انڈیا: وزیر اعظم مودی کی جانب سے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 41 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور دو لاکھ 86 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یورپ کے بیشتر حصوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی

    afp

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بیشتر یورپی ممالک لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہے ہیں اور انھیں امید ہے کہ پابندیاں ہٹائے جانا انفیکشن کی دوسری لہرکا سبب نہیں بنے گا۔

    فرانس میں آج سے پرائمری سکول بہت کم تعداد میں طلبا کے ساتھ کھولے جا رہے ہیں۔ اور کپڑے کی دکانیں، کتابوں کی دکانیں، ہیئر سیلون اور پھولوں والے دوبارہ کام شروع کر سکیں گے۔ ریستوران، سینما گھر اور بار بند رہیں گے۔

    بیلجیئم میں پیر سے معاشتری فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے زیادہ تر کاروبار کھل رہے ہیں۔ لیکن ریستوراں، بار اور کیفے بند ہیں۔

    نیدرلینڈ میں، پرائمری سکول آج جزوی طور پر کھلیں گے۔ لائبریریاں، فزیوتھیراپسٹ، ڈرائیونگ سکول اور ہیئر ڈریسرز بھی کھلیں گے۔

    سوئٹزرلینڈ میں، پرائمری اور مڈل دونوں سکول دوبارہ کھلیں گے لیکن کلاسوں کی تعداد میں کمی کی جائے گی۔ ریستوراں، کتابوں کی دکانیں اور عجائب گھر بھی کھل سکتے ہیں لیکن کچھ پابندیوں کے ساتھ۔

    سپین کے کچھ علاقوں میں دس افراد تک کو جمع ہونے کی اجازت ہوگی اور ریستوراں میں بیرونی جگہیں معاشرتی فاصلاتی اقدامات کے ساتھ دوبارہ کھل سکتی ہیں۔

    انگلینڈ میں اس ہفتے لاک ڈاؤن کے کچھ اقدامات میں آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں لیکن برطانیہ کے دوسرے حصے سخت اقدامات پر عمل جاری رکھیں گے۔

    ڈنمارک میں پیر سے خریداری کے مراکز دوبارہ کھل سکتے ہیں جبکہ پولینڈ میں، اس ہفتے ہوٹل دوبارہ کھل سکتے ہیں- لیکن غیر ملکی سیاحوں کو دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ کرنا پڑے گا۔

    جرمنی ، آسٹریا اور اٹلی جیسے دوسرے یورپی ممالک نے پہلے ہی پابندیوں میں نرمی کرنا شروع کردی ہے۔

  2. کراچی، جامشورو اور لاہور کے تین ہسپتالوں میں پلازما سے علاج کی آزمائش شروع, پانچ مزید ہسپتالوں نے آزمائش شروع کرنے کے لیے ڈریپ کو درخواست دے دی

    کورونا، پلازما، پاکستان، کراچی، لاہور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے تین ہسپتالوں نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے پیسیو امیونائزیشن کی طبی آزمائش شروع کر دی ہے جبکہ مزید پانچ ہسپتالوں نے یہ آزمائش شروع کرنے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو درخواست دے دی ہے۔

    اس طریقہ علاج میں ایک شخص کے جسم سے 900 ملی لیٹر سے 1000 ملی لیٹر پلازما نکالا جاتا ہے اور کورونا کے دو شدید بیمار مریضوں میں منتقل کردیا جاتا ہے۔

    جن تین ہسپتالوں نے آزمائش شروع کردی ہے ان میں قومی ادارہ برائے امراضِ خون کراچی (این آئی بی ڈی)، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنس جامشورو، اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ جن پانچ ہسپتالوں نے آزمائش شروع کرنے کے لیے درخواست بھیجی ہے، ان میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد، راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ لاہور شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ ڈریپ نے پیسیو امیونائزیشن کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری نو اپریل کو دی تھی۔

    این آئی بی ڈی کے ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق یہ پلازما 24 سے 48 گھنٹوں میں شدید بیمار مریض میں وائرس کو بے اثر کرنا شروع کردیتا ہے اور مریض کا جسم اگلے چار سے پانچ دنوں میں صحتیاب ہوجاتا ہے، جبکہ پلازما دینے والے شخص کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور نہ کوئی کمزوری دیکھنے کو ملتی ہے۔

    ڈاکٹر شمسی نے مزید بتایا کہ این آئی بی ڈی کے تحقیق کار پلازما میں موجود اینٹی باڈیز کے کورونا وائرس پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں، اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق کورونا سے صحتیاب ہونے والے کسی شخص میں پلازما دیتے وقت کورونا وائرس کے دوبارہ حملہ آور ہونے کے کوئی آثار نہیں پائے گئے۔

    علاوہ ازیں لیاقت یونیورسٹی ہسپتال جامشورو کے ڈاکٹر آفتاب نے بی بی سی کو بتایا کہ جس ایک مریض کو انھوں نے آزمائشی طور پر پلازما منتقل کیا تھا، وہ اب صحت یاب ہو رہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ مریض کی حالت نہایت تشویشناک تھی لیکن اب وہ بہتر ہے، اور انھیں کورونا کا دوسرا ٹیسٹ کرنے سے قبل آج ایک مرتبہ پھر پلازما لگایا جائے گا۔

  3. کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟

    کھرنڈ پیس کر مریضوں کی ناک میں چڑھانا یا زخم کی پس تندرست فرد کو لگانا سننے میں تو بہت عجیب لگتا ہے لیکن ویکسین کی تیاری کی تاریخ میں ان دونوں اعمال کا بہت اہم کردار ہے۔جانیے ویکسین کی ایک ہزار سال قدیم تاریخ بی بی سی کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  4. عالمی وبا کیا ہوتی ہے؟

    کووِڈ 19 چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا۔ یہ مہلک وائرس اب دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل چکا ہے اور خدشہ ہے کہ اسے عالمی وبا قرار دیا گیا ہے۔ پینڈیمک یا عالمی وبا کی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک وائرس نیا ہو اور وہ ایک انسان سے دوسرے انسان میں باآسانی منتقل ہو جاتا ہو۔ لیکن آخر عالمی وبا ہوتی کیا ہے؟ جانیے اس ویڈیو میں۔

  5. پاکستان: صحت کا نظام کتنے مریضوں کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے؟

  6. بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے!

    بی بی سی اردو کی کوریج میں ایک بار پھر خوش آمدید۔ آج سے آپ بی بی سی اردو پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ ترین خبروں، تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ اسی پیج پر ملاحظہ کرسکیں گے۔

    گذشتہ ہفتے دنیا میں کیا ہوا؟ جاننے کے لیے کلک کیجیے

    گذشتہ ہفتے پاکستان میں کیا ہوا؟ جاننے کے لیے کلک کیجیے