پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لیہ میں درج ہونے والے ایک مقدمے کے مطابق ایک جوڑے
کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک شارع عام پر رکشے
میں مبینہ طور پر ایک دوسرے کو بوسہ دے رہے تھے۔
درج کیے جانے والے مقدمے کے مطابق گشت پر پھرنے والے پولیس اہلکاروں کو ایک ڈرائیور
نے آ کر اطلاع دی کہ علاقے کے سکول کے پاس ایک مرد اور عورت آپس میں بوس و کنار کرنے
میں مصروف ہیں۔ جس پر اہلکاروں کی جانب سے وہاں جا کر چیک کیا گیا تو وہ اس وقت تک
بوس و کنار میں مصروف تھے جس پر پولیس نے انھیں پکڑ لیا۔
مقدے میں لکھا گیا ہے کہ ان کی اس حرکت سے شارع سے گزرنے والوں کے جذبات انتہائی
مجروع ہوئے ہیں اور ماہ رمضان کے اس مقدس مہینے میں اسی حرکات پر ان پر دفعہ 294 لگائی
گئی۔
موقع پر موجود پولیس اہلکار آفتاب نے اس واقعے کے بارے میں بی بی سی گفتگو کرتے
ہوئے بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے دونوں لوگوں کا تعلق لیہ سے نہیں تھا اور وہ شہر
کے باہر سے آئے تھے۔
’مجھے بھی ایک گاڑی والے نے اطلاع دی کہ پیچھے دو لوگ رکشے میں بیٹھ کر فحاس حرکتیں
کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ دیکھیں یہ لوگ رمضان کے مہینے کا بھی خیال نہیں رکھتے ہیں۔
چلیں وہ بھی چھوڑیں۔۔۔ بندہ یہی سوچ لے کہ کورونا کتنا پھیلا ہوا ہے۔ حکومت ان لوگوں
کو گھروں میں بیٹھنے کا کہہ رہی ہے اور یہ لوگ گھر سے باہر نکل کر رکشے میں بیٹھ کر
بوسے کر رہے ہیں۔ سوچیں اگر بوسہ دینے سے ایک دوسرے کو کورونا وائرس منتقل ہو جائے
تو پھر کون ذمہ دار ہے۔‘
کارروائی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ گرفتار کرنے کے بعد ان کو تھانے میں منتقل
کر دیا گیا ہے جس کے بعد آگے کی کارروائی کی جائے گی۔
اس معاملے پر تھانہ چوبارہ کے اے ایس آئی ملک خادم حسین نے بی
بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہمیں گشت پر موجود اہلکاروں نے یہ واقعہ رپورٹ کیا
تو ہم نے پہلے خاتون کانسٹیبل کو وہاں بھیجا تاکہ اس مرد کے ساتھ عورت کو خاتون ہی
گرفتار کرے۔
’ہم نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے جیل میں بند کر دیا تاہم وہ دونوں ہمارے پاس آٹھ
سے نو گھنٹے ہی حوالات میں رہے جس کے بعد انھیں عدالت سے ضمانت مل گئی۔‘
اے ایس آئی ملک خادم کا مزید کہنا تھا کہ کیونکہ یہ چھوٹا جرم ہے اس میں پولیس
کے پاس بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ خود بھی وارننگ دے کر معاف کر سکتے ہیں۔