ 1,456,318 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ اس طرح صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 35 فیصد بنتی ہے۔

    سب سے زیادہ ہلاکتیں ان ممالک میں پیش آئی ہیں:

    امریکہ 80,684

    برطانیہ 32,141

    اٹلی 30,739

    سپین 26,744

    فرانس 26,646

    برازیل 11,653

  17. کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

  18. کورونا کی دوسری اور تیسری لہر سے زیادہ متاثر کون: جانیے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے

  19. کراچی کے بازاروں میں عید کی شاپنگ کے لیے رش

    کراچی کے بازاروں میں عید کی شاپنگ کے لیے رش

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود ماہِ رمضان کے دوران پہلی مرتبہ عید کی خریداری کے لیے کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    ملک میں معاشی مشکلات کے پیشِ نظر گذشتہ ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    کراچی کے بازاروں میں عید کی شاپنگ کے لیے رش

    بی بی سی کے محمد نبیل کی جانب سے لی گئیں ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خریدار کراچی کے مختلف بازاروں میں موجود ہیں اور عید کی شاپنگ میں مصروف ہیں۔

    اکثر افراد نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر پر عمل کیا ہے۔ لیکن بعض لوگ کافی حد تک ہدایات کی خلاف ورزی کرتے بھی پائے گئے ہیں۔

    کراچی کے بازاروں میں عید کی شاپنگ کے لیے رش

    بہادر آباد، زینب مارکیٹ اور بوہری بازار صدر کی ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کپڑوں اور جوتوں کی دکانوں پر عید کی خریداری کے لیے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

    کراچی کے بازاروں میں عید کی شاپنگ کے لیے رش
  20. یہ وبا آخر کب ختم ہوگی؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ لاک ڈاؤن کے بعد اپنے گھروں میں بند ہیں۔

    معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔

    مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔