انڈیا: وزیر اعظم مودی کی جانب سے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 41 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور دو لاکھ 86 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان نے لاک ڈاؤن ختم کر کے اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا: بلاول بھٹو

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ کا پہلے دن سے مطالبہ تھا کہ لاک ڈاؤن کو ختم کیا جائے تاکہ اشرافیہ کی صنعتیں اور انڈسٹری دوبارہ چل سکے۔

    ’افسوسناک بات یہ ہے کہ اشرافیہ کے اس مطالبے کو عمران خان نے غریبوں کا نام لیتے ہوئے پورا کیا ہے اور اشرافیہ کو فائدہ پہنچایا ہے۔‘

    بلاول نے کہا کہ یہ باآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان وبا کے بعد سے اب تک کتنی مرتبہ صنعت کاروں اور سرمایہ داروں سے ملے ہیں اور کتنی مرتبہ مزدورں کے نمائندوں سے۔

    ’یہ دیکھنے کے بعد آپ کو پتا چل جائے گا کہ خان صاحب صنعت کاروں کا سوچ رہے ہیں یا مزدوروں کا۔‘

  2. لبنان میں مکمل لاک ڈاؤن

    لبنان میں نئے کیسز کی تصدیق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبان کی کابینہ نے اعلان کیا ہے کہ بدھ سے ملک میں شام سات بجے سے لے کر صبح پانچ بجے تک مکمل لاک ڈاؤن ہو گا۔ یہ اتوار اور پیر کو نئے متاثرین کے دوبارہ سامنے آنے پر کیا گیا ہے۔

    جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق لبنان میں کورونا وائرس کے کل 870 تصدیق شدہ مریض ہیں اور ابھی تک وائرس سے 26 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

  3. وفاقی حکومت کو کورونا کی وبا کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے: بلاول بھٹو, بلاول کی شاہ محمود پر کڑی تنقید

    بلاول

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو کورونا کی وبا کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

    اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے بعد ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو کورونا کا مسئلے پر بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آنا چاہیے تھا کیونکہ نہ صرف وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں بلکہ قومی اسمبلی میں قائد ایوان بھی ہیں۔

    ’وزیر اعظم یہ تو چاہ رہے ہیں کہ مزدور، غریب اور سفید پوش طبقہ اپنی جانوں پر کھیلے، باہر نکلے اور اپنا کام کرے لیکن وزیر اعظم اپنا کام نہیں کرنا چاہ رہے اور اپنے آفس میں ہی بیٹھے ہیں۔ آپ پارلیمان سے تنخواہ لیتے ہیں اور وہاں نہیں آتے یہ نہایت غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔‘

    شاہ محمود قریشی پر تنقید

    انھوں نے سینیٹ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے آج کی گئی تقریر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک وفاقی وزیر کیسے اس طرح کی زبان دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب آپ کسی علاقے یا صوبے میں پسماندگی اور وہاں دستیاب سہولیات کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ سیاسی مقاصد کے لیے علاقائی کارڈ کھیل رہے ہیں۔

    ’جب بلوچستان میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں تو اس پر بات کرنے پر کیا آپ کہیں گے کہ ہم بلوچستان کارڈ کھیل رہے ہیں۔‘

    بلاول نے کہا کہ شاہ محمود نے آج سینیٹ میں کہا کہ وہ (تحریک انصاف) سندھ میں اپنا لوہا منوائے گی۔ ’میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ وقت لوہا منوانے کا ہے۔ آپ ایسا سوچ رہے ہوں گے مگر پاکستان پیپلز پارٹی صرف یہ سوچ رہی کہ پاکستانی عوام کی زندگی کو کیسے بچایا جائے۔‘

    شاہ محمود قریشی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کے بارے میں سب معلوم ہے کہ انھوں نے سیاست میں اپنا لوہا کیسے منوایا۔ ’جب وہ ہمارے (پی پی پی) وزیر تھے تو ہمیں معلوم ہے کہ کس نے ان سے رابطہ کیا اور وزیر اعظم بننے کا خواب دکھایا۔‘

    بلاول کا کہنا تھا کہ یہ وزیر موصوف پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے بھی اپنا لوہا منوانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

  4. لاک ڈاؤن کے ذہنی صحت پر منفی اثرات اور ان کا حل

    کورونا کے خلاف جاری جنگ میں سماجی دوری اور سیلف آئسولیشن واحد ہتھیار ہیں جنھیں نافذ کرنے کے لیے دنیا کے اکثر ملکوں میں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔لیکن لاک ڈاؤن ہماری ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے کیسے نمٹا جائے، جانیے ماہرِ نفسیات عطیہ نقوی سے ہمارے ساتھی کریم الاسلام کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  5. ٹرمپ کے ’چین سے پوچھیں‘ کے بیان پر چین میں ردِ عمل, کیری ایلن، بی بی سی مانیٹرنگ

    سوال پوچھنے والی صحافی ایشیئن امیریکن صحافی کرسی پر بیٹھی ہیں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یہ چین میں ایک بڑی خبر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایشیئن امیریکن صحافی سے برپیس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ یہ جا کر چین سے پوچھیں کہ وائرس کو عالمی مقابلے کے طور پر کیوں لیا جا رہا ہے۔

    لیکن مین لینڈ چین میں میڈیا نے بریفنگ کے دوران ٹرمپ کے الفاظ کی بجائے ان کے ردِ عمل پر زیادہ توجہ رکھی ہے۔ سرکاری میڈیا نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ وہ خود تو ماسک نہیں پہنتے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ ان کا عملہ یہ ضرور پہنے، اور جب ان سے فرضی چینی احتساب کے متعلق مشکل سوال پوچھا گیا تو وہ کس طرح ’مڑے اور چلے گئے۔‘

    چین میں اخبارات میں ٹرمپ کی وبا کے متعلق حکمتِ عملی پر کافی عرصے سے تنقید ہو رہی ہے۔ میڈیا بشمول گلوبل ٹائمز نے پیر کے ردِ عمل کو ’پرتشدد محاذ آرائی‘ کہا۔

    چین کے ٹوئٹر کے ورژن ویئبو پر بہت سے لوگوں نے لکھا کہ یہ وائرس کے ’مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے‘ لیکن ’اس سے بچ کے جا سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے اس بات پر شدید تنقید کی کہ چین امریکہ پر ساری ذمہ دار ڈال رہا ہے۔

  6. بریکنگ, روسی صدر کے ترجمان میں کورونا وائرس کی تصدیق

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ترجمان دمتری پیسکوف میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس نے پیسکوف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ماسکو کے ہسپتال لیجایا گیا ہے۔

  7. سکاٹ لینڈ میں کووڈ 19 سے مزید 50 اموات

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سکاٹ لینڈ میں پیر کے روز کورونا وائرس سے 50 مزید اموات کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 1912 ہو گئی ہے۔

    سکاٹ لینڈ کی وزیر نیکولا سٹرجن کے مطابق سکاٹ لینڈ میں گذشتہ روز مزید 136 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد مریضوں کی کل تعداد 13763 ہو گئی ہے۔

    سارجن کا کہنا تھا کہ کل رات165 افراد کے اضافے کے ساتھ کل 1618 تصدیق شدہ یا مشتبہ مریض ہسپتال میں داخل تھے۔

    تاہم انھوں نے زور دیا کہ کووڈ 19 کے مجموعی مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ مشتبہ مریض ہیں۔ 24 گھنٹوں میں تصدیق شدہ متاثرین کی تعداد میں 14 افراد کی کمی کے بعد یہ تعداد 1131 ہوگئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ’ہسپتالوں میں مشتبہ متاثرین کی تعداد میں اضافے پر غور کیا جارہا ہے۔‘

  8. وفاقی حکومت ہر قومی معاملے پر سیاست کر رہی ہے: بلاول بھٹو

    پاکستان

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کہ جیسے وفاقی حکومت کورونا سے نمٹنے میں صوبوں کی مدد نہیں کر رہی ویسے ہی ٹڈی دل کے معاملے پر بھی خاموشی اختیار کیے بیٹھی ہے۔

    اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کورونا کے معیشت پر اثرات اور دیگر تمام معاملات پر بات ہوتی رہتی ہے تاہم ایک اہم مسئلہ جس پر وہ بات کرنا چاہتے ہیں وہ فوڈ سکیورٹی ہے۔

    ’اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وبا کے باعث پاکستان کی فوڈ سکیورٹی کو زیادہ خطرہ ہے اور اس کی وجہ ٹڈی دل ہے۔ دنیا بھر میں 25 سال بعد ٹڈی دل کا خطرہ ایک بار پھر اتنے وسیع پیمانے پر منڈلا رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد ہم نے وفاقی حکومت سے اس حوالے سے چند مطالبات بھی کیے جبکہ اس سے قبل گذشتہ برس بھی وفاقی حکومت سے چند گزارشات کی گئیں تھیں۔

    ’وفاقی حکومت اس حوالے سے ناکام رہی اور انھیں جو کام کرنا چاہیے تھا وہ نہ کر سکی۔ وفاقی حکومت کو ٹڈی دل کے حوالے سے اقدامات کرنے کے لیے ایک سال کا وقت ملا تھا۔ انھوں نے وعدہ بھی کیا کہ سپرے کے لیے آدھ درجن جہاز بھیجیں گے مگر کچھ نہیں ہوا۔‘

    ’ہم گذشتہ دو سال سے وفاقی حکومت سے کہتے آ رہے کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں کیونکہ ٹڈی دل سے سندھ کو بہت زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے۔‘

    آئین کے مطابق یہ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹڈی دل سے متاثرہ صوبوں کی مدد کرے۔ انھوں نے کہا انھوں نے سندھ کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دل کے حملے کی تصاویر بھی دیکھائی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر مسئلے پر سیاست اور سیاسی بیان بازی کرتی ہے یہاں تک کہ قومی بحران کے دوران بھی اور اس کا نقصان پاکستان کی عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

  9. جرمنی کے سائنسدانوں کو ’آر ویلیو‘ پر تشویش نہیں, جینی ہل، بی بی سی کی برلن میں نامہ نگار

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جرمن حکومت کو مشورہ دینے والے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ان کو کورونا وائرس کے رپروڈکشن ریٹ (آر ویلیو) میں بظاہر اضافے سے زیادہ تشویش نہیں ہیں۔ سنیچر سے اس نام نہاد آر ویلیو کو 1 سے اوپر دیکھا جا رہا ہے۔

    رابرٹ کوش انسٹیٹیوٹ کے نائب صدر لارس شیڈ کہتے ہیں کہ اعداد و شمار جرمنی میں ڈیڑھ ہفتے قبل کی صورتِ حال بتاتے ہیں۔ یہ اوپر نیچے جاتے ہیں اور جتنی کم انفیکشنز ہوتی ہیں، آر ویلیو پر وبا کا اتنا ہی زیادہ اثر پڑتا ہے۔

    شیڈ نے کہا کہ اگر آر ویلیو کئی دنوں تک ایک اعشاریہ دو یا ایک اعشاریہ تین ہو جاتی ہے تو پھر ان کو تشویش ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتال کی مریض رکھنے کی صلاحیت اور انفیکشنز کے حقیقی نمبروں کو بھی دیکھنا اہم ہے۔

  10. بلوچستان کے محکمۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر سمیت سات ملازمین کورونا کا شکار

    بلوچستان کی صوبائی حکومت کے محکمہ تعلقات عامہ کے سات افسران اور اہلکاروں میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان کے صدر وقاص شاہین کے ایک بیان کے مطابق کورونا سے متائثرہ اہلکاروں میں ایک ڈائریکٹر بھی شامل ہے۔

  11. مشرق وسطیٰ میں کورونا کے پھیلاؤ کی کہانی

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    بی بی سی نے ایک تحقیق کی ہے کہ کس طرح ایک ایرانی ایئر لائن ماہان ایئر نے مشرق وسطیٰ میں کووڈ 19 پھیلانے میں کردار ادا کیا اور متعدد ممالک کی جانب سے پابندی کے باوجود اپنی پروازوں کو جاری رکھا۔

  12. لندن پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو چار ارب پاؤنڈ تک خسارے کا خدشہ

    کوورنا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    کورونا وائرس کے اثرات کے باعث اس سال لندن کے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو چار ارب پاؤنڈ تک خسارے میں جانے کا خدشہ ہے۔

    برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے دوران جہاں لوگوں کو گھر پر ہی رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے، ٹرانسپورٹ فار لندن (ٹی ایف ایل) کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ان کی آمدن میں90 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

    ٹی ایف ایل کی بیشتر سروسز ابھی بھی چل رہی ہیں لیکن پچھلے سال کے مقابلے میں ٹیوب استعمال کرنے والے لوگوں میں 95 فیصد اور بس مسافروں کی تعداد میں 85 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

  13. پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما علی وزیر میں کورونا وائرس کی تشخیص

    پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی رہنما اور خیبرپختونخوا سے آزاد رکن قومی اسمبلی علی وزیر میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ کے مطابق علی وزیر تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے اور اب ان کی صحت ٹھیک ہے۔ انھوں نے تمام لوگوں سے علی وزیر کی صحت یابی کی دعا کی درخواست بھی کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. پاکستان: وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کی شرح 88 فیصد

    pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی وزارت صحت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی کی شرح 88 فیصد ہو چکی ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے تک یہ شرح 85 فیصد کے لگ بھگ تھی۔ وزارت صحت کے مطابق دس مئی تک اکھٹے ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 30 ہزار سے زائد تھی۔

    ان میں ایران سے آنے والے زائرین کی تعداد 1433 (تقریباً پانچ فیصد)، بیرون ممالک سے آنے والے پاکستانیوں کی تعداد 2272 (سات فیصد)، تبلیغی جماعت کے اراکین کی تعداد 3068 (دس فیصد) ہے جبکہ باقی عام شہری ہیں۔

    اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں27,236 افراد میں کورونا مقامی طور پر متنقل ہوا ہے جو کہ تقریباً 88 فیصد بنتا ہے۔

    وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر رانا جاوید اصغر کا کہنا ہے کہ وبائی امراض میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ باہر سے آنے والا کوئی بھی وبا کو پھیلانے کا سبب بنتا ہے اور پھر اس وبا کا وائرس مقامی طور پر منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کورونا کو کنٹرول کرنے کے لیے ماہرین کو یہ پتا ہونا چاہیے کہ مقامی منتقلی کے اسباب کیا تھے۔ ان کے مطابق اعداد وشمار میں اس بات کی وضاحت ہونی چاہیے کہ متاثر ہونے والوں کا آپس میں تعلق کیا تھا؟

  15. ’سٹے الرٹ‘ کا مطلب باقی یورپ کیا لیتا ہے؟, بی بی سی مانیٹرنگ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    زیادہ تر یورپی میڈیا نے برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے لاک ڈاؤن کے دوران ’سٹے الرٹ‘ کے مشورے کو کنفیوزنگ کہہ کے رد کر دیا ہے۔

    جرمنی کے سیوڈوشے زیئتنگ اخبار نے لکھا کہ برطانوی وزیرِ اعظم کے پیش کردہ ایگزٹ پلان کے بعد ساری وضاحت ختم ہو گئی ہے۔

    برطانوی وزیرِ اعظم نے کورونا وائرس بحران سے نکلنے کا ایک ’روڈ میپ‘ پیش کیا تھا جس سے برطانوی عوام مزید کنفیوزڈ ہو گئی ہے۔ اخبار نے کہا کہ کابینہ اور پارلیمان میں عدم اطمینان پھیل رہا ہے کیونکہ حکومت نے پہلے پلان پر بحث نہیں کی تھی۔

    یورپ بھر میں تجزیہ نگاروں ’انتہائی احتیاط‘ کے برطانوی مشورے کو موضوع بحث بنایا ہے۔ فرانس کے لی فیگارو اخبار نے لکھا کہ ’وہ شخص جو تیز چلنا پسند کرتا ہے، بورس جانسن لاک ڈاؤن کے اختتام کے قریب پہنچنے ہوئے چھوٹے قدم اٹھا رہے ہیں۔‘

    ’ملک میں صحت کی صورتِ حال نے اور بلاشبہ وہ چیلنج جس سے وہ گزرے ہیں، وزیرِ اعظم کو احتیاط کی ترغیب دی ہے۔‘

    فرانس کے اخبار لا مونڈ نے لکھا کہ جانسن اب بھی بہت مقبول ہیں اگرچہ ان کے ملک کی یورپ میں سب سے زیادہ شرح اموات ہے۔

  16. ’چمگادڑ کھانے والے‘ تبصرے پر راک سٹار برائن ایڈمز تنقید کی زد میں

    adam

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    راک سٹار برائن ایڈمز کورونا وائرس کے ماخذ سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کرنے کے بعد تنقید کی زد میں ہیں۔

    کینیڈین گلوکار جو رواں ہفتے لندن میں تین شوز میں پرفارم کرنے والے تھے، نے ’چمگادڑ کھانے والے، گندے بازار میں جانوروں کی فروخت کرنے والے، وائرس بنانے والے لالچی لوگ‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے تنقید سے بھرپور پوسٹ کی تھی۔

    کینیڈا میں چائنیز نیشنل کونسل فار سوشل جسٹسٹس نے ان کے بیانات کو چین مخالف، ’غیر ذمہ دار‘ اور ’نسل پرستانہ‘ قرار دیا ہے۔

    تاہم ’پیٹا‘ جیسے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی جانب سے ایڈمز کے تبصروں کو یہ کہتے ہوئے سراہا گیا کہ ان کا مقصد سبزیاں کھانے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

    ایڈیم کی انسٹاگرام پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے لکھا ’اگلی وبائی بیماری سے بچنے کے لیے سبھی کا سبزی خور بننا بہت ضروری ہے۔‘

    بی بی سی نے ایڈمز کے نمائندوں سے تبصرہ کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

    • بلوچستان حکومت کا کورونا وائرس کے پیش نظر عید سادگی سے منانے کا اعلان

      bal

      ،تصویر کا ذریعہbbc

      وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت منعقدہ صوبائ کابینہ کا اجلاس ہوا۔

      کابینہ نے اس موقع پر طے کیا کہ سرکاری سطح پر عید الفطر انتہائ سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ عید کے موقع پر بڑے اجتماعات اور عید ملن پارٹیوں کے انعقاد سے اجتناب کیا جاۓ گا تاکہ کورنا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد اور سماجی فاصلے برقرار رہ سکیں۔

      کابینہ کی جانب سے عوام الناس اراکین اسمبلی قبائلی و سماجی معتبرین سے بھی سر کاری سطح پر باقاعدہ اپیل کی گئ ہے کہ عید سادگی سے مناتے ہوۓ اجتماعات اور عید ملن پارٹیوں سے گریز کیا جاۓ اور عوام خود کو کورناوائرس سے محفوظ رکھ کر اپنے خاندان کو بھی اس سے محفوظ بنائیں۔

      کابینہ نے کورنا وائرس سے متاثرہ افراد کی جلد صحتیابی اور وائرس سے جانبحق افراد کی مغفرت کی دعا کی

      bal

      ،تصویر کا ذریعہbbc

    • لیہ میں جوڑا گرفتار: ’کورونا پھیلا ہوا ہے اور یہ ایک دوسرے کو بوسہ دے رہے تھے‘, ترہب اصغر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

      پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لیہ میں درج ہونے والے ایک مقدمے کے مطابق ایک جوڑے کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک شارع عام پر رکشے میں مبینہ طور پر ایک دوسرے کو بوسہ دے رہے تھے۔

      درج کیے جانے والے مقدمے کے مطابق گشت پر پھرنے والے پولیس اہلکاروں کو ایک ڈرائیور نے آ کر اطلاع دی کہ علاقے کے سکول کے پاس ایک مرد اور عورت آپس میں بوس و کنار کرنے میں مصروف ہیں۔ جس پر اہلکاروں کی جانب سے وہاں جا کر چیک کیا گیا تو وہ اس وقت تک بوس و کنار میں مصروف تھے جس پر پولیس نے انھیں پکڑ لیا۔

      مقدے میں لکھا گیا ہے کہ ان کی اس حرکت سے شارع سے گزرنے والوں کے جذبات انتہائی مجروع ہوئے ہیں اور ماہ رمضان کے اس مقدس مہینے میں اسی حرکات پر ان پر دفعہ 294 لگائی گئی۔

      موقع پر موجود پولیس اہلکار آفتاب نے اس واقعے کے بارے میں بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے دونوں لوگوں کا تعلق لیہ سے نہیں تھا اور وہ شہر کے باہر سے آئے تھے۔

      ’مجھے بھی ایک گاڑی والے نے اطلاع دی کہ پیچھے دو لوگ رکشے میں بیٹھ کر فحاس حرکتیں کر رہے ہیں۔‘

      انھوں نے مزید کہا کہ دیکھیں یہ لوگ رمضان کے مہینے کا بھی خیال نہیں رکھتے ہیں۔ چلیں وہ بھی چھوڑیں۔۔۔ بندہ یہی سوچ لے کہ کورونا کتنا پھیلا ہوا ہے۔ حکومت ان لوگوں کو گھروں میں بیٹھنے کا کہہ رہی ہے اور یہ لوگ گھر سے باہر نکل کر رکشے میں بیٹھ کر بوسے کر رہے ہیں۔ سوچیں اگر بوسہ دینے سے ایک دوسرے کو کورونا وائرس منتقل ہو جائے تو پھر کون ذمہ دار ہے۔‘

      کارروائی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ گرفتار کرنے کے بعد ان کو تھانے میں منتقل کر دیا گیا ہے جس کے بعد آگے کی کارروائی کی جائے گی۔

      اس معاملے پر تھانہ چوبارہ کے اے ایس آئی ملک خادم حسین نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہمیں گشت پر موجود اہلکاروں نے یہ واقعہ رپورٹ کیا تو ہم نے پہلے خاتون کانسٹیبل کو وہاں بھیجا تاکہ اس مرد کے ساتھ عورت کو خاتون ہی گرفتار کرے۔

      ’ہم نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے جیل میں بند کر دیا تاہم وہ دونوں ہمارے پاس آٹھ سے نو گھنٹے ہی حوالات میں رہے جس کے بعد انھیں عدالت سے ضمانت مل گئی۔‘

      اے ایس آئی ملک خادم کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ یہ چھوٹا جرم ہے اس میں پولیس کے پاس بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ خود بھی وارننگ دے کر معاف کر سکتے ہیں۔

    • بریکنگ, پاکستان میں مئی کے پہلے 11 دنوں میں 15 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین کی شناخت، 321 اموات

      pak

      پاکستان میں 26 فروری کو کورونا وائرس سے پہلے متاثرہ فرد کی شناخت ہوئی تھی اور اس کے بعد 24 مارچ کو پہلے ہزار افراد کی شناخت ہوئی تھی، جس دن وفاق اور صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

      14 اپریل کو وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر لاک ڈاؤن میں نرمی لائی گئی اور اس کے بعد 25 اپریل سے رمضان کا آغاز ہوا۔

      اس دوران ملک میں ٹیسٹنگ کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے ساتھ ساتھ مریضوں کی تعداد بھی بڑھنا شروع ہوئی۔

      اپریل کے آخر تک پاکستان میں کُل 16 ہزار سے زیادہ متاثرین تھے جبکہ کُل اموات 359 تھیں۔

      اس کے بعد وزیر اعظم نے سات مئی کو لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا اعلان کیا تاہم ملک میں متاثرین اور اموات، دونوں میں ہی اضافے کا رجحان بڑھتا جا رہے اور صرف مئی کے پہلے 11 دنوں میں یومیہ 1388 مریضوں کی اوسط سے اب تک 15 ہزار سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں اور 321 اموات ہوئی ہیں۔

      واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں کورونا وائرس کے متاثرین کا عروج نہیں ہوا ہے اور ممکنہ طور پر آنے والے دنوں میں اس تعداد میں اور تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

    • ایران میں کل 110,767 متاثرین، 6733 اموات

      ایران میں کل 110,767 متاثرین، 6733 اموات

      ،تصویر کا ذریعہGetty Images

      ایران میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں کوڈ 19 کے متاثرین کی مجموعی تعداد 110,767 ہوگئی اور اس میں 12 مئی کو 1481 نئے مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔

      وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 48 مریض ہلاک ہوئے ہیں جس سے اموات کی کل تعداد 6733 ہوگئی ہے۔

      صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 88,357 ہوگئی ہے۔

      ایران بھر میں 2713 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

      وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق ملک میں تاحال 615,477 افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

      گذشتہ روز کے سرکاری اعداد و شمار 109,286 متاثرین اور 6685 اموات تھے۔