یورپ کے بیشتر حصوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی

،تصویر کا ذریعہAFP
بیشتر یورپی ممالک لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہے ہیں اور انھیں امید ہے کہ پابندیاں ہٹائے جانا انفیکشن کی دوسری لہرکا سبب نہیں بنے گا۔
فرانس میں آج سے پرائمری سکول بہت کم تعداد میں طلبا کے ساتھ کھولے جا رہے ہیں۔ اور کپڑے کی دکانیں، کتابوں کی دکانیں، ہیئر سیلون اور پھولوں والے دوبارہ کام شروع کر سکیں گے۔ ریستوران، سینما گھر اور بار بند رہیں گے۔
بیلجیئم میں پیر سے معاشتری فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے زیادہ تر کاروبار کھل رہے ہیں۔ لیکن ریستوراں، بار اور کیفے بند ہیں۔
نیدرلینڈ میں، پرائمری سکول آج جزوی طور پر کھلیں گے۔ لائبریریاں، فزیوتھیراپسٹ، ڈرائیونگ سکول اور ہیئر ڈریسرز بھی کھلیں گے۔
سوئٹزرلینڈ میں، پرائمری اور مڈل دونوں سکول دوبارہ کھلیں گے لیکن کلاسوں کی تعداد میں کمی کی جائے گی۔ ریستوراں، کتابوں کی دکانیں اور عجائب گھر بھی کھل سکتے ہیں لیکن کچھ پابندیوں کے ساتھ۔
سپین کے کچھ علاقوں میں دس افراد تک کو جمع ہونے کی اجازت ہوگی اور ریستوراں میں بیرونی جگہیں معاشرتی فاصلاتی اقدامات کے ساتھ دوبارہ کھل سکتی ہیں۔
انگلینڈ میں اس ہفتے لاک ڈاؤن کے کچھ اقدامات میں آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں لیکن برطانیہ کے دوسرے حصے سخت اقدامات پر عمل جاری رکھیں گے۔
ڈنمارک میں پیر سے خریداری کے مراکز دوبارہ کھل سکتے ہیں جبکہ پولینڈ میں، اس ہفتے ہوٹل دوبارہ کھل سکتے ہیں- لیکن غیر ملکی سیاحوں کو دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ کرنا پڑے گا۔
جرمنی ، آسٹریا اور اٹلی جیسے دوسرے یورپی ممالک نے پہلے ہی پابندیوں میں نرمی کرنا شروع کردی ہے۔

