انڈیا: وزیر اعظم مودی کی جانب سے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 41 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور دو لاکھ 86 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ہمارے وزیر اعظم کنفیوٰٰز ہیں اور اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہے: بلاول بھٹو

    Bilawal Bhutto

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ کا وقت ہے اور ہمارے وزیراعظم موجود نہیں ہیں، ہمارے وزیراعظم کنفیوز ہیں اور جو ان کی ذمہ داریاں ہیں وہ پوری نہیں کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے بیانات ذمہ دارانہ ہوتے ہیں کیونکہ انھیں احساس ہے اور اگر کچھ کہتے ہیں تو اس سے ہماری رہنمائی ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت کے کراچی سے منتخب رہنماؤں کے بیانات غیرذمہ دارانہ ہوتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن، سمارٹ لاک ڈاؤن یا نرمی کرنی ہے تو آپ فیصلہ کریں لیکن ان سب کے اثرات ہیں تاہم جو پہلے لاک ڈاؤن کیا تھا اس سے فائدہ ہوا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی سے خدانخواستہ کیسز اور اموات میں اضافہ ہو گا تو اس کے لیے ہسپتالوں میں تیاری بھی کرنی ہو گی جس کے لیے وفاقی حکومت کو صوبوں کی مدد کرنا ہوتی ہے۔

    چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہماری حکومت نے سیلاب اور زلزلوں میں کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم صوبوں کی مدد نہیں کر سکتے یا صوبے یہ کام خود کریں بلکہ ہم نے بڑھ چڑھ کر مدد کی۔

    انھوں نے کہا کہ جتنے بیانات ہم ایک دوسرے کے خلاف دیتے ہیں اتنے کورونا وائرس کی آگاہی کے لیے دیں تو فائدہ ہو گا۔

  2. سکاٹ لینڈ میں مزید پانچ اموات

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سکاٹ لینڈ میں مزید پانچ افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 13627 ہو چکی ہے۔

    سکاٹ لینڈ کی وزیر نکولا سٹرجین نے کہا ہے نئی اموات ہسپتالوں میں واقع ہوئی ہیں اور اب ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1862 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سکاٹ لینڈ میں کورونا کے مزید 141 کیسز سامنے آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 80 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب سکاٹ لینڈ میں این ایچ ایس کے چیف ایگزیکٹیو نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    مالکولم رائٹ جو ہیلتھ اور سوشل کئیر کے بھی ڈائریکٹر جنرل تھے گذشتہ سال جون میں اس عہدے پر تعینات ہوئے تھے۔ سکاٹ لینڈ کی حکومت نے کہا ہے کہ انھوں نے صحت کی خرابی کی وجہ سے عہدہ چھوڑا ہے۔ ان کی جگہ جان کوناگہن قائم مقام چیف ایگزیکٹیو تعینات کیا گیا ہے۔

  3. وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کو وسائل و سہولیات نہیں دے رہی: بلاول بھٹو

    پاکستان

    پاکستان کی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو اس وبا سے لڑنے کے لیے مکمل سہولیات اور وسائل نہیں دئے جا رہے۔

    ملک میں ٹیسٹنگ اہلیت بڑھی ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ صوبائی حکومتوں کی وجہ سے ہیں۔

    پی پی پی چیئرمین نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاق اور حکومت پاکستان کو ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہونا تھا اور جہاں صوبائی حکومت ایک پیسہ خرچ کرتی ہے وہاں وفاق کو دس روپے خرچ کرنا چاہیے تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ہم حکومت سے درخواست کرسکتے ہیں کہ تعاون کیا جائے۔ دنیا میں طبی عملے کو پیکجز دیے جارہے ہیں اور خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں کیا ہوتا ہے، بلوچستان میں ڈاکٹروں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور پنجاب میں ڈاکٹروں کو بھوک ہڑتال کرنی پڑتی ہے۔

    وزیرخارجہ کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے جو کہا کہ وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے اور ہم بات کرنے کو تیار ہیں۔

  4. طلبا کے اگلی کلاسوں میں پروموشن کے حوالے سے درپیش مسائل جمعہ تک حل کر لیے جائیں گے

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ تمام بورڈ کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں اور اس حوالے سے کسی کے ذہن میں کوئی کنفیوژن نہیں ہونی چاہیے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ 80 فیصد طلبا کو اس حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم پرائیوٹ حیثیت میں امتحان میں حصہ لینے والے اور نمبروں میں بہتری کے لیے امتحان دینے والے طلبا کے حوالے سے درپیش مسائل کو آئندہ جمعہ کے روز تک حل کر لیا جائے گا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزارت تعلیم ملک کے تمام 29 تعلیمی بورڈز کے ساتھ طلبا کے اگلی کلاسوں میں پروموشن کے حوالے سے رابطے میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بورڈز سے وزارت تعلیم نے مسائل کے حل کے لیے کچھ وقت مانگا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. کورونا وائرس کے بحران نے دنیا بھر کے لیڈروں کی اصلیت ظاہر کر دی: بلاول بھٹو

    Bilawal Bhutto

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان میں کورونا کی وبا کی صورتحال پر قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ کورونا کی وبا کے بحران نے دنیا بھر کے لیڈروں کی اصلیت کو ظاہر کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا آج اس اہم اجلاس میں وزیر اعظم کو بھی ایوان میں ہونا چاہیے تھا، لیکن آج وہ یہ ضروری نہیں سمجھتے کہ ایوان کو صورتحال کے متعلق آگاہ کر سکے۔

  6. برطانوی وزیر اعظم آج اہم پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے

    بورس جانسن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن برطانوی وقت کے مطابق شام سات بجے پریس کانفرنس کریں گے۔

    یہ پریس کانفرنس میں وہ برطانیہ میں مشروط ہدایات کے تحت لاک ڈاؤن ہٹائے جانے کے بعد کر رہے ہیں۔ اس موقع پر وہ میڈیا اور عوام کے سوالوں کے جواب دیں گے۔

    حکومت نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے اپنی گائیڈ لائنز بھی شائع کرنی ہے جو 50 صفحات پر مشتمل ہوں گی۔

  7. پنجاب میں متاثرین کی تعداد ساڑھے 11 ہزار سے تجاوز کر گئی

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 475 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 11568 ہو گئی ہے۔

    صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 197 جبکہ صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 4323 ہو چکی ہے۔

    صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ کیسز لاہور میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 262 ہے۔

    صوبے بھر میں کل 130546 کورونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں بہاولپور میں پانچ، بھکر میں چھ، فیصل آباد میں 44، گوجرانوالہ میں 23، گجرات میں پانچ، حافظ آباد میں 12، قصور میں 11، خانیوال میں چار، لودھراں میں تین، منڈی بہاوالدین میں دو، ملتان میں 17، مظفر گڑھ میں 10، ننکانہ میں ایک، ناروال میں 17، راولپنڈی میں دو، سرگودھا میں 14، شیخوپورہ میں 14، سیالکوٹ میں 16 اور وہاڑی میں دو نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

  8. لاک ڈاؤن کورونا کا علاج نہیں بلکہ پھیلاؤ کو کم کرنے کا طریقہ ہے: حماد اظہر

    پاکستان میں کورونا کی وبا کی صورتحال پر قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کورونا کا علاج نہیں بلکہ پھیلاؤ کو کم کرنے کا طریقہ ہے۔

    اپوزیشن کی جانب سے کی گئی تنقید پر جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں لاک ڈاؤن کو بڑھایا جاتا ہے تو ملک میں کم از کم دو کروڑ افراد اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے گے۔

  9. سینیٹ کے 12 مئی کے اجلاس کے لیے حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے

    پاکستان کے ایوان بالا کے 12 مئی2020 کو ہونے والے اجلاس کے لیے حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر جدید طرز کے نصب کیے گئے سنیٹائز سکینر اورتھرمو ٹمپریچر سکینر کا افتتاح کر دیا۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ہر ممکن حفاظتی اقدامات بروئے کار لانے پر زور دیا اور اُمید ظاہر کی اراکین پارلیمنٹ، ملازمین اور میڈیا کے افراد سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے مرتب کیے گئے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں گے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو بتایا گیا کہ ایوان بالا کے اجلاس کے لیے سینیٹ سیکرٹریٹ کے انتہائی ضروری سٹاف کو دفتر بلایا گیا ہے اور اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

  10. فرانس میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کیا صورتحال ہے؟

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں میٹرو بس سروس بحال ہو چکی ہے۔ مسافروں پر ماسک پہننا اور مناسب سماجی فاصلہ رکھنا لازم ہے۔

    پبلک ٹرانسپورٹ میں بھیڑ کم ہے۔ خدشہ تھا کہ مسافروں کی تعداد زیادہ ہو گی تاہم لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود کم لوگ ہی باہر نکلے ہیں۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد بھی معمول سے کم ہے۔

    پیرس سے بی بی سی کے نامہ نگار ہگ سکوفیلڈ کا کہنا ہے کہ بارز اور کیفے بند ہیں، شہر میں سیاح دکھائی نہیں دے رہے ہیں اور اب بھی غیرمعمولی خاموشی ہے۔

    پیرس میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سربراہ کیتھرین گلورڈ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے سفر کے دوران ماسک پہن رکھے ہیں اور ماسک کے استعمال کی شرح 95 فیصد تک ہے۔ کہیں کہیں پبلک ٹرانسپورٹ ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملے جب مسافر سماجی دوری کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں تھے۔

    صبح کے اوقات میں میٹرو نیٹ ورک کی لائن نمبر 13 میں اس وقت رش دکھائی دیا جب سٹیشن میں پانی لیک ہونے کی وجہ سے ٹریفک میں تعطل آیا اور اس کی وجہ سے گاڑیوں میں مسافروں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے میٹرو سٹیشن بھی تھے جہاں لوگ سماجی دوری پر عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

  11. حکومت کی جانب سے بنائے گئے تمام قرنطینہ مراکز کے معائنہ کے لیے کمیٹی بنائی جائے

    قرنطینہ مرکز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے حکومت کی جانب سے قرنطینہ مراکز میں ناکافی سہولیات پر بات کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے بنائے گئے تمام کورونا قرنطینہ مراکز کے معائنے کے لیے کمیٹی بنائی جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان قرنطینہ مراکز میں کوئی سہولت نہیں دی جا رہی جس کی وجہ سے لوگ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔

    حکومت کورونا متاثرین کو سہولیات دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔

  12. آسٹریلیا: پابندیاں ختم ہوتے ہی بازاروں میں رش

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے لگائی گئی پابندیوں میں نرمی ہوتے ہی آسٹریلوی باشندوں کی ایک بڑی تعداد ملک بھر کے خریداری مراکز میں پہنچ گئی ہے۔

    تاہم اس دوران مناسب سماجی فاصلے کے قواعد پر عمل درآمد میں ناکامی نے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

    برسبین شہر میں خریداری کے لیے آنے والوں نے اس ہجوم کو ’کرسمس جیسے رش‘ سے تشبیہ دی گئی ہے۔

  13. حکومت کی کورونا پالیسی کہیں دکھائی نہیں دیتی: خواجہ آصف

    Khawaja Asif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کورونا کی وبا کی صورتحال پر قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ڈھائی ماہ میں حکومت کی پالیسی کہیں نظر نہیں آ رہی کیونکہ جب ملک میں چند متاثرین تھے تو لاک ڈاؤن نافذ کیا لیکن جب تعداد 30 ہزار سے بڑھ گئی ہے تو لاک ڈاؤن ختم کیا جا رہا ہے۔

    حکومت کے پاس اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر چند ہفتے مزید لاک ڈاؤن برقرار رکھا جاتا تو وبا کی عروج کی باتیں نہ ہوتیں۔

  14. انگلینڈ: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 3200 پاؤنڈ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    انگلینڈ میں بدھ سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر جرمانے کی رقم کو بڑھا کر 100 پاؤنڈ کر دیا جائے گا۔

    ہوم آفس کے مطابق اگر کوئی شخص 14 دن کے اندر اندر جرمانے کی ادائیگی کرتا ہے تو پہلی مرتبہ ہونے والے جرمانے کی رقم کو نصف یعنی 50 پاؤنڈ کر دیا جائے گا۔

    دوسری بار خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے کی رقم دگنا کر دی جائے گی اور بار بار خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ 3200 پاؤنڈ تک جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

    فی الحال پہلی خلاف ورزی کا جرمانہ 60 پاؤنڈ ہے اور ملک بھر میں نو ہزار سے زائد افراد کو جرمانے کیے گئے ہیں۔

  15. بریکنگ, وزیر خارجہ: کورونا کا ردعمل قومی ہونا چاہیے، علاقائی نہیں

    وزیر خارجہ: کورونا کا ردعمل قومی ہونا چاہیے، علاقائی نہیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کووڈ 19 ایک قومی چیلنج ہے اور اس کے لیے ایک نیشنل ایمرجنسی نافذ ہے۔

    قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ: ’کورونا وائرس ایک قومی مسئلہ ہے جس کا ردعمل قومی ہونا ضروری ہے اور یہ علاقائی نہیں ہوسکتا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ معاشی بحران کے دوران احساس پروگرام متعارف کرایا گیا جس کے ذریعے پورے ملک میں لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ وائرس زائرین یا تبلیغی جماعت کے لوگوں کی وجہ سے پھیلا۔

    ’تفتان ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جہاں سہولیات کی عدم دستیابی ہے۔۔۔ ایران پر دباؤ تھا اور انھوں نے چار سے پانچ ہزار لو پاکستان بھیج دیے۔ بلوچستان کی حکومت کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔‘

  16. بریکنگ, وزیر خارجہ: صوبوں کو اپنے فیصلے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گذشتہ اندازوں کے مطابق اب تک پاکستان میں صحت کا نظام بحران کا شکار ہوسکتا تھا لیکن خدا کا شکر ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی رائے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ اس سے متعلق فیصلے قومی رابطہ کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر میں کیے جا رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام حصوں سے معلومات لے کر اجتماعی طور پر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے اس رائے کی تردید کی ہے پاکستان نے کورونا نے نمٹنے میں سستی دکھائی۔ وہ کہتے ہیں کہ روزانہ ملاقات ہوتی ہے جہاں معلومات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ صوبائی خودمختاری کا موضوع بہت حساس ہے اور صوبوں کو اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادای ہونی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتوں کو یہ آزادی دی جا رہی ہے۔ ’وزیر اعظم سب سے رائے لیتے ہیں اور پھر فیصلے کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا بین الاصوبائی سفر کے لیے تیار تھے لیکن کچھ صوبائی نمائندوں نے اس کی مخالفت کی جس کے بعد یہ فیصلہ مؤخر کر دیا گیا تھا۔

  17. بریکنگ, وزیر خارجہ: تاحال ٹیسٹنگ ناکافی ہے

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں تاحال ٹیسٹ ہونے والے افراد کی تعداد ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک دو لاکھ سے زیادہ افراد کی ٹیسٹنگ ہوچکی ہے۔

    قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ: ’پاکستان کی آبادی سے اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ ناکافی ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس میں بتدریج اضافہ ہوتا چلے جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کے بعض دیگر ممالک کے مقابلے پاکستان میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’پاکستان میں انفیکشن اور اموات کی شرح 2.17 فیصد ہے۔ عالمی سطح پر یہ شرح 6.8 فیصد ہے۔‘

  18. قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں شروع ہو گیا

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں شروع ہو گیا ہے۔

    اجلاس سے قبل انتظامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہاوس اور لاجز میں اراکین کے کورونا ٹسٹ لیے جارہے ہیں اور پارلیمنٹ داخلے پر ڈیجیٹل مشین لگائی گئی ہے جو سب کا ٹمپریچر لیتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی رکن بغیر ماسک کے داخل ہوگا تو مشین اس کی شناخت کرے گی۔

    قاسم سوری کے مطابق تمام اراکین کو قومی اسمبلی ہال داخلے کے وقت ماسک، داستانے اور سینیٹائزر فراہم کئے جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں صرف کورونا کے حوالے سے گفتگو ہوگی۔ تمام سیاسی جماعتیں ان اراکین کے نام دیں گی جنھوں نے بولنا ہو گا۔ اور ایوان میں اراکین فاصلے پر بیٹھیں گے۔

    NA of Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہNA of Pakistan

    NA of Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہNA of Pakistan

    NA of Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہNA of Pakistan

  19. گھر میں خود ماسک کیسے بنائیں؟

    کیا آپ جانتے ہیں کہ گھر میں موجود اشیا کی مدد سے ماسک بنائے جا سکتے ہیں ۔ اس ویڈیو میں ماسک بناؤ مہم کے ڈائریکٹر عدن علی آپ کو باآسانی ماسک بنانا سکھائیں گے۔

  20. قزاقستان: صوبوں اور شہروں کو لاک ڈاؤن ختم کرنے کی مشروط اجازت

    کورونا، قزاقستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قزاقستان کی حکومت نے پیر کو کورونا وائرس کے باعث نافذ کی گئی ہنگامی صورتحال کو ختم کر دیا ہے جس کے بعد شہر اور صوبے اپنے اپنے علاقوں میں لاک ڈاؤن کے اقدامات اٹھانے کے لیے آزاد ہوں گے۔

    تاہم یہ اجازت کورونا وائرس کے خلاف ان کی کامیابی سے مشروط ہے۔ وہ شہر اور صوبے جو لگاتار سات دنوں تک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو سات فیصد یومیہ سے نیچے رکھیں گے، انھیں کاروبار مثلاۙ پرچون کی بڑی دکانیں، دفاتر، بازار، بیوٹی سیلون اور جم وغیرہ کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔

    قزاقستان میں اب تک کورونا وائرس کے 5126 متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اب تک یہاں 31 لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اندرونِ ملک پروازیں چار مئی سے شروع ہو چکی ہیں۔

    اس کے علاوہ حکومت نے طیارے میں سوار ہونے سے قبل میڈیکل سرٹیفیکیٹ دکھانے اور بیچ میں نشستیں خالی چھوڑ کر بیٹھنے کی پابندی کو ختم کر دیا ہے۔